")
امام موسی کاظم علیہ السلام

حیاتِ امام موسیٰ کاظم (ع) پر ایک نظر

ابو ابراهیم، موسیٰ کاظم ابن جعفر (ع) هم شیعہ اثناعشری کے ساتویں امام هیں جن کو امام موسیٰ کاظم (ع) یا امام کاظم علیہ السلام کے نام سے یاد کیا جاتا هے، آپ امام جعفر صادق (ع) کے بیٹے هیں، آپ کی ولادت باسعادت 7/ صفر المظفر سنہ128 هجری میں ابواء نامی جگہ پر هوئی ۔[1] حضرت (ع) کی مادر گرامی کا نام حمیده مصفاه هے، ان کے دوسرے نام جیسے حمیده بربریہ اور حمیده اندلیسہ بھی نقل هوا هے ۔ حضرت امام کاظم (ع) کے القاب میں صابر، صالح، امین اور عبد صالح وغیره هیں، آپ (ع) ائمہ معصومین علیہم السلام میں شیعوں کے درمیان (باب الحوائج) کے لقب سے مشهور هیں ۔

امام اور بنی عباس کی حکومت :

امویوں کی حکومت میں عرب و عجم کا تعصب، غارتگری اور ظلم و ستم، حکومت کے اندر ایرانیوں کے خلاف مختلف حربہ وغیره نے لوگوں اور خاص طور سے ایرانیوں کو اس بات آماده کیا کہ عدل و انصاف کی حامل ایک سچّی حکومت قائم هو، بالخصوص امام علی (ع) کے دور خلافت میں عدل و انصاف پر قائم جیسی حکومت چاهتے تھے، جس کی بناپر لوگ، بنی امیہ کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے هوئے، اس طرح کے حالات کو دیکھتے هوئے ابن الوقت سیاست مداروں نے لوگوں کے اس رحجان، خاص طور سے ایرانیوں کا آلِ علی (ع) سے لگاؤ اور حکومت علوی کے قیام سے سوء استفاده کیا اور یہ نعرہ بلند کیا کہ حق کو حقدار تک پہنچایا جائے، جس کی بناپر ابو مسلم خراسانی کی مدد سے بنی امیہ کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، لیکن چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق (ع) کے بجائے ابو العباس سفاح عباسی کو مسند خلافت پر بیٹھا دیا، صحیح  تو یہ هے کہ مسند خلافت نہیں بلکہ تختِ حکومت پر بیٹھا دیا گیا۔[2] اس طرح بادشاهت کا ایک نیا سلسلہ لیکن خلافت و جانشینی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے لباس میں سنہ 132 هجرى بر سر اقتدار آگیا جو فقط ظلم و ستم، دو رخی اور (دینی میں اموی حکمرانوں سے کم نہ تھے بلکہ بہت سی چیزوں میں ان لوگوں سے بھی آگے نکل گئے تھے ۔

امام موسیٰ کاظم (ع) کی عمر مبارک چار سال کی تھی جب امویوں کی ظالمانہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا ۔

هاں، امام موسیٰ کاظم (ع) نے اپنے دور میں ابوالعباس سفاح، منصور دوانیقی، هادی، مهدی اور هارون کی حکومت کے تمام ظلم و ستم، گھٹن کے ماحول اور پریشانیوں کو درک کیا ھے ۔

ابو العباس سفاح کا سنہ 136 هجری میں انتقال ھوا اور اس کی جگہ اس کا بھائی منصور دوانیقی تخت حکومت پر بیٹھا ۔ اس نے بغداد کو اپنا دار الحکومت بنایا نیز ابو مسلم خراسانی کو مار ڈالا، اور جب حکومت پائیدار هوئی تو اس نے اولاد علی (ع) کو قیدخانہ میں مقید کرنے، آزار و اذیت دینے اور ان  کے اموال کو ضبط کرنے میں ذرّه برابر کسر نہیں چھوڑی، اور اس خاندان کے زیاده تر بزرگوں اور ان سب کے پیشوا حضرت امام جعفر صادق (ع) کو شهید کر ڈالا ۔

منصور دوانیقی ایک خوں ریز، سفّاک، مکّار و فریب کار اور بہت بڑا حاسد، کنجوس، لالچی اور بے وفا تھا، اس کی یہی بے وفائی کوئی کم نہیں هے کہ ابو مسلم خراسانی نے تخت حکومت تک پہنچانے میں بہت اهم کردار ادا کیا تھا لیکن جیسے هی اسے موقع ملا اس نے ابو مسلم کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کو تاریخ نے رقم کیا هے ۔

 منصور سنہ1۵8 هجری میں واصل جهنم هوا اور حکومت اس کے بیٹے مهدی تک پہنچی، مهدی عباسی کی سیاست لوگوں کو دھوکہ دھڑی اور انہیں قریب دینے کی سیاست رهی هے ۔

اس نے شروع میں اپنے باپ کے سیاسی قیدیوں کو مختصر لوگوں کے علاوه جن میں اکثر امام موسیٰ کاظم (ع) کے شیعوں کی تھی انہیں آزاد کردیا اور ان کے ضبط کئے گئے اموال کو واپس کردیا، میگساری اور عیش و نوش کی بساط کو سمیٹ دیا جس کی وجہ سے لوگوں کو اس پر کچھ امید هوگئی، لیکن اس اوضاع و احوال میں چنداں دوام نہیں پایا گیا، اس نے ایک سال کے بعد مسلمانوں کے بیت المال کو شراب خوری، عیش و نوش، عورتوں کی بزم سجانے اور لھو و لعب میں استفاده کرنے لگا، اس نے اپنے بیٹے هاروں کی شادی میں پانچ کروڑ درهم خرچ کیا تھا ۔[3] دوسری طرف مهدی عباسی کے دور میں امام کاظم (ع) کی شخصیت شهرۀ آفاق هوتی گئی اس لئے کہ بدر کامل آسمانِ فضیلت، تقویٰ، علم اور رهبری و امامت میں چمک رها تھا، بہت سے لوگ اور مختلف گروه پوشیده طورپر آپ سے ملحق هونے لگے اور حضرت کے سرچمشہ فیض سے مستفیض هوتے تھے،مهدی عباسی کے جاسوسوں نے یہ خبر اس تک پہنچائی، جب اس نے اپنی حکومت کو خطره میں دیکھا تو حکم دیا کہ امام (ع) کو مدینہ سے بغداد میں لاکر قیدخانہ میں ڈال دیا جائے ۔

ابو خالد نقل کرتے هیں: مهدی عباسی کے اس فرمان کے مطابق جو لوگ مدینہ میں امام (ع) کو لینے کے لئے گئے وه واپسی میں منزل زبالہ میں حضرت (ع) کے همراه میرے گھر میں آئے، امام (ع) نے ان لوگوں سے دور تھوڑا سا موقع پاکر مجھ کو حکم دیا کہ میں حضرت (ع) کے لئے کچھ چیزیں خرید کر لاؤں، میں بڑا رنجیده و غمگین تھا اور امام (ع) سے عرض کیا: آپ اس سفّاک کی طرف جارهے هیں مجھے آپ کی جان کے لئے خطره محسوس هو رها هے حضرت (ع) نے فرمایا: "مجھے اس سے کوئی خوف نہیں هے تم فلاں دن، فلاں جگہ پر  میرا انتظار کرو " ۔

امام (ع) بغداد گئے اور میں بڑے اضطراب اور الجھنوں میں ایک ایک دن گن رها تھا یهاں تک کہ وه دن آگیا، امام (ع) نے جس جگہ پر پہنچنے کے لئے فرمایا تھا میں وهاں پر حاضر هوا، میں بڑا مضطرب و پریشان تھا، میری یہ حالت تھی کہ بہت هلکی سی آواز پر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا هوتا تھا، سورج کے ڈھلنے کا وقت تھا کہ اسی اثنا میں دور سے کوئی آتے هوئے دکھائی دیا، میرے دل میں اُمنگ پیدا هوئی  کہ پرواز کرکے وهاں تک پہنچ جاؤں لیکن مجھے ڈر بھی تھا کہ اگر امام (ع) نہ هوں گے تو میرا راز کھل جائے گا اسی وجہ سے اپنی جگہ پر بیٹھا رها، امام (ع) نزدیک آئے جبکہ آپ اپنی سواری پر بیٹھے تھے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا:اے ابو خالد! تم شک نہ کرو، وه لوگ دوباره مجھے بغداد لے جائیں گے، اور جب دوباره لے جائیں گے تو میں واپس نہیں آؤں گا اور وهی هوا جو امام (ع) نے فرمایا تھا ۔[4]

سنہ169 هجری میں مهدی عباسی هلاک هوا اس کی جگہ پر اس کا بیٹا هادی تخت سلطنت پر بیٹھا، هادی عباسی اپنے باپ کے خلاف ڈیموکریسی کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا اور کھلّم کھلا اولادِ علی (ع) سے دشمنی و عداوت کرتا تھا ۔

واقعہ فخ :

مدینہ کے علویوں میں سے حسین بن علی جب عباسیوں کی حکومت اور ان کے ظلم و ستم سے تنگ آگئے تو امام موسیٰ کاظم (ع) ۔[5] کی مرضی و خوشنودی سے هادی عباسی کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ھوئے اور تقریبا تین سو لوگوں کے همراه مکہ کی طرف روانہ هوگئے ۔

هادی عباسی کے سپاهیوں نے فخ نامی جگہ پر انہیں گھیر لیا اور ان کو ان کے لشکر کے همراه شهید کردیا اور جس طرح کا واقعہ کربلا میں پیش آیا تھا ان کے لئے بھی ویسا هی واقعہ پیش آیا ۔ ایک بزم جهاں اولاد علی (ع) کے کچھ افراد منجملہ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) موجود تھے، ان لوگوں کے کٹے ھوئے سروں کو دکھایا گیا ۔ اور امام موسیٰ کاظم (ع) کے علاوہ کسی نے کچھ بھی نہ کہا، جب آپ نے قیام فخ کے رهبر حسین بن علی کا سر دیکھا تو فرمایا:

"إنّا لله و إنّا إليه راجعون، مضى والله مسلماً صالحاً، صوّاماً قوّاماً، آمراً بالمعروف ناهياً عن المنكر، ما كان في أهل بيته مثله؛ هم خدا کے لئے هیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے، خدا کی قسم وه شهید هوئے درحالیکہ وه مسلمان اور صالح تھے وه بہت زیاده روزه رکھتے تھے، عابد شب زنده دار تھے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے ان کے گھرانہ میں ان کے جیسا کوئی نہیں تھا ۔[6]

هادی عباسی سیاسی اخلاقیات سے تو گیا گزرا تھا هی، وه ذاتی اطوار و عادات اور اخلاق کے اعتبار سے بڑا پست، شرابی و کبابی اور عیاش شخص تھا، اس نے ایک بار یوسف صیقل کو چند بیت اشعار کے اچھی آواز میں پڑھنے کی وجہ سے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر درهم و دینار دے دیا تھا ۔[7] ابن داب نامی کہتا هے: میں ایک بار هادی کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس کی آنکھیں شراب نوشی اور جاگنے کی وجہ سے لال هوگئی هیں ۔ اس نے مجھ سے شراب کے بارے میں ایک قصہ بیان کرنے کے لئے کہا، میں نے اس واقعہ کو شعر میں بیان کیا، اس نے شعر کو لکھا اور ان اشعار کی بابت مجھے چالیس هزار درهم دیئے ۔[8]

عرب کا مشهور موسیقی داں اسحاق موصلی کہتا هے: اگر هادی عباسی زنده هوتا تو هم اپنے گھروں کی دیواروں کو سونے کی بنا لیتے ۔[9]

هادی عباسی بھی سنہ 170 هجری میں هلاک هوا اور اس کی جگہ تختِ حکومت پر هارون بیٹھا ۔[10] اس دور میں امام موسیٰ کاظم (ع) کی عمر مبارک بیالیس کی هوگئی تھی ۔

هارون کا دور عباسیوں کے لئے اوج اقتدار، دادا گیری، بے راه روی، غارت گری اور من مانی کا زمانہ تھا، هارون نے بیعت کے رسم و رواج کے آخر میں یحیی برمکی کو اپنا وزیر منتخب کیا اور اسے تمام ادارے کے امور اور هر شخص کو معطل اور تقرر کا مطلق اختیار دے دیا تھا، اس زمانے کی رسم کے مطابق ان تمام اختیارات کی پہچان کے لئے اپنی انگوٹھی اسے دے دی تھی۔[11] اور خود بیت المال کی خورد برد، شراب خوری، عیاشی، عورتوں کی بزم سجانے اور هیرے جواهرات کی خریداری اور لهو و لعب میں مصروف تھا ۔

اس زمانے میں بیت المال کی آمدنی پچاس کروڑ دو لاکھ چالیس هزار درهم تھی جس وقت دو یا چار سال کے گوسفند کو ایک درهم میں بیچا جاتا تھا ۔[12] اس نے اس آمدنی کے خرچ کا منھ کھول دیا تھا، اشجع نامی شاعر کے شعر پڑھنے پر دس لاکھ درهم دیا ۔[13] ابو العتاھہ شاعر اور موسیقی داں ابراهیم موصلی کو چند بیت شعر اور مختصر سے راگ الاپنے کے اوپر ایک لاکھ درهم اور سو لباس دیئے تھے ۔ (1۴) [14]

هارون کے محل میں بہت سی ناچنے اور گانے بجانے والی عورتیں فراهم کی گئی تھیں اور اس دور کے تمام انواع و اقسام کی موسیقیاں وهاں پائی جاتی تھیں ۔[15]

امام موسیٰ کاظم (ع) کا موقف :

عباسیوں کی حکومت کے مقابلہ میں آل علی (ع) کے موقف و برتاؤ سے هارون بڑی مشکلوں میں پھنسا هوا تھا اور اس سے بڑا رنجیده و پریشان رھا کرتا تھا، اسی وجہ سے جتنا ممکن هوسکتا تھا وه کوشش میں لگا تھا کہ انہیں کچل دے یا معاشره میں سبک دکھائے، وه بے پناه مال و دولت ضمیر فروش درباری شاعروں کو دیتا تھا تاکہ آلِ علی (ع) کی هجو میں اشعار کہیں، من جملہ ان میں سے ایک منصور نمری هے جس نے آلِ علی (ع) کی هجو میں ایک قصیده لکھا تو اس کے بدلہ میں هارون نے حکم دیا کہ اسے بیت المال کے خزانہ کے پاس لے جاؤ، اس کا جتنا دل چاهے درهم و دینار اٹھا لے جائے ۔[16]

اس نے بغداد کے تمام علویوں کو مدینہ میں شهر بدر کیا اور ان میں سے بہت لوگوں کو مار ڈالا یا مسموم کیا ۔[17]

یهاں تک کہ لوگ قبر امام حسین (ع) کی زیارت کے لئے جاتے تھے تو اسے دکھ اور تکلیف هوا کرتی تھی، لهذا اس نے حکم دیا کہ قبر اور قریب میں بنا کی هوئی تعمیر اور عمارتوں کو خراب کردیا جائے اور جو بیری کا درخت قبر اطهر کے پاس اُگا هوا هے اسے کاٹ دیا جائے ۔[18] جس کے بارے میں پہلے هی پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے تین بار فرمایا تھا: خدا لعنت کرے اس شخص پر جو بیری کے درخت کو کاٹے ۔[19]

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام موسی ٰکاظم (ع) ستم پیشہ حکومت کی اس ظالمانہ بربادی و تباهی کو برداشت نہیں کرسکتے تھے، اسی وجہ سے قیام فخ کی رضا کا اظهار کرتے هیں، پوشیده طور پر شیعوں سے بطور دائم رابطہ رکھتے هیں اور ظالم حکومت کے مقابلہ میں ایک ایک فرد کے موقف و طرز عمل کو معین کرتے هیں ۔

امام (ع) نے اپنے دوستوں میں سے صفوان بن مهران سے فرمایا: ایک کام کے علاوه تمهارا هرکام اچھا هے وه ایک کام یہ هے کہ تم اپنے اونٹوں کو هارون کو کرایہ پر دیتے هو ۔

صفوان نے کہا: میں اپنے اونٹوں کو سفر حج کے لئے کرایہ پر دیتا هوں اور میں خود اونٹوں کے همراه نہیں جاتا هوں ۔

امام (ع) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم صرف اسی کام کی وجہ سے اپنے دل میں یہ تمنا رکھتے هو کہ هارون کم از کم مکہ کے سفر کی واپسی تک زنده رهے تاکہ تمهارے اونٹ صحیح و سالم تم تک آجائیں اور هارون تمهارے اونٹوں کا کرایہ ادا کردے ؟ ۔

صفوان نے عرض کیا: هاں، ایسا هی هے ۔

امام (ع) نے فرمایا: جو انسان کسی ظالم و ستمگر کے زنده رهنے کی تمنّا کرے وه انہیں ظالموں میں شمار کیا جائے گا ۔[20]

اور اگر بعض اوقات کسی کو اجازت دیتے تھے کہ هارون کی حکومت میں اپنے مقام و منصب پر باقی رهے تو سیاسی اعتبار سے اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت هوا کرتی تھی اور جن افراد کو هارون کی حکومت میں کسی منصب پر باقی رهنے کے لئے کہتے تھے تو انہیں اس بات کا علم تھا کہ اس خطرناک، ظالم اور گھٹن کا ماحول بنانے والی حکومت میں ان لوگوں کا وجود شیعوں کے لئے مفید واقع هوگا نیز ان کے ذریعہ علویوں کے خلاف هونے والی بعض سازشوں، نیرنگیوں و فریب کاریوں کی معلومات بھی فراهم هوگی ۔ چنانچہ جب علی بن یقطین نے هارون کے دربار میں اپنے منصب سے استعفا دینے کا اراده کیا تو حضرت امام موسی ٰکاظم (ع) نے انہیں اس کام کی اجازت نہیں دی ۔

 امام (ع) سخت ترین حالات میں بھی ظالموں کا ساتھ نہیں دیتے تھے اور نہ تو ان ستمگروں کا تعاون کرتے تھے یهاں تک کہ جب آپ ان ظالموں کی قید میں تھے تو ایک دن هارون نے یحییٰ بن خالد کو قیدخانہ میں بھیجا کہ اگر موسی ٰکاظم (ع) عفو و بخشش کا تقاضا کریں تو انہیں آزاد کردو، امام (ع) نے یہ بھی گوارا نہیں کیا کہ ان ستمگروں سے عفو کا تقاضا کریں ۔[21]

امام کاظم (ع) نے قیدخانہ سے جو خط هارون کے نام لکھا وه اس بات کی حکایت کرتا هے کہ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے تال میل کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ " … میرے اوپر سختی و مصیبت کا کوئی دن نہیں گزرتا هے مگر یہ کہ تم پر وهی دن آسائش و سکون اور رفاه میں گزرتا هے لیکن تم اس دن کے منتظر رهو کہ جب هم دونوں اس جگہ پہنچیں گے جو ابدی ٹھکانہ هوگا اور ستمگر و ظالم اس دن گھاٹا اٹھانے والوں میں هوں گے … " ۔[22]

هارون کو حکومتی جاسوسوں کے ذریعہ مکمل طورپر اطلاع مل گئی تھی کہ امام (ع) اپنے شیعوں سے پوشیده طریقہ سے برابر رابطہ رکھتے هیں اور اس کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر امام (ع) کو حکومت کے خلاف قیام کا موقع مل جائے تو آپ قیام کرکے ظالم حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے ۔

اسی وجہ بطور کامل عوام کو دھوکہ دینے کی غرض سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی قبر اطهر کے سامنے کھڑا هوتا هے اور بغیر اس کے کہ غصب خلافت، لوگوں پر اپنے ظلم و ستم، لوگوں کے اموال کو کھانے، ھڑپ کرنے اور خلافت کو سلطنت میں بدلنے سے شرم و حیا کرے، امام (ع) کو قیدخانہ میں ڈالنے سے پہلے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب هوکر کہتا هے: " یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم! میں نے آپ کے فرزند موسی بن جعفر (ع) کے بارے میں جو اراده کیا هے اس کی معافی چاهتا هوں، میں دل سے انہیں قیدخانہ میں نہیں ڈالنا چاهتا مگر مجھے خوف هے کہ آپ کی امت کے درمیان لڑائی واقع هوجائے اور خون بہایا جائے جس کی وجہ سے انہیں قیدخانہ میں ڈالتا هوں ! " اس وقت اپنے سپاهیوں کو حکم کو دیتا هے کہ امام (ع) کو گرفتار کریں جبکہ آپ قبر پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے پاس نماز میں مشغول تھے انہیں گرفتار کرکے بصره لے جائیں اور قیدخانہ میں ڈال دیا جائے ۔

امام (ع) کی علمی بحثیں اور مناظرے :

ائمہ معصومین علیھم السلام کو الله تعالیٰ نے جو علم عطا کیا تھا اس کے ذریعہ هر سوال کا جواب صحیح، متقن، کامل اور سوال کرنے والے کی فهم و ادراک کے مطابق دیا کرتے تھے ۔ اور جو شخص بھی ان حضرات (ع) سے مناظره یا علمی بحثیں کرتا تھا، چاهے وه دشمن هی کیوں نہ هو، اپنی عاجزی و ناتوانی کا اقرار کرلیتا تھا اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے علم و افکار کی وسعت نیز علوم و معارف پر ان کا بھرپور و کامل احاطہ کا اعتراف کرنے لگتا تھا ۔

هارون رشید، امام (ع) کو مدینہ سے بغداد لے آیا اور حضرت (ع) سے بحث و گفتگو اور مناظره میں مصروف هوگیا ۔

هارون نے امام (ع) کی طرف رخ کرکے کہا: میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاهتا هوں جو میرے ذهن میں ایک مدّت سے موجود هے اور ابھی تک ان سوالوں کو کسی سے پوچھا بھی نہیں هے، مجھ سے یہ بھی بتایا گیا هے کہ آپ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے هیں لهذا میرے جواب کو صحیح اور سچّے طریقہ سے بیان فرمایئے !۔

امام (ع) نے کہا اگر مجھے بیان کرنے کی آزادی ملے تو جو کچھ میں جانتا تمهارے سوالوں کے متعلق بیان کروں گا ۔

هارون رشید نے کہا: آپ کو بیان کرنے کی آزادی هے جو چاهیں آپ بیان کرسکتے هیں !!!۔

هارون نے سوال کیا: آپ لوگوں کا عقیده هے آپ اولادِ ابوطالب هم اولادِ عباس سے افضل و برتر هیں؟ درحالیکہ هم اور آپ لوگ ایک هی درخت کی شاخیں هیں ۔ ابوطالب اور عباس دونوں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم  کے چچا تھے اور رسول اسلام (ص) کی قرابت داری کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق بھی نہیں هے ۔

امام (ع) نے فرمایا: هم لوگ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نسبت تم لوگوں سے زیاده نزدیک هیں ۔

هارون نے کہا وه کس طرح ؟۔

امام (ع) نے جواب میں فرمایا: اس لئے کہ همارے جد ابوطالب اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے والد ایک ھی ماں باپ سے تھے لیکن عباس صرف ماں کے رشتہ بھائی هوتے تھے ۔

هاورن نے کہا میرا دوسرا سوال یہ هے کہ آپ لوگ کیوں دعویٰ کرتے هیں کہ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے میراث پائیں گے؟ جبکہ هم سب کو معلوم هے جس وقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رحلت هوئی هے اس وقت ان کے چچا عباس (یعنی همارے جد) زنده تھے ۔ لیکن ان کے دوسرے چچا ابوطالب (یعنی آپ کے جد) انتقال کرگئے تھے اور یہ واضح هے کہ جب تک چچا زنده هیں اس وقت تک بھتیجے کو میراث نہیں ملے گی ۔

 امام (ع) نے کہا: کیا مجھے بیان کرنے کی کھلی چھوٹ هے ؟۔

هارون نے کہا: میں نے گفتگو کے شروع هی میں کہا ھے کہ آپ کو بیان کی کھلی چھوٹ هے ۔

امام (ع) نے ارشاد فرمایا: حضرت علی ابن ابو طالب (ع) کا ارشاد هے: "اولاد کے هوتے هوئے، ماں باپ اور بیوی و شوهر کے علاوه کسی کو میراث نہیں ملے گی اور اولاد کے هونے کی صورت میں چچا کے لئے قرآن اور احادیث میں بالکل کوئی میراث ثابت نہیں هے ۔ پس جو لوگ چچا کو (میراث کے مسئلہ میں) باپ کے حکم میں قرار دیتے هیں وه اپنی طرف سے گڑھتے هیں، ان کی باتوں کی کوئی دلیل نہیں هے ۔ لهذا حضرت زهرا سلام الله علیہا بنت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے هوتے ان کے چچا عباس کو میراث نہیں ملے گی "۔

هارون نے کہا آپ سے ایک سوال بھی هے کہ آپ حضرات کیوں اجازت دیتے هیں کہ لوگ آپ کو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کریں اور کہیں: اولادِ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم جبکہ آپ لوگ اولادِ علی (ع) میں سے هیں ؟۔

امام (ع) نے جواب میں فرمایا: اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زنده هوجائیں اور تمهاری لڑکی سے شادی کرنا چاهیں تو کیا تم انہیں اپنی لڑکی دوگے ؟۔

هارون نے کہا سبحان الله کیوں نہیں دوں گا، بلکہ میں تو اس صورت میں تمام عرب، عجم اور قریش پر فخر بھی کروں گا ۔

امام (ع) نے ارشاد فرمایا: اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زنده هوجائیں تو میری لڑکی سے شادی کی خواستگاری نہیں کریں گے اور میں بھی انہیں اپنی لڑکی نہیں دوں گا ۔

هاورن نے کہا اس کی وجہ کیا هے ؟۔

امام (ع) نے فرمایا: چونکہ وہ همارے والد هیں (خواه والده هی کی طرف سے) لیکن تمهارے باپ نہیں هیں، لهذا میں اپنے کو رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا فرزند کہہ سکتا هوں ۔

هارون نے کہا آپ لوگ کیوں اپنے کو ذرّیت و اولاد رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم جانتے هیں جبکہ اولاد و ذریت لڑکے طرف سے شمار هوتی هے نہ کی لڑکی طرف سے ؟۔

امام (ع) نے فرمایا: مجھے اس سوال کے جواب سے معاف کرو ۔

هارون نے کہا: نہیں، آپ جواب دیجیئے اور قرآن سے دلیل دیجئے ۔

امام (ع) نے فرمایا:

" وَ وَهَبْنَا لَهُ إِسحَقَ وَ يَعْقُوب كلاًّ هَدَيْنَا وَ نُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَ مِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَ سلَيْمَنَ وَ أَيُّوب وَ يُوسف وَ مُوسي وَ هَرُونَ وَ كَذَلِك نجْزِي الْمُحْسِنِينَ‏ وَ زَكَرِيَّا وَ يحْيي وَ عِيسي وَ إِلْيَاس كلٌّ مِّنَ الصلِحِينَ وَ إِسمَعِيلَ وَ الْيَسعَ وَ يُونُس وَ لُوطاً وَ كلاًّ فَضلْنَا عَلي الْعَلَمِينَ‏ وَ مِنْ ءَابَائهِمْ وَ ذُرِّيَّاتهِمْ وَ إِخْوَانهِمْ وَ اجْتَبَيْنَاهُمْ وَ هَدَيْنَاهُمْ إِلي صرَطٍ مُّستَقِيمٍ‏؛ اور ھم نے ابراھیم کو اسحاق و یعقوب دیئے اور سب کو ھدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح کو ھدایت دی اور پھر ابراھیم کی اولاد میں داؤد, سلیمان ایوب، یوسف, موسٰی اور ھارون قرار دیئے اور ھم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ھیں، اور زکریا, یحیٰی, عیسیٰ اور الیاس کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے، اور اسماعیل, الیسع, یونس اور لوط بھی بنائے اور سب کو عالمین سے افضل و بہتر بنایا، اور پھر ان کے باپ دادا, اولاد اور برادری میں سے اور خود انہیں بھی منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستہ کی ھدایت کردی ۔[23]

 اس وقت میں تم سے پوچھتا هوں کہ اس آیت میں عیسیٰ (ع) کو جناب ابراهم علیہ السلام کی ذریت و اولاد میں شمار کیا گیا هے کیا وه باپ کی طرف سے منسوب هیں یا ماں کی طرف سے ؟۔

هارون نے کہا: قرآن کے ثبوت کے مطابق حضرت عیسیٰ (ع) کا کوئی باپ نہیں تھا ۔

امام (ع) نے فرمایا: پھر وه ماں کی طرف سے اولاد میں شمار کئے گئے هیں لهذا هم بھی اپنی ماں حضرت فاطمہ زهرا سلام الله علیھا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ذرّیت میں شمار هوتے هیں ۔

کیا دوسری آیت بھی تمہارے لئے پڑھوں ؟ ۔

هارون نے کہا پڑھئے !۔ 

امام (ع) نے فرمایا : " فَمَنْ حَآجَّکَ فِیهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَ أَبْنَاءکُمْ وَ نِسَاءنَا وَ نِسَاءکُمْ وَ أَنفُسَنَا و أَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ؛ پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ھم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ۔[24]

کسی شخص نے بھی دعویٰ نہیں کیا ھے کہ پیغمبر (ص) نے نصارائے نجران سے مباھلہ میں على و فاطمہ و حسن و حسين علیھم السلام کے علاوہ کسی اور کو مباھلہ میں اپنے ساتھ لے گئے ھوں، لہذا ابنائنا (اپنے بیٹوں) کے مصداق آیت میں حسن و حسين (علیهما السلام) ھیں، اس کے باوجود کہ یہ حضرات ماں کی طرف سے پیغمبر (ص) سے منسوب ھیں ۔[25]

امام موسی ٰکاظم (ع) کی عبادت :

آپ عبادت کو اسی حیثیت کا حامل جانتے تھے جس طرح خداوند عالم نے اسے خلقت کی غایت و مقصد کے عنوان سے پہچنوایا هے اور سماجی و اجتماعی کاموں سے فراغت کے بعد کسی کام کو اس کے هم پلہ نہیں قرار دیتے تھے جس وقت هارون کے حکم سے آپ کو زندان میں ڈالا گیا تو آپ نے اس طرح فرمایا :

" اللّهمّ إنّي طالما كنت أسألك أن تُفرّغني لعبادتك، وقد استجبتَ لي، فَلَك الحمدُ على ذلك؛ خداوند! میں بڑی مدّت سے تجھ سے سوال کررها تھا کہ تو مجھے اپنی عبادت کے لئے فرصت عنایت فرما اور اس وقت تو نے میری دعا قبول کرلی ھے لهذا میں اس موقع کے ملنے پر تیری حمد کرتا هوں "۔[26]

اس جملہ سے پتہ چلتا هے حضرت (ع) قیدخانہ میں جانے سے پہلے کتنا زیاده سماجی کاموں میں مصروف رها کرتے تھے جس زمانے میں امام (ع) ربیع کے قیدخانہ میں تھے تو بعض اوقات هارون اپنے محل کی چھت پر جاکر وهاں سے زندان کا نظاره کرتا تھا چونکہ وهاں سے قیدخانہ دکھائی دیتا تھا ۔ وه جب بھی دیکھتا تھا تو اسے نظر آتا تھا کہ قیدخانہ کے گوشہ میں گویا ایک لباس پڑا هوا هے اور اس میں ذرّه برابر جنبش نہیں هو رهی هے، ایک بار هارون نے پوچھا وه کس کا لباس هے ؟۔

ربیع نے جواب دیا: لباس نہیں هے بلکہ وه موسیٰ بن جعفر (ع) هیں اکثر اوقات پروردگار عالم کی عبادت اور سجود میں بسر کرتے هیں ۔

هارون نے کہا: سچ هے وه بنی هاشم میں سب سے زیاده عبادت گزار هیں ۔

ربیع نے هارون سے پوچھا: پھر تم کیوں حکم دیتے هو کہ قیدخانہ میں ان پر زیاده سے زیاده سختی کرو ۔

هارون نے جواب میں کہا: افسوس کہ اس کے علاوه کوئی اور چاره نہیں هے !! ۔[27]

ایک مرتبہ هارون نے ایک خوبصورت کنیز کو امام (ع) کے پاس قیدخانہ میں بھیجا اور باطن میں اس کا قصد یہ تھا کہ اگر امام (ع) اس کی طرف ذرّه برابر بھی مائل هوں تو ان کے خلاف پروپگنڈه کیا جائے ۔ امام (ع) نے اس خوبصورت کنیز کو لانے والے سے فرمایا: تم لوگوں نے اس  طرح کے هدایا سے دل لگایا هے اور اس پر فخر کرتے هو، مجھے ان جیسے هدایا کی کوئی حاجت نہیں هے، هارون بہت ناراض هوا اور حکم دیا کہ کنیز کو قیدخانہ میں لے جاؤ اور امام (ع) سے کہو: هم نے آپ کو آپ کی مرضی سے قیدخانہ میں نہیں ڈالا هے یعنی اس کنیز کے زندان میں رهنے کے لئے آپ کی مرضی کی ضرورت نہیں هے ۔

تھوڑا سا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ هارون کے جاسوسوں اور مخبروں نے اسے بتایا کہ وه کنیز اکثر اوقات حالت عبادت اور سجدہ میں رهتی هے ۔ هارون کے کہا: خدا کی قسم موسی بن جعفر (ع) نے اس پر اپنا جادو چلا دیا هے ۔

هارون نے کنیز کو بلا کر اس سے پوچھ گچھ شروع کردی لیکن کنیز نے امام (ع) کے بارے میں اچھائی و خوبی کے سوا کچھ بھی نہ کہا، هارون نے اپنے جاسوس کو حکم دیا کہ اس کنیز کو اپنے پاس رکھو تاکہ کسی کو اس ماجرا کی خبر نہ هونے پائے، کنیز مسلسل عبادت الہی انجام دیتی رهی اور امام (ع) کی شهادت سے چند روز پہلے اس کا انتقال هوگیا ۔[28]

حضرت امام موسی ٰکاظم (ع) اس دعا کو برابر پڑھا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ والمغفرة بعد الموت وَالْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابِ؛ پروردگار! میں تجھ سے موت کے وقت راحت و سکون اور موت کے بعد مغفرت و بخشش اور حساب کے وقت معافی کا طلبگار هوں ۔[29]

امام (ع) قرآن کریم کو بڑے خوش الحان و دلنشیں آواز میں پڑھا کرتے تھے چنانکہ جب بھی کوئی آپ کی آواز کو سنتا تھا تو رونے لگتا تھا اور مدینہ کے لوگوں نے آپ کو (زین المتهجّدین) یعنی شب زنده داروں کی زینت کا لقب دیا تھا ۔[30]

  امام (ع) کا حلم اور بر دباری :

آپ (ع) کے حلم اور بردباری کی کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ صفت دوسروں کے لئے نمونہ عمل تھی اسی لئے  آپ کو کاظم کا لقب دیا گیا تھا جو اس اهم صفت کی طرف اشاره کرتا هے کاظم کے معنی هیں غصہ کو پی جانے والا ۔

ایک واقعہ ملتا ھے کہ خلیفہ دوم کی اولاد میں سے ایک شخص مدینہ میں رهتا تھا جو امام (ع) کو اذیت و آزار دیا کرتا تھا اور جب آپ کو دیکھتا تھا دشنام دینے لگتا تھا اور امام (ع) کی توهین کرتا تھا ۔

امام (ع) کے بعض اصحاب اور دوستوں نے چاها کہ اسے تنبیہ کریں اور ادب سکھائیں یهاں تک کہ اگر ضرورت هو تو اسے ختم کردیا جائے، امام (ع) نے بڑی شدّت سے اس بات کی مخالفت کرتے هوئے ان لوگوں کو اس کام سے روکا کرتے تھے ۔

ایک دن امام (ع) نے اس کی کھیتی باڑی کی جگہ کو پوچھنے کے بعد سوار هوکر اس کے کھیت میں وارد هوئے اس نے پکار کر کہنا شروع کیا کہ میری کھیتی کو پامال نہ کرو! حضرت (ع) نے اس کی بات کا کوئی دھیان نہیں دیا اور اسی طرح سوار هوکر اس کے پاس پہنچے ۔[31] حضرت (ع) نے اس کے پاس پہنچنے کے بعد اپنی سواری سے اتر کر بڑی خنده پیشانی و احترام سے اس سے پوچھا : تم نے اس کھیت میں کتنا خرچ کیا هے ؟۔

اس نے جواب دیا : سو دینار ۔

امام (ع) نے پوچھا : کتنے نفع کی امید رکھتے هو ؟۔

اس آدمی نے جواب دیا: مجھے علم غیب نہیں هے ۔

امام (ع) نے فرمایا: میں نے کہا تمهیں کس قدر امید هے ؟۔

اس نے جواب دیا: دو سو دینار کے نفع کی امید هے ۔

حضرت (ع) نے اسے تین سو دینار عنایت کرکے فرمایا: کھیتی سے ملنے والا نفع بھی تمہارا هے جس چیز کی تمهیں امید هے خدا وه بھی تمهیں دے گا، اس شخص نے کھڑے هوکر حضرت (ع) کی پیشانی کا بوسہ لیا اور اپنی جسارت و گناهوں کی معافی مانگنے لگا دوسرے دن وه شخص مسجد میں بیٹھا هوا تھا کہ امام (ع) مسجد میں داخل هوئے جیسے هی اس آدمی کی نظر امام (ع) پر پڑی اس نے کہا: " الله اعلم حيث‏ يجعل رسالته؛ خدا بہتر جانتا هے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے "۔[32]

امام  کاظم (ع) کی سخاوت و بخشش :

امام (ع) نے دینا کو کبھی اپنا مقصد نہیں قرار دیا اور اگر کبھی کوئی مال و دولت فراهم هوتی تھی تو آپ چاهتے تھے کہ اس سے لوگوں کی خدمت کریں اور ان کی روحانی و مادّی پریشانیوں کی سکون عطا کریں، بھوکے کو سیر کریں اور برهنہ کو لباس عطا کریں ۔

محمد بن عبدالله بِکری کہتا هے: میں مالی و اقتصادی لحاظ سے بہت زیاده پریشان و درمانده هوگیا تھا اور قرض لینے کی غرض سے مدینہ میں وارد هوا، میں نے بہت سے لوگوں سے کہا مگر اس سے کوئی فائده نہیں هوا، میں نے تھکنے اور پریشان هونے کے بعد اراده کیا کہ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی خدمت بابرکت میں جاؤں اور اپنی پریشانی و مفلسی کی ان سے شکایت کروں ۔

جستجو و تلاش کے بعد امام (ع) کو مدینہ کے اطراف کے ایک کھیت میں کام کرتے هوئے پایا ۔

امام (ع) خاطر داری کے لئے میرے پاس آئے اور کھانا کھلانے کے بعد مجھ سے سوال کیا: کیا مجھ سے تمهیں کوئی کام تھا ؟۔ میں نے اپنا سارا واقعہ ان سے بیان کیا ۔

امام (ع) اپنی جگہ سے اٹھے اور کھیت سے قریب ایک کمره میں گئے اور تین سو دینار (یعنی سونے کے سکے) لاکر مجھے عنایت کردیا ۔[33]

عیسیٰ ابن محمد جن کی عمر نوے سال کی هوگئی تھی کہتے هیں: میں نے ایک سال خربوزه، کھیرے اور کدو کی کھیتی کی تھی، لیکن ٹڈیوں نے میری کھیتی کو تباه و برباد کردیا جس کی وجہ سے مجھے ایک سو بیس دینار کا نقصان هوا ۔

انھیں ایام میں امام کاظم (ع) میرے پاس تشریف لائے ۔ خیریت و احوال پرسی کے بعد میں نے کہا: ٹڈیوں نے میری تمام کھیتی کو تباه و برباد کردیا هے ۔

حضرت (ع) نے پوچھا: کتنا نقصان هوا ؟۔

میں نے کہا: اونٹوں کا خرچ، ایک سو بیس دینار ۔

امام (ع) نے مجھے ایک سو پچاس دینار عطا کیا ۔

میں نے عرض کیا: آپ کا وجود همارے لئے بابرکت هے میرے کھیت میں تشریف لے آیئے اور میرے لئے دعا فرمایئے ۔

امام (ع) نے تشریف لاکر میرے لئے دعا کی اور فرمایا: " پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی گئی هے کہ جن اموال اور ملکیت میں نقصان هوا هے اس میں خوب دل لگا کر کام کرو " ۔

 میں نے بھی (امام (ع) کی رهنمائی سے) اس زمین میں کام کیا، پانی سینچا، خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ اس کے محصول کو دس هزار میں بیچا ۔[34]

حضرت امام کاظم­(ع) کی شهادت :

امام (ع) ایک سال عیسیٰ ابن جعفر والی بصره کے قیدخانہ میں رهے حضرت (ع) کے نیک اوصاف و کمالات نے عیسیٰ ابن جعفر کے اندر اتنا اثر کیا کہ اس جلّاد و بد اخلاق نے هارون کے پاس لکھا: ان کو میرے پاس سے لے جاؤ ورنہ میں ان کو آزاد کردوں گا ۔

هارون کے دستور کے مطابق حضرت (ع) کو بغداد لے جاکر فضل بن ربیع کے قیدخانہ میں مقید کیا، اس نے چند دنوں کے بعد فضل بن یحییٰ کے پاس بھیج کر قیدخانہ میں ڈالا اور آخر میں سندی بن شاھک کے قیدخانہ میں زندانی کیا گیا ۔

مسلسل ایک قیدخانہ سے دوسرے قیدخانہ منتقل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ هارون جب بھی اپنے زندان کے نگہبانوں کو امام (ع) کی زندگی کا خاتمہ کرنے کا حکم دیتا تھا تو یہ لوگ تیار نہیں هوتے تھے، یهاں تک کہ سندی بن شاھک نے هارون کے کہنے پر حضرت (ع) کو زهر دیا اور امام (ع) کی شهادت سے پہلے اس نے مشهور و معروف شخصیتوں کو حاضر کیا تاکہ وه سب گواهی دیں کہ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کو هم نے کوئی اذیت نہیں دی اور ھماری طرف سے سوء قصد کوئی ضرر نہیں پہنچا ھے وه اپنی فطری موت سے قیدخانہ میں انتقال کرگئے هیں ۔ وه اپنے اس فریب و حیلہ سے چاهتا تھا کہ حکومت بنی عباس کو امام (ع) کے قتل سے مبرّا قرار دے اور امام (ع) کے چاهنے والوں کی طرف سے احتمالی خطروں اور قیام کو روک سکے ۔[35] لیکن امام موسیٰ کاظم (ع) نے اپنی هوشیاری و ذهانت سے ان سب کو رسوا و ذلیل کردیا، حضرت (ع) نے مسموم ھونے، حالت کے خراب هونے اور کمزوری و ناتوانی کے باوجود ان گواهوں سے فرمایا: ان لوگوں نے ۹/ نو عدد خرمے کے ذریعہ مجھے مسموم کیا هے، میرا جسم کل سبز هوجائے گا اور پرسوں میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا ۔[36]

امام (ع) دو دن کے بعد 2۵/ رجب المرجب سنہ183 هجری میں  درجہ شهادت پر فائز هوئے ۔[37]

حضرت (ع) کے جنازه کو تین دن تک بغداد کے پل پر رکھا گیا اور چہرۀ مبارک کو کھول کر لوگوں کو ندا دی جارهی تھی کہ یہ موسی ٰبن جعفر (ع) هیں جو دنیا سے انتقال کرگئے هیں اگر ان کی زیارت کرلو ۔ لوگ جوق در جوق آکر حضرت (ع) کو دیکھ رھے تھے ۔

اس کے بعد سلیمان بن منصور جو هارون رشید کے چچا تھے اور عباسیوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے ان کی بلند و بالا همّت سے امام موسیٰ کاظم (ع) کے جنازه کی بڑے اهتمام کے ساتھ تشییع کی گئی اور انہیں بغداد میں قریش کے قبرستان میں سپر لحد کیا گیا ۔[38]

حضرت امام موسی ٰکاظم (ع) کی قبر شریف اس وقت کاظمین میں هے جس کو عراقی (کاظمیہ) کے نام سے یاد کرتے هیں اور آپ کے پوتے حضرت امام محمد تقی (ع) کی قبر اطهر بھی آپ کے جوار میں هے جو اهل بیت علیھم السلام کے ماننے والوں اور شیعوں کی زیارت گاه هے ۔

 


[1] ۔ مدينہ اور مكہ کے درمیان واقع ایک علاقہ ھے ۔

[2] ۔ امویوں کے خلاف انقلاب کی دعوت دینے والوں نے بہت بڑی خیانت کی ھے اس معنی میں کہ علویوں کے بجائے عباسیوں کو منصب خلافت پر بیٹھا دیا اور یہ موقع نہیں دیا کہ حکومت اپنے اصلی مرکز اور سچے حقدار تک پہنچے ۔

ابو سلمہ و ابو مسلم خراسانى، پہلے تو لوگوں کو آل على (ع) کی طرف دعوت دے رھے تھے، لیکن یہ لوگ پہلے ھی سے عباسی حکومت کی بنیاد ڈال رھے تھے، اسی وجہ سے حضرت امام صادق (ع) اپنی سیاسی و عمیق بصیرت کی بناپر ان لوگوں کی باتوں پر بھروسہ نہیں کررھے تھے چونکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ سب حقیقت میں حضرت (ع) کی مدد کے لئے انقلاب برپا نہیں کررھے ھیں بلکہ وہ سب اپنے دل و دماغ میں کچھ دوسری چیزوں کی پرورش دے رھے ھیں۔ شہرستانى کی كتاب ملل و نحل کو ملاحظہ فرمائيں،ج 1ص 1۵۴ طبع مصر- تاريخ يعقوبى ج 3 ص 89- بحار الانوار ج11 ص1۴2 طبع كمپانى ۔

[3] ۔ حياة الامام ج 1 ص ۴۴۵- ۴39۔

[4] ۔ بحار ج ۴8، ص 71 و 72؛ اعلام الورى طبرى، طبع علميہ اسلاميہ، ص 29۵۔

[5] ۔ مقاتل الطالبيين ص ۴۴7۔

[6] ۔ حوالہ سابق، ص ۴۵3۔

[7] ۔ تاريخ طبرى، ج 10، ص ۵92، طبع لندن۔

[8] ۔ حوالہ سابق، ۵93۔

[9] ۔ حياة الامام، ج 1، ص ۴۵8۔

[10] ۔ تاريخ يعقوبى، ج 2، ص ۴07۔

[11] ۔ تاریخ طبرى، ج 10، ص ۶03۔

[12] ۔ حياة الامام، ج 2، ص 29۔

[13] ۔ حوالہ سابق، ص 39۔

[14] ۔ حوالہ سابق، ص 32۔

[15] ۔ حوالہ سابق، ۶2۔

[16] ۔ حوالہ سابق، ص77۔

[17] ۔ مقاتل الطالبين، ص۴۶3- ۴97۔

[18] ۔ امالى شيخ طوسى، ص 20۶، طبع سنگى۔

[19] ۔ حوالہ سابق۔

[20] ۔ رجال كشى، ص ۴۴1- ۴۴0؛ آپ (ع) کے والد ماجد حضرت امام صادق(عليہ السلام) بھی يونس­ بن­ يعقوب کہتے ھیں: " ان لوگوں کی مسجد کے بنانے میں بھی مدد نہ کرو " وسائل، ج 12، ص 120- 130۔

[21] ۔ غيبت ‏شيخ طوسى، ص 21، طبع سنگى۔

[22] ۔ تاريخ بغداد، ج 13، ص 32۔

[23] ۔ سورہ‏ مبارکہ انعام، آيہ‏ شریفہ 87- 8۴۔

[24] ۔ سورہ‏ مبارکہ آل عمران، آيہ‏ شریفہ ۶1۔

[25] ۔ عيون اخبار الرضا،ج 1، ص 81، طبع قم؛ احتجاج طبرسى، طبع سنگى نجف، ص 211- 213؛ بحار الانوار، ج ۴8، ص 129- 12۵۔

[26] ۔ حياة الامام، ج 1، ص 1۴0؛ ارشاد مفيد، ص 281۔

[27] ۔ حياة الامام موسى ­بن ­جعفر، ج 1، ص 1۴0؛ ارشاد مفيد، ص 281۔

[28] ۔ مناقب ابن ­شہر آشوب، ج ۴، ص 297، طبع قم۔

[29] ۔ ارشاد مفيد، ص 277۔

[30] ۔ حوالہ سابق، ص 279۔

[31] ۔ چونکہ یہ کا اصلاح اور اس کے راہِ راست پر لانے کے لئے انجام دیا جارھا تھا اس لئے امام کی نظر میں جائز  بلکہ لازم تھا ۔

[32] ۔ تاريخ بغداد، ج 13، ص 28؛ ارشاد مفيد، ص 278۔

[33] ۔ تاريخ بغداد، ج 13، ص 28۔

[34] ۔ حوالہ سابق، ص 29۔

[35] ۔ غيبت‏شيخ طوسى، ص 22- 2۵، طبع سنگى۔

[36] ۔ عيون اخبار الرضا، ج 1، ص 97۔

[37] ۔ كافى، ج 1، ص ۴8۶، انوار البہيہ، ص 97۔

[38] ۔ الارشاد، ص ۵79؛ المستجاد، ص 189؛ منتھیٰ الآمال، ج2، ص 212؛ تاریخ بغداد، ج31، ص 29؛ وقائع الایام، ص 322 و عیون اخبار الرضا (ع)، ج2، ص 92۔