")
امام حسن عسکري عليہ السلام

حیات امام حسن عسکری (ع) کے متعلق مختصر معلومات

ابو محمد، حسن بن علی عسکری (ع) تیرهویں معصوم اور ھم شیعوں کے گیارهویں امام حضرت امام حسن عسکری (ع) کے نام سے معروف هیں اور شیعہ حضرات انھیں ان کے والد ماجد امام علی نقی (ع) کے ساتھ امامین عسکریین سے یاد کرتے هیں اس لئے کہ یہ حضرات، عباسی خلفاء کے زیر نظر لشکری شهر سامره میں " عسکر" نامی جگہ میں زندگی بسر کررهے تھے ۔

اکثر شیعہ اثنا عشری منابع میں آپ کی ولادت باسعادت کو ربیع الاول سنہ 230 هجری بمطابق نومبر سنہ 8۴۴ عیسوی میں لکھا هے ۔ لیکن شیخ کلینی قدس سره نے اپنی کتاب اصول کافی میں رمضان المبارک سنہ 232 هجری بمطابق اپریل سنہ 8۴7 عیسوی میں ذکر کیا هے آپ مدینہ منوره میں پیدا هوئے آپ کی مادر گرامی کا نام حدیث هے بعض منابع میں ان کا نام سلسیل اور دوسرے بعض ماخذ میں سوسن نقل کیا گیا هے، یہ خاتون اپنے زمانے میں دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر تھیں اور انھیں فرزند پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی زوجیّت کا شرف ملا هے اپنے آبائی وطن میں شهزادی تھیں، امام علی نقی (ع) نے ان کے بارے میں فرمایا هے: سلیل هر قسم کی آفت، پلیدی اور آلودگی سے دور هیں ۔[1]

نام، القاب اور کنیت :

ان کا نام حسن، کنیت ابو محمّد اور ان کا القاب صامت، زکی، خالص، نقی، هادی اور رفیق ھے آپ شیعوں کے درمیان ابن الرضا (شیعوں کے آٹھویں امام) سے مشہور ھیں ۔ حضرت کا لقب بھی ان کے والد ماجد کی طرح عسکری تھا اور یہ لقب سامرہ کی عسکر نامی جگہ سے لیا گیا ھے ۔

حضرت امام حسن  (ع) عسکری کی سیرت

۱ ۔ امام (ع) کی عملی سیرت:

امام حسن عسکری (ع) بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح سعی و کوشش کرتے تھے کہ آپ کی سیرت کامل طورپر سنتِ خدا اور رسولِ خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو زنده کریں، حضرت (ع) کی عملی سیرت سے معلوم هوتا هے کہ آپ خستگی ناپذیر اور بھرپور و پیہم کوشش کرتے تھے کہ اس اهم مقاصد میں کامیاب رهیں اور سیرت پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو قائم و باقی رکھیں، هم اس وقت ان کی عملی سیرت کے کچھ نمونے بیان کرتے هیں :

1- محمد ابن حمزه سروری کا بیان ھے: میں نے ایک خط اپنے دوست ابو هاشم داؤد بن هاشم جعفری کے واسطہ سے امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں لکھا ۔

چونکہ میں بہت زیاده تنگدست اور مفلس هوگیا تھا اس لئے اپنے لئے ان سے دعا کی درخواست کی، شاید خداوند عالم مجھے وسعت رزق عنایت کرے، حضرت (ع) کی طرف سے میرے خط کا جواب ابوهاشم کے ذریعہ پہنچا ۔

امام (ع) نے لکھا تھا: " خداوند عالم نے تمهیں بے نیاز کردیا هے تمهارے چچا زاد بھائی یحییٰ ابن حمزه دنیا سے رخصت هوگئے هیں، ایک لاکھ درهم تمهیں میراث میں ملے گا اور عنقریب اسے تمهاری خدمت میں لائیں گے، خدا کا شکر ادا کرو، لیکن اس چیز کی طرف متوجہ رهو کہ اپنی زندگی میں میانہ روی و اعتدال سے کام لو، ایسا نہ هو کہ فضول خرچی سے کام لو اس لئے کہ فضول خرچی شیطان کا کام هے ۔

چند دنوں کے بعد حران سے ایک آدمی کچھ اسناد و دستاویز لے کر میرے پاس آیا جس میں میرے چچا زاد بھائی کی جائیداد درج تھی اس کو میرے حوالہ کیا ۔

اس کے علاوہ ایک خط اس کے ساتھ ضمیمہ کیا هوا تھا اس میں اطلاع دی تھی کہ یحییٰ بن حمزه کا انتقال فلان تاریخ میں هوا هے ۔ وفات کی تاریخ بالکل اس دن کے مطابق تھی کہ جو امام حسن عسکری (ع) نے خط میں لکھا تھا، میری تنگدستی و مفلسی ختم هوگئی اور اس مال میں جو الٰہی حقوق تھے میں نے انہیں نکال کر مستحقین تک پہنچایا اور اپنے دینی بھائیوں کی بھی امداد کی، اس کے بعد امام (ع)  کے فرمان کے مطابق میانہ روی و اعتدال کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا رها ۔[2]

2- ابو جعفر محمد ابن عیسیٰ کہتے هیں: ایک بار میں نے مسجد زبید میں جو شهر سامره کے بازار میں واقع تھی، ایک جوان کو دیکھا کہ وہ کہہ رهے هیں، هاشمی اور موسیٰ بن عیسیٰ کی اولاد میں سے هے ۔ میں نماز میں مشغول هوگیا اور جب نماز تمام هوئی تو اسی هاشمی جوان نے میری طرف رخ کرکے کہا: میں قم کا رهنے والا هوں لیکن اس وقت کوفہ میں مسجد امیرالمؤمنین (ع) کے پڑوس میں زندگی بسر کررها هوں ۔ اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کوفہ میں موسیٰ ابن عیسیٰ کے گھر کو جانتے هو ؟ میں نے جواب دیا: هاں ۔ اس نے کہا: میں ان کا بیٹا هوں ۔

اس نے کہا: میرے والد کے کئی بھائی هیں، بڑے بھائی کے پاس بہت زیاده دولت هے اور چھوٹے بھائی کے پاس مال دنیا سے کچھ بھی نہیں هے ۔ ایک دن چھوٹے بھائی نے اپنے بڑے بھائی کے پاس جاکر چھ سو دینار کی چوری کر لی ۔ بڑا بھائی کہہ رها تھا میں امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں جاؤں گا اور حضرت (ع) سے التماس کروں گا کہ میرے چھوٹے بھائی سے لطف و محبت سے بات کریں شاید وه میری دولت واپس کردے اس لئے کہ امام (ع) کا بیان اور کلام بڑا شیریں هے، ان کا کلام اس پر اثر انداز هوسکتا هے، لیکن سحر کے وقت میں نے اپنا اراده بدل دیا کہ امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں جاکر کہوں ۔ میں نے سوچا کہ (اسباس ترکی) جو سلطان کا همنشیں هے اس کے پاس جاکر شکایت کروں گا !

بڑا بھائی کہتا هے جیسے هی میں اسباس ترکی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وه جوا کھیل رها هے، میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور انتظار کررها تھا کہ اس کا کھیل ختم هوجائے، اسی اثنا میں اچانک امام حسن عسکری (ع) کی طرف سے ایک شخص پیغام لے کر آیا اور کہا: اپنے آقا کی دعوت پر لبیک کہو میں اپنی جگہ سے اٹھ کر قاصد کے ساتھ امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں مشرّف هوا ۔

امام (ع) نے فرمایا: کون سا واقعہ پیش آیا کہ رات کی ابتدا میں مجھ حاجت برآری کے خواستگار تھے اور سحر کے وقت تمهاری رائے بدل گئی، اٹھو اور واپس جاؤ، تمهارا چھوٹا بھائی جو مال لے گیا تھا وه واپس لے آیا هے اور اس کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور تھوڑا سا مال اسے بھی عطا کرو، اگر تمهارا اراده هے کہ اسے کچھ نہ دو تو اسے میرے پاس بھیج دو تاکہ میں اس کی مدد کروں، جب میں امام (ع) کی خدمت سے رخصت هوا تو میرے غلام نے میرے پاس آکر درهم کی تھیلی کے لانے کی اطلاع دی ۔[3]

3- ابوهاشم جعفری کہتے هیں: ایک دن میں امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں مشرف هوا اور میرا اراده تھا کہ حضرت (ع) سے چاندی لوں گا اور انگوٹھی بنواؤں گا جو میرے لئے متبرّک  هوگی ۔ میں بیٹھا اور بھول گیا، جب خدا حافظی کے لئے اٹھا تو امام (ع) نے مجھے انگوٹھی دے کر فرمایا: تم چاندی چاہ رهے تھے میں نے تمهیں انگوٹھی دی، نگینہ اور انگوٹھی کے بنوانے کی اجرت تمهارے نفع میں رهی! یہ انگوٹھی بابرکت اور گوارا هو، اے ابو هاشم! میں نے کہا: میرے آقا و مولا، میں گواهی دیتا هوں کہ آپ ولی خدا اور همارے امام هیں آپ کی اطاعت کو میں اپنے دین کا جزء جانتا هوں ۔ امام (ع) نے فرمایا: خدا تمهاری مغفرت کرے اے ابوهاشم ۔[4]

۴- اسماعیل بن محمد کا بیان هے: میں امام حسن عسکری (ع) کے گھر کے پاس جاکر بیٹھ گیا جب حضرت (ع) اپنے گھر سے باهر آئے تو میں نے آگے بڑھ کر اپنی تنگدستی اور نیازمندی کی شکایت کی اور قسم کھائی کہ میرے پاس ایک درهم بھی نہیں هے!۔

امام (ع) نے فرمایا: تم قسم کھا رهے هو جبکہ دو سو دینار زمین کے اندر دفن کر رکھے هو ؟۔ اور فرمایا کہ میں نے یہ بات اس لئے نہیں کہی  هے کہ تمهیں اپنے عطیہ سے محروم رکھوں، اس کے بعد اپنے غلام کی طرف رخ کرکے فرمایا: جو کچھ تمهارے پاس هے اسے دے دو ۔

غلام نے سو دینار مجھے دیئے، میں نے خدائے متعال کا شکر ادا کیا اور واپس آگیا ۔ حضرت (ع) نے مجھ سے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر هے کہ جب تم کو ان دیناروں کی سخت ضرورت هو تو وه تمهارے هاتھ نہ لگے ۔

میں ان دیناروں کی تلاش میں گیا، انہیں اسی جگہ پایا، ان کی جگہ بدل دی اور انہیں اس طرح دفن کیا کہ کسی کو اس کی خبر نہ هوسکے ۔ اس واقعہ کو گزرے ایک زمانہ هوگیا ۔ جب مجھے ان دیناروں کی ضرورت هوئی تو ان کو نکالنے کے لئے گیا مگر ایک دینار بھی نہیں ملا، مجھ پر بہت گران گزرا ۔ میں بعد میں سمجھا کہ میرے بیٹے نے اس کی جگہ جان لی تھی وه نکال کر لے گیا اور ان میں سے مجھے ایک دینار بھی نہیں ملا، ماجرا وهی هوا جس طرح امام (ع) نے بیان کیا تھا ۔[5]

۵ - بنی عباس کے کچھ لوگ صالح بن وصیف کے پاس گئے درحالیکہ اس نے امام حسن عسکری (ع) کو قیدخانہ میں ڈال رکھا تھا اور ان لوگوں نے اس سے کہا کہ حضرت (ع) کے ساتھ سختی سے پیش آئے اور جتنا هوسکے اذیت دے اور ستائے! صالح بن وصیف نے جواب دیا: میں نے دو بدترین و بد اخلاق لوگوں کو ان پر معیّن کیا تھا لیکن وه دونوں اس وقت نمازی اور روزه دار بن گئے هیں اور عبادت میں بلند و بالا مرتبہ پر فائز هوگئے هیں ۔ بنی عباس نے صالح بن وصیف سے کہا کہ ان دونوں کو بلاؤ، ان دونوں کو بلانے کے بعد انہیں ڈرایا، دھمکایا اور سرزنش کی کہ امام (ع) پر سختی کیوں نہیں کر رهے هو ؟۔

ان دونوں نے جواب دیا: اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے جو دنوں میں روزه رکھتے هیں اور راتوں کو صبح تک عبادت میں مصروف رهتے هیں، وه کسی سے بات نہیں کرتے اور صرف عبادت میں مشغول رهتے هیں اور جس وقت هم پر نظر کرتے هیں تو همارا جسم لرزنے لگتا هے اور هماری حالت ایسی هوجاتی هے کہ جیسے هم اپنے نفس کے مالک ھی نہیں هیں، بنی عباس ان باتوں کو سننے کے بعد بڑی ذلّت و خواری کے ساتھ وهاں سے واپس ھوئے ۔[6]

6- احمد ابن عبیدالله بن خاقان قم کی اراضی اور خراج کا متولّی و ذمہ دار تھا، ایک دن اس کی بزم میں علویوں اور ان کے عقائد کے بارے میں بات چھڑ گئی  احمد ابن عبیدالله جو خود ایک سخت و متعصّب ناصبی اور اهلبیت علیھم السلام سے منحرف شخص تھا اس نے گفتگو کے درمیان کہا: میں نے سامره میں علویوں میں سے حسن بن علی بن محمد بن علی الرضا امام حسن عسکری (ع) کے مانند کردار و رفتار، وقار، عفت و پاکدامنی، نجابت، فضیلت اور عظمت میں ان کے خاندان اور بنی هاشم کے نہیں دیکھا هے اور نہ پہچانتا هوں ۔ ان کی خاندان والے انہیں بزرگوں اور محترم لوگوں پر فوقیت دیتے هیں اور لشکر کے سردار ، وزراء  اور تمام لوگوں میں ان کا وهی احترام هے، مجھے یاد هے کہ ایک دن میں اپنے والد کے پاس تھا، دربانوں نے خبر دی کہ ابو محمد ابن الرضا امام حسن عسکری (ع) تشریف لارهے هیں ۔

میرے والد نے بلند آواز سے کہا: انہیں آنے دو، میں اس بات سے بڑا حیرت زده تھا کہ نگہبان میرے والدے کے پاس انہیں کینہ سے بھی اور احترام سے بھی یاد کیا کرتے تھے، اس لئے کہ میرے والد کے پاس سوائے خلیفہ یا ولی عهد یا وه شخص جس کے بارے میں خلیفہ نے کینہ سے یاد کرنے کا حکم دیا هو کسی کو کینہ سے یاد نہیں کرتے تھے ۔

اس وقت ایک شخص جس کا رنگ گندمی، اچھے قد و قامت، خوبصورت، سڈول و موزوں جسم والا جوان هیبت و جلالت کے ساتھ وارد هوا ۔

جیسے هی میرے والد کی نگاه ان پر پڑی اپنے جگہ سے اٹھ کر چند قدم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا ۔ مجھے یاد نہیں هے کہ میرے والد نے بنی هاشم میں سے کسی کے لئے یا لشکر کے کمانڈروں میں کسی کا اتنا احترام کیا هو، ان سے گلے ملے، پیشانی کا بوسہ لیا اور ان کا هاتھ پکڑ کر اپنے مصلّی پر بیٹھایا اور خود ان کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے لگے، اور ان سے گفتگو کے درمیان یہ کہتے جاتے تھے کہ میں آپ پر قربان هوجاؤں ۔ میں جو کچھ دیکھ رها تھا اس سے بڑی حیرت میں پڑگیا تھا، اچانک ایک نگہبان نے آکر اطلاع دی کہ (موفق عباسی)  آیا هے اور موفق کے آنے کا معمول یہ تھا کہ اس کے آنے کے پہلے اس کے مخصوص نگہبان و پہره دار آجاتے تھے اور میرے والد کی بزم سے در وازه تک دو صف میں کھڑے هوجاتے تھے، وه لوگ اسی حالت میں رهتے تھے یهاں تک کہ موفق آئے اور چلا جائے ۔

میرے والد پیہم امام حسن عسکری (ع) کی طرف متوجہ تھے اور ان سے گفتگو کر رهے تھے اور جیسے هی میرے والد کی نظر موفق کے مخصوص غلاموں پر پڑی تو حضرت (ع) سے کہا: میں آپ پر قربان هو جاؤں اگر آپ تشریف لے جانا چاهتے هیں تو لے جائیں، میرے والد نے اپنے نگہبانوں سے کہا انہیں دونوں صفوں کے پیچھے سے لے جاؤ تاکہ موفق انہیں نہ دیکھے ۔ امام (ع) اٹھے اور میرے والد بھی کھڑے هوکر ان سے گلے ملے اور امام (ع) چلے گئے ۔

میں نے اپنے والد کے نگہبانوں اور غلاموں سے پوچھا: یہ کون شخص تھا جس کو میرے والد کے حضور میں تم لوگوں نے بغض و کینہ سے یاد کیا هے اور میرے والد نے ان کا اتنا احترام کیا هے ؟۔

ان لوگوں نے جواب دیا: وه علویوں میں سے ایک شخص هیں جن کو حسن بن علی (ع) کے نام سے یاد کیا جاتا هے اور ابن الرضا (ع) سے معروف هیں، میں اور زیاده حیرت میں ڈوب گیا ۔ میں اس دن مسلسل سوچ میں پڑا رها، یهاں تک کہ رات آگئی ۔ میرے والد کا معمول یہ تھا کہ نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر جن امور اور معروضات و گزارشوں کی اطلاع خلیفہ تک پہنچانی هوتی تھی ان کی تحقیق کرتے تھے، جب وه نماز پڑھ کر بیٹھے تو میں بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گیا اور کوئی ان کے پاس نہیں تھا تو میرے والد نے مجھ سے پوچھا: احمد کیا تمهیں کوئی کام هے ؟۔

میں نے کہا: هاں، اگر اجازت دیں تو معلوم کروں ؟۔

انہوں نے کہا: اجازت هے پوچھو ۔ میں نے کہا والد! یہ شخص جس کو صبح میں دیکھا تھا وه کون تھا، آپ اس کا اتنا احترام کر رهے تھے اور اپنی گفتگو میں اس کے لئے کہتے تھے میں آپ پر قربان هوجاؤں اور اپنے کو اور ماں باپ کو ان پر فدا کر رهے تھے !۔

انہوں نے جواب دیا: اے میرے بیٹے! وه رافضیوں کے امام حسن بن علی  (ع) تھے جو ابن الرضا (ع) سے معروف هیں ۔

اس کے بعد تھوڑی دیر خاموش رهے اور میں بھی چپ هوگیا، اس کے بعد کہا: اے میرے بیٹے اگر خلافت خلفائے بنی عباس کے هاتھوں سے نکل جائے تو بنی هاشم میں ان سے زیاده سزاوار کوئی نہیں هے اور یہ ان کی فضیلت، پاکدامنی، زهد، عبادت، اچھے اخلاق اور لیاقت کی وجہ سے هے ۔

اگر تم نے ان کے والد کو دیکھا هوتا تو گویا مَردانِ خدا میں سے ایک محترم اور صاحب فضیلت کو دیکھا هوتا ۔

ان باتوں سے میں فکر میں ڈوب گیا اور حیرانی کے عالم میں اپنے والد پر غصہ کرنے لگا، اب میرا کوئی اور کام نہ تھا سوائے اس کے کہ امام (ع) کے بارے میں زیاده سے زیاده جستجو اور تحقیق کروں اور ان کے متعلق معلومات کی هر ممکن کاوش کروں، میں نے بنی هاشم، سردارانِ لشکر، مصنفین، قاضیوں، فقهاء اور دوسرے لوگوں میں سے ان کے متعلق کسی سے سوال نہیں کیا مگر جن سے بھی پوچھا انہوں امام (ع) کو محترم، بزرگ اور بلند مرتبہ پر فائز جانا اور سبھی نے انہیں اچھائی سے یاد کیا، نیز انہیں اپنے تمام بزرگوں اور خاندان والوں پر ترجیح دیتے تھے، اس طرح امام (ع) کا مقام و مرتبہ میرے نزیدک بڑی عظمت کا حامل هوگیا کیونکہ میں نے کسی بھی دوست و دشمن کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ ان کے بارے میں اچھی بات ھی کہی اور ان کی تعریف کی هے ۔[7]

امام  حسن عسکری (ع) نے علی بن حسین بن بابویہ قمی کے لئے جو شیعہ بزرگ فقهاء میں شمار هوتے هیں لکھا:

خداوند عالم کے نام سے شروع کرتا ھوں جو رحمٰن و رحیم هے، ساری تعریفین اس الله کے لئے هیں جو عالمین کا پروردگار هے، اچھا انجام پرهیز گاروں کے لئے هے اور جنّت یکتا پرستوں کے لئے هے، اور دوزخ کافروں کے لئے هے اور ظلم و زیادتی صرف ظالموں کے لئے هے، اور کوئی معبود نہیں هے مگر وه جو سب سے بہتر خلق کرنے والا هے، خدا کا درود و سلام اس کی بہترین مخلوق محمد (ص) اور ان کی عترت طاهرین پر ھو ۔

خدائے متعال کی حمد و ثنا کے بعد، اے نامدار و بزرگ شخصیت، موردِ اعتماد اور همارے فرمانبرداروں کے فقیہ ابوالحسن علی بن حسین قمی، جو پروردگار عالم کی مرضی هے اس میں تمهیں کامیاب کرے اور تمهاری نسل میں صالح و شائستہ اولاد قرار دے، میں تمهیں خدائے متعال کے تقوے کی نصیحت کرتا هوں، نماز قائم کرو اور زکواة ادا کرو اس لئے کہ جو زکوٰة ادا نہیں کرتا هے اس کی نماز قبول نہیں هوتی هے، میں تمهیں تاکید کرتا هوں کہ لوگوں کی خطاؤں اور غلطیوں سے درگذر کرو ۔ اپنے غصہ کو پی جاؤ ۔

اپنے قرابتداروں سے صلہ رحم اور تعلّقات رکھو اور بھائیوں کی امداد کرو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، سختیوں اور آسائش میں ان کی ضرورتوں کے پوری کرنے کی کوشش کرو، لوگوں کی جهالت و نادانی کے مقابلے میں حلیم و بردبار رهو، دین میں گہری نظر رکھو، کاموں کے انجام دینے میں مستحکم و استوار رهو، قرآن سے آشنائی رکھو، اچھے اخلاق کو اپنا شیوه بناؤ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رهو ۔

خداوند عالم کا ارشاد ھے :

" لاَخَیْر فیِ كَثیرٍ مِنْ نَجْواهُمْ اِلاّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَهٍ اَوْ مَعْروفٍ اَوْ اِصْلاحٍ بَیْنَ النّاسِ، ان لوگوں کی اکثر راز کی باتوں میں کوئی خیر نہیں ھے مگر وہ شخص جو کسی صدقہ، کار خیر یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے "۔[8]  

 تمام برائیوں سے اجتناب کرو، تم نماز شب کو کبھی ترک نہ کرنا، بے شک رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے امام علی (ع) سے فرمایا : اے علی (ع) تم پر نماز شب لازم هے، تم پر نماز شب لازم هے، تم پر نماز شب لازم هے، جو نماز شب کو هلکا شمار کرے وه هم میں سے نہیں هے (یعنی اس نے هماری سیرت پر عمل نہیں کیا هے) ۔

لهذا همارے دستور پر عمل کرو اور همارے شیعوں کو بھی ان چیزوں کا حکم دو، جو میں نے تمهیں دیا هے کہ وه بھی اسی طرح عمل کریں، تم پر صبر و بردباری لازم هے اور ظهور کے منتظر رهو، بیشک پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا هے: میری امت کا بہترین عمل ظهور کا انتظار هے ۔ همارے شیعہ اس وقت تک رنجیده و غمگین رهیں گے جب تک میرا فرزند امام قائم (ع) ظهور نہ کرے گا، جس کی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے خوشخبری دی هے کہ وه زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وه ظلم و جور سے بھری هوگی ۔

اے میرے قابلِ اعتماد اور بزرگ انسان ابو الحسن ! تم صبر کرو اور همارے شیعوں کو بھی صبر کا حکم دو ۔ یقیناً یہ زمین خدا کی هے جس کا مالک و   وارث اپنے صالح بندوں کو بنائے گا اور نیک انجام متقین کا هوگا، خدا کا دورد و سلام، رحمتیں اور برکتیں تم پر اور همارے شیعوں پر هو، اور خدا همارے لئے کافی هے اور وه کتنا بہترین وکیل، مولا اور مددگار هے ۔[9]

امام حسن عسکری (ع) کی چھ محور پر فعالیت :

امام حسن عسکری (ع)، عباسی حکومت کی طرف سے سختیوں، پریشانیوں نظارتوں، پُرآشوب اور گھٹن کے ماحول کے باوجود کچھ سیاسی، اجتماعی اور علمی سرگرمیاں انجام دیا کرتے تھے جو اسلام کی حفاظت اور اسلام کے مخالف افکار سے مقابلہ کے لئے انجام پایا کرتی تھیں، ذیل میں هم ان کی طرف اشاره کرتے هیں:

1- علمی سرگرمیاں اور کوششیں :

اگرچہ امام حسن عسکری (ع) نامساعد حالات و شرائط نیز عباسی حکومت کی طرف سے سخت محدویت هونے کی بناپر علوم و معارف کو پورے سماج و معاشره میں کماحقّہ نشر نہ کرسکے لیکن اس کے باوجود تمام سختیوں، پرآشوب اور گھٹن کے ماحول کے هوتے هوئے لائق شاگردوں کی تربیت کی، جن میں سے هر ایک نے علوم و معارف اسلامی کی نشر و اشاعت اور دشمنانِ اسلام کے شکوک و شبہات کو برطرف کرنے میں اپنی توانائی کے مطابق بڑا اهم اور مؤثر کردار ادا کیا هے ۔ شیخ طوسی (رح) نے امام حسن عسکری (ع) کے شاگردوں کی تعداد سو افراد سے زیاده بتائی هے ۔[10] جن میں درخشاں چہرے کے مالک، نامدار شخصیتں اور حرّیت پسند افراد جیسے احمد بن اسحاق اشعرى قمى، ابوهاشم داؤد بن قاسم جعفرى، عبدالله بن جعفر حميرى، ابوعمرو عثمان بن سعيد عَمرى، على بن جعفر اور محمد بن حسن صفّار وغیرہ دکھائی دیتے هیں ۔

شاگردوں کی تربیت کے علاوه بعض موقعوں پر تو اتنی سخت مشکلوں کا سامنا هوتا تھا اور مسلمانوں کے لئے ناگفتہ بہ حالات پیش آتے تھے کہ جنھیں امام حسن عسکری (ع) کے سوا کوئی بھی حل نہیں کرسکتا تھا، ایسے موقعوں پر آپ (ع) اپنے علمِ امامت کی روشنی میں ایک فوق العاده و غیر معمولی تدبیر کے ذریعہ لاینحلّ مشکلوں کو بھی حل کردیا کرتے تھے ان مذکوره مطالب کے متعلق هم دو نمونے کا ذکر یہاں پر کرتے هیں:

1-۱۔ اسحاق کندی عراق کا مشهور فلسفی تھا اس نے ایک کتاب لکھنی شروع کی جس میں وہ ثابت کرنا چاهتا تھا کہ قرآن میں تناقض اور ضد و نقیض چیزیں پائی جاتی هیں، اس کے لکھنے میں اس قدر سرگرم هوا کہ لوگوں سے الک تھلگ هوکر اپنے گھر کے اندر ایک گوشہ میں بیٹھ کر اس کام میں منہمک هوگیا، یهاں تک اس کا ایک شاگرد، امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں شرفیاب هوا، امام (ع) نے اس سے فرمایا: کیا تم لوگوں میں کوئی ایک عقلمند اور جواں مرد انسان نہیں هے جو اپنے استاد کو اس عبث کام سے روک سکے جو اس نے شروع کیا هے؟!

اس شاگرد نے عرض کیا: هم اس کے شاگرد هیں آخر کیوں کر اس کے اس کام یا دوسرے کاموں پر اعتراض کرسکتے هیں! امام (ع) نے فرمایا: کیا جو کچھ میں تم سے کہوں گا اس تک پہنچا سکتے هو ؟۔

شاگرد نے کہا: هاں، امام (ع) نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور خوب دوستی بڑھاؤ اور وه جو کام کرنا چاهتا هے اس میں اس کی مدد کرو، پھر اس سے کہو استاد ایک سوال هے اگر اجازت دیں تو پوچھوں؟ جب وه تم کو سوال کرنے کی اجازت دے تو اس سے کہو: اگر قرآن کا بیان کرنے والا آپ کے پاس آئے (اور کہے کہ میری یہ مراد نہیں هے جو تم سمجھ رهے هو) کیا آپ یہ احتمال نہیں دیں گے کہ قرآنی الفاظ کے وه مفهوم و معانی نہیں هیں جو آپ نے سمجھا هے؟ وه کہے گا: هاں یہ احتمال پایا جاتا هے چونکہ اسحاق کندی اگر مطلب پر توجہ کرے گا تو بات کو سمجھ لے گا، جب وه تمهارے سوال کا مثبت جواب دے تو اس سے کہو: آپ کو یہ یقین کہاں سے حاصل هوگیا کہ قرآنی الفاظ کے وهی معنی مراد لئے گئے هیں جو آپ سمجھ رهے هیں؟!

هوسکتا هے قرآن کا مفهوم کچھ اور هو جس تک آپ کی رسائی نہ هوسکی هو اور آپ قرآنی الفاظ و عبارتوں کو دوسرے معانی و مفاهیم کے سانچے میں ڈاھال رهے هوں!۔

وه شخص اسحاق کندی کے پاس گیا اور جس طرح امام (ع) نے اس سے کہا تھا اسی طرح اس کے ساتھ پیش آیا، آخرکار ایک دن اس نے اپنا سوال اسحاق کندی کے سامنے پیش کردیا، اسحاق کندی نے اس سے سوال دهرانے کے لئے کہا، اس کے بعد وه فکر میں ڈوب گیا، اس نے اس بات ادبیات کی کسوٹی پر پَرکھا اور ممکن جانا ۔ اس نے اپنے شاگرد کو قسم دے کر پوچھا کہ یہ سوال تمهارے ذھن میں کہاں سے آیا، شاگرد نے کہا: بس ایسے هی میرے ذھن میں ایک سوال اٹھا اور میں نے آپ سے پوچھ لیا ۔

اسحاق کندی نے کہا: یہ سوال تمهارے ذھن کی اپج نہیں هے اور ممکن هی نہیں هے کہ تم اور تمهارے جیسے افراد کے ذھنوں میں اس طرح کے سوال آجائیں ۔

بتاؤ یہ سوال تم کہاں سے لے کر آئے هو ؟۔

شاگرد نے جواب دیا: ابومحمد امام حسن عسکری (ع) نے مجھے اس سوال کی تعلیم دی تھی، اسحاق کندی نے کہا: اب تم نے سچ بات بتائی، یہ سوال اس خاندان کے علاوه کسی اور کے ذهن میں نہیں آسکتا هے ۔ اس کے بعد اسحاق کندی نے اس سلسلے میں اب تک جو کچھ لکھا تھا انہیں آگ میں ڈال کر جلا دیا ۔[11]

2-۱۔ ایک بار شهر سامره میں بڑا سخت قحط پڑا، معتمد عباسی نے لوگوں کو حکم دیا کہ طلبِ باران کے لئے نماز استسقاء پڑھیں، لوگوں نے پے در پے تین دن صحراء میں جاکر نماز استسقاء پڑھی اور دعائیں مانگی مگر بارش نہیں هوئی ۔

چوتھے دن جاثلیق عیسائیوں کا رهنما، عیسائیوں اور راهبوں کے همراه صحراء میں گیا، ان میں سے ایک راهب جب بھی اپنے هاتھ کو آسمان کی طرف بلند کرتا تھا تو بارش هونے لگتی تھی، دوسرے دن بھی جاثلیق نے وهی کام کیا اور اس قدر بارش هوئی کہ لوگوں کو بارش کی احتیاج نہ رهی، یہ کام بڑی حیرت کا باعث بنا اور مسلمان اپنے ایمان کے متعلق شک و شبہ میں پڑگئے جس کی بناپر بہت سے مسلمان، دین عیسائی کی طرف مائل هوگئے تھے، خلیفہ معتمد عباسی پر یہ بات بڑی گراں گزری، اپنے آدمیوں کو امام حسن عسکری (ع) کے پاس بھیج کر انہیں قیدخانہ سے بلوایا، خلیفہ نے امام (ع) سے عرض کیا: اپنے جدّ کی امت کو بچاؤ کیونکہ وه گمراه هو رهی هے! امام (ع) نے فرمایا: جاثلیق اور راهبوں سے کہو وه کل سہ شنبہ کے دن صحراء میں چلیں ۔

خلیفہ نے کہا: لوگوں کو اب بارش کی ضرورت نہیں هے اور بقدر کافی بارش هوچکی هے، اس لئے صحراء میں جانے سے اب کوئی فائده نہیں هے؟ امام (ع) نے فرمایا: انشاء الله میں شک و شبہ کو برطرف کروں گا ۔ خلیفه نے حکم دیا: لهذا عیسائی راهب و پیشوا سہ شنبہ کو صحراء میں گئے ۔ امام حسن عسکری (ع) بھی بڑے عظیم مجمع کے ساتھ صحراء میں پہنچے، عیسائیوں اور راهبوں نے طلب باراں کے لئے آسمان کی طرف هاتھ اٹھائے، آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش هونے لگی ۔ امام (ع) نے ایک خاص راهب کا هاتھ پکڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ جو کچھ اس کی انگلیوں کے بیچ میں هے اس کو نکال لو ۔ اس کی انگلیوں کی درمیان ایک بوسیده هڈی پائی گئی ۔ امام (ع) نے اس هڈی کو لے کر کپڑے میں لپٹیا اور راهب سے فرمایا: اب بارش کے لئے دعا کرو، راهب نے اس مرتبہ بھی آسمان کی طرف دعا کے لئے هاتھ اٹھائے لیکن بادل چھٹ گئے اور سورچ چمکنے لگا، لوگوں کے حیرت کی انتها نہ رهی ۔ خلیفہ نے امام (ع) سے پوچھا: یہ کیسی هڈی هے ؟۔

امام (ع) نے فرمایا: یہ الله کے انبیاء میں سے ایک نبی کی هڈی هے جس کو نبی کی قبر سے نکال لیا هے اور جب بھی کسی نبی کی هڈی ظاهر هوگی اور آسمان کے نیچے لائی جائے گی تو بارش هوگی (یہ اس کی خاصیت هے) امام (ع) حق میں لوگوں کی تحسین و آفرین کی آوازیں بلند هونے لگیں، اور جب هڈی کو آزمایا گیا تو ویسا هی هوا جیسا کہ امام (ع) نے فرمایا تھا ۔

امام (ع) نے اسلامی سماج سے شک و شبہ کا ازآلہ کردیا اور خلیفہ نے امام (ع) کو قیدخانہ سے آزاد کردیا، امام (ع) نے موقع سے استفاده کرتے هوئے اپنے دوسرے دوستوں اور اصحاب کی آزادی کا زمینہ فراهم کردیا ۔[12]

2- شیعوں سے رابطہ کا ذریعہ :

امام  حسن عسکری (ع) کے زمانے میں شیعہ مختلف علاقوں، متعدد شهروں میں پھیلے هوئے تھے اور انھوں نے بہت سی جگہوں کو اپنا مرکز بنالیا تھا، ان شهروں و علاقوں میں کوفہ و بغداد، نيشابور، قم، آبہ (آوه)، مدائن، خراسان، يمن، رے، آذربائيجان، سامرہ، جرجان اور بصره شیعوں کے مراکز شمار کئے جاتے تھے ۔ ان علاقوں میں کچھ اسباب و دلائل کی بناپر سامره، کوفہ، بغداد، قم اور نیشاپور بڑی اهمیت کے حامل تھے ۔[13]

شیعوں کی کثرت اور ان کے مختلف جگہوں میں پھیلے هونے کا تقاضا یہ تھا کہ ایک باضابطہ تنظیم بنائی جائے جو ایک طرف سے مرکز امامت سے وابستہ رهیں اور دوسری طرف سے ان میں ایک دوسرے سے رابطے و تعلّقات قائم هوں، لهذا اس طریقہ سے ان کی دینی و مذهبی اور سیاسی رهنمائی و نشاندهی کریں ۔

اس چیز کی ضرورت کا احساس تو امام محمد تقی (ع) کے زمانے سے احساس کیا جارها تھا، اسی لئے ان کی سیرت میں اور دسویں و گیارهوں امام (ع) کی سیرت میں ارتباطی تنظیم کا وجود پایا جاتا هے جیسے مختلف شهروں و علاقوں میں وکیل بنانا اور نمائندوں کو منصوب کرنا، شیعوں سے رابطه براقرار کرنے کی غرض سے وجود میں آیا ۔

 بہت سے منابع و مآخذ اور تاریخی شواهد کے مطابق امام حسن عسکری (ع) نے شیعوں میں سے موردِ اعتماد اور اھم شخصیتوں کو منتخب کرکے انہیں مختلف علاقوں میں منصوب کیا جو ان شیعوں سے رابطہ رکھتے تھے، اس طرح تمام علاقوں میں رهنے والے شیعوں کو زیر نظر رکھتے تھے ۔ ان نمائندوں میں سے (ابراهیم بن عبده) کا نام لیا جاسکتا هے جو نیشاپور میں ان کے نمائنده تھے ۔

3- خطوط اور قاصدین :

وکالت کے رابطہ کے علاوه بھی امام (ع) نے قاصدوں کو بھیج کر اپنے شیعوں اور چاهنے والوں سے رابطہ قائم رکھا کرتے تھے، اس طریقہ سے ان کی مشکلوں کو برطرف کرتے تھے، اس سلسلہ میں نمونہ کے طور پر (ابو الادیان) کی سرگرمیوں کو بیان کیا جاسکتا هے جو امام (ع) کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔[14] یہ امام (ع) کے خطوط اور پیغامات کو حضرت (ع) کے ماننے والوں تک پہنچاتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ شیعوں کے خطوط ،سوالات، مشکلوں، خمس اور دوسری وجوهات کو دریافت کرکے شهر سامره میں امام حسن عسکری (ع) کے محضر مبارک میں پہنچاتے تھے ۔

قاصدوں کے علاوہ امام (ع) مکاتبہ کے ذریعہ اپنے شیعوں سے رابطہ قائم کرتے تھے اس طریقہ سے انہیں اپنی ھدایت و رھنمائی کے زیر سایہ قرار دیا کرتے تھے ۔

۴- شیعوں کی مالی امداد اور حمایت :

امام حسن عسکری (ع) کی ایک روش اور شیوہ یہ تھا کہ اپنے قریبی، مخصوص دوستوں و اصحاب اور شیعوں کی مالی امداد و حمایت کیا کرتے تھے، حضرت (ع) کی حیات طیّبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ مطلب بخوبی واضح هوجاتا هے کہ بعض اوقات حضرت (ع) کے کچھ دوست اپنی مالی پریشانیوں کی شکایت امام (ع) کے محضرِ مبارک میں کیا کرتے تھے اور آپ (ع) ان کی مالی امداد کرکے مشکلوں کو برطرف کردیا کرتے تھے ۔ امام (ع) کا یہ اقدام اور عمل باعث هوا کرتا تھا کہ چاهنے والے مالی مشکلوں میں نہ پھنسیں اور عباسی حکومت کی طرف ان کا رجحان نہ هونے پائے، اس سلسلہ میں هم درج ذیل دو نمونہ کو بیان کرتے هیں :

1۔۴- ابوهاشم جعفری کہتے هیں: مالی اعتبار سے میں بڑا تنگدست هوگیا تھا میں نے سوچا اپنی مالی مشکل کو ایک خط میں امام حسن عسکری (ع) کے پاس لکھ کر ارسال کروں، لیکن مجھے شرم آئی اور اس سے صرفِ نظر کیا، جب میں گھر میں داخل هوا تو امام (ع) نے میرے لئے سو دینار بھیجے اور ایک خط میں تحریر فرمایا: جب بھی تمهیں ضرورت هو تو شرم و حیا مت کرو، اور بغیر جھجک مجھ سے مانگو، انشاء الله اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ گے ۔[15]

2۔۴- محمد ابن علی بن ابراهیم بن موسی بن جعفر (ع) کہتے هیں: میں مفلس اور تہی دست هوگیا تھا میرے والد نے کہا چلو ساتھ میں حضرت امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں چلتے هیں اس لئے کہ جود و سخاوت اور بخشش میں ان کی بڑی شهرت هے، میں نے کہا: آپ ان کو پہچانتے هیں، انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان کو نہیں دیکھا هے ۔

هم دنوں ساتھ میں چل دیئے، راستہ کے درمیان میرے والد نے کہا: هم کس قدر ضرورت مند هیں کہ همیں پانچ سو درهم دینے کا حکم صادر کردیں، دو سو درهم لباس کے لئے، دو سو درهم قرض کو ادا کرنے کے لئے اور سو درهم دوسرے اخراجات کے لئے ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کاش میرے لئے تین سو درھم دینے کا حکم صادر کردیں، جن میں سے سو درهم چوپائے کے لئے، سو درهم اخراجات کے لئے اور سو درهم لباس و کپڑے کے لئے تاکہ (همدان و قزوین) کے شهروں میں پہنچ جاؤں ۔

جب هم امام (ع) کے گھر پہنچے تو حضرت (ع) کا غلام باهر آیا اور کہا: علی بن ابراهیم اور ان کے بیٹے تشریف لے آئیں، هم لوگ جیسے هی گھر میں داخل هوئے، سلام کیا تو انہوں نے میرے والد سے کہا: اے علی ! آخر کیا بات هے کہ تم ابھی تک میرے پاس نہیں آئے تھے ؟۔

میرے والد نے کہا: مجھے شرم آرهی تھی کہ میں اس حالت میں آپ سے ملاقات کروں ۔

جب هم لوگ باهر آئے تو حضرت (ع) کا غلام همارے پاس آیا اور درهم کی ایک تھیلی میرے والد کو دی اور کہا: اس میں پانچ سو درهم هیں دو سو درهم کپڑے اور لباس کے لئے، دو سو درهم قرض ادا کرنے کے لئے اور سو درهم اخراجات کے لئے، اور ایک تھیلی مجھے دی اور کہا: اس میں تین سو درهم هیں، سو درهم سواری خریدنے کے لئے، سو درهم لباس کے لئے اور سو درهم اخراجات کے لئے ۔

۵- شیعہ اهم شخصیتوں کی سیاسی پشت پناھی اور رهنمائی :

امام حسن عسکری (ع) کی بہترین سرگرمیوں میں سے شیعوں کی اهم اور سیاسی شخصیتوں کی پشت پناھی اور تقویت رهی هے تاکہ سیاسی مقابلوں میں مشکلوں اور سختیوں کو برداشت کرکے مکتب تشیع کے بلند و بالا ارمان کی حمایت کرسکیں ۔ چونکہ شیعہ بزرگ شخصتیں زیاده سختیوں میں رهتی تھیں اس لئے امام (ع) هر ایک کی ان کے لحاظ سے رهنمائی کرتے تھے اور انہیں سرگرم رکھا کرتے تھے اور ان کے حوصلوں کو بڑھایا کرتے تھے تاکہ ان کے اندر مشکلوں، سختیوں، فقر اور تنگدستی سے مقابلہ کی قوت پیدا ھو نیز صبر و تحمّل، استقامت اور علم و آگہی میں اضافہ هوتا رهے اور اپنے سماجی، سیاسی  اور دینی وظائف جیسی اهم اور بڑی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے سکیں ۔

1۔ ۵- "محمد ابن حسن ابن میمون" کہتے هیں: میں نے امام حسن عسکری (ع) کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنی مفلسی اور تنگدستی کی شکایت کی، لیکن بعد میں دل میں سوچا کیا امام صادق (ع) نے یہ نہیں فرمایا هے کہ فقر و مفلسی همارے ساتھ  ره کر بہتر هے اس مالداری و توانگری غیروں کے ساتھ رھنے میں ھے اور همارے ساتھ ره کر قتل هوجانا بہتر هے اس سے کہ همارے دشمنوں کے ساتھ زنده رها جائے ۔

امام (ع) نے جواب میں لکھا: جب همارے چاهنے والوں کے گناه زیاده هوجاتے هیں تو خداوند عالم انہیں فقر و تنگدستی میں مبتلا کرتا هے اور بعض اوقات ان کے بہت سے گناهوں کو معاف کر دیتا هے، جیسا کہ تم نے اپنے دل میں یہ بات سوچ رکھی هے اور همارے ساتھ ره کر فقر و تنگدستی بہتر هے اس سے کہ غیروں کے ساتھ رهتے هوئے مالدار و توانگر رهو، هم ان لوگوں کے لئے پناه گاه هیں جو همارے پاس پناه لیں اور جو هم سے هدایت کا طالب هے هم اس کے لئے نور (ھدایت) هیں ۔ هم ان لوگوں کی حفاظت کرتے هیں جو (گمراهی و ضلالت سے نجات کے لئے) هم کو وسیلہ قرار دیتے هیں اور جو همیں دوست رکھتا هے وہ بلند ترین مرتبہ (قربِ خدا میں) همارے ساتھ هے اور جو همارے راستہ کی پیروی و اتباع نہیں کرے گا وه آتشِ جهنّم میں جھونک دیا جائے گا ۔[16]

2۔ ۵- اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ وه خط هے جو امام حسن عسکری (ع) نے "علی بن حسین بن بابویہ قمی" کو لکھا هے آپ ایک بزرگ شخصیت اور شیعہ نامدار فقهاء میں سے هیں ۔ اس خط میں امام (ع) نے انہیں کچھ نصیحتوں، تاکیدوں اور لازم و ضروری رهنمائیوں کے بعد اس طرح یاد دهانی فرمائی هے: (تم صبر کرو اور ظهور کے منتظر رهو اس لئے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا هے: هماری امت کے افضل و بہترین اعمال میں سے ظهور کا انتظار هے ۔

همارے شیعہ اس وقت تک رنجیده و غمگین رهیں گے جب تک میرا فرزند (امام قائم (ع)) ظهور نہ کرے گا، جس کی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے خوشخبری دی هے کہ وه زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وه ظلم و جور سے بھری هوگی ۔ اے میرے قابلِ اعتماد، بزرگ انسان اور فقیہ ابو الحسن ! تم صبر کرو اور همارے شیعوں کو بھی صبر کا حکم دو ۔ یقیناً یہ زمین خدا کی هے جس کا وارث (حاکم) اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کو بنائے گا اور نیک انجام متقین کا هوگا، خدا کا دورد و سلام، رحمتیں اور برکتیں تم پر اور همارے شیعوں پر هو، اور خدا همارے لئے کافی هے اور وه کتنا بہترین وکیل، مولا اور مددگار هے ۔[17]

6- زمانہ غیبت کے لئے شیعوں کو آماده کرنا :

چونکہ هر سماج و معاشره کے لئے امام اور پیشوا کا غائب هونا ایک غیر فطری اور نامانوس مسئلہ هے اور اس پر یقین و عقیده رکھنا نیز اس کی بناپر جو مشکلیں اور سختیاں وجود میں آتی هیں ان کا برداشت کرنا عام لوگوں کے لئے بڑا دشوار کام هے اسی لئے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلم اور پہلے کے ائمہ علیھم السلام وقتاً فوقتاً اور موقع بہ موقع اس موضوع سے لوگوں کو آگاه کیا کرتے تهے اور ان کی فکروں کو اس مسئلہ کو قبول کرنے کے لئے تیار کیا کرتے تھے ۔

یہ سعی و کوشش امام علی نقی (ع) اور امام حسن عسکری (ع) کے زمانے میں جو زمانہ غیبت سے قریب هوتا جارها تھا بڑے محسوس طریقہ سے نظر آتی هے چنانچہ امام علی نقی(ع) اپنے اقدامات کو عام طور سے نمائندوں کے ذریعہ انجام دیا کرتے تھے اور بہت کم ایسا هوا کرتا تھا کہ خود بطور مستقیم لوگوں سے اقدامات کے متعلق رابطہ رکھتے هوں ۔

یہ مطلب امام حسن عسکری (ع) کے زمانے میں کچھ زیاده هی جلوه نمائی کرتا هے اس لئے کہ امام حسن عسکری (ع) ایک طرف سے حضرت امام زمانہ (ع) کی ولادت پر تاکید کرتے اور انہیں صرف مخصوص شیعوں اور بہت قریبی لوگوں کو دکھاتے تھے اور دوسری طرف سے شیعوں کا ڈائرکت اور مستقیم رابطہ روز بروز محدود تر هوتا جارها تھا، اس قدر محدود تھا کہ شهر سامره میں بھی شیعوں کے مسائل و مشکلات کا حل اور جواب خطوط یا اپنے نمائندوں کے ذریعہ دیتے تھے اس طرح انہیں زمانہ غیبت کے اوضاع و شرائط، مشکلات اور تکالیف کو تحمّل کرنے نیز امام (ع) سے غیر مستقیم رابطہ کے لئے آماده کر رهے تھے ۔

"اے احمد بن اسحاق" امام (ع) کے ایک خاص اور قریبی دوست کہتے هیں: میں امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں حاضر هوا اور ان کے بعد کے امام (ع) کے بارے میں پوچھنا ھی چاهتا تھا کہ حضرت (ع) نے میرے سؤال کرنے سے پہلے فرمایا:

"اے احمد بن اسحاق ! خداوند عالم نے جب سے آدم (ع) کو پیدا کیا هے اس وقت سے لے کر قیامت تک هرگز زمین کو "حجتِ" خدا سے خالی نہیں رکھا هے  اور نہ رکھے گا ۔ خداوند عالم زمین پر اپنی (حجیت) کے وجود کی برکت سے دینا کے لوگوں سے عذاب کو دور کرتا هے، بارش کو نازل کرتا هے اور زمین کے اندر پوشیده برکتوں کو ظاهر کرتا هے "۔    

میں نے عرض کیا: آپ (ع) کے بعد امام اور پیشوا کون هے؟ حضرت (ع) جلدی سے اٹھے اور دوسرے کمرے میں داخل هوئے، تھوڑی هی دیر میں واپس آگئے درحالیکہ ایک چھوٹے سے بچہ کو اپنی آغوش میں لئے هوئے تھے جس کی عمر تین سال کی تھی اور اس کا چہره چودهویں کے چاند کی طرح چمک رها تھا اس کے بعد فرمایا:

"اے احمد ابن اسحاق! اگر خداوند متعال اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے نزدیک تم محترم نہ هوتے تو اپنے اس بیٹے کو تمهیں نہ دکھاتا، اس کا نام پیغمبر (ص) کا نام هے اور اس کی کنیت پیغمبر (ص) کی کنیت هے، یہ زمین کو عدل و انصاف سے بھرے دے گا جس طرح وه ظلم و جور سے بھری هوگی ۔ وه اس امت میں (غیبت کے طولانی هونے کے لحاظ سے)  جناب خضر اور ذوالقرنین کی طرح هے، وه پرده غیبت میں چلا جائے گا (اور غیبت کے طولانی هونے کی وجہ سے) بہت سے لوگ شک میں مبتلا هوجائیں گے اور صرف وهی لوگ شک اور گمراهی سے نجات پائیں گے جن لوگوں کو خداوند عالم ان کی امامت کے عقیدے پر باقی و ثابت رکھے اور ان کے قیام اور ظهور کی دعا کی توفیق عنایت فرمائے ۔[18]

امام (ع) کی شهادت اور ناکام سازشیں :

معتمد عباسی همیشہ سماج و معاشره میں امام (ع) کے معنوی نفوذ اور محبوبیت سے فکرمند اور پریشان رھا کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ دن بدن لوگوں کی توجّہ امام (ع) کی طرف زیاده هوتی جارهی هے اور قیدخانہ میں ڈالنا، پرآشوب و گھٹن کا ماحول بنانا اور انہیں نظر بند کرنے کا اثر برعکس هو رها هے تو اس نے اپنے آباء و اجداد کے پرانے حربے کو استعمال کیا اور امام (ع) کو پوشیده طور پر مسموم کردیا ۔

شیعوں کے مشہور دانشمند جناب طبرسی لکھتے هیں: همارے بہت سے علماء نے کہا هے کہ امام حسن عسکری (ع) کی شهادت زهر کے ذریعہ سے هوئی هے جس طرح ان کے والد ماجد، جدّ امجد اور دوسرے ائمہ (ع) کی شهادت هوئی هے ۔[19] جناب کفعمی معروف شیعہ عالم کہتے هیں: امام حسن عسکری (ع) کو معتمد عباسی نے مسموم کیا ۔[20] اور چوتھی صدی کے شیعہ عالم جناب محمد ابن جریر ابن رستم کا عقیده هے کہ امام حسن عسکری (ع) کی شهادت زهر کےذریعہ هوئی هے ۔[21]

معتمد عباسی کے ذریعہ امام (ع) کی شهادت کی نشانیوں میں سے ایک یہ تھی کہ معتمد عباسی، امام (ع) کی مسمومیت اور شهادت کے دنوں میں بے انتها اور غیر معمولی کوشش کررها تھا کہ ان کی موت کو فطری موت ظاھر کرے ۔

"ابن صباغ مالکی" اهل سنت کے علماء میں ایک هیں وه عباسی نگہبانوں میں سے "عبیدالله ابن خاقان" کا قول نقل کرتے هیں :

ابو محمد حسن بن علی عسکری (ع) کے دنیا سے چلے جانے کے بعد عباسی خلیفہ معتمد کی ایک عجیب اور بری حالت ھوگئی تھی جس سے هم لوگ حیرت زده تھے اور سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی یہ حالت (حکومت کے هاتھ میں هوتے هوئے اور خلیفہ هونے کے باوجود) هوگی، جس وقت ابومحمد امام حسن عسکری (ع) کی طبیعت خراب هوئی، درباری فقهاء میں سے پانچ آدمیوں کو ان کے گھر میں بھیجا گیا جو خلیفہ کے خاص الخاص تھے۔ معتمد نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ ابو محمد کے گھر میں رهیں اور جو کچھ بھی حالات پیش آئیں اس کی خبر دیں، نیز کچھ لوگوں کو عیادت کے لئے روانہ کیا تاکہ امام (ع) کے همراه رهیں، (قاضی بن بختیار) کو حکم دیا کہ اپنے دس مورد اعتماد لوگوں کو منتخب کرکے ابو محمد کے گھر میں بھیج دے، وه لوگ هر صبح و شام ان کے پاس جائیں اور ان کی حالت پر نظر رکھیں ۔ دو یا تین دن کے بعد خلیفہ کو خبر دی گئی کہ ابو محمد کی حالت بہت خراب هوگئی هے اور امید نہیں هے کہ وه شفا پائیں ۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ شب و روز ان کے گھر میں رهو، وه لوگ بھی دن رات حضرت (ع) کے گھر میں رهتے تھے یهاں تک کہ چند دنوں کے بعد روح جسم اقدس سے پرواز کر گئی، جس دن حضرت (ع) کے دارفانی کو خیر باد کہنے کی خبر پھیلی تو سامره میں کہرام مچ گیا ۔ سبھی فریاد اور گریہ و زاری کر رهے تھے بازاریں اور دکانیں بند هوگئیں ۔ تشییع جنازہ میں بنی هاشم، وزراء، حکّام، درباری، شهر کے قضات، شعراء، شاهدین اور تمام لوگ شریک هوئے، اس دن کا منظر قیامت کی یاد دلا رها تھا۔

جس وقت جنازه دفن کے لئے تیار هوا، خلیفہ نے اپنے بھائی "عیسیٰ بن متوکل" کو بھیجا تاکہ حضرت (ع) کے جنازه پر نماز پڑھائے، جب جنازه کو زمین پر نماز کے لئے رکھا گیا تو عیسی نے جنازه سے قریب هو کر حضرت (ع) کے چہره کو کھولا ۔ اس کے بعد علویوں، عباسیوں، قاضیوں، محاسبوں، لکھنے والوں اور گواهوں کو دکھا کر کہا: یہ ابو محمد عسکری (ع) هیں جو اپنی فطری موت سے انتقال کرگئے هیں اور خلیفہ کے خدمت گزاروں میں سے فلان فلان لوگ گواه تھے!! اس کے بعد چہرہ کو ڈھک دیا اور اس پر نماز پڑھ کر حکم دیا کہ دفن کے لئے جائیں ۔[22] (جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ھے مگر حکومت اور خلیفہ کا سفید جھوٹ تو ملاحظہ فرمائیں،(مترجم)) ۔

البتہ یہ نماز جنازه ایک حکومتی رسم و رواج کی بناپر تھی جس کا نقشہ حکومت وقت کی طرف سے کھینچا گیا تھا تاکہ امام (ع) کی شهادت کے ماجرا کو بے اهمیت بتائے اور جیسا کہ شیعہ علماء کے درمیان مشهور هے اور حقیقت بھی یہی ھے کہ حضرت امام مهدی (ع) نے حضوصی طور پر اپنے والد ماجد امام حسن عسکری (ع) کے جنازه پر نماز پڑھائی ھے ۔[23]

جعفر کذّاب کی ناکام سازش:

" ابو الادیان " کہتے هیں: میں حضرت امام حسن عسکری (ع) کے خادموں میں سے تھا اور ان کے خطوط کو دیگر شهروں میں لے جایا کرتا تھا جس مرض و بیماری میں حضرت دارفانی سے رخصت هوئے هیں، میں ان کی خدمت بابرکت میں حاضر هوا، امام (ع) نے خطوط لکھے اور فرمایا: ان کو مدائن میں لے جاؤ، تم پندره دن سامره میں نہیں رهوگے جب پندرهوں دن شهر میں داخل هوگے تو دیکھو گے میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز بلند هے اور میرے جسم کو غسل کے لئے رکھا گیا هے ۔

میں نے کہا : اے میرے مولا و آقا! اگر ایسا هوجائے گا تو آپ (ع) کے بعد امام کون هوگا؟ حضرت (ع) نے فرمایا: جو شخصت میرے جنازه پر نماز پڑھائے گا، میرے بعد امام و قائم وهی هوگا ۔ میں نے کہا: دوسری نشانی بیان فرمائیں ۔ امام (ع) نے کہا: جو شخص همیان (کمربند سے بندھی هوئی تھیلی) میں موجود چیز کی خبر دے وه میرے بعد امام هوگا ۔ حضرت (ع) کی هیبت، جلالت اور عظمت کی وجہ سے میں نہیں پوچھ سکا کہ جو کچھ همیان میں موجود هے اس سے مراد کیا هے ؟۔

میں حضرت (ع) کے خطوط کو مدائن لے گیا اور ان کے جوابات لے کر پندرهوں دن شهر سامره میں داخل هوا تو دیکھا امام (ع) نے جو کچھ بتایا تھا بالکل ویسا هی هوا، امام (ع) کے گھر سے نالہ و شیون کی آواز بلند هے نیز میں نے ان کے بھائی جعفر کذّاب کو دیکھا گھر میں بیٹھے هوئے هیں اور کچھ شیعہ ان کے اطراف میں هیں جو انہیں تعزیت پیش کر رهے هیں اور امامت کی مبارکباد پیش کر رهے هیں! میں یہ ماجرا دیکھ حیران ره گیا اور اپنے ضمیر سے مخاطب هو کر کہا: اگر جعفر امام هوگا تو امامت کی حالت بگڑ کر ڈگر سے ھٹ چکی هے ۔ اس لئے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ جعفر شراب پیتا تھا، جوا کھیلتا تھا اور تار و طنبور میں مشغول رهتا تھا، میں نے بھی آگے بڑھ کر ان کے بھائی کی تعزیت اور امامت کی مبارکباد دی، لیکن اس نے مجھ سے کچھ بھی نہیں پوچھا !۔

اسی موقع پر امام (ع) کے گھر کا ایک خادم بنام (عقید) نے باهر آکر جعفر سے کہا: آپ کے بھائی کو کفن پہنا دیا هے آئیں نماز پڑھائیں، جعفر گھر کے اندر داخل هوا، شیعہ بھی اس کے ساتھ تھے، سمّان ۔[24] اور حسن بن علی معروف بہ سلمہ ان کے آگے آگے تھے ۔

هم لوگ جیسے هی گھر کی آنگن میں وارد هوئے تو دیکھا کہ امام حسن عسکری (ع) کو کفن پہنا کر ایک تابوت میں رکھے هوئے هیں، جعفر آگے بڑھا تاکہ امام (ع) کے جنازه پر نماز پڑھائے، جیسے هی تکبیر کہنی چاهی، اچانک ایک بچہ جس کا رنگ گندمی، بال کالے اور آگے کے دانتوں میں تھوڑا تھوڑا فاصلہ تھا وه باهر آیا اور جعفر کے دامن کو پکڑا اور کھینچ کر کہا: اے چچا! کنار هٹ جایئے، میں اپنے والد کی نماز جنازه پڑھانے کا زیادہ حقدار هوں، جعفر کا چہره متغیّر هوگیا اور وه کنارے هٹ گیا ۔ اس بچہ نے امام (ع) کے جنازه پر نماز پڑھائی اور حضرت (ع) کو ان کے گھر کے اندر ان کے والد ماجد کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

اس کے بعد اسی بچہ نے میرے طرف رخ کرکے کہا: اے مرد بصری! جن خطوط کے جوابات تمهارے پاس هیں وه لاؤ! میں نے خطوط کے جوابات انہیں دیئے اور اپنے آپ سے کہا: یہ دو نشانیاں هیں (یعنی جنازه پر نماز پڑھانا اور خطوط کے جوابات طلب کرنا) اور اب فقط همیان کا مسئلہ ره گیا هے ۔ اس وقت میں جعفر کے پاس آیا تو دیکھا کہ شور و غل کی آوازیں بلند هیں ۔ "حاجز وشأ" جو وهاں موجود تھا اس نے جعفر سے کہا: وه بچہ کون تھا ؟!! وه اپنے اس سوال­سے جعفر کو محکوم کرنا چاهتا تھا (کیونکہ جعفر امامت کا دعویٰ کرتا تھا) جعفر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اسے ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ پہچانتا هوں !۔

میں وهیں بیٹھا هوا تھا کہ قم کے رهنے والے کچھ لوگ آئے اور امام حسن عسکری (ع) کے بارے میں سوال کیا، جب انہیں معلوم هوا کہ وه دار فانی سے رخصت هوگئے هیں تو پوچھا : حضرت (ع) کا جانشین کون هے؟ حاضرینِ مجلس نے جعفر کو بتایا ۔ ان لوگوں نے جعفر کو سلام کیا اور تعزیت پیش کی اس کے بعد ان لوگوں نے بتایا کہ هم خطوط اور وجوهات کی رقم لائے هیں بتایئے: خطوط کن لوگوں نے لکھے هیں اور وجوهات کی رقم کتنی هے؟ جعفر اس سوال سے ناراض هوکر اٹھ کھڑےهوئے اور اپنے لباس کی گرد جھاڑتے هوئے کہا: یہ لوگ مجھ سے علم غیب جاننے کی امید رکھتے هیں! اسی دوران ایک خادم گھر سے باهر آیا اور کہا: یہ خطوط فلان فلان شخص کے هیں اور همیان میں هزار دینار هیں جن میں سے دس دینار پر سونے کا پانی چڑھایا هوا هے ۔

اهل قم کے نمائندوں نے خطوط اور همیان کو خادم کے حوالہ کرکے کہا: جس شخص نے تمهیں همیان لینے کے لئے بھیجا هے وهی امام (ع) هے ۔[25]

نا کام کوششیں :

معتمد عباسی سوچ رھا تھا کہ اپنے خیالِ خام میں امام حسن عسکری (ع) کی شهادت سے اپنے مقاصد میں کامیاب هوگیا هے اور اب اس کی بے لگام حکومت کے لئے کوئی خطره موجود نہیں لیکن اپنے اطمینان کے لئے دوسرے کاموں کو کرنا شروع کیا جو اس کی جاه طلبی اور دنیاداری کی نشانی هے کیونکہ اسے حضرت امام حسن عسکری (ع) کے فرزند ارجمند کی طرف سے خوف تھا ۔ اس نے کچھ سپاهیوں کو حکم دیا کہ امام (ع) کے گھر میں وارد هوں اور حضرت کے تمام مال و اسباب کی چھان بین کر کے ان پر مهر لگا دیں ۔

دوسری طرف سے اس نے سن رکھا تھا کہ امام حسن عسکری (ع) کا ایک بیٹا باقی هے تو وه ان کی تلاش میں لگ گیا، اس نے  کچھ دایہ کو حکم دیا کہ حضرت (ع) کی عورتوں اور کنیزوں کا معاینہ کریں اور اگر ان میں حمل کے آثار موجود هوں تو مطلع کریں ۔ منقول هے کہ ایک دایہ نے شک کیا کہ ایک کنیز حاملہ هے جس کی وجہ سے خلیفہ کی طرف سے حکم ملا کہ اس کنیز کو محل میں زیر نظر رکھا جائے اور "نحریر" خلیفہ کا ایک خاص درباری اور پیشکار چند عورتوں کے ساتھ اس کنیز پر دھیان رکھیں تاکہ جو خبر دی گئی هے  اس کا سچ اور جھوٹ معلوم هوسکے ۔[26] اس کنیز کو دو سال تک زیر نظر رکھا گیا لیکن آخرکار حمل کا کوئی اثر ظاهر نہیں هوا اور دی گئی خبر کا جھوٹ واضح هوگیا ۔[27]

یہ وه موقع تھا جب معتمد عباسی نے ظاهر کرنا چاها کہ امام حسن عسکری (ع) کا کوئی بیٹا موجود نہیں رها تاکہ شیعہ لوگ، حضرت کے بعد کے امام سے ناامید اور مایوس هوجائیں، معتمد نے حکم دیا کہ امام حسن عسکری (ع) کی میراث کو ماں اور ان کے بھائی جعفر کے درمیان تقسیم کردیا جائے ۔[28] لیکن شیعہ حضرات اپنے مضبوط عقیدے پر باقی رهے کہ حضرت کا ایک فرزند باقی هے جو منصبِ امامت کا عہده دار هے ۔[29] اس لئے کہ بہت سے لوگوں نے امام حسن عسکری (ع) کے فرزند ارجمند کو پہلے دیکھا تھا ۔

 


[1] ۔ شيخ مفيد، كتاب الارشاد، ص 33۵ - طبرسى، كتاب الاحتجاج، ص 3۶۶۔ (شیخ عباس قمی، منتهي الآمال ج ۲، ص 114۔)

[2] ۔ بحار، ج50، ص 2۴۵۔

[3] ۔ كمال الدین، ج2، ص19۴۔

[4] ۔ اصول كافی، ج1، ص۵12 و بحار، ج۵0، ص2۵۴۔

[5] ۔ احقاق الحق، ج12، ص۴70۔

[6] ۔ ارشاد مفید، ص 32۴۔

[7] ۔ ارشاد مفید، ص 318 و 322۔

[8] ۔ سورہ نساء ـ 11۴۔

[9] ۔ زندگانی امام حسن عسكری (ع)، ص28، نقل از انوار البھیہ۔

[10] ۔ رجال، ط1، نجف، المكتبة الحيدرية، 1381 هجری، ص ۴27۔

[11] ۔ مناقب، ج۴، ص۴2۴۔

[12] ۔ احقاق الحق، ج13، ص ۴۶۴۔

[13] ۔ طبسى، شيخ محمد جواد، حياة الامام العسكرى (ع)، طبع اول، قم، دفتر تبليغات اسلامى، 1371 هجری شمسی، س 223 - ۔22۶ و الشيخ محمد حسين المظفر تاريخ الشيعة، قم، مكتبة بصيرتى، صفحات: ۶2، 78، 102۔

[14] ۔ ابو الأديان على بصرى، تیسری صدی ھجرى کے آخر میں انتقال ھوا اور ان کی کنیت اصل میں « ابوالحسن » تھی، موصوف اس لئے ابو الأديان کے لقب سے مشہور ھیں چونکہ آپ تمام دین کے پيروکاروں سے مناظرہ کرتے تھے اور مخالفين کو مطمئن اور قانع کردیا کرتے تھے ۔ (مدرس تبريزى، محمد على، ريحانة الأدب، طبع سوم، تہران، كتاب فروشى خيام، 13۴7 هجری شمسی، ج‏7، ص‏570)۔

[15] ۔ شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبة بصيرتى، ص 3۴3 - ابن شہر آشوب، مناقب آل أبى طالب، قم، كتاب فروشى مصطفوى، ج‏۴، ص ۴39- مسعودى، اثبات الوصية، نجف، المطبعة الحيدرية، 1373 هجری، ص 2۴2 - سيد محسن امين، اعيان الشيعة، بيروت، دار التعارف للمطبوعات، 1۴03 هجری، ص ۴0 - طبرسى، اعلام الورى، طبع 3، دار الكتب الاسلامية، ص 372 - كلينى، اصول كافى، تہران، مكتبة الصدوق، 1381 هجری، ج‏1، ص ۵08۔

[16] ۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل أبى طالب، قم، كتاب فروشى مصطفوى، ج ۴، ص ۴3۵ - على بن عيسى الاربلى، كشف الغمّة، تبريز مكتبة بنى ھاشمى، 1381 هجری، ج 3، ۔211۔

[17] ۔ ابن شہر آشوب، حوالہ سابق كتاب، ج ۴، ص ۴2۵ - حاج شيخ عباس قمى، الأنوار البهية، مشہد، كتاب فروشى جعفرى، ص 1۶1- تتمة المنتھى، طبع دوم، تہران، كتاب فروشى مركزى، 1333 هجری، ص 299، الفاظ میں تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ ۔

[18] ۔ صدوق، كمال الدين، قم، مؤسسة النشر الاسلامى (التابعة) لجماعة المدرسين، 1۴0۵ هجری، ج 2، ص 38۴ (باب 38)۔

[19] ۔ اعلام الورى، الطبعة الثالثة، دار الكتب الاسلامية، ص 3۶7۔

[20] ۔ حاج شيخ عباس قمى، الانوار البہية، مشہد، كتاب فروشى جعفرى، ص 1۶2۔

[21] ۔ دلائل الامامة، نجف، منشورات المكتبة الحيدرية، 1383 هجری، ص 223۔

[22] ۔ الفصول المهمة، طبع قديم، ص 307 – 308۔ اس واقعہ کو مرحوم شيخ مفيد نے ارشاد میں اور فتّال نيشابورى نے روضہ الواعظين میں اور طبرسى نے اعلام الورى میں اور على بن عيسىٰ الاربلى نے احمد بن عبد اللہ بن خاقان سے نقل كیا ھے۔ اس اطلاع سے معلوم ھوتا ھے کہ امام کی سماج و معاشرہ میں کیا موقعیت اور اھمیت تھی اور بنی عباس کی حکومت کیوں پریشان تھی اور خلیفہ، امام (ع) کی مسمومیت و قتل کے برملا ھونے سے کس قدر ڈرا ھوا تھا اسی لئے پہلے سے اپنی پوری کوشش کر رھا تھا کہ  امام کی شہادت کو چھپائے اور ان کی موت کو فطری موت ظاھر کرے ۔

[23] ۔ صدوق، كمال الدين، قم، مؤسسہ النشر الاسلامى،، (التابعة) لجماعة المدرسين بقم المشرفة، 1۴0۵ هجری، باب ۴3، ص ۴7۵ - مجلسى، بحار الأنوار، الطبعة الثانية، تہران، المكتبة الاسلامية، 139۵ هجری، ج ۵0، ص 332 – 333۔

[24] ۔ مراد، عثمان بن سعيد عَمرى ھیں جو امام عسكرى عليہ السلام کے قریبی اصحاب میں سے ھیں چونكہ ان کا کام روغن فروشى کا تھا اس لئے وہ سمّان کے نام سے مشہور تھے۔

[25] ۔ صدوق، كمال الدين، قم، مؤسسہ النشر الاسلامى (التابعة) لجماعة المدرسين بقم، 1۴0۵ هجری، ص ۴7۵۔

[26] ۔ كلينى، اصول كافى، تہران، مكتبة الصدوق، 1381 هجری، ج 1، ص ۵0۵ - مجلسى، بحار الأنوار، طبع 2، تہران، المكتبة الاسلامية، 139۵ هجری، ج ۵0، ص 329۔

[27] ۔ كلينى، اصول كافى، تہران، مكتبة الصدوق، 1381 هجری، ج 1، ص ۵0۵ - مجلسى، بحار الأنوار، طبع 2، تہران، المكتبة الاسلامية، 139۵ هجری، ج ۵0، ص 329۔

[28] ۔ كلينى، اصول كافى، تہران، مكتبة الصدوق، 1381 هجری، ج 1، ص ۵0۵ - مجلسى، بحار الأنوار، طبع 2، تہران، المكتبة الاسلامية، 139۵ هجری، ج ۵0، ص 329۔

[29] ۔ على بن عيسى الاربلى، كشف الغمة، تبريز، مكتبة بنى ھاشمى، 1381 هجری، ج 3، ص 199 - فتّال نيشابورى، روضة الواعظين، ط 1 بيروت، مؤسسة الأعلمى للمطبوعات، 1۴0۶ هجری، ص 27۶۔