")
امام رضا علیہ السلام

امامت و ولایت کے آٹھویں آفتاب کا طلوع

آٹھویں آفتابِ هدایت کو دیانت کے بہترین اور حکمت و یقین کے ابلتے هوئے چشموں میں شمار کیا جاتا هے اور آپ کے والد محترم امام کاظم علیہ السلام کے بعد نبوت کے اسرار اور رسالت و امامت کی امانتیں آپ تک منتقل هوئیں حضرت امام علی رضا علیہ السلام پاک و پاکیزه امام (ع) کے فرزند هیں کہ جنہوں نے پُر آشوب و ناگفتہ بہ حالات، سیاسی گھٹن و تشدّد اور اپنے دور کے بے لگام حکمرانوں کی مختلف سازشوں کے باوجود احکام و معارف الٰهی کو نشر کرتے رهے اور اهلبیت علیھم السلام کی تہذیب و ثقافت کے متعلق ایک گرانقدر میراث آئنده زمانے کے دوستداروں و چاهنے والوں کے لئے چھوڑی هے ۔

امام رضا علیہ السلام کی علمی منزلت اور روحانی و معنوی شخصیت بھی دوستوں اور دشمنوں کے نزدیک قابل قبول تھی اور هے جس زمانے میں بعض درباری علماء اور گمراه و منحرف سیاستمدار اس فکر میں تھے کہ اسلامی ثقافت و تہذیب کو نقصان پہنچائیں ایسے حالات میں اس قمر امامت نے الٰهی علوم کے ذریعہ اپنے نیک و پرهیزگار آباء و اجداد کی راه کو دوام بخشا اور خالص دینی موازین و اصول کو زائل اور منحرف هونے سے محفوظ رکھتے هوئے اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دی، سماج و معاشره کے افکار کی نورانیت و ترقی اور عباسی حکمرانوں کے حقیقی چہرے سے پرده اٹھا کر انھیں لوگوں کو پہچنوانے نیز ان کے ناجائز قبضہ کے متعلق بہت اهم و مؤثر قدم اٹھائے اور تھوڑی دیر کے لئے بھی مخلص شاگردوں کی تربیت، لوگوں کی هدایت و رهنمائی، حق کے دفاع اور باطل کے مقابلہ سے ایک لمحہ بھی غفلت نہیں برتی اور آخرکار اس راه میں جام شهادت نوش فرمایا:

امام رضا علیہ السلام کے والد محترم امام موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی(علیہم السلام) ھیں اور آپ کی ماں پاک طینت و نیک کردار نجمہ خاتون هیں جن کے متعلق ذیل میں بطور اختصار تذکره کرتے هیں، نجمہ خاتون شمالی افریقہ یا یورپ کی باشنده تھیں جو مدینۃ النبی (صلی الله علیہ وآله وسلم) میں منتقل هوئیں اور آپ کو تکتم مرسیہ کے نام سے یاد کیا جانے لگا، یاقوت حموی، مرسی کو جزیره سیسیل کے شهروں میں سے جانتے هیں ۔[1] لیکن کچھ لوگوں نے کہا هے کہ یہ وهی فرانس کے جنوب میں واقع مارسی بندرگاه کی طرف هے ۔[2] البتہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ان کو تکتم کے نام سے نہیں پکارتے تھے اور ساتویں امام  علیہ السلام کی والده ماجده نے ان کا نام طاهره رکھا، ان کا لقب نجمہ تھا، هاشم معروف بہ حسنی کہتے هیں: امام رضا علیہ السلام کی والده ماجده کا نام خیزران تھا ۔[3]

امام کاظم علیہ السلام کی مادر گرامی حمیده نے اپنے بیٹے سے کہا کہ نجمہ ایک پاک و پاکیزه نسل سے هیں، بے شک میں نے عالم خواب میں رسول اکرم (ص) کو دیکھا آپ (ص) نے مجھ سے فرمایا: " اے حمیده نجمہ کو اپنے بیٹے موسیٰ علیہ السلام کے لئے انتخاب کرو، بے شک ان سے بہت جلد روئے زمین کا بہترین انسان پیدا هوگا"۔[4]

امام رضا (ع) کی ولادت:

آپ کی مادر گرامی سے منقول هے کہ جس وقت آپ (ع) شکم میں تھے میں نے کسی بھی طرح ان کی سنگینی و ثقل کا احساس اپنے اندر نہیں کیا اور جب آرام کرتی تو حق تعالیٰ کی تسبیح و تمجید اور (لا الٰه الا لله) کے ذکر کی آواز اپنے شکم سے سنتی تھی لیکن جب بیدار هوتی تو کوئی آواز میرے کان میں نہیں آتی تھی، جب آپ (ع) کی ولادت هوئی تو نومولود اپنے دونوں هاتھوں کو زمین پر رکھ کر اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرکے اپنے لبوں کو هلا رھا تھا گویا کچھ پڑھ رها هے ۔[5] اس طرح کا واقعہ دوسرے ائمہ معصومین علیھم السلام کی ولادت اور بعض انبیائے الٰهی کے لئے بھی نقل هوا هے، منجملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بچپنے میں گہوراه کے اندر حکم خدا سے کلام کیا اور لوگوں سے بات کی، اس واقعہ کی تفصیل قرآن کریم میں موجود هے ۔[6]

امام رضا علیہ السلام کی ولادت ایک قول کی بناپر بروز پنجشنبہ 11/ربیع الاول سنہ153 هجری میں چھٹے امام علیہ السلام کی شهادت کے پانچ سال بعد مدینہ منوره میں هوئی ۔ ثقۃ الاسلام شیخ کلینی نے آپ (ع) کی ولادت باسعادت کو سنہ 148 هجری میں ذکر کیا هے اور اسی کو صحیح جانا هے ۔[7] شیخ مفید نے بھی اس قول کی موافقت کی هے ۔[8] علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اور کفعمی نے مصباح المنیر میں اسی نظریہ کو قبول کیا هے لیکن ابن شهر آشوب سروی مازندارنی نے پہلی بات کو قبول کیا هے اور مزید کہتے هیں کہ اس بات کو غیاث ابن امید نے اهل مدینہ سے سنا هے ۔

بہرحال امام رضا علیہ السلام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے عظیم، دانشمند، شریف، مقدس اور زاهد تھے جنہوں نے اس تاریخ میں اپنے بابرکت وجود سے مدینہ کو منوّر کیا اور خوشی و مسرّت سے سرشار کردیا ۔[9]

آٹھویں امام (ع) کا نام علی (ع) رکھا گیا، ابوعماره کہتے هیں: جب میں نے ساتویں امام (ع) سے عرض کیا کہ آپ (ع) اپنے بعد کے امام (ع) کی معرّفی کریں تو امام کاظم علیہ السلام نے امامت کے امر الٰهی هونے کی وضاحت کے بعد کہا کہ امام، خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین هوتا هے اور فرمایا:

"میرے بعد منصب امامت میرے بیٹے علی (ع) کو ملے گا کہ جو پہلے امام علی بن ابی طالب (ع) اور چوتھے امام علی بن الحسین (ع) کے همنام هیں" ۔[10]

آٹھویں امام (ع) کا لقب رضا هے ۔[11] ان کے القاب میں صابر، فاضل، وفی اور مرضی بھی معتبر کتابوں میں ذکر کیا گیا هے ۔[12] لغت کی کتابوں میں رضا کے متعدد معانی جیسے دوست، محبّ اور خوشنودی وغیره بیان هوئے هیں لیکن شیعہ علماء نے اس لقب کو راضی بہ رضائے خدا اور مرضی خدا و رسول کے معنی میں بیان کیا هے ۔

علامہ مجلسی نے کتاب جلاء العیون میں امام رضا علیہ السلام کے حالات میں مذکوره اسماء و القاب اور کنیت کے علاوه مزید لکھا هے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو قرة اعین المؤمنین اور غیظ الملحدین بھی کہا گیا هے ۔[13]

بے شمار فضائل :

جب ائمہ معصومین علیھم السلام کے فضائل کے متعلق بات چیت هوتی هے تو عقل حیران و ششدر رہ جاتی هے، زبان گنگ اور قلم میں تاب نہیں رهتی، اور سبھی لوگ ان عرش نشیں ذوات مقدسہ کے فضائل کے بیان کے متعلق اپنی عاجزی و ناتوانی کا اعتراف کرتے هیں اور همارے کانوں میں زیارت جامعہ کے درج ذیل فقرے نغمه سرائی کرتے هیں:

"بِأَبِي أَنْتُمْ وَ أُمِّي وَ نَفْسِي وَ أَهْلِي وَ مَالِي مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بَدَأَ بِكُمْ وَ مَنْ وَحَّدَهُ قَبِلَ عَنْكُمْ وَ مَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِكُمْ مَوَالِيَّ لَا أُحْصِي ثَنَاءَكُمْ …" میرے ماں باپ و جان و اهل اور مال آپ پر فدا هوں جس نے الله کا اراده کیا اس نے آپ سے شروع کیا اور جس نے خدا کی وحدانیت کو پہچانا اس نے آپ سے پہچانا و قبول کیا اور جس نے الله کا قصد و ارده کیا اس نے آپ کی طرف توجہ کے ذریعہ ایسے کام کی توفیق پائی (اے) همارے ائمہ و رهبر! هم آپ کے صفات کمالیہ کو شمار نہیں کرسکتے هیں … ۔[14]

ائمہ معصومین علیھم السلام کے فضائل کی رفعت اس قدر بلند و بالا هے کہ علماء و دانشمند ان کے مقام و منزلت کو سمجھنے سے عاجز و ناتواں هیں،  دنیا کے فصحاء و بلغاء زبانیں ان کے بیان سے گنگ هیں ۔ مقالہ نگار کی کوشش هے کہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق ان کے فضائل کے کچھ گوشوں پر روشنی ڈالے ۔

1- عالم آل محمد (ص)

آٹھویں امام علیہ السلام کا علم اس قدر نمایاں اور درخشاں هے کہ انہیں (عالم آل محمد (ص)) کے لقب سے یاد کیا جاتا هے۔ محمد ابن اسحاق اپنے والد سے نقل کرتے هیں کہ ساتویں امام (ع) اہنے بیٹوں کو اس طرح وصیت فرماتے تھے ۔

"اخوکم علی بن موسی عالم آل محمد فاسألوه عن ادیانکم و احفظوا ما یقول لکم، فانی سمعت ابی جعفر بن محمد غیر مرة یقول لی: ان عالم آل محمد لفی صلبک، ولیتنی ادرکته فانہ سمی امیر المؤمنین علی؛ تمهارے بھائی علی بن موسی( عالم آل محمد) هیں اپنے دینی مسائل ان سے پوچھو اور وہ جو کچھ تم سے کہیں انھیں یاد رکھو۔ میں نے اپنے والد جعفر ابن محمد (ع) سے بارها سنا هے کہ مجھ سے فرماتے تھے: بے شک عالم آل محمد (ع) آپ کی صلب میں هیں اے کاش میں ان کو درک کرتا، کیونکہ وه امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے همنام هیں" ۔[15]

امام رضا علیہ السلام کا علم اس قدر روز روشن کی طرح واضح تھا کہ اهل سنت کے معتبر علماء اور متعصّب دانشمند جیسے ابن حجر عسقلانی اور سمعانی ان کی مدح و ثناء کرتے هوئے کہتے هیں! " و کان الرضا من اهل العلم و الفضل مع شرف النسب؛ حضرت امام رضا علیہ السلام اهل علم و فضل میں سے تھے اور نسبی شرافت کے حامل تھے" ۔[16]

2- بندگی و عبودیت کے نمونہ

امام علی رضا علیہ السلام فضائل و کمالات کے لحاظ سے مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ پر فائز تھے اور پروردگار کی عبادت و بندگی میں تمام لوگوں سے آگے تھے کیونکہ فضائل و کمالات اور الٰهی بلند و بالا مقامات تک پہنچنے کے اسرار و رموز انھی امور عبادت میں پوشیده هیں، اب هم یہاں پر امام رضا علیہ السلام کی عبادت کے کچھ نمونے کو ذکر کرنے کی کوشش کرتے هیں تاکہ ان کی عملی سیرت کو اپنے لئے مشعل راه بنائیں ۔

1-2- قرآن کے مصاحب و همنشیں:

"وَ كَانَ الْمَأْمُونُ يَمْتَحِنہ- بِالسُّؤَالِ عَنْ كُلِّ شَيْ‌ءٍ فَيُجِيبُ فِيهِ- وَ كَانَ كَلَامُهُ كُلُّهُ وَ جَوَابُهُ وَ تَمَثُّلُهُ انْتِزَاعَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ- وَ كَانَ يَخْتِمُهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ وَ يَقُولُ لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْتِمَهُ- فِي أَقْرَبَ مِنْ ثَلَاثٍ لَخَتَمْتُ وَ لَكِنِّي مَا مَرَرْتُ بِآيَةٍ- قَطُّ إِلَّا فَكَّرْتُ فِيهَا وَ فِي أَيِّ شَيْ‌ءٍ أُنْزِلَتْ- وَ فِي أَيِّ وَقْتٍ فَلِذَلِكَ صِرْتُ أَخْتِمُ فِي ثَلَاثَةٍ ایام؛ مامون، امام رضا علیہ السلام سے هر چیز کے متعلق سوال کرکے ان کا امتحان لیتا تھا اور امام علی رضا علیہ السلام اس کے سوالوں کے جوابات دیتے تھے، امام علیہ السلام کے کلام، جوابات، مثالیں اور جو کچھ بھی بیان فرماتے تھے، وه سب قرآنی مطالب و مفاھیم پر مشتمل هوا کرتے تھے۔ آپ (ع) ھر تین دن میں ایک بار قرآن کو ختم کرتے تھے اور فرماتے تھے اگر میں چاهوں تو تین دن سے کم میں قرآن کو ختم کردوں لیکن جب بھی کوئی آیت پڑھتا هوں تو اس میں غور و فکر اور تدبّر کرتا هوں نیز اس بات پر توجہ کرتا هوں کہ (یہ آیت) کس چیز کے بارے میں اور کس وقت نازل هوئی هے یہی چیز باعث هوا کرتی هے کہ میں تین دن میں قرآن ختم کروں ۔[17]

2-2- طولانی سجدے

امام رضا علیہ السلام کی ایک کنیز کا بیان هے کہ اسے کوفہ کی کچھ کنیزوں کے ساتھ خرید کر مامون کے محل میں لایا گیا، اس کے محل میں ایسا لگتا تھا کہ گویا میں جنّت میں هوں اور کھانے پینے کی بہترین چیزیں موجود رهتی تھیں جن سے ھم استفاده کرتے تھے۔ اس کے بعد مامون نے مجھے امام رضا علیہ السلام کو هبہ کردیا، جس وقت میں امام رضا علیہ السلام کے گھر میں گئی تو جن تمام مادّی و دنیوی نعمتوں سے مامون کے گھر میں بہره مند تھی وه سب هاتھوں سے کھو بیٹٍھی۔ اس کے بعد هر رات کو نماز شب کے لئے بیدار هوتی تھی … یہاں تک کہ امام رضا علیہ السلام نے مجھے عبدالله ابن عباس کو بخش دیا۔ جس وقت ان کے گھر میں داخل هوئی تو ایسا لگنے لگا کہ میں ایک نئی جنّت میں آگئی هوں۔ راوی کہتا هے : میں نے اس سے آٹھویں امام علیہ السلام کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: "کان اذا صلی الغداة – و کان یصلیها فی اول وقتها - ثم یسجد فلا یرفع راسه الیٰ ان ترفع الشمس؛ امام علیہ السلام جب نماز صبح پڑھتے تھے اور آپ (ع) همیشہ نماز صبح کو اول وقت میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر وه سجده میں سر رکھتے تھے اور سورج کے طلوع هونے تک سجده سے سر نہیں اٹھاتے تھے ۔[18]

3-2- نماز سے لگاؤ اور رغبت

اباصلت کہتے هیں میں (سرخس) میں جس گھر میں امام (ع) کو قید میں رکھا تھا وهاں گیا اور داروغہ زندان سے اجازت مانگی تاکہ امام علیہ السلام کی خدمت میں جاؤں تو اس نے کہا: تم ان کے پاس نہیں جاسکتے، میں نے پوچھا کیوں نہیں جاسکتا هوں؟ اس نے جواب دیا:" لانہ ربما صلی فِي يَوْمِهِ وَ لَيْلَتِهِ أَلْفَ رَكْعَةٍ- وَ إِنَّمَا يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاتِهِ سَاعَةً فِي صَدْرِ النہارِ- وَ قَبْلَ الزَّوَالِ وَ عِنْدَ اصْفِرَارِ الشَّمْسِ- فَهُوَ فِي هَذِهِ الْأَوْقَاتِ قَاعِدٌ فِي مُصَلَّاهُ يُنَاجِي رَبَّهُ؛ اس لئے کہ امام (ع) رات و دن میں هزار رکعت نماز پڑھتے هیں اور دن کے شروع میں صرف ایک گھنٹہ، ظهر سے پہلے ایک گھنٹہ اور ایک گھنٹہ سورج کے ڈوبنے سے پہلے نماز سے فارغ ھوتے هیں، وه ان اوقات میں بھی مصلّے پر هوتے هیں اور اپنے پروردگار سے مناجات و راز و نیاز کرتے هیں ۔

اباصلت کہتے هیں: میں نے اس سے کہا انہیں اوقات میں میرے ان سے اجازت لے لو، اس نے میرے کہنے کے مطابق اجازت لی اور میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر هوا، اس وقت آپ غور و فکر اور تدبّر میں مشغول تھے ۔[19]

3-تواضع اور انکساری

امام رضا علیہ السلام ان تمام فضائل و کمالات کے باوجود لوگوں سے بہت هی تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے تھے جبکہ آپ اپنی عمر کے ایک حصہ میں ولی عهدی کے مقام پر فائز تھے اس کے باوجود آپ لوگوں سے بڑی تواضع سے ملتے تھے، ان کی یہ عملی سیرت و رفتار شیعوں کے لئے بہترین نمونہ عمل هے خاص طور سے حکومت کے افراد کے لئے ۔

ایک دن امام (ع) حمام کے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے ایک شخص آیا اور بے احترامی کے ساتھ ان سے کہا: میرے سر پر پانی ڈالو، آپ (ع) بہت هی انکساری کے ساتھ اس کے سر پر پانی ڈال رهے تھے ۔ اچانک ایک آدمی داخل هوا جو امام (ع) کو پہچانتا تھا اس نے چیخ کر آواز دی اور کہا:" هلکت و اهلکت، اتستخدم ابن بنت رسول الله صلی الله علیه و آله و امام المسلمین، تم هلاک هوگئے اور  هلاک کردیا (یہ اس بات کا کنایہ تھا کہ تمهارا یہ کام هماری بھی هلاکت و نابودی کا باعث هوگا) کیا تم رسول (ص) کے فرزند اور مسلمانوں کے امام و پیشوا سے خدمت لے رهے هو؟۔

یہ آدمی جس نے ابھی ابھی امام علیہ السلام کو پہچانا تھا اپنے کو حضرت (ع) کے پیروں پر گرادیا اور ان کے پیروں چومتے هوئے کہہ رها تھا: " هلا عصیتنی اذا امرتک" جب میں آپ سے کہا تو میری بات کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: " انها مثوبة و ما اردت ان اعصیک فیما اثاب علیه؛ اس کام کا ثواب هے اور میں نے نہیں چاها کہ جس کام پر مجھے ثواب ملے گا میں اس کے متعلق تمهاری مخالفت کروں ۔[20]

4- سخاوت و بخشش

یعقوب بن اسحاق نوبختی کہتے هیں: ایک دن امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں ایک آدمی نے آکر کہا: "اعطنی علی قدر مروتک؛ اپنی حیثیت کے مطابق مجھے مال و دولت سے نوازیں، امام علیہ السلام نے فرمایا: " لا یسعنی ذلک؛ اس مقدار میں نہیں دے سکتا!

اس آدمی نے کہا:" علی قدر مروتی؛ پھر میری حیثیت کے مطابق مجھے عطا کریں ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: هاں اس مقدار میں دوں گا اس کے بعد اپنے غلام سے فرمایا: اسے دو سو دینار دے دو "۔[21]

اسی طرح یسع بن حمزه کا بیان هے: ایک شخص نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت حاضر هوکر کہا: "اے فرزند رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم آپ پر سلام هو! میں آپ اور آپ کے آباء و اجداد کے دوستوں و محبّوں میں سے هوں اور حج کے سفر سے واپس آرها هوں، میرے پاس رقم اور زاد راه بہت کم هے میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا هوں، اگر مناسب هو تو میری امداد کریں تاکہ میں اپنے شهر اور وطن واپس جاسکوں، خدائے متعال نے مجھے نعمتوں اور امکانات سے نوازا هے اگر میں وطن پلٹ جاؤں تو جو کچھ آپ عطا کریں گے میں انہیں آپ کی جانب سے راه خدا میں صدقہ دوں گا اور مجھے صدقہ کی ضرورت نہیں هے ۔

اس وقت امام علیہ السلام گھر میں داخل هوئے اور تھوڑی دیر کے بعد آکر اپنے هاتھ کو پوشیده طریقہ سے دروازه کے باهر نکالا اور اس شخص سے فرمایا:

یہ دو سو دینار هیں انہیں لے لو، ان سے استفاده کرو اور اس چیز کی ضرورت نہیں هے کہ میری طرف سے صدقہ دو، خدا حافظ، جاؤ میں تمهیں نہیں دیکھوں گا اور تم بھی مجھے نہیں دیکھو گے ۔

اس واقعہ کے بعد جب حضرت (ع) گھر سے باهر آئے تو آپ سے سوال کیا گیا کہ اس کی اس طرح امداد کیوں فرمائی؟ (اپنے چہره کو ان سے مخفی کیا)۔

امام (ع) نے فرمایا:" مَخَافَةَ أَنْ أَرى ذُلَّ السُّؤَالِ فِي وَجْهِهِ لِقَضَائِي حَاجَتَهُ، أَمَا سَمِعْتَ حَدِيثَ رَسُولِ اللّهِ صلى الله عليه وآله: الْمُسْتَتِرُ بِالْحَسَنَةِ يَعْدِلُ سَبْعِينَ حَجَّةً، وَ الْمُذِيعُ بِالسَّيِّئَةِ مَخْذُولٌ، وَ الْمُسْتَتِرُ بِهَا مَغْفُورٌ لَهُ ؟،اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ هو کہ میں اس کے چہره پر مانگنے کی ذلت و خواری کو اس کی حاجت کی برآری کے وقت دیکھوں، کیا تم نے رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث نہیں سنی هے: جو نیک کام کو پوشیده طور پر انجام دے وه ستر حج کے برابر هے اور جو گناه و معصیت کو ظاهر کرے گا وه ذلیل و خوار هوگا اور جو شخص اپنے گناه و معصیت کو دوسروں سے چھپائے گا وه معاف کردیا جائے گا ۔[22]

امام (ع) کے زمانے کے حکمران و خلفاء

حضرت (ع) کی مدت امامت بیس سال تھی جن میں سے دس سال (هارون رشید) کا زمانہ اور پانچ سال (محمد امین) کا زمانہ اور آخری پانج سال (عبد الله مامون) کا زمانہ تھا یہ افراد امام رضا علیہ السلام کے زمانے کے حکمران تھے ۔

امام علیہ السلام، مامون کی خلافت کے آغاز تک اپنے آبائی وطن مدینہ منوّره میں مقیم رهے، لیکن مامون نے حکومت پر بیٹھتے هی حضرت (ع) کو خراسان بلایا اور آخرکار امام (ع) صفر کے مہینہ میں سنہ203 هجری میں 55/سال کی عمر میں درجہ شهادت پر فائز هوئے اور اسی جگہ پر سپرد لحد کئے گئے ۔[23]

امام علیہ السلام، هارون کے زمانے میں

سنہ183 هجری سے کہ جس وقت همارے ساتویں امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بغداد کے قیدخانہ میں هارون رشید کے حکم سے زهر دیا گیا اور آپ کی شهادت هوئی اس وقت سے لے کر دس سال تک آٹھویں امام علیہ السلام کی امامت هارون کے دور حکومت میں گزری ۔

یہ مدت هارون کے زمانے کی خود عرضی، استبداد، اور گھٹن کا زمانہ تھا جو کسی حد تک آزادی اور امام رضا علیہ السلام کی علمی و ثقافتی فعالیت کا دور شمار هوتا هے، اس لئے کہ اس مدت میں هارون امام (ع) کے کاموں میں مداخلت نھیں کرتا تھآ اور حضرت (ع) آزادی کے ساتھ اپنی فعالیت و سرگرمی میں مصروف تھے جس کی بناپر امام (ع) نے مایہ ناز شاگردوں کی تربیت کی، علوم و معارف اسلامی اور قرآنی تعلمیات کے جو حقائق اسلامی دنیا میں نشر فرمائے هیں وه خاص طور سے اسی دور سے تعلق رکھتے هیں ۔

شاید هارون کی طرف سے سختی اور مشکلات کمی کا اصل سبب یہ رها هو کہ وه امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے قتل کے عواقب و انجام سے پریشان تھا کیونکہ هارون نے اپنی جنایت و خیانت کے چھپانے میں هر طرح کی جتن و کوشش کی تھی مگر اس کے باوجود راز فاش هوگیا جو لوگوں کی نفرت اور ناراضگی کا باعث بن گیا اور هارون پوری کوشش میں لگا تھا کہ اپنے آپ کو اس گناه نابخشودنی سے مبّرا دکھائے ۔ اس بات پر گواه یہ مطلب هے کہ هارون نے اپنے چچا (سلیمان بن ابی جعفر) کو جنہوں نے حضرت (ع) کے جنازه کو هارون کے ظالم افراد، ایجنٹوں اور کارکنوں سے لے کر احترام کے ساتھ سپرد لحد کیا، پیغام بھیجا کہ خدا سندی بن شاهک پر لعنت کرے اس نے یہ کام میری اجازت کے بغیر انجام دیا هے ۔[24]

اس بات کی دوسری تصدیق یہ هے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے متعلق هارون نے (یحیی ابن خالد برمکی) کے جواب میں کچھ باتوں کا اظهار کیا، یحییٰ نے (جو پہلے بھی امام کاظم علیہ السلام کی برائی اور چغل خوری کیا کرتا تھا) هارون سے کہا:

موسیٰ بن جعفر کے بعد ان کا بیٹا ان کی جکہ پر بیٹھ کر امامت کا دعویٰ کر رها هے (گویا وه چاهتا تھا کہ وه کہے بہت اچھا هوگا کہ ابھی سے علی بن موسیٰ علیہ السلام کو هارون کے جاسوسوں کے زیر نظر رکھا جائے) هارون (جس نے ابھی امام کاظم علیہ السلام کے قتل کو فراموش نہیں کیا تھا اور اس کے انجام سے پریشان تھا) نے جواب دیا: "کیا جو کچھ ان کے والد کے ساتھ کیا هے وه کافی نہیں هے؟ تم چاهتے هو کہ ایک هی بار میں تلوار اٹھا کر تمام علویوں کو قتل کر ڈالوں؟! " ۔[25]

هارون کے غیظ و غضب نے تمام درباریوں کو چپ کردیا پھر تو کسی میں جرأت نہ رهی کہ حضرت (ع) کے بارے میں کوئی شخص چغلخوری کرتا ۔

امین کے زمانے میں کچھ آزادی

امین کے دور حکومت میں اور هارون کی موت و مامون کی حکومت کے درمیانی برسوں میں امام (ع) اور عباسی حکومت کے ایجنٹوں اور کارندوں کے درمیان تاریخ میں کوئی ایسا ٹکراؤ دکھائی نہیں دیتا، بالکل واضح هے کہ بنی عباس کی خلافت کا نظام ان مختصر برسوں میں داخلی اختلافات و خانہ جنگی، امین و مامون کے جھگڑے اور مامون کو ولی عهدی سے هٹانے نیز اسے امین کے بیٹے موسیٰ کو سونپنے میں گرفتار تھے ۔ جس کی وجہ سے حکومت کو علویوں اور امام علیہ السلام کی ایذاء رسانی کا موقع نہ ملا، هم ان برسوں سنہ193 ھ سے سنہ198 ھ تک دوسرے برسوں کی بہ نسبت امام (ع) کی آزادی اور حضرت (ع) کی ثقافتی فعالیت و سرگرمیوں کے سال کہہ سکتے هیں ۔[26]

آٹھویں امام (ع) هارون کے دور میں

مامون کے تخت حکومت پر بیٹھتے هی امام رضا علیہ السلام کی زندگی کا ایک نیا صفحہ حیات کھلا، زندگی کے اس صفحہ حیات میں امام رضا (ع) نے غم و اندوہ، پریشانیوں اور بڑی مشکلوں میں گزارا ۔

غاصبین خلافت خواہ وہ بنی عباس ھوں یا بنی امیہ ان کی سب سے بڑی مشکل و پریشانی خاندان علی (ع) کی طرف سے تھی ۔ اور لوگوں میں حد اقل ایک کثیر تعداد، خلافت کو اولاد علی (ع) کا مسلّم حق جانتی تھی، اس کے علاوہ ان کے اندر ھر طرح کے فضائل موجود تھے، یہی وجہ تھی جس کی بناپر اولاد علی (ع) مسلسل خلفائے وقت کی طرف سے اذیت و شکنجہ میں رھتی تھی اور انھیں کے ھاتھوں سے شہید کی جاتی تھی ۔

لیکن مامون بعض اوقات اپنے کو شیعہ ظاھر کرتا تھا اور حکومت کو چلانے والے غالباً ایرانی تھے جو آلِ علی (ع) اور ائمہ معصومین (ع) سے خاص عقیدت و محبت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنے آباء و اجداد ھارون و منصور کی طرح امام رضا (ع) کو قیدخانہ میں نہیں ڈال سکتا تھا اور نہ تو اذیت و آزار دے سکتا تھا بنابر این اس نے ایک نیا طریقہ نکالا اگرچہ یہ طریقہ پہلے بھی کسی حد تک موجود رھا ھے اور گذشتہ خلفاء و حکّام نے اس پر عمل بھی کیا ھے مگر بہرحال یہ طریقہ دیکھنے میں خوشنما اور مشکلات کے لحاظ سے کسی حد تک کم رھا ھے جس کی وجہ سے بعد کے حکمرانوں اور خلفاء کی روش اور طریقہ کار اسی نہج پر باقی رھا ۔

مامون نے یہ قصد کیا کہ امام (ع) کو مرو یعنی اپنے دار الحکومت میں لے آئے اور حضرت (ع) سے محبت و دوستی سے پیش آئے اسی کے ساتھ ساتھ امام (ع) کی علمی و سماجی موقعیت کے ضمن میں ان کے کاموں پر بطور کامل نظر رکھے ۔

مامون کی طرف سے امام (ع) کو خراسان کی دعوت:

مامون نے شروع میں بڑے احترام سے امام (ع) کو دعوت دی کہ آپ آل علی (ع) کے بزرگوں کے ساتھ مرکز خلافت میں تشریف لائیں، امام (ع) نے مامون کی دعوت کو قبول نھیں کی، لیکن مامون کی طرف سے مسلسل اصرار اور تاکید ھوتی رھی اور مراسلات کا سلسلہ جاری رھا، متعدد خطوط ردّ و بدل ھوئے جس کے نتیجہ میں امام (ع) آل ابوطالب (ع) کے بزرگوں کے ساتھ مرو کی طرف چل پڑے ۔[27]

مامون نے "جلودی" کو یا دوسری نقل کی بناپر " رجاء بن ابی ضحاک " جو امام (ع) کو لانے اور ان کی ھمراھی پر مامور تھے، حکم دیا تھا کہ قافلہ والوں کے احترام میں هر ممکن کوشش کریں خاص طور سے امام (ع) کا مکمل طریقہ سے احترام کریں مگر امام علیہ السلام لوگوں کی آگہی کے لئے واضح و آشکار طور پر اس سفر سے اپنی ناراضگی کا اظهار کرتے تھے ۔

جس دن امام (ع) مدینہ سے کوچ کرنا چاهتے تھے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ میرے لئے گریہ و زاری کرو اس کے بعد کہا: " میں اب اپنے گھر والوں میں پلٹ کر نھیں آؤں گا" ۔[28]

اس وقت مسجد رسول خدا (ص) میں پیغمبر اکرم (ص) کی طرف واپس گئے اور بلند آواز سے گریہ و بکاء کیا ۔

(مخول سیستانی) کہتے هیں: میں نے اسی وقت حضرت (ع) کی خدمت میں شرفیاب هوکر سلام کیا اور خدا حافظ کہا، امام علیہ السلام نے فرمایا:

"مخول مجھے اچھی طرح دیکھو، میں اپنے جدّ بزرگوار کے پاس سے دور هو رها هوں اور عالم غربت میں شهید هوں گا اور هارون کے پاس دفن کیا جاؤں گا" ۔[29]

امام (ع) کے قافلہ کے چلنے کا راستہ مدینہ سے مرو تک مامون کے دستور کے مطابق بصره، اهواز اور فارس سے هوتا هوا تھا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جبل (ایران کا مغربی پہاڑی علاقہ همدان و قزوین تک) و کوفہ و کرمانشاه اور قم جو شیعوں کا مرکز تھا ان علاقوں سے امام (ع) عبور نہ کریں ۔[30]

دار الحکومت میں آمد

 امام (ع) کا قافلہ دس شوال المکرم کو مرو میں پہنچا، شهر تک پہنچنے میں چند فرسخ باقی تھے کہ مامون، فضل بن سهل اور بنی عباس کے امراء و بزرگوں نے حضرت (ع) کا استقبال کیا اور شایان شان احترام کے ساتھ شهر میں داخل هوئے اور مامون کے دستور کے مطابق رفاه و آسائش کے تمام تر وسائل امام (ع) کے لئے موجود تھے ۔

راستے کی تھکاوٹ و خستگی کی وجہ سے استراحت کے طور پر چند روز گزرنے کے بعد حضرت امام رضا علیہ السلام اور مامون کے درمیان گفتگو کا آغاز هوا اور مامون نے خلافت کو مکمل طور پر حضرت (ع) کے حوالہ کرنے کی تجویز پیش کی، لیکن امام (ع) نے اس کی تجویز قبول کرنے کو سختی سے منع کیا ۔

فضل بن سهل  نے بڑا تعجب کیا تھا:

" میں نے خلافت کو اس دن سے زیاده بے قیمت اور ذلیل و خوار ھوتے نہیں دیکھا، مامون خلافت کو علی بن موسی علیہ السلام کے حوالہ کر رها تھا اور وه اس کو قبول نہیں کر رهے تھے" ۔[31]

مامون شاید امام علیہ السلام کے امتناع کا پہلے تخمینہ لگا چکا تھا ۔ اس نے کہا:

" جب ایسا هے تو آپ ولی عهدی کو قبول فرمائیں! امام (ع) نے فرمایا: میں اس کو بھی قبول کرنے سے معذور هوں" ۔

مامون نے امام (ع) کے عذر کو قبول نہیں کیا اور ایک جملہ خشم و غصہ سے کہا جو دهمکی سے خالی نہ تھا اس نے کہا:

" عمر ابن خطاب نے انتقال کے وقت شوریٰ کو چھ آدمیوں میں قرار دیا جن میں ایک امیر المؤمنین علیہ السلام تھے اور یہ وصیت کی کہ جو مخالفت کرے اس کی گردن اڑا دی جائے! آپ بھی هماری تجویز کو قبول کریں اس لئے کہ میں اس کے علاوه کوئی اور چاره نہیں دیکھ رها هوں ! " ۔[32]

اس نے اس سے بھی زیاده صریحی طورپر امام علیہ السلام کو دھمکی دی اور مجبور کرتے هوئے کہا:

" آپ مسلسل میری مرضی کے خلاف پیش آرهے هیں اور اپنے کو امن و امان میں سمجھ رهے هیں خدا کی قسم اگر میری ولی عهدی کی تجویز کو ٹھکرائیں گے تو میں اس کے قبول کرنے پر جبر و اکراه سے کام لوں گا، اور اگر اس کے بعد بھی آپ ٹھکرائیں گے تو میں آپ کو قتل کردوں گا! " ۔[33]

امام (ع) نے مجبوری کے طورپر اس کی تجویز کو قبول کرتے هوئے فرمایا:

"میں اس شرط پر تمهاری ولی عهدی قبول کروں گا کہ هرگز تمهاری حکومت و مملکت میں دخالت نہ کروں اور نظام حکومت و خلافت کے کسی امور میں دخالت نہ کروں اور نظام حکومت و خلافت کے کسی امور میں جیسے حکّام کو معین و معزول کرنا، قضاوت اور فتویٰ وغیره میں کوئی دخالت نہ کروں گا" ۔[34]

ساتویں ماه رمضان بروز دوشنبہ مامون کی تحریر سے ولی عهدی کا منشور لکھا گیا اور اسی کاعذ کی پشت پر امام رضا علیہ السلام نے بھی ایک مقدمہ لکھا جو اشاره و ایماء سے بھرا هوا تھا اس ولی عهدی کے قبول کرنے کا اعلان کیا، لیکن اس چیز کی یاد دهانی کی کہ یہ امر پورا نہیں هوگا! اس کے بعد اسی نوشتہ پر حکومت کے بزرگوں اور عہدہ داروں نے جیسے یحییٰ ابن اکثم، عبدالله بن طاهر اور فضل بن سهل وغیره نے اس عهدنامہ پر دستخط کئے ۔

پھر بیعت کے پرشکوه مراسم اسی مهینہ کی دسویں تاریخ کو عمل میں لائے گئے اور امام (ع) ولی عهدی کی مسند پر بیٹھے ۔ سب سے پہلےجس نے مامون کے حکم سے امام (ع) کے هاتھ پر بیعت کی وه مامون کا بیٹا (عباس) تھا اس کے بعد فضل بن سهل) وزیر اعظم، (یحیی بن اکثم) دربار کا مفتی (عبدالله بن طاهر) فوج کا کمانڈر، اس کے بنی عباس کے بزرگ افراد جو وهاں موجود تھے ان لوگوں نے حضرت (ع) کی بیعت کی ۔[35]

ولی عهدی کا موضوع فطری طور پر حضرت امام رضا علیہ السلام کے دوستوں اور شیعوں کے لئے خوشی و مسرّت کا باعث تھا لیکن خود حضرت (ع) اس چیز سے رنجیده و مغموم تھے اور جب آپ (ع) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وه بہت زیاده خوشی کا اظهار کر رها هے تو اسے اپنے پاس بلاکر فرمایا: "اس چیز سے اپنا دل نہ لگاؤ اور اس سے خوش نہ رهو کیونکہ اس میں کوئی دوام نہیں هے" ۔[36]

امام رضا (ع) شهادت

حضرت (ع) کی شهادت کے متعلق تمام شیعہ علماء اور علمائے اهل سنت کی کثیر تعداد قائل هے کہ آپ کو زهر دے کر شهید کیا گیا۔ شهادت کے عامل میں نظریاتی اختلاف هے اس کے متعلق کچھ اقوال موجود هیں جن کی طرف هم اشاره کریں گے ۔

قول مشهور یہ هے کہ حضرت (ع) کو خلیفہ مامون عباسی نے زهر دے کر شهید کیا!

بعض علمائے اهل سنت قائل هیں کہ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو مسموم نہیں کیا هے وه لوگ اپنے اس قول کے متعلق کچھ دلیلیں بھی بیان کرتے هیں، منجملہ ان دلیلوں میں سے یہ هے کہ مامون نے اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کی هے ۔ مامون علماء کے سامنے امام رضا علیہ السلام کی فضیلت و برتری پر دلیل قائم کرتا تھا۔ امام رضا علیہ السلام کی شهادت کے بعد مامون بہت زیاده رنجیده و غمگین تھا وغیره وغیره، هم اس سلسلہ میں کہیں گے کہ ان دلیلوں میں سے کسی ایک دلیل کو بطور سند و دلیل نہیں پیش کیا جاسکتا هے ۔

بعض علمائے اهل سنت قائل هیں کہ امام (ع) کو زهر دیا گیا اور اس جنایت و خیانت کے باعث (مامون کے علاوه) بنی عباس هیں ۔

نمونہ کے طورپر ملاحظہ فرمائیں ابن جوزی کہتا هے:

"جب عباسیوں نے دیکھا کہ (ولی عهدی کے ذریعہ) خلافت ان کے هاتھ سے نکل کر علویوں کے هاتھ میں آگئی تو ان لوگوں نے امام رضا علیہ السلام کو مسموم کردیا "۔[37]

یہ قول بھی صحیح نہیں هے کیونکہ اکثر مؤرخوں اور راویوں کا اتفاق هے کہ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو زهر دیا هے اور اس کے علاوه کسی دوسرے نے نہیں دیا ۔[38]

اس کے علاوه مامون اس کام کے لئے سازش بھی رچ رها تھا جس کی طرف اشاره کیا جائے گا۔ امام رضا علیہ السلام سے کچھ روایتیں منقول هیں جن میں حضرت (ع) نے اپنی شهادت کی پیشن گوئی کی هے اور اس جنایت کا عامل مامون کو بتایا هے ۔

امام رضا علیہ السلام هرثمہ ابن اعین سے کہتے هیں: "میری موت کا وقت آگیا هے اس طاغی و سرکش (مامون) نے اراده کیا هے کہ مجھے مسموم کرے …" ۔[39]

شهید مطهری لکھتے هیں:

" قرائن سے معلوم هوتا هے کہ امام رضا علیہ السلام کو زهر دیا گیا اور اس کا ایک بنیادی سبب (مامون کے خلاف) بغداد میں بنی عباس کا قیام تھا، مامون نے اس وقت حضرت امام رضا علیہ السلام کو مسموم کیا کہ جب وه خراسان سے بغداد کی طرف جارها تھا اور مسلسل اسے بغداد کے حالات کی خبر دی جارهی تھی، اس کو اطلاع دی گی کہ بغداد میں قیام کیا گیا هے اور اس نے دیکھا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو ولی عهدی سے معزول نہیں کرسکتا هے اور اگر اسی حالت میں وهاں جائے تو کام بڑا سخت اور مشکل هوگا۔ اس نے وهاں جانے کا زمینہ فراهم کرنے کے لئے اور یہ کہ بنی عباس سے کہے کہ کام تمام هوچکا هے اس نے حضرت (ع) کو زهر دیا اور بنیادی علت کہ جس کو سب بتاتے هیں،  یہ قابل قبول بھی هے اور تاریخ کے مطابق هے یہی سچ هے ۔[40]

تاریخ طبری کے مولف لکھتے هیں: "مامون نے بغداد میں عباسیوں کے پاس علی بن موسی علیہ السلام کے اس دنیا سے چلے جانے کے متعلق خط لکھا اور ان لوگوں سے کہا کہ اپنی اطاعت کرنے کی دعوت دی، کیونکہ ان لوگوں کی دشمنی مامون سے امام رضا علیہ السلام کی بیعت کے سوا کچھ اور نہیں تھی"  ۔[41]

دوسرے اسباب میں سے جس کو مؤرخین نے امام رضا علیہ السلام کے قتل کے بارے میں لکھا هے وه اس کینہ و حسد کو جانتے هیں جو مامون نے حضرت (ع) کے سلسلہ میں اپنے دل میں رکھا تھا، طبرسی لکھتے هیں:

وه سبب جو باعث بنا کہ مامون، امام رضا علیہ السلام کو شهید کرے یہ تھا کہ حضرت (ع) بغیر خوف و هراس کے حق بات مامون کے سامنے کہہ دیتے تھے اور اکثر و بیشتر موقعوں پر آپ (ع) مامون کے مقابلہ میں حق بات کے سلسلہ میں ڈٹ جاتے تھے جو اس کے غصہ، کینہ اور حسد کا سبب هوتا تھا … ۔[42]

 جیسا کہ کتابوں میں ملتا هے، شیعہ روایتوں کی بنیاد پر کوئی شک و شبہ نہیں هے کہ مامون نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو زهر دیا ۔[43] هاں یہ بات کہ کس طریقہ سے زهر دیا گیا هے؟ اس کے متعلق کئی روایتیں موجود هیں جن کی طرف هم اشاره کرتے هیں:

ایک روایت جس کو شیخ مفید نے عبدالله بن بشیر سے نقل کیا هے کہ اس نے کہا: "مامون نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے ناخنوں کو بڑا کروں … اس کے بعد مجھ کو بلاکر ایک چیزی دی جو هندی املی کے مانند تھی اور مجھ سے کہا: اس کو اپنے پورے دونوں هاتھوں میں مل لو … اس کے بعد امام رضا علیہ السلام کے پاس گیا اور مجھ کو حکم دیا کہ میرے لئے انار لاؤ، میں نے کچھ انار حاضر کئے پھر مامون نے کہا:

اپنے هاتھوں سے اس کا رس نکالو، میں نے انار کا رس دبا کر نکالا اور مامون نے انار کا وه رس اپنے هاتھ سے حضرت (ع) کو پلایا، وهی حضرت (ع) کی موت کا سبب بنا، اور اس انار کے رس کو پینے کے بعد آپ (ع) دو روز سے زیاده زنده نہیں رهے ۔[44]

دوسری روایت کو شیخ مفید، محمد ابن جہم سے نقل کرتے هیں کہ اس نے کہا:

" حضرت امام رضا علیہ السلام کو انگور پسند تھا جس کی بناپر کچھ مقدار میں امام رضا علیہ السلام کے لئے انگور مھیّا کیا اور ان کے دانوں کو چند روز سوئیوں کے ذریعہ زهر آلود کیا گیا، اس کے بعد ان سوئیوں کو باهر نکالا اور حضرت (ع) کی خدمت وه انگور پیش کئے گئے… حضرت (ع) نے زهر آلود انگور کو نوش فرمایا جس کی وجہ سے آپ کی شهادت واقع هوئی" ۔[45]

ابا صلت هروی کہتے هیں: میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت موجود تھا آپ (ع) نے مجھ سے فرمایا: " اے اباصلت ! میں کل اس فاسق و فاجر کے پاس جاؤں گا جب اس کے پاس سے باهر آؤں گا، اگر میں اپنی عبا اپنے سر پر ڈالے رهوں تو مجھ سے بات نہیں کرنا اور یہ جان لینا کہ اس  نے مجھ کو زهر دیا هے" ۔

دوسرے دن صبح کو امام (ع) اپنی محراب عبادت میں تشریف فرما تھے تھوڑی دیر کے بعد مامون نے اپنے غلام کو بھیجا کہ وه امام (ع) کو اس کے پاس لے آئے ۔

امام (ع) مامون کی بزم میں گئے اور میں بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا ۔ مامون کے آگے ایک طبق میں کجھوریں اور انواع و اقسام کے میوے رکھے تھے ۔ مامون کے هاتھ میں انگور کا ایک گچھا تھا جس سے کچھ انگور کھائے تھے اور کچھ باقی ره گئے تھے امام (ع) کو دیکھتے هی اٹھا، گلے سے لگایا، ان کی پیشانی کو چوما اور اپنے پاس بٹھایا۔ اس کے بعد انگور کے خوشہ کو امام (ع) کی خدمت میں یہ کہتے هوئے پیش کیا: "میں نے اس انگور سے بہتر دیکھا هی نہیں هے اور نہ ھیں " ۔

 امام (ع) نے فرمایا: "جنّت کے انگور اس سے اچھے اور بہتر هیں "۔

مامون نے کہا: "ان انگوروں میں سے نوش فرمائیں"۔

امام (ع) نے کہا: مجھے معاف کرو ۔

مامون نے کہا: کوئی چاره ھی نہیں هے، کیا مجھ پر الزام و تہمت لگانا چاهتے هیں؟، ایسا نہیں هے، آپ کو ضرور کھانا پڑے گا ۔

اس کے بعد مامون نے انگور کا ایک خوشہ اٹھا کر اس میں سے کھایا اور پھر امام (ع) کو دیا۔

امام (ع) نے اس میں سے تین دانے انگور نوش فرمائے اور باقی کو رکھ کر فوراً اٹھ کھڑے هوئے ۔

مامون پوچھا: کہاں جارهے هیں ؟۔

امام (ع) نے فرمایا: " جس جگہ تم نے مجھے بھیجا هے"۔

اس کے بعد اپنی عبا اپنے سر پر ڈالی گھر میں تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا: " دروازه کو بند کردو "  پھر بستر پر لیٹ گئے ۔

میں گھر کے بیچ میں رنجیده و محزون کھڑا هوا تھا اتنے میں اچانک دیکھا کہ ایک خوبصورت جوان میرے سامنے کھڑا هے جو حضرت امام رضا علیہ السلام سے بہت زیاده مشابہ اور ملتا جلتا هے ۔

میں نے آگے بڑھ کر ان سے عرض کیا: " آپ کہاں سے داخل هوئے تمام دروازے تو بند تھے؟" ۔

انہوں نے فرمایا: "جس نے مجھ کو مدینہ سے یہاں پہنچایا اسی نے دروازے کے بند هونے کے باوجود اندر پہنچایا هے "۔

میں نے پوچھا: آپ کون هیں؟ فرمایا: میں تم پر خدا کی حجّت هوں، اے اباصلت! میں محمد بن علی الجواد هوں ۔

اس کے بعد اپنے والد گرامی کے پاس گئے اور فرمایا: تم بھی آجاؤ! ۔

جیسے هی حضرت امام رضا علیہ السلام کی چشم مبارک اپنے بیٹے پر پڑی، ان کو گلے سے لگایا اور پیشانی کا بوسہ لیا ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے کو امام رضا علیہ السلام کے جسم اطهر پر گرادیا اور ان کا بوسہ لیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے آپس میں گفتگو کرنے لگے اور میں کچھ نہیں سن رها تھا باپ نے بیٹے کو اسرار امامت تعلیم کئے اس کے بعد امام رضا علیہ السلام کی روح جنّت کو پرواز کرگئی ۔

امام رضا (ع) کا غسل و کفن :

امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا: اے اباصلت ! جاؤ گھر کے اندر سے تخت، پانی اور غسل کے اسباب لے آؤ ۔

میں نے کہا: وهاں پر اس طرح کے اسباب مهیّا نہیں هیں ۔

انہوں نے فرمایا: میں جو کچھ کہہ رها هوں اس پر عمل کرو ۔

میں جب وهاں گیا تو دیکھا کہ وهاں پر تمام چیزیں موجود هیں، میں ان تمام چیزوں کو لے آیا اور اپنے دامن کو کمر سے باندها تاکہ امام (ع) کو غسل دینے میں مدد کروں ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا: "اے اباصلت ! یہاں سے جاؤ۔ میری مدد تمهارے علاوه کوئی اور کرے گا "۔

اس کے بعد اپنے والد محترم کو غسل دینے کے بعد فرمایا: "گھر کے اندر ایک ظرف میں کفن اور حنوط کے لئے کافور رکھا هے اس کو لے آؤ "۔

میں گیا اور ایک ظرف کو دیکھا کہ جس کو میں نے اس پہلے نہیں دیکھا تھا، میں کفن اور حنوط کے لئے کافور کو لے آیا ۔

امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے والد کو کفن دیا اور نماز پڑھی، اس کے بعد فرمایا: تابوت کو لاؤ،

میں نے پوچھا: "نجّار کے یہاں سے؟ "۔

آپ (ع) نے فرمایا: "گھر میں تابوت موجود هے"۔

میں گھر میں داخل هوا تو دیکھا وهاں ایک تابوت رکھا هوا هے، میں اسے لے کر آیا ۔

امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے والد کےجنازه کو تابوت میں رکھا اور نماز کے لئے کھڑے هوئے ۔

مامون اپنے غلاموں کے ساتھ گریبان چاک کئے اور روتا هوا کمرے میں داخل هوا ۔ وه اپنے سر کو پیٹ رها تھا اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے سر مطهر کے پاس بیٹھ کر ان کے دفن کا دستور دیا ۔

جن چیزوں کی امام رضا علیہ السلام نے مجھے خبر دی تھی وه سب اسی بالکل اسی طرح واقع هوئی ۔[46]

حضرت امام رضا علیہ السلام کی شهادت کے بعد شیعوں نے ان کے جسم اقدس کی خراسان میں تشییع جنازه کی، اس تشییع جنازه میں اس قدر مجمع تھا کہ اس زمانے تک اس کے جیسا مجمع دیکھا نہیں گیا تھا ۔ تمام طبقے کے لوگ امام (ع) کی تشییع جنازه میں حاضر تھے ۔[47] امام رضا علیہ السلام کو سنہ203 هجری میں شهر طوس میں سپرد لحد کیا گیا ۔

 


[1] ۔ معجم البلدان، یاقوت حموی، ذیل مرسی ۔

[2] ۔ معصوم نہم، جواد فاضل، ص 62۔

[3] ۔ الائمة الاثنی عشر، هاشم معروف حسنی، ج 2، ص 359۔

[4] ۔ کشف الغمه فی معرفة الائمه، علی بن عیسی اربلی، با ترجمه فخرالدین علی بن حسن زواری با عنوان ترجمه المناقب، ج 3، ص 131۔

[5] ۔ عیون اخبار الرضا، ج 1، ص 14، مأخذ قبل، ص 459۔

[6] ۔ سوره مریم، آیه 30۔

[7] ۔ اصول کافی، جلد 6، صفحه 298۔

[8] ۔ مناقب ابن شهر آشوب، جلد 4، صفحه 360۔

[9] ۔ اصول کافی، جلد 5، صفحه 288۔

[10] ۔ کافی ج 1، ص 316 ؛ اعلام الوری، ص 305۔

[11] ۔ کفایة الاثر، ابن خراز قمی، ص 306 ؛ الامام الرضا، علامه مقرّم، ص 26۔

[12] ۔ مناقب، ابن شهرآشوب، ج 4، ص 366۔

[13] ۔ جلاء العیون، مجلسی، ص 542۔

[14] ۔ مفاتیح الجنان، زیارت جامعه۔  

[15] ۔ بحار الانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏100؛ کشف الغمه، اربلی، مکتبة بنی هاشم، ج‏3، ص‏107۔

[16] ۔ تهذیب التهذیب، ابن حجر عسقلانی (اهل سنت کے علماء میں سے) دارالکتب العلمیه، ج‏7، ص‏328؛ الانساب، سمعانی (اهل سنت کے علماء میں سے)، دارالکتب العلمیه، ج‏3، ص‏74۔

[17] ۔ بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏90۔  

[18] ۔ بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏90- 89۔   

[19] ۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، ج‏2، ص‏183 – 184؛ بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏91 ۔  

[20] ۔ الوافی بالوفیات، الصفدی، ج‏22، ص‏251۔ 

[21] ۔ مناقب آل ابی طالب، ابن شهرآشوب، ج‏3، ص‏470۔

[22] ۔ مناقب آل ابی طالب، ابن شهرآشوب، سابق ، ج‏3، ص‏470۔

[23] ۔ كلينى، الاصول من الکافی، ص 486؛ شيخ مفيد، الارشاد، قم، منشورات مكتبة بصيرتى، ص 304۔

[24] ۔ مجلسى، بحارالأنوار، تهران، المكتبة الاسلامية، 1385 ه۔ق، ج 48، ص 227؛ صدوق، عيون اخبار الرضا، تهران، دارالكتب الاسلامية، ج 1، ص 100۔ 

[25] ۔ صدوق، عيون اخبار الرضا، تهران، دارالكتب الاسلامية، ج 2، ص 226؛ على بن عيسى الأربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ه۔ق، ج 3، ص 105۔ 

[26] ۔ محقق، سيد على، زندگانى پيشواى هشتم؛ امام على بن موسى الرضا (عليه‏ السلام)، قم، انتشارات نسل جوان، ص 60۔

[27] ۔ على بن عيسى الاربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ھ۔ق، ج‏3، ص 65؛ شيخ مفيد، الارشاد، قم، منشورات مكتبة بصيرتى، ص 309؛ فتّال نيشابورى، روضةالواعظين، ط 1، بيروت، مؤسسة الأعلمى للمطبوعات، 1406 ھ۔ق، ص 247۔

[28] ۔ مجلسى، بحار الأنوار، تهران، المكتبة الاسلامية، 1385 ه۔ق، ج 49، ص 117، و على بن عيسى الأربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ه۔ق، ج 3، ص 95۔

[29] ۔ مجلسى، بحارالأنوار، ج 49، ص 117۔

[30] ۔ محقق، سيدعلى، زندگانى پيشوائے هشتم؛ امام على بن موسى الرضا (عليه‏السلام)، قم انتشارات نسل جوان، ص 74 – 70۔

[31] ۔ على بن عيسى الأربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ه۔ق، ج 3، ص 66؛ شيخ مفيد، الارشاد، قم، منشورات مكتبة بصيرتى، ص 310؛ فتال نيشابورى، روضة الواعظين، ط 1، بيروت، مؤسسة الأعلمى للمطبوعات، 1406 ھ'۔ق، ص 248۔

[32] ۔ شيخ مفيد، الارشاد، قم، منشورات مكتبة بصيرتى، ص 310؛ على بن عيسى الأربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ه۔ق، ج 3، ص 65؛ طبرسى، اعلام الورى باعلام الهدى، ط 3، تهران، دارالكتب الاسلامية، ص 333؛ فتّال نيشابورى، روضةالواعظين، ط 1، بيروت، مؤسسةالأعلمى للمطبوعات، 1406 ه۔ق، ص 248۔

[33] ۔ صدوق، علل الشرايع، قم، منشورات مكتبة الطباطبائى، ج 1، ص 226؛ فتال نيشابورى، روضة الواعظين، ط 1، بيروت، مؤسسة الأعلمى للمطبوعات، ص 247۔   

[34] ۔ طبرسى، اعلام الورى باعلام الهدى، ط 3، تهران، دارالكتب الاسلامية، ص 334؛ شيخ مفيد، ارشاد، قم، منشورات مكبتة بصيرتى، ص 310۔ 

[35] ۔ محقق ، سيد على ، زندگانى پيشواى هشتم ، امام على بن موسى الرضا(عليه السلام)، قم ، انتشارات نسل جوان، ص 87 ـ 82۔

[36] ۔ على بن عيسى الأربلى، كشف الغمّة، تبريز، مكتبة بنى هاشمى، 1381 ه۔ق، ج 3 ص 67؛ شيخ مفيد، الارشاد، قم، منشورات مكتبة بصيرتى، ص 312؛ فتّال نيشابورى، روضة الواعظين، ط 1، بيروت، مؤسسة الأعلمى للمطبوعات، 1406 ھ۔ق، ص 249۔

[37] ۔ باقر شريف القرشي، حياة الامام علي بن موسي الرضا(ع)، قم، نشر سعيد بن جبير، 1372ش، ج 2، ص 371۔

[38] ۔ باقر شريف القرشي، حياة الامام علي بن موسي الرضا(ع)، قم، نشر سعيد بن جبير، 1372ش، ج 2، ص 371۔

[39] ۔ محمد بن جرير بن رستم طبري، دلائل الامامه، قم، منشورات الرضي، 1363، ص 178۔

[40] ۔ مطهري، مرتضي، سيري در سيره ائمه اطهار، تهران، صدرا، طبع بيست و هفتم، 1384، ص 210۔ 

[41] ۔ محمد بن جرير طبري، تاريخ طبري، ترجمه ابوالقاسم پائنده، تهران، اساطير، طبع دوم، 1364، ج 13، ص 5676۔

[42] ۔ فضل بن حسن طبرسي، اعلام الوري، قم، مؤسسه آل البيت(ع)، 1417، ج 2، ص 80؛ شيخ مفيد، الارشاد، ترجمه سيد هاشم رسولي محلاتي، تهران، انتشارات علميه اسلاميه، طبع دوم، ج 2، ص 260۔

[43] ۔ مطهري، مرتضي، سيري در سيره ائمه اطهار، تهران، صدرا، طبع بيست و هفتم، 1384، ص211۔

[44] ۔ شيخ مفيد، الارشاد، ترجمه سيد هاشم رسولي محلاتي، تهران، انتشارات علميه اسلاميه، طبع دوم، ج2، ص 262 – 261۔ 

[45] ۔ شيخ مفيد، الارشاد، ترجمه سيد هاشم رسولي محلاتي، تهران، انتشارات علميه اسلاميه، طبع دوم، ج2، ص 262۔

[46] ۔ بحار الانوار، ج 49، ص 300، ح 10۔ از عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 242؛ فضل بن حسن طبرسي، اعلام الوري، قم، مؤسسه آل البيت(ع)، 1417، ج 2، ص 83 – 82۔

[47] ۔ باقر شريف القرشي، حياة الامام علي بن موسي الرضا(ع)، قم، نشر سعيد بن جبير، 1372ش، ج 2، ص375۔