")
مدرسہ مفید

تاریخ :

مدرسہ مفید کی قدامت تقریبا چالیس سال ھے یعنی جس زمانے میں موسسہ خیریہ مکتب امیر المومنین علیہ السلام کے بانیوں نے حضرت ايت الله موسوي اردبيلي کی سربراھی میں یہ ارادہ کیا کہ دینی ثقافت کی نشر و اشاعت کے اھداف و مقاصد کے لئے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھیں، یہ مدرسہ سنہ ۱۳۵۱ میں میدان انقلاب کے علاقہ میں جونیئر ھائی اسکول سے آغاز کیاگیا اور کچھ ھی عرصہ بعد ھائی اسکول کی بنیاد رکھِی گئی اور اسے خیابان زنجان کے پاس منتقل کیاگیا ۔ تقریبا بیس سال کے بعد مفید جونیئر ھائی اسکول و ھائی اسکول سنہ ۷۱ و ۷۶ میں تہران کے قیطریہ علاقہ بلیوارڈ کاوہ میں تاسیس کیاگیا ۔ مفید ھائی اسکول کا تیسرا شعبہ  ریاضی اور طبیعیات کے علاوہ انسانی علوم کے مضمون کے ساتھ سنہ ۸۳ میں میدان ونک کے اطراف میں شروع کیاگیا ۔ اس کے بعد پرائمری اسکول کلاسز کی ضرورت اور اھمیت کے مدّنظر مفید پرائمری اسکول اور {Preschool} پری اسکول کا آغاز سنہ ۸۸ میں خیابان شریعتی کے اطراف میں قائم کیاگیا ۔ ۹۰ – ۹۱ تعلیمی سال سے لڑکوں کے لئے مفید پرائمری اسکول اور {Preschool} پری اسکول کو قائم کیا جن میں سے ایک تہران کے منطقہ دو میں اور دوسرا قم میں تعلیمی فعالیت کرنے لگا ۔ اسی طرح لڑکیوں کے اسکول کی بنیاد بھی اس سال رکھی گئی ۔ اس وقت لڑکیوں کے تین مفید اسکول، تین {Preschool} پری اسکول و پرائمری اسکول، دو جونئیر اسکول اور تین ھائی اسکول لڑکوں کے ھیں جو لڑکیوں کے اسکول کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی فعالیت کررھے ھیں اور یہ مدرسے آپ کے فرزندوں کے ایڈمیشن کے حاضر ھیں ۔

     

 

مفید تعلیمی مرکز ان کے موسس حضرت آیت الله موسوي اردبیلي کی نظر میں

مفید تعلیمی ادارہ و کمپلیکس کے تشکیل کی تحریک

طاغوت و شاھی حکومت کے دور میں ھم قم میں تھے، ھم نے اسی وقت محسوس کیا کہ حوزات علمیہ کو روز بروز سماج و معاشرہ سے نزدیک ھونا چاھئے اور صرف اپنے میں حدود میں نہ رھے لہذا ھم اس نتیجہ پر پہنچے کہ دینی تبلیغ اب صرف سنتی اعتبار سے کار آمد و کارساز نہیں ھے بلکہ نئے طریقوں سے اس میدان میں وارد ھونا چاھئے، تہران میں خیابان نصرت پر ایک مسجد ادھوری بنی ھوئی تھی، ھم نے اپنی فعالیت کا آغاز اسی جگہ سے کیا ۔ اپنے مقصد کو پانے کے لئے یونیورسٹی کے قیام کی فکر میں مصروف تھے، بعد میں سمجھ میں آیا کہ اب کام کو شروع سے کیا جائے لہذا مدرسہ کے بنانے کی فکر لاحق ھوئی، ھم آقائے روزبہ کے پاس پہنچے، ان سے بات چیت کی انھوں نے ھماری فکری امداد کی، اللہ ان پر رحمت نازل کرے، تہران یونیروسٹی کے پاس ھماری ایک عمارت تھی ۔ آقائے روزبہ نے آکر اس عمارت کو دیکھا اور ھم نے مفید مدرسوں کی بنیاد اسی عمارت میں رکھی، ھمارے پاس بہت سی مشکلیں تھیں، اس وقت روپئے کی بھی کمی تھی ۔ بسا اوقات میں خود بھی مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا ۔ احباب بھی مسجد سے وھاں آتے تھے اور ھم سب مل کر وھاں جاتے اور کام کیا کرتے تھے ۔

 مفید ادارہ کے چلانے کا شیوه

مفید اسکول ایک خاص طور طریقہ اور روش کے مطابق ادارہ کیا جارھا تھا، میرا نظریہ پہلے سے ھی یہ تھا کہ جو انسان بھی صحت و سلامتی کا مالک ھے اسے تعلیم حاصل کرنا اور پڑھنا چاھئے ۔ مدرسین کو بھی صحیح سالم و صحت مند ھونا چاھئے، یہاں تک کہ مدرسے کے خادموں کو بھی تندرست ھونا چاھئے، خداوند عالم کا لطف ھے کہ اس نے کچھ اچھے لوگوں کو ھماری مدد کے لئے بھیجا اور ان لوگوں نے مفید اسکولوں کے لئے زحمتین اٹھائیں، اس وقت اللہ کے فضل و کرم سے مفید اسکولوں کے کئی ھزار پڑھے لکھَے اور گریجویٹ افراد موجود ھیں ۔ یہ لوگ جہاں بھی کہیں ھیں اور جس مضمون میں بھی تعلیم حاصل کی ھے وہ فائدہ مند، خدمت گزار، مفید و مومن انسان ھیں اور اگر اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مجھ سے یہ پوچھے کہ تم کو اس قدر عمر دی، امکانات دیئے، توفیقات سے نوازا، ان چیزوں کے ھوتے ھوئے تم نے کیا کام کیا ؟ اس سلسلہ میں جس قدر بھی سوچ رھا ھوں، میرا ھاتھ خالی نظر آرھا ھے ۔ میرے لئے صرف ایک چیز ھے جس سے امید کی کرن پھوٹتی نظر آرھی ھے اور وہ یہی مفید مدارس و یونیورسٹیاں ھیں ۔

 

مدارس کے لئے {مفید} نام کے انتخاب کی وجہ

 

مرحوم شیخ مفید کو ان کے زمانے میں انھیں «ابن المعلم» سے پکارا جاتا تھا ۔ انھوں نے مذھب شیع کے درمیان علم عقائد میں بہت کام کیا اور اس علم میں بہت مہارت رکھتے تھے، مرحوم شیخ مفید کا جس وقت انتقال ھوا، تو کچھ لوگوں نے کہا : "اللہ تعالیٰ نے ھم کو ابن المعلم کے ذریعہ نجات دی ھے " موصوف ھمارے معاشرہ میں ناشناختہ رھے ھیں جس کی وجہ سے میں نے مصمم ارادہ کیا ھا کہ جس قدر بھی میں ادارہ قائم کروں گا اس کا نام مفید رکھوں گا ۔ حال حاضر میں یونیورسٹی کے نام رکھنے کی وجہ تسمیہ بھی یہی ھے ۔