")
امام رضا علیہ السلام
معصومین

حضرت علىّ بن موسى الرضا علیہ السلام کی ولادت مشہور قول کی بناپر ۱۴۸ ھجری میں ھوئی ھے اور ۲۰۳ ھجری میں ایک غداری اور بزدلانہ سازش کے تحت شھید کیا گیا ۔ آپ کا سن مبارک ۵۵ / سال کا تھا ۔ آپ کے دور حیات میں چار عباسی ستمگر و ظالم حکمرانوں یعنی رشيد، امين، ابراهيم بن هادى و مأمون کی حکومت رھی ھے ۔  آپ (ع) کا اسم مبارک علی، کنیت ابوالحسن اور القاب رضا، صابر و وَفىّ ھیں ۔

حضرت امام على رضا علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ میں ھوئی، اس کے بعد بظاھر ایک سیاسی سازش کے تحت آپ (ع) کو مدینہ سے خراسان آنے کی دعوت دی گئی اور حقیقت و باطن میں آپ کو خراسان لایا گیا، اس لئے کہ اس زمانے میں پيغمبر صلى‏ الله‏ عليہ و‏آلہ کا گھرانہ لوگوں میں بڑی مقبولیت کا حامل تھا ۔

وقت کے حکمراں و خلیفہ اس طرح کی محبوب و مقبول شخصیتوں سے خوف زدہ تھے اور وہ کوشش و تلاش کرتے کہ انھیں تحت نظر اور محاصرے میں رکھتے ھوئے شھید کردیں تاکہ لوگ ان (ع) کی ھدیت و رھبری سے محروم ھوجائیں، اسی چیز کو نظر میں رکھتے ھوئے بنی عباس کے ظالم خلفاء نے امام صادق عليہ ‏السلام و امام كاظم عليہ ‏السلام کو شھید کیا، لیکن پھر بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ھوئے ۔

جس وقت مامون عباسی کو حکومت ملی تو اس نے ارادہ کیا کہ ایک نئے طریقہ اور سیاسی سازش کے ذریعہ لوگوں کی نظر میں جلوہ دے کہ حضرت امام على رضا علیہ السلام ایک دنیا و ریاست اور حکومت طلب ھیں، تاکہ اس طرح آپ (ع) کی دینی و روحانی شخصیت کو خدشہ دار بنائے اور لوگوں کو آپ کے متعلق بد بین کرے ۔ انھیں سب اسباب کی بناپر حضرت (ع) کو مامون نے اپنی حکومت کے مرکز میں بلوایا ۔

مامون لوگوں میں امام رضا علیہ السلام کی محبوبیت اور حضرت کے لوگوں کے تعلقات سے بے حد خوف زدہ و پریشان تھا، جس کی وجہ سے اس نے حکم دیا کہ امام رضا علیہ اسلام کا قافلہ ان شھروں سے نہ لایا جائے جن شھروں میں آپ کے سیعہ اور ماننے والے موجود ھیں جیسے قم ۔ بلکہ ان شھروں سے لایا جائے جو حکومت کے لئے پر امن ھیں ۔

آخرکار امام رضا علیہ السلام کو خراسان میں لایا گیا اور ایک پروگرام میں جو بالکل سیاسی تھا اس میں مامون کی ولیعھدی کے منصب کی تجویز پیش کی گئی ۔ امام رضا علیہ السلام سامنے کے موجودہ سیاسی مسائل نیز پشت پردہ سیاسی مسائل سے بطور کامل مطلع و آگاہ تھے ۔

اس وجہ سے مامون کی حکومت میں کسی بھی ذمہ داری کو قبول کرنے کو بڑی سختی سے منع کیا، لیکن جبری طور پر مامون کی ولیعھدی کو حضرت کے حوالہ کیا گیا ۔

چنانچہ بعض مورخین نے نقل کیا ھے جس وقت حضرت امام رضا علیہ السلام کو مامون کی ولیعھدی زبردستی سونپی جارھی تھی، اس وقت اسی بناپر کہ کم از کم تاریخ میں لکھ دیا جائے اور وہ  لوگ خود بھی جان لیں کہ حضرت ان تمام سازشوں سے مکمل طور سے آگاہ ھیں، مامون کو مخاطب کرت ھوئے فرمایا: میں تم سے پہلے اس دنیا سے چلا جاوں گا، لہٰذا کیونکر میں تمھاری ولیعھدی کو قبول کروں ؟۔

حضرت امام رضا علیہ السلام پر ولیعھدی کے زمانے میں کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور مامون نے پوری کشش کر رکھی تھی تاکہ انھیں اپنی ظالم حکومت کا طرفدار دکھائے، لیکن اس میں بھی شکست کھا گیا اور دیکھ رھا تھا کہ روز بروز لوگوں کی نظروں میں امام کی محبوبیت و مقبولیت بڑھتی جارھی ھے ۔ جس کی وجہ سے اس کی بد بین کرنے کی بزدلانہ سازش بھی ناکام ھوگئی اسی وجہ سے پکا ارادہ کرلیا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو شھید کردے ۔

مامون نے دھوکے بازی اور اپنی ناپاک مکاری سے حضرت امام رضا علیہ السلام ۵۵/ سال کی عمر میں شھید کیا ۔ صلوات الله و سلامہ عليہ و على آبائہ و ابنائہ ۔