")
امام حسن مجتبی علیہ السلام
معصومین

تہران کی نماز جمعہ کے خطبے میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کے بارے میں حضرت آیت العظمی موسوی اردبیلی مدظلہ العالی کا بیان ۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام کی امامت کا دور فتنوں اور انحرافات کے ساتھ شروع ھوا تھا ۔ حضرت على عليہ السلام اور جناب زهرا عليہا السلام کے بعد اھلبیت پیغمبر صلى ‏الله‏ عليہ و‏آلہ کی تیسری قربانی امام حسن علیہ السلام کی تھی ۔ آپ کے خلاف سیاست بازی اور سازش اس حد تک رچی گئی کہ نماز جمعہ کے خطبوں، منبروں، اشعار اور تقریروں میں امام حسن علیہ السلام کی شخصیت بلکہ آپ کی ذاتی و پرسنل زندگی کو بھی زیر سوال لایا گیا ۔

امام حسن علیہ السلام کے خلاف دشمن نے کسی بھی تہمت و الزام کے لگانے سے دریغ نھیں کیا، یہاں تک کہ آپ کے لباس، آپ کے کھانے قسم اور شادی کے بارے میں افواہ پھیلائی اور تہمت لگائی گئی اس بھی بڑھکر  امام حسن علیہ السلام کے خلاف حدیث گڑھ کر حضرت على و امام حسين عليہما السلام سے منسوب کی گئی کہ ان حضرات نے فرمایا ھے کہ حسن کو اپنی لڑکیاں نہ دو، کیونکہ انھوں نے بہت سی عورتوں کو طلاق دیا ھے !

یا اس طرح کا جھوٹ گڑھا گیا: معاویہ سے صلح کے واقعہ کے متعلق کہ ایک دن امام حسن و امام حسين عليہما السلام کے درمیان اختلاف ھوگیا، تو امام حسن عليہ السلام نے کہا : تم مجھے نھیں چھوڑتے کہ میں اپنا کام کر سکوں، قریب ھے کہ میں تمھیں گھر میں قید کر دوں تاکہ مسلمانوں کے امور فلاح و بہبودی کی طرف بڑھیں (!) اس طرح کی تہمت لگایا کرتے تھے ۔

معاویہ کا مقصد امام حسن علیہ السلام کے خلاف اس طرح کی روایتوں کے گڑھنے اور جعل کرنے نیز حضرت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا یہ تھا کہ امامت کے نورانی چہرہ کو خراب کرسکے ۔ معاویہ یہ دیکھ رھا تھا کہ خود تو اس روحانی مقام و منزلت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی وجہ سے کہتا اور چاھتا تھا: کم از کم اپنے رقیب کا چہرہ جہان تک ھو سکے مخدوش اور خراب کرے ۔ یہاں تک کہ امام حسن علیہ السلام کے گھر میں اپنے ایک با اثر و رسوخ جاسوس کو رکھا اور حضرت کو بڑی دردناک اور غم انگیز حالت میں شھید کیا ۔

جمعه 16شهريور 1364 ـ تہران یونیورسٹی ۔