")
لوگوں کی معاشی وضعیت و حالت پر امام صادق عليہ السلام کی توجه
معصومین

ایک زمانے میں شهر مدینه کے اندر قحط پڑا اور غلاّت و اجناس کی کمی هوگئی. دکانیں خالی هوگئیں اور قیمتی بڑھ گئیں تهیں، انهیں حالات میں امام (ع) نے اپنے خادم بنام (معتب) سے سوال کیا : « اس وقت بازار کی کیا حالت هے ؟» معتب نے جواب دیا: «اے فرزند رسول خدا (ص) ! بازار کی حالت تو اچهی نهیں هے. لوگ بڑی سختی و مشکلات میں زندگی بسر کر رهے هیں » حضرت نے پوچها: « لوگوں کی حالت و وضعیت اچهی کیوں نهیں هے ؟ » معتب نے کها : « غلات و اجناس کی کمی هوگئی هے اور قیمتیں بڑھ گئی هیں ». امام (ع) نے سوال کیا : «همارے گهر کی حالت و وضعیت کیسی هے ؟» اس نے جواب دیا : « الله کے لطف و کرم سے آپ کے خانواده کی وضعیت اچهی هے؛ اس لئے که هم نے پہلے هی ایک سال کا آذوقه فراهم کرلیا تها اور همارے انبار میں غلات و اجناس بهرے هوئے هیں. جس کے نتیجه میں اس قحطی اور مهنگائی کا اثر هم پر نهیں هوگا اور نه تو مهنگائی همارے دامن گیر هوگی»

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا: «اے معتب! جاؤ انبار کا درازه کهولو اور جو کچھ اس میں رکها هے اسے لے جاکر بازار میں فروخت کر دو !» .

معتب نے سوال کیا: « ان سب کو بیچ دوں ؟»

امام (ع) نے فرمایا : «هاں». اس کے بعد معتب نے پوجها : « جب هم اپنے آذوقه کو بیچ دیں گے اس کے بعد اسے کهاں سے فراهم کریں گے ؟» حضرت (ع) نے پوچها : «لوگ کس طرح اپنا آذوقه فراهم کرتے هیں ؟» اس نے حواب دیا: « لوگ بہت هی زحمت کے ساتھ اپنے مورد نیاز آذوقه کو مهنگی قیمت پر خریدتے هیں » امام (ع) نے جواب دیا : « هم بهی نہایت هی زحمت کے ساتھ اپنے مورد نیاز آذوقه کو مهنگی قیمت پر خریدیں گے .»

یه واقعه اور ماجرا، اسلامی زندگی و افکار کا ایک چهوٹا سا نمونه اور شیوه هے جو امام صادق (ع) کی منطق اور ان کی طبیعت و ضمیر کو بخوبی ظاهر کرتا هے