")
حضرت على عليہ ‏السلام کی صداقت اور سچائی
معصومین

حضرت على عليہ ‏السلام نے صداقت اور سچائی کو ایک انسانی اور الهی اقدار کے عنوان سے اپنی طبیعت و ضمیر کے اندر راسخ کر رکها تها. یه چیز فقط آپ کی شخصی اور گهریلو زندگی میں هی نهیں تهی بلکه اجتماعی اور سیاسی میدان میں بهی حضرت (ع) کی توجه کا مرکز رهی هیں. اس چیز کو ملحوظ خاطر رکهتے هوئے کهنا چاهئے که آپ انسانیت کے لئے ایک نمونه هیں جنهوں نے سیاست و صداقت اور سچائی کو بنحو احسن ایک جگه جمع کردیا هے اور ان دونوں کی سازگاری و هماهنگی کو اپنی زندگی میں ثابت کیا هے. جب که معاویه اور اس کے مانند افراد، نیرنگ، فریب، دغابازی اور مکر و حیله کی سیاست کر رهے تهے اور سچائی و صداقت کو سیاست پر قربان کر دیا کرتے تهے.   نقل کیا گیا هے که امير المؤمنين عليہ ‏السلام سے لوگ کهتے تهے: آپ علم، زهد ، شجاعت و بهادری اور تمام اخلاقی کمالات میں لوگوں میں سب سے افضل و برتر هیں لیکن سیاست مدار هونے کے اعتبار سے گویا معاویه آپ سے آگے هے. حضرت (ع) نے فرمایا: میں نے خداوند عالم سے عهد و پیمان باندها هے که کبهی بهی جهوٹ نه بولوں، میں چاهتا هوں که جس چیز کا یقین نهیں هے اور اس پر اعتقاد نهیں هے اسے زبان پر نه لاؤں، جو کام میں خود انجام نهیں دیتا اسے لوگوں سے نه کهوں که وه انجام دیں، میری زبان میری افکار کا آئینه هو، میں پروردگار کے سامنے ذمه داری و مسئولیت کا احساس رکهتا هوں اور مجهے صداقت و سچائی کے اصول و معیار پر چلنا ضروری سمجهتا هوں اور یهی هونا بهی چاهئے، میں هر بات کو زبان پر نهیں لا سکتا هوں اور اپنے مقاصد و اهداف کو پانے کے لئے تهمت، افتراء اور غیبت سے استفاده و کام بهی نهیں لے سکتا هوں . اگر میں خدائے متعال کے سامنے مسئولیت و ذمه داری کا احساس نه کرتا اور وه عهد و پیمان اپنے خدا سے نه رکهتا، تو اس وقت تم کو معلوم هوتا که میں سیاست میں آگے هوں یا معاویه .

امام (ع) کی یه خصوصیت اور امتباز تمام لوگوں کے لئے ایک نمونه هے خاص طور سے معاشره کے سیاست مندوں ، حاکموں اور ذمه داروں کے لئے. ان افراد کو اس نکته کی طرف توجه کرنا چاهئے اور سیاست میں همیشه صداقت و سچائی کا خیال رکهنا چاهئے. اگر لوگ اس بات کا احساس کرلیں که ان کے مسئولین و عهده دار سچے هیں تو یقینا ان کے حامی و طرفدار هوں گے