")
حضرت علی [ع] کا عدل و انصاف
معصومین

على عليه‏ السلام جس طرح ایک آزاد طبیعت  کے انسان تھے اسی طرح آزادی کے دوستدار تھے اور نہایت درجہ حق کو دوست بھی رکھتے تھے  ، اپنے کام  گہری فکر کے مطابق عدل و انصاف کے مطابق  انجام دیتے تھے۔ ایک دن عقیل ، حضرت (ع) کے بڑے بھائی  آپ کے پاس آئے اور اپنی مالی حالت کی شکایت کرتے ہوئے کہا: جو حصہ  بیت  المال سے  ہمیں دیتے ہیں  وہ میرے لئے کافی نہیں ہے، میرا حصہ زیادہ کر دیں ۔  اس کے باوجود کہ على عليه‏ السلام  جانتے تھے اگر عقیل کی مدد نہ کریں تو وہ اپنی مشکلوں کے حل کے لئے معاویہ کے دربار میں جائیں گے، اور یہ چیز ان  کی خلافت کے لئے ایک نقصان دہ  حربہ ہوگا، اس کے باوجود زیادہ حصہ دینے سے منع کردیا۔ یا بیت المال سے ام کلثوم کا عاریت کے طور پر ہار لینا ، اس سلسلہ میں بھی آپ (ع)  اتنی سختی اور تلخی سے پیش آئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کے حقوق میں کوئی خلل   پڑجائے ۔

حضرت على عليه‏ السلام کے عدل و انصاف  کا دوسرا نمونہ یہ ہے کہ آپ (ع) نے اپنے دور  خلافت میں  جو زمینیں خلفائے گزشتہ کے درباریوں  اور متعلقین  نے ہڑپ رکھی تھی ، وہ سب ان لوگوں سے لے کر حق داروں کو واپس کردیا ۔

یہ حکم ، اسلامی عدل و انصاف کی بنیاد پر  ہے ۔ اگر کوئی اس عدالت سے سختی میں پڑ جاتا ہے تو وہ اس سے بدتر ظلم سے سختی میں پڑے گا، آپ عدالت کو نافذ کریں ! چاہے دوسرے لوگ اسے پسند کریں یا پسند نہ کریں