")
قول میں سچائی اور عمل میں صداقت
صداقت

ہمارا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے کردار،گفتار، عمل، فکر اور نیت میں سچے رہیں،  تاکہ تدریجی طور پر سچائی لوگوں کے درمیان اپنے  مقام کو پا جائے ، اور اس کے ذریعہ بعض گناہ جیسے ریاکاری درمیان سے ختم ہوجائے ، اس لئے کہ سچا اور صادق انسان ریاکار اور منافق نہیں ہوسکتا، کیونکہ ریا کاری اور منافقت کی بنیاد جھوٹ ہے ۔ در حقیقت منافقوں نے طول تاریخ میں جو نقصانات انسانیت پر ڈھائے ہیں  ، وہ اس بات سے کا سبب ہے کہ وہ اپنے کردار اور گفتار میں سچے نہیں رہے ہیں ۔ اور چھوٹ بولنے سے گریز بھی نہیں کرتے تھے ۔  

اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۸-۱۰ /  میں مناقفوں کے بارے میں کہتا ہے :

وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْيَوْمِ الْأَخِرِ وَ مَا هُم بِمُؤْمِنِينَ . يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُونَ . فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا.

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا اورروزِ  آخرت پر ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ صاحب ایمان نہیں ہیں۔ یہ خدا اور صاحبان ایمان کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں حالانکہ اپنے ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور سمجھتے بھی نہیں ہیں ۔  ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے. اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں انہیں درد ناک عذاب ملے گا ۔

لہذا  انسان کو چاہئے کہ تمام مسائل میں چھوٹے اور  بڑے، ذاتی اور غیر ذاتی، سماجی و سیاسی  ان سب میں   فکر، نیت ، گفتار و کردار کے لحاظ سے سچے  ہوں