")
الہٰی حدود اور سزا کے نافذ کرنے میں مستحکم عزم و ارادہ
معصومین

پیغمبر صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله نے فرمایا ہے:

لا شَفاعَةَ وَ لا كَفالَةَ وَ لا يَمينَ فى حَدٍ.[1]

کوئی شفاعت نہیں اور کوئی کفالت و ضمانت نہیں اور حدود الہٰی کے نافذ کرنے میں کوئی قَ م قابل قبول نہیں ہے۔ان میں سے کوئی بھی چیز حدود الہٰی کو نافذ کرنے میں مانع نہیں ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح  حدود کے نافذ کرنے میں تاخیر اور  اس کی تعطیل کردینے  کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

منقول ہے کہ صدرِ اسلام میں  ایک عورت نے چوری کی تھی ۔اس کے قبیلہ والوں نے رسول اکرم (ص)کے پاس آکر کہا : ہم لوگوں میں جانے مانے ہوئے لوگ ہیں اورہم  ان میں کافی عزت و آبرو کے حامل ہیں ۔ اگر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیں گے تو ہماری عزت خاک میں مل جائے گی ۔

ہم آپ(ص) سے درخواست کرتے ہیں کہ اس عورت کو سزا نہ دیں !  

رسول اکرم (ص) نے ان کی  بات کو  رد کرتے ہوے کہا:

اگر میری بیٹی زہرا (س) نے یہ کام کیا ہوتا تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔.[2]

رسول اکرم (ص) حدود الہٰی کو جاری کرنے میں اس درجہ اَٹل  و ثابت قدم تھے کہ اگر ان کا کوئی  قریبی بھی گناہ کا مرتکب ہوتا تو اس کی سزا میں کوتاہی نہ کرتے۔

.

من لا يحضره الفقيه، ج4، ص74

پيام پيغمبر  صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله، ص101