")
گھمنڈ اور تکبر
جنرل مشورہ

وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ.

اللہ نے جنگ حنین میں مسلمانوں کی ابتدائی شکست کا سبب  مسلمانوں  کا اپنی تعداد اور لوگوں پر گھمنڈ اور غرور کو جانتا ہے،  جو ایک آفت و مصیبت کی طرح سپاہ ِاسلام میں آئی  گئی تھی جو  ان کی ہار  کا سبب بن گئی ، جبکہ اس سے پہلے ۳۱۳/ سپاہیوں کے ہوتے ہوئے جیت گئے تھے لیکن جنگ حنین میں ۱۲/ بارہ ہزار لشکر کے ہوتے ہوئے بھی شکست کھا گئے۔

اس لئے کہنا چاہئے کہ مغرور اور گھمنڈی ہونا ، زیادہ سے زیادہ امید رکھنا، ہر چیز اور مشکل  کو خدا پر ڈالنا ، اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرنا   ، اپنے کو ہر چیز سے الگ کرلینا، صرف دوسروں کی ہی فکر میں رہنا،یہ سب ایسے غلط کام ہیں جو ہار اور شکست کا سبب بنتے ہیں ۔

 

اس نکتہ  سے بھی غفلت نہیں کرنا چاہئے کہ اللہ کی مددکے بھی شرائط ہیں اور وہ شرائط مقاومت ،مقابلہ، پائیداری ، ثابت قدمی،صبر کرنا، تھکاوٹ کا احساس نہ کرنا، اپنے ہوش و حواس کو کھو نہ دینا، سوء ظن و بدبین نہ ہونا اور فرار نہ کرنا ، ان نکات و شرائط  کی طرف اللہ  تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں بیان کیا ہے ۔