")
وحدت
جنرل مشورہ

حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کا بیان :

وحدت کا مطلب یہ ھے کہ دو فرد، دو گروہ یا دو مذھب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی بسر کریں اور آپس میں نزاع نہ کریں، لڑائی جھگڑا اور دشمنی نہ رکھتے ھوں ۔ ایک دوسرے پر تہاجم اور حملہ نہ کریں ایک دوسرے کے سے تجاوز نہ کریں اور آپس میں صبر و تحمل سے کام لیں ۔

حقیقت میں جو معنی وحدت کے ذکر ھوئے ھیں، وہ وحدت کے معنی نھیں ھیں بلکہ مسالمت آمیز اور ایک دوسرے سے متعرض نہ ھونے کے معنی ھیں ۔ متعرض نہ ھونا بذات خود، بہت مفید، پسندیدہ اور ضروری ھے، لیکن بہر حال یہ وحدت سے الگ معنی ھے اور دونوں ایک نھیں ھیں ۔      

خداوند عالم سوره انفال میں فرماتا ھے:‌ " وَ أَطِيعُوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ "، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جاؤ اور تمھاری ھوا بگڑ جائے اور صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ھے ۔

یہ آیت کریمہ اسی متعرض نہ ھونے کے بارے میں ھے یعنی ایک دوسرے کے ساتھ نزاع اور جھگڑا نہ کرو اور ایک دوسرے کو تحمل و برداشت کرو ۔

ایک دوسرے کو تحمل کرنا کوئی آسان کام نھیں ھے اسی دلیل کی بناپر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ھے " وَ اصْبِرُوا " صبر کرو یعنی مقاومت کرو ۔

وحدت کے معنی یہ ھیں کہ دو آدمی یا دو گروہ یا دو مملکت یگانگی و اتحاد میں اس درجہ پر پہنچ جائیں کہ دوسرے کی اچھائی و فائدہ کو اپنی اچھائی و فائدہ سمجھیں اور دوسرے کے ضرر اور نقصان کو اپنا ضرر و نقصان جانیں اور جس طرح اپنے حقوق سے دفاع کی کوشش کرتے ھیں اسی طرح دوسرے کے حقوق کے دفاع کی کوشش کریں ۔ وحدت کے متعرض نہ ھونے سے عمیق اور بلند معنی ھیں ۔

خداوند سبحان کا ارشاد ھے: "و اعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور متفرق نہ ھو ۔

یہ آیت کریمہ وحدت کے بارے میں ھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں اتحاد کا حکم دیا ھے ۔ اگرچہ آیت میں میں یگانگی اور بھائی چارگی و برادری کی تعبیر نھیں آئی ھے لیکن اس کے بعد کی دو آیت میں اللہ فرماتا ھے :

" ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا "، ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو متفرق و منتشر ھوگئے اور ایک دوسرے سے اختلاف کیا ۔

حضرت امیر المؤمنین (ع) نے اھل بصرہ کے بارے میں بڑی ظریف تعبیر استعمال کرتے ھوئے فرمایا: " المجتمعة ابدانهم " تم اھل بصرہ کے صرف ابدان ایک دوسرے کے ساتھ ھیں ۔

جب ایک سماج اور معاشرہ اس زمانے میں بصرہ کے لوگوں کے مانند ھوگا، اور انسان نظر کرے گا تو ایک لاکھ آدمیوں، دو لاکھ آدمیوں یا پانچ لاکھ آدمیوں کو دیکھے گا ۔ لیکن یہ تمام لوگ یکہ و تنھا ھوں گے ، سب الگ ھوں گے ۔ اور ھر ایک خود اکیلا نظر آئے گا ۔ ھر انسان فقط اپنے منافع کو حاصل کرنے اور اپنے نقصانات کو دور کرنے کی فکر میں رھے گا اور دوسروں سے اس کا کوئی مطلب و سروکار نھیں ھوگا ۔

همپای انقلاب، خطبه های نماز جمعه حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی، صفحه ٣١٧ – ٣١٨