")
قرآن
جنرل مشورہ

حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کا بیان:

قرآن وہ کتاب الٰہی ھے جو تاریخی اور اخلاقی وغیرہ جیسے مسائل کو بیان کرتی ھے، مگر اخلاقی کتاب نھیں ھے، علمی کتاب بھی نھیں ھے، بلکہ خود اس کے بقول " هدیً للناس " ھے ۔ علمی کتاب میں مبھم چیزوں کے پائے جانے میں کوئی ایراد اور اعتراض نھیں ھے، مثال کے طور پر انیشتین کا نظریہ ممکن ھے کہ کوئی انسان اسے بارھا پڑھے اور چونکہ اس میں ریاضیات کی بلند منزل پر ھونا ضروری ھے جس کی وجہ ھوسکتا ھے وہ اس کے مطالب کو نہ سمجھ سکے ۔ یا یہ کہ تاریخ میں ملتا ھے کہ ابو علی سینا نے کتاب ما بعد الطبیعہ کو متعدد بار پڑھا لیکن کچھ بھی نہ سمجھ سکا ۔ یہ ایک علمی کتاب کی خصوصیت ھے ، لیکن قرآن جو لوگوں کی ھدایت کے لئے آیا ھے اور قیامت تک انسانوں کے لئے حجت اور رھنما ھے، اس میں کیونکر کوئی ابہام پایا جائے گا اور کس منطق کے تحت قبول کیا جاسکتا ھے کہ وہ قابل فھم نھیں ھے ۔

خداوند عالم نے اس کتاب کو عربی مبین زبان میں "بلسان عربی مبین" نازل کیا ھے اور انسان کے متذکر ھونے کے لئے اسے آسان و سھل قرار دیا ھے " و لقد یسّرنا القرآن للذکر " تاکہ اسے اپنے لئے سر مشق قرار دیں "لعلکم تتقون"  اور متقی بنیں یا اللہ کی رحمت ان کے شامل حال ھو "لعلکم ترحمون " ۔

ان سب کے باوجود اس کے بہت سے معانی اھل تحقیق پر پوشیدہ ھیں چہ جائیکہ عام اور عادی لوگوں پر ۔

حضرت علی (ع) فرماتے ھیں: " وَ إِنَّ الْقُرْآنَ ظَاهِرُهُ أَنِيقٌ وَ بَاطِنُهُ عَمِيقٌ لَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ وَ لَا تَنْقَضِي غَرَائِبُهُ "، اور بیشک یہ قرآن وہ ھے جس کا ظاھر خوبصورت اور باطن عمیق اور گہرا ھے اس کے عجائب فنا ھونے والے نھیں ھیں اور اس کے اسرار نہفتہ تمام ھونے والے نھیں ھیں ۔

جیسا کہ بیان ھوا ھے اس سے پتہ چلتا ھے کہ قرآن کی کلی چیزیں لوگوں کے لئے قابل فھم ھیں، اس فرق کے ساتھ کہ ھر انسان اپنے درک و فھم، معرفت اور اپنی وسعت فکر و وجود کے مطابق اس سے استفادہ کرتا ھے ۔

حضرت امام علی (ع) کتاب خداوند عالم اور اس کو لوگوں کے درک و سمجھنے کے متعلق فرماتے ھیں: " کتاب الله عزوجل علی اربعة أشیاء: علی العبارة و الاشارة و اللطائف و الحقایق؛ فالعبارة للعوام، و الإشارة للخواص، و اللطائف للاولیاء و الحقایق للانبیاء " ۔

لھذا مختلف افراد کی فہم کی بہ نسبت، بہت سی آیتوں کو سمجھنا اور درک کرنا متفاوت ھے اور قرآن کی حقیقت اور کنہ کا ادراک نبی اکرم (ص) اور ان کے اھل بیت (ع) کے لئے ممکن ھے، اگرچہ عوام اپنے فھم و ادراک کے مطابق اس سے استفادہ کرتے ھیں، لھذا قرآن کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اھل بیت (ع) کی طرف رجوع کرنا چاھئے اس لئے کہ یہی حضرات راسخون فی العلم اور اس کے مفسر ھیں ۔

در پرتوی وحی، جلد اول، صفحه ٨٨ – ٩٠