")
الرحمن
جنرل مشورہ

حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے بیانات:

«الرحمن» کے معنی میں دو نکتے موجود ھیں :

ایک یہ کہ وہ وسیع رحمت کا مالک ھے اور دوسرے یہ کہ اس کی رحمت منظم ھے اور اور اللہ تعالی ان دو اوصاف کا مالک ھے: اس کی رحمت بھی وسیع ھے اور منظم ھے ۔۔۔۔۔

دنیا کے تمام اجزاء یھاں تک کہ دنیا و آخرت بھی ایک دوسرے سے مرتبط اور جڑے ھوئے ھیں اور پوری دنیا نعمتوں میں غرق اور ڈوبی ھوئی ھے ۔۔۔ اگر ھم اعتقاد رکھتے ھوں کہ دنیا و عالم ھستی ایک عالَم ھے، تو پھر ھم دنیا و آخرت کو ایک دوسرے سے الگ نھیں سمجھ سکتے، بلکہ دنیا و آخرت اس عالم ھستی کے اجزاء ھیں اور ایک دوسرے سے متصل اور ملے ھیں جو ایک مجموعہ اور کل کو تشکیل دیتے ھیں ۔۔۔۔

ھم خیال کرتے ھیں کہ دنیا، آخرت سے الگ ھے اور سوچتے ھیں اگر خدا دنیا میں عذاب کرے گا تو آخرت میں عذاب نہیں کرے گا، اگر دنیا میں کسی پر رحم نھیں کیا تو آخرت میں رحم کرے گا ۔۔۔۔۔

دنیا و آخرت کا فرق اس میں ھے کہ دنیا میں خیر و شر، سعادت و شقاوت، نعمت و نقمت مخلوط ھیں ۔۔۔۔ لیکن آخرت میں ایسا نھیں ھے ۔ آخرت میں امور الگ ھیں، سعادت الگ، شقاوت الگ، نعمت الگ، نقمت الگ، خیر الگ و شر الگ ۔ اس کے علاوہ صاحبان نعمت اور نقمت نیز سعادت و شقاوت سے الگ ھیں اس کے باوجود دنیا و آخرت یہ دونوں عالم ایک دوسرے سے الگ اور جدا نھیں ھیں ۔

ھماری آخرت ابھی اس وقت برپا ھے ۔ اگر آپ اس وقت اچھے آدمی ھیں تو اس کے معنی یہ ھیں کہ آپ کی آخرت آباد ھے اور اسی وقت خوشبختی میں زندگی گزار رھے ھیں، ھاں ھوسکتا ھے کہ اس کی حقیقت اس وقت آپ پر واضح نہ ھو اور موت کے بعد اس کو دیکھو ۔ " الدنیا مزرعة الآخرة " کاشت کرنا اور بونا، کاٹنے کا مقدمہ ھے ۔

در پرتوی وحی، تفسیر سوره «الرحمن»