")
توبہ کی حقیقت
جنرل مشورہ

بعض لوگ گمان کرتے ھیں که توبہ کی حقیقت لفظ " استغفر الله ربی و أتوب الیه " یا اس کے مانند الفاظ ھیں، جن کو ادا کیا جاتا ھے مگر یہ ایک غلط خیال اور تصوّر ھے ۔ توبہ ایک دلی و قلبی حقیقت ھے ۔ اسی وجہ سے نهج البلاغہ میں آیا ھے کہ ایک شخص نے حضرت علی (ع) کے موجودگی میں لفظ استغفار کو زبان پر جاری کیا، تو حضرت امیر المومنین (ع) نے حیرت زدہ ھوکر فرمایا : " ثکلتک اُمُّک ! أتدری ما الاستغفار ؟" تمھاری ماں تمھارے ماتم میں بیٹھے ! کیا تم جانتے ھو کہ اسغفار کیا ھے ؟ اس وقت حضرت (ع) نے فرمایا : توبہ اور اسغفار کی چھ شرطیں ۔ ھیں ان شرطوں میں سے ایک یہ هے کہ اپنے گناھوں پر نادم و پشیمان هوجاو ، مگر یہ پشیمانی و ندامت سچی هو ۔ پشیمان شخص صرف یهی نهیں کہ گناھوں کی طرف نھیں جاتا هے بلکہ وه محکم اراده کرتا هے کہ گذشتہ کی تلافی کرے گا اور اگر حرام مال کھایا ھے تو اس کو اس کے مالک کو واپس کرے اسے راضی کرے، اور اگر حرام مال اس کے گوشت اور خون کا حصہ بن گیا ھے تو اسے چاهئے کہ ایسا کام کرے کہ اس حرام مال سے بنا هوا گوشت پگھل کر ختم هو جائے ۔
بعض اوقات دیکھا جاتا ھے کہ کبهی کبهی کچھ پروگرام میں ایک شخص اشعار یا دعا کو بہت بلند اور محزون آواز میں پڑهتا هے اور اپنے جذباتی الفاظ کے ذریعہ دوسروں کے احساسات کو بیدار کر دیتا هے، جس کی وجہ سے ان لوگوں کے آنسو جاری هونے لگتے هیں، کبهی کبهی تو بلند آواز سے رونے اور گریہ کرنے لگتے هیں اور اس سے متاثر هوجاتے هیں ۔ لیکن جیسے هی اس معنوی فضاء سے باهر آتے هیں، بسا اوقات تو اسی جگہ اور اسی پروگرام میں کوئی ایسا موقع پیش آتا هے تو دوباره غیبت، تہمت اور بہتان میں مشغول هو جاتے هیں، ان سب کے باوجود ان کی زبان پر هوتا هے کہ پروگرام بہت با برکت تها اور هم نے اس سے فیض حاصل کیا ! یعنی بہت گریہ کیا ۔ اس سے متاثر هوئے ۔ لیکن یہ متاثر ھونا ایک جذباتی اثرات میں سے تها، اگر پڑهنے والے کی آواز اچهی نہ هوتی تو شاید اس کے آنسو بهی نہ نکلتے، اور وه شخص خستگی و تھکاوٹ میں مبتلا هوجاتا ۔ اسے توبہ نهیں کہتے ۔ توبہ ایک معنوی و روحانی انقلاب هوتا هے ۔ توبہ کرنے والا انسان وہ هوتا هے کہ جس کے حالات اور رفتار و کردار میں توبہ سے پہلے اور بعد میں فرق پیدا هوجاتا هے توبہ سے پہلے اپنی خواهشات نفس میں گرفتار نیز خدا کی رحمت سے دور تها، لیکن توبہ کے بعد اس کے اندر تبدیلی پیدا آجاتی هے، اور رحمت خدا سے قریب هوجاتا هے ۔ اب اس انسان سے گناه سرزد نهیں هوتا اور اگر کبهی گناه هو بھی جاتا هے تو اس سے پشیمان و نادم هو جاتا هے ۔ 
قرآن اور احادیث میں توبہ نصوح یعنی خالص توبہ کی طرف اشاره کیا گیا هے، خداوند عالم کا ارشاد هے: " یا أیها الذین آمنوا توبوا إلی الله توبة نصوحاً "۔ 
توبه انسان کے اندر ایک معنوی و قلبی انقلاب کا نام هے ۔ اس سے مراد یہ نهیں هے کہ دعا، مجلس، محفل میں شرکت کریں اور جذبات میں آکر رونے لگیں ۔
معلوم هونا چاهئے کہ میں هر طرح کے مراسم کا مخالف نهیں هوں ۔ هوسکتا هے بعض اوقات دعا کا ایک پروگرام کسی انسان کے اندر معنوی انقلاب پیدا کر دے، مگر جو چیز همیں معلوم هونا چاهئے وه یہ هے کہ اس طرح کے پروگرام ایک شیئے کا نام هے ۔ اور توبہ کی حقیقت اس سے الگ ایک دوسری شیئے کا نام هے ۔
در پرتو وحی، جلد ٢، صفحہ ٢٢٦٢٢٨