")
لوگوں کے حقوق کا پاس ولحاظ
توصیه های سیاسی

ضروری ھے کہ ھدایت و تبلیغ کی مجلسوں اور محفلوں میں، نماز جمعہ اور دوسری جگہوں اور موقعوں پر جو عمومی اور حکومتی مسائل ھیں ان کی یاد دھانی کی جائے اور تذکّر دیا جائے ۔ صدیوں کے انتظار، کوشش اور تلاش کے بعد پروردگار عالم کے لطف و کرم سے اس سر زمین پر ایک نظام بنام حکومت جمہوری اسلامی قائم ھوا ھے ۔ ھم اس نظام میں نہ تو کوئی نئی بات رکھتے ھیں اور نہ تو نیا پیغام ۔  

ھماری بات، ھمارا پیغام، ھمارا پروگرام، ھمارا لائحہ عمل صدر اسلام ھی سے تیار شدہ ھے، لیکن مرور زمانہ اور حکومتی اقتدار و قدرت کے ھمارے ھاتھوں میں نہ ھونا اور نطام کا نافذ نہ ھونا باعث بنا کہ عمومی سطح پر حکومتی مسائل سے کامل آشنائی نہ رکھتے ھوں ۔

حکومتی، اجتماعی اور سماجی مسائل کے متعلق اسلامی نظریہ کی شناخت کے لئے روایتوں اور اسلامی مآخذ سے استفادہ کرنا چاھئے، اس سلسلہ میں معصومین (ع) سے منقول کچھ روایتیں پائی جاتی ھیں، ان میں سے بعض روایات مختصر، دوسری بعض روایات نسبتاً تفصیلی، جامع اور متعدد ابعاد کی حامل ھیں۔ ان روایتوں میں سے جو نسبتاً جامع طور پر نقل کی گئی ھیں ان میں حضرت امام على عليہ ‏السلام کا کلام ھے ۔

میں نے کچھ جملے حضرت على عليہ ‏السلام کے کلام گہربار سے یاد داشت کیا ھے جو انھوں نے مالک اشتر کو لکھا تھا اور آج پہلے خطبہ میں اس کے مطالب محترم بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں پیش کروں گا ۔  

" اعْلَمْ يَا مَالِكُ أَنِّي قَدْ وَجَّهْتُكَ إِلَى بِلَادٍ قَدْ جَرَتْ عَلَيْهَا دُوَلٌ قَبْلَكَ مِنْ عَدْلٍ وَ جَوْرٍ وَ أَنَّ النَّاسَ يَنْظُرُونَ مِنْ أُمُورِكَ فِي مِثْلِ مَا كُنْتَ تَنْظُرُ فِيهِ مِنْ أُمُورِ الْوُلَاةِ قَبْلَكَ وَ يَقُولُونَ فِيكَ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِيهِمْ " ۔ (۱)

[اے مالک ! میں نے تم کو ایسے شہروں کی طرف بھیجا ھے جہاں عدل اور ظلم کی مختلف حکومتیں کزر چکی ھیں اور لوگ تمھارے کاموں اور معاملات کو اس نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم ان حکّام کے اعمال کو دیکھ رھے تھے اور تمھارے بارے میں وھی کہیں گے جو تم دوسرں کے بارے میں کہہ رھے تھے ۔]

ملکِ مصر کی حالت اور اسٹیٹس اس دور  میں جس کے متعلق امير المؤمنين عليہ ‏السلام نے گفتگو کی ھے، وہ آج کے ایران سے بہت زیادہ مشابہت اور ملتا جلتا ھے ۔ مصر، ایک وسیع سرزمین تھی جس کی تاریخ طولانی، مکمل کہانی اور واقعات سے بھری پڑی ھے ۔ بہت سے نظام، انسان، اشخاص اور حکومتیں آئیں اور گزر گئیں ھیں، یہاں تک کہ آج اس میں ایک نظام بنام نظام اسلامی قائم ھے ۔ ایک زمانے کے گزرنے کے بعد مالک اشتر اس کی سمت روانہ ھوتے ھیں تاکہ اسلامی نظام کو حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کی ولایتِ مطلق کے سایہ میں نافذ کریں ۔

حضرت على عليہ ‏السلام فرماتے ھیں: اے مالک ! تم یاد رکھو کہ لوگ تمھیں اسی نظر سے دیکھیں گے جس طرح تم اپنے سے پہلے والے حکّام کو دیکھ رھے تھے ۔ وہ لوگ تمھارے بارے طرح طرح کے فیصلے، باتیں اور گفتگو کریں گے جس طرح تم اپنے سے پہلے والے حکّام کے بارے میں فیصلہ کرتے تھے اور گفتگو کرتے تھے ۔

عمومی افکار کو نظر انداز نہ کرو! لوگوں کے نظریئے و محاسبوں کو اپنی خاطر اور حساب میں لاؤ ! لوگوں کی فکریں، لوگوں کے نظریات و نتائج، ان کا راضی اور ناراضی ھونا، تمھاری حکومت کی سرنوشت کو معیّن کرنے میں اھم کردار رکھتا ھے ۔

لوگوں کو اھمیت دینے اور ان کے نظریوں کی قدر کرنے کے متعلق درج ذیل جملے ارشاد فرمائے ھیں:

" اِنَّمَا يُسْتَدَلُّ عَلَى الصَّالِحينَ بِمَا يُجْرِى اللّهُ لَهُمْ عَلى اَلْسُنِ عِبَادِهِ " ۔ (2)

نیک کردار بندوں کی شناخت اس ذکر خیر سے ھوتی ھے جو اللہ ان کے لئے لوگوں کی زبانوں پر جاری کرتا ھے ۔ 

جو مطالب لوگوں کی زبان پر، لوگوں کی گفتگو میں، لوگوں اور اللہ کے بندوں کے فیصلوں میں کہ جن افراد سے امت اسلامی کی تشکیل ھوتی ھے یہ تمام مطالب جاری ھوتے ھیں، ان سے صالح و نیک کردار لوگوں کے بارے میں ان کے صالح ھونے کا ثبوت اور دلیل قائم کی جاتی ھے ۔

"فَلْيَكُنْ اَحَبُّ الذَّخائِرِ اِلَيْكَ ذَخِيرَةَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ " ۔ (۳)

لہذا تمھارا محبوب ترین ذخیرہ عمل صالح کو ھونا چاھئے ۔

"فَامْلِكْ هَوَاكَ وَ شُحَّ بِنَفْسِكَ عَمَّا لاَيَحِلُّ لَكَ " ۔ (۴)

خواھشات کو روک کر رکھو اور جو چیز حلال نہ ھو اس کے بارے میں نفس کو صرف کرنے سے بخل کرو ۔

لہذا تمھاری قوتِ غضب اور قوت شہوت تمھاری عقل اور ایمان کے اختیار میں ھونا چاھئے ۔ جو چیزیں حلال و جائز نہیں ھیں ان کی طرف ھاتھ نہ بڑھیں ! اور خواھشات نفس کے تابع نہ ھونے پائیں ! ۔  

" وَ اَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَ الْمَحَبَّةَ لَهُم وَ اللُّطْفَ بِهِمْ " ۔ (۵)

اور رعایا کے ساتھ  مھربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعار بنا لو ۔  

لوگوں سے محبت سے کرنا، ان سے نرمی و مھربانی سے پیش آنا، امت کے متعلّق نرمی و مھربانی کا احساس اور اس کو عمل میں لانا، تمھارے وظائف کا حصہ ھے ۔  

" وَ لاَ تَكُونَنَّ عَلَيْهِمْ سَبُعا ضَارِيا تَغْتَنِمُ اَكْلَهَمْ " ۔ (۶)

(اور خبردار ان کے حق میں پھاڑ کھانے والے درندہ کے مثل نہ ھو جانا کہ انھیں کھا جانے ھی کو غنیمت سمجھنے لگو ۔)

ایسا نہ ھو کہ سوء استفادہ کرو! ایسا نہ کرنا کہ ان کے وجود سے، ان کے مال سے، ان کی جان سے، ان کی حیثیت سے اپنے اور اپنی ذاتی خواھشات کے لئے استفادہ کرو ! ایسا نہ ھو کہ ان کی ملاقات کے وقت درندہ بھیڑیئے کی طرح بن جاؤ ۔

وہ تمھارے دینی بھائی ھیں اور اگر دینی بھائی نہ ھوں تو تمھاری طرح انسان ھیں، وہ بھی زندگی کا حق رکھتے ھیں ۔ ان کے گناھوں کو بخش دو ۔ ان کی لغزشوں سے درگزر کرو ۔ اگر کسی موقع پر ان سے کوئی خطا ۔ دانستہ یا نا دانستہ طور پر ۔ سرزد ھوجائے اور جب تک اصول و قوانین اسلام کو نقصان نہ پہنچائیں ان سے چشم پوشی کرو ۔

ایسا نہ ھو کہ تم اپنے بارے میں گمان کرو کہ تم لائق اطاعت ھو اور اگر حکم کرو تو اس کی اطاعت ھونی چاھئے اور ایسی حالت پیش آئے کہ جو لوگ تمھارے مقابلے میں تواضع و انکساری نہیں کرتے ان سے خشونت سے پیش آؤ اور کہو : میں حکم کر رھا ھوں لہذا تم کو اطاعت کرنی چاھئے ! تمھیں لوگوں کی رضامندی کو حاصل کرنا چاھئے ۔ ان کی آبرو کی حفاظت کرو ۔ جو سختیاں و مشکلات لوگوں پر آتی ھیں ان کے بارے میں فکر کرو اور لوگوں کی مشکلوں کو حل کرنے کی کوشش کرو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات :

۱۔ نهج البلاغه، ترجمه سيد جعفر شهيدى، ص  ۳۲۵ ۔

۲ ۔ حوالہ سابق ۔

۳ ۔ حوالہ سابق ۔

۴ ۔ حوالہ سابق ۔

۵ ۔ حوالہ سابق ۔

۶ ۔ حوالہ سابق ۔