")
حکومت اسلامی اور لوگوں کے وظائف و فرائض
توصیه های سیاسی

آج ہم امت ولوگوں، امام اور رہبر یا  حکومت نظام اسلامی کے بعض فرائض اور وظائف و ذمہ داریوں کے متعلق گفتگو کریں گے،اپنے ان عرائض میں ہم امير المؤمنين عليه‏ السلام کے چند مختصر جملے سے مدد لیں گے، آپ کا ارشاد ہے :

"اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ لى عَلَيْكُمْ حَقّا وَ لَكُمْ عَلَىَّ حَقٌّ فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَىَّ فَالنَّصيحَةُ لَكُمْ وَ تَوْفيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُمْ وَ تَعْليمُكُمْ كَيْلاَ تَجْهَلُوا وَ تَأْديبُكُمْ كَيْمَا تَعْلَمُوا وَ أَمَّا حَقّى عَلَيْكُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ وَ النَّصيحَةُ فِى الْمَشْهَدِ وَ الْمَغيبِ وَ الْاِجَابَةُ حينَ اَدْعُوكُمْ وَ الطَّاعَةُ حينَ آمُرُكُمْ" ۔

اے لوگو!بے شک ایک حق میرا تمہارے اوپر ہے اور ایک حق تمہارا میرے ذمہ ہے تمہارا حق میرے ذمہ یہ ہے کہ تمہیں نصیحت کروں اور بیت المال کا مال تمہارے حوالے کردوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہ جاو اور ادب سکھاوں تاکہ با عمل ہوجاو، اور میرا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ بیعت کا حق ادا کرو اور حاضر وغائب ہر حال میں خیر خواہ رہو ، جب پکاروں تو لبیک کہو اور جب حکم دوں تو اطاعت کرو۔

جنگ نهروان کے بعد کوفہ میں  نُخیلہ نامی جگہ پر امام علىّ بن ابى طالب عليه ‏السلام نے یہ جملے ارشاد فرمائے ہیں یہ جملے لوگوں اور رہبر، امام اور امت کی باہمی ذمہ داریوں کو بیان کر رہے ہیں،

امام علىّ عليه ‏السلام فرماتے ہیں :اے لوگو!تمہارے کچھ حقوق میرے ذمہ ہیں اور میرے کچھ حقوق تمہارے اوپر ہیں تمہارے جو حقوق میرے اوپر ہیں وہ یہ ہیں : ارشاد و ہدایت ،مجھے چاہئے کہ تمہاری ہدایت اور رہنمائی کروں ، تمہیں راستہ دکھاوں اور تمہاری رہبری کروں، تمہیں تعلیم دوں اور اس کا بندوبست کروں ، تمہاری فکروں کو بلندی پر لے جاوں اور اخلاق و فضیلت کی راہ و رسم تمہیں بتاوں ۔

ہر اسلامی حکومت کا لوگوں کے متعلق اس طرح کا وظیفہ و ذمہ  داری ہےاور اسلامی حکومت کو چاہئے کہ اپنی پوری قوت و توانائی کے ساتھ، زمانے کے مطابق تمام  وسائل و امکانات جو اس کے اختیار میں ہے اس کے ذریعہ  لوگوں کی ہدایت و ارشاد کا انتظام کرے ، زمانے کے ساتھ ساتھ علمی مسائل کی یاد دہانی کرےتاکہ ان کی افکار وبصیرت میں اضافہ ہو اور ان کے اندر اخلاقی،روحانی ومعنوی بزرگی پیدا ہو،یہ حکومت پر لوگوں کا حق ہے۔

"وَ تَوْفيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُم"۔ [اور بیت المال کا مال تمہارے حوالے کردوں ]

حکومت کو چاہئے کہ اپنے تمام امکانات لوگوں کی معیشت کے لئے تیار رکھے، سپریم اقتصادی کونسل بنائے جو معاشی مشکلات کی تحقیق و جانچ پڑتال کرے اور ان کے معاشی و اقتصادی مسائل کو حل کرے ۔

ملک کے اقتصادی و معاشی اعداد وشمار کی جمع آوری کی جائے، اقتصادی و معیشتی پروگرام بنائے جائیں اور تمام افکار، مہارتوں اور صاحبان قلم کی صلاحیتوں کو پیداوار کے امورکی بہتری واصلاح میں بروئے کار لایا جائے اور ملکی درآمد و ثروت کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے ۔

"وَ تَعْليمُكُمْ كَيْلاَ تَجْهَلُوا"۔ [اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہ جاو]

حکومت پر لوگوں کے حقوق میں سے ایک تعلیم و تربیت ہے ۔

"وَ تَأْديبُكُمْ كَيْمَا تَعْلَمُوا"۔ [اور ادب سکھاوں تاکہ جان جاو،(با عمل ہوجاو)]

حکومت پر لوگوں کے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق سے آشنا کیا جائے ۔

محکمہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق سے آشنا کرے تاکہ عدم تحفظ، نا امنی، مظالم اور تجاوز و تعدّی کا مقابلہ کرسکیں اور اپنے حقوق کا دفاع کریں،اور انہیں جوڈیشل سیکورٹی، امن و امان حاصل ہو اور ملک میں عدالت قائم ہوسکے۔

لوگوں پر حکومت اور رہبر کے حقوق درج ذیل ہیں ۔

"فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ"۔ [بیعت کا حق ادا کرو]

امام على عليه‏ السلام فرماتے ہیں: اے لوگو! تم نے مجھ سے التجا کی کہ میں تمہاری رہبری قبول کروں  اور تم لوگوں نے میری بیعت کی ، اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ اپنی بیعت  پر وفادار رہو اور میرے معاون ومددگاربنو۔

امير المؤمنين امام على عليه‏ السلام،لوگوں پر رہبر کےدوسرے حقوق کو بیان کرتے ہیں جو بیعت پر وفا کرنے کے مصادیق میں سے ہیں ۔

"وَ النَّصيحَةُ فِى الْمَشْهَدِ وَ الْمَغيبِ" ۔ [اور حاضر وغائب ہر حال میں خیر خواہ رہو]

اے لوگو!حاضر و غائب میں میرے خیرخواہ بنو ۔ اگرکہیں پر کوئی کمی، کوتاہی و انحراف دکھائی دے تو مجھے بتاو اور خبر دو تاکہ انہیں روکا جائے ۔