")
اسلامي حكومت كے قوانين واصول اور ابعاد
جنرل مشورہ

ممكن هے يه سوال پيش آئے كه حكومت اسلامي كے ضوابط، ابعاد اور قوانين كياهيں؟۔

كيا يه ضوابط، ابعاد اور قوانين معين هيں يا نهيں؟ئے

اس كے جواب ميں هم كهيں گے: هرچند حكومت اسلامي كے ضوابط، ابعاد اور قوانين كامل طورپر ايك مجموعه اور كتاب كي شكل ميں تدوين نهيں كئےگئےهیں، ليكن اسلامي ثقافت بهت مستغني تحقيقاتی منابع، مآخذ اور مدارك كے ذخائر كی حامل هے۔ احكام اسلامي و قوانينِ استنباط سے آشنائي ركھنے والے، اسلامي منابع ميں رجوع كركے هرمسئله كاجواب واضح طورپر حاصل كرسكتے هيں۔

اسلام، حکام و گورنروں،عملے و كارکنوں، مشيروں، مذهبي اقليتوں ميں رهنے والوں اوركے حقوق اور حكومتی دفاتر كي پاكسازي وغيره كے بارے ميں معيّن قوانین واصول ركھتاهے۔ خلاصه يه كه اسلام نے حكومت كي تشكيل كے تمام ضروري اور مورد نياز احكام كو بيان كياهے... ۔

حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام نے مالك اشتر كے معروف خط ميں فرمايا هے:

"مالك! تمهارا بهترين ذخيره عمل صالح هونا چاهئے خواهشات كو روك ركھو اور جو چيز حلال نه هو اس كے بارے ميں نفس كو صرف كرنے سے بخل كرو" نفس كے بارے ميں بخيل هونا اسلامي ثقافت و تهذيب كي ايك بهترين تعبير هے يعني انسان اپنے بارے ميں بخشنده نه هو یعنی جس چيز كا اس كا دل چاهے اسے فراهم نه كرے بلكه ايك بخيل انسان كي طرح اپنے نفس كي خواهشات پر عمل کرے۔

مالك! تمهارا اختيار تمهارے هاتھ ميں رهے تمهارے هوا وهوس كے هاتھ ميں نه هو، تمهارا وزير وحاكم هونا تمهيں مغرور نه كرے، الله كے بندوں كے ساتھ لطف و مجبت، مهرباني اور تواضع و انکساری سے پيش آؤ، ان كے ساتھ پھاڑكھانے والے درنده حیوان كے مثل  نه هو جاؤ۔

يه سب اسلامي حكومت ميں والي و حاكم كے انتخاب كے اصول هيں لهذا جب هم ايك اسلامي نظام ميں وزير اعظم، وزير، نمائنده يا ڈائریکڑ جنرل كو چنيں تو سابقه خدمتوں، سن وسال اور قومي شرائط كے علاوه ان شرائط كو بھي نظر ميں ركھيں ۔

اميرالمؤمنين عليه السلام فرماتے هيں:ايسا نه هوكه معاون، مشيراور قائم مقام كے انتخاب ميں جوان شخص، بزدل، لالچ و طمع ركھنے والے، بخيل اور دوسروں كے عيب تلاش كرنے والے كو انتخاب كرو!۔