")
آیت الله شبیری زنجانی کے بیان کے مطابق آیت الله اردبیلی سے ستر سالہ دوستی
1/31/2017

قم تابناک، کی رپورٹ کے مطابق آیت الله موسوی اردبیلی کے فرزند حجت الاسلام سید علی موسوی اردبیلی نے آیت الله شبیری زنجانی کے دفتر میں پہنچ کر ان سے ملاقات اور گفتگو کی ۔

آیت الله شبیری زنجانی نے ان کے فرزند کو آیت الله موسوی اردبیلی کی رحلت کی تعزیت پیش کرتے ھوئے اظھار کیا: حضرت ولی عصر (عج) کا سایہ ھم سبھی لوگوں پر ھے ۔   

انھوں نے مرحوم آیت الله موسوی اردبیلی کے معنوی مقام کی تجلیل کرتے ھوئے یادآوری فرمائی: یہ دنیا رھنے کی جگہ نہیں ھے، یہاں تک کہ انبیاء (ع) بھی اس دنیا سے بارگاہ الٰہی میں کوچ کرگئے، ھاں اھم بات یہ ھے کہ انسان اس دنیا سے زادِ راہ کے ساتھ جائے ۔

موصوف نے مزید فرمایا: انسان کو اس طرح سماج و معاشرہ میں زندگی بسر کرنی چاھئے کہ جس وقت وہ دنیا سے جائے تو جو لوگ اسے جانتے ھیں وہ اس کے بارے میں کہیں « لا نعلم منه الا خیراً »۔ ھمیں اس دنیا میں اولیائے خدا سے اپنے روابط کو مستحکم رکھنا چاھئے ۔ الحمد لله آقائے موسوی اردبیلی ان تمام شرائط کے حامل رھے ھیں اور جتنے لوگ بھی ان کو جانتے تھے سبھی ان کی بزرگواری کا اعتراف نیز اس کی گواھی دیتے ھیں ۔ 

آیت الله شبیری زنجانی نے وضاحت کی: ایک عالم دین کے لئے الٰہی نعمت یہ ھے کہ اس کا رابطہ مبدا اعلیٰ اور بلند اصول سے محکم ھو ۔ علمی و اجتماعی مقامات بجائے خود قابلِ اھمیت ھیں، مگر جو چیز خود انسان کے لئے فائدہ مند ھے، یہی معنوی رابطے اور لوگوں کی خدمات ھیں جن کو وہ لوگوں کے لئے انجام دیتا ھے ۔  

انھوں نے آیت الله موسوی اردبیلی کے فرزند کے لئے کامیابی کی آرزو کرتے ھوئے کہا: ایک عالم کے گھر میں ایک اور عالم کی تربیت و پرورش کا ھونا خود امتیاز اور نعمت ھے، اور اگر یہ چیز نہ ھو تو کسی بھی عالم کا گھر جس قدر بھی عظمت و بزرگی کا حامل ھو، وہ کالعدم ھوجاتا ھے ۔ ھم امید و آرزو کرتے ھیں کہ آپ تمام امور میں نہایت و اعلیٰ درجہ کی کامیابی پر فائز ھوں ۔ آپ کے لئے یہی بہت بڑی نعمت اور توفیق الٰہی ھے کہ ان کی مرضی و خوشنودی آپ کے شامل حال رھی ھے ۔  

آیت الله شبیری زنجانی نے مرحوم موسوی اردبیلی سے اپنی قدیمی و دیرینہ دوستی کی طرف اشارہ کرتے ھوئے یاددھانی فرمائی: انھوں نے فرمایا کہ جس سال مرحوم آیت الله بروجردی قم المقدسہ میں وارد ھوئے ھیں اسی سال یہ بھی قم میں آئے ھیں ۔ انھوں نے کہا جس وقت میں آیا تو دیکھا ایک کمسن سید کتابخانہ میں مطالعہ میں مصروف ھیں ۔ ان سے پوچھا : یہ سید کون تھے ؟ انھوں نے کہا کہ وہ جناب عالی تھے، میں شروع ھی سے جب یہ قم المقدسہ تشریف لائے ان کا اراتمند و گرویدہ ھوگیا تھا یعنی ستر / ۷۰ سال سے زیادہ میری اور ان کی دوستی رھی ھے ۔