")
حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی (قدس سره) کے سلسلہ میں نظام عدلیہ کی قومی ترقی کے موضوع پر مفید یونیورسٹی قم میں تیسری یادگاری و تجلیلی کانفرنس منعقد کی گئی ۔
11/28/2019

قم میں شفقنا رپورٹر کی گزارش کے مطابق، آیت الله سید علی، محقق داماد نے آج ظہر سے پہلے آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے متعلق تیسری یادگاری کانفرنس میں جو کہ نظام عدلیہ کی قومی ترقی کے کردار کے عنوان سے مفید یونیورسٹی قم میں منعقد کئی گئی، اس میں اسلام میں قضاوت و عدلیہ کی اھمیت سے متعلق اظہار نظر فرمایا: اس کی اھمیت مختلف ابعاد سے بیان ھوئی ھے اور بتایا کہ اسلام میں خلافت کے بعد سب سے اھم منصب عدلیہ و قضاوت کا ھے ۔

انھوں نے مزید کہا: پیغمبر (ص) اپنے زمانے میں اور امیر المومنین(ع) اپنی خلافت کے دور میں کچھ افراد کو قاضی کے عنوان سے منتخب کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا کیا کرتے تھے اور اس چیز سے معلوم ھوتا ھے کہ صرف مقام امامت ھی قاضیوں کو اس منصب پر نصب کرسکتا ھے ۔

مفید یونیورسٹی کے بورد آف ٹرسٹی کے ممبر نے کہا:

امیر المومنین (ع) نے مالک اشتر سے خطاب کرتے ھوئے فرمایا کہ قاضیوں کو لوگوں میں سے افضل ترین افراد کا انتخاب کرو ۔

انھوں نے بیان فرمایا: انسان کے اعمال کا اثر ان کی طبیعت اور فطرت پر بھی پڑتا ھے اور اگر قاضی غلط فیصلہ کرے گا تو پروردگار کی لعنت کا مستحق ھونے کے ساتھ ساتھ غلط فیصلہ سماج و معاشرہ میں بہت ساری مشکلوں اور پریشانیوں وجود میں لاتا ھے ۔

محقق داماد نے قضاوت و فیصلہ کو اسلام میں ایک خطیر مقام جانا ھے اور یاد آوری و تذکر دیا: اگر فیصلہ و قضاوت میں نا اھل سے غلطیاں صادر ھوں خواہ وہ عمدی ھوں یا غیر عمدی ھوں، یہ خسارے اور نقصان کا باعث ھوتا ھے جس سے اسلام میں قضاوت کی اھمیت کا اندازہ ھوتا ھے، البتہ امکان پایا جاتا ھے کہ یہ روایات صرف مسلمانوں سے مخصوص نہ ھوں بلکہ دوسرے سماج و معاشرے پر بھی منطبق ھوتے ھیں ۔