")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کی تعبیر کے مطابق انفاق، ایسی تجارت ھے جس میں کساد بازاری ممکن نہیں ۔
6/2/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کی تعبیر کے مطابق انفاق، ایسی تجارت ھے جس میں کساد بازاری ممکن نہیں ۔

ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے ۱۲/ خرداد کو سوره مبارکہ فاطر کی آیت نمبر ۲۹ کی تفسیر «إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ وَ أَقَامُوا الصَّلاَةَ وَ أَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَ عَلاَنِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ (۲۹) لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَ يَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَکُورٌ (۳۰)» (ترجمہ: یقیناً جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ھیں اور انہوں نے نماز قائم کی ھے اور جو کچھ ھم نے بطور رزق دیا ھے اس میں سے ھماری راہ میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کیا ھے یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ھیں جس میں کسی طرح کی تباھی نہیں ھے، تاکہ خدا ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنے فضل و کرم سے اضافہ بھی کردے یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدر کرنے والا ھے) میں کہا: صدر آیت میں خداوند عالم غائب کے صیغہ سے کلام کرتا ھے : إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ، یہ نہیں ارشاد فرماتا (کتابنا)، بلکہ فرماتا ھے (کتاب اللہ)، لیکن جیسے ھی راہ خدا میں خرچ و انفاق کی بات آتی ھے تو ارشاد فرماتا ھے: «وَ أَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ» دفعتاً صیغہ کو متکلم میں تبدیل کر دیتا ھے جبکہ اس جگہ بھی بیان کرسکتا تھا: و انفقوا مما رزقهم الله، یا مما رزقهم، اور اللہ بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اللہ کا ذکر پہلے آچکا ھے اور یہ بھی معلوم ھے کہ " رزق " کا فاعل کون ھے، اس کی جو وجہ ذھن میں آتی ھے وہ یہ ھے کہ آیت کی ابتدا میں خاص طورپر تلاوت کتاب کا ذکر عظمت کو بیان کر رھا ھے اسی لئے غائب کے صیغہ کے ذریعہ بیان کیا اور کلمہ " اللہ " بیان ھوا ھے ۔

انھوں نے مزید کہا: لیکن "رزقناهم" کے سلسلہ میں یہ ھے کہ وہ قربت کو بیان کر رھا ھے ۔ یعنی وہ بیان کرنا چاھتا ھے کہ تمہارا رازق اسی جگہ ھے اور اور تمہارے پاس ھے، اسی لئے صیغہ متکلم کو ذکر کیا ھے جو قربت و نزدیک کے مفہوم کو ادا کرتا ھے، اس کے علاوہ چونکہ وہ امتنان و احسان کے مقامِ بیان میں ھے، اسی بناپر جب صیغہ متکلم کو ذکر کرتا ھے تو اس سے امتنان و احسان کو کہیں زیادہ اچھے انداز میں بیان کرتا ھے اور سمجھا جاتا ھے، پس اس کے نتیجہ میں بات واضح ھوجاتی ھے کہ صیغہ متکلم میں امتنان و احسان زیادہ ھے اور ایک طرح سے رازق حقیقی سے قربت بھی پائی جاتی ھے، اور جو رزق خدائے متعال عطا کرتا ھے وہ صرف یہ غذا وغیرہ ھی نہیں ھے بلکہ ھمارے پاس جو کچھ ھے وہ خدا کا عطا کیا ھوا ھے اور وقتاً فوقتاً اس کی تجدید کرتا رھتا ھے ۔

موسوی اردبیلی نے مزید بیان کیا: اس کے ذیل میں ارشاد فرماتا ھے " سِرّاً وَ عَلاَنِيَةً " راہ خدا میں خرچ اور انفاق کرتے ھیں یعنی پوشیدہ طورپر بھی اور علی الاعلان و کھلم کھلا بھی، سب سے پہلے ھم کو دیکھنا چاھئے کہ اس جملہ میں سِرّاً وَ عَلاَنِيَةً یعنی پوشیدہ اور علانیہ کون سا کردار ادا کر رھا ھے ؟ بظاھر یہ نظر آتا ھے کہ یہ " حال " واقع ھو رھا ھے لیکن کچھ لوگوں نے کہا ھے کہ یہ مفعول مطلق نوعی محذوف کے لئے صفت ھے ۔ مفسرین نے کہا ھے کہ علانیہ انفاق سے مراد زکوٰہ ھے، اس لئے کہ زکوٰہ اس چیز کا نام ھے جس کے لئے حاکم اسلامی مامور و عامل معین کرتا ھے جس کی وصولی کے لئے عامل رجوع کرتا ھے بنابر ایں یہ علانیہ ھے لیکن سرّی و پوشیدہ یعنی وہ انفاق جو اس پر واجب نہیں ھے اور کوئی شخص اس سے مطالبہ بھی نہیں کرتا ھے بلکہ وہ خود اپنی مرضی و خوشنودی اور رغبت سے لے جاکر دیتا ھے یعنی یہ مستحبی صدقات ھیں اور مستحبی صدقات میں بہتر و مطلوب یہ ھوتا ھے کہ وہ مخفیانہ و پوشیدہ طورپر دیا جائے، جس میں خلوص کا تقاضا یہ ھوتا کوئی متوجہ نہ ھو جس سے ریاکاری کا شائبہ بھی نہ پایا جائے اور اس لئے بھی کہ جو شخص دریافت کر رھا ھے اس کی عزت و احترام بھی محفوظ رھے ۔

انھوں نے بیان کیا کہ آیت بالعموم پوشیدہ اور علانیہ طورپر انفاق کی مطلوبیت پر تاکید کر رھی ھے، اس بات کا اظہار کیا: پوشیدہ طورپر ادائیگی کو علانیہ پر مقدم کیا اس کی وجہ یہ ھے کہ صدقات کو پوشیدہ طورپر دینا زیادہ مطلوبیت و مرغوبیت رکھتا ھے انھیں مسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ھوئے جس کو ھم نے پہلے عرض کیا ھے، پہلے تو یہ کہ خیرات و صدقہ کو مخفیانہ دینے میں کوئی شائبہ ریاکاری کا نہیں ھوتا ھے جس کے انفاق میں خلوص زیادہ پایا جاتا ھے، دوسرے یہ کہ جس انسان کو دیا جاتا ھے اس کی آبرو محفوظ رھتی ھے اور اس کی عزت پر حرف نہیں آتا ھے بنابر ایں پوشیدہ طورپر خیرات کرنا و صدقہ دینا زیادہ مطلوبیت و افضلیت رکھتا ھے اس انفاق سے جو علانیہ طورپر دیا جاتا ھے ۔

استاد حوزہ نے مزید فرمایا: جن افراد کے اندر یہ تین حالتیں پائی جاتی ھیں یعنی اولاً یتلون کتاب الله، ثانیاً اقام الصلاة، ثالثاً انفقوا مما رزقناهم سرا و علانیه، پہلی یہ کہ کتاب خدا کی تلاوت کرتے ھیں دوسرے نماز قائم کرتے ھیں تیسرے جو ھم نے انھیں دیا ھے اس میں سے راہ خدا میں پوشیدہ و علانیہ خرچ کرتے ھیں، یہ ایسی تجارت کے امیدوار ھیں جس خسارہ نہیں ھے۔ نقصان کا اس میں کوئی گذر نہیں ھے ۔ لیکن یہ ترجمہ دقیق نہیں ھے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ' بارَ یبورَ بَوراً و یباراً فهو بائر، کے معنی لغت میں ' کَسَدَ و تعَطَّلَ' ۔ کسادبازاری و مندی ھونے اور تعطیل ھونے کے ھیں، اسی بناپر زمین بائر یعنی معطل کے مقابلہ میں زمین دائر کہا جاتا ھے پس ' تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ ' کے صحیح معنی یہ ھوں گے کہ وہ تجارت جس میں کساد بازاری کی کوئی راہ نہ ھو اور وہ تجارت جس میں خسارہ و نقصان نہ ھو ۔ دو باتیں ھیں وہ تجارت جس میں کساد بازاری کی کوئی راہ نہ ھو اس تجارت سے بہت بالاتر ھے جس میں نقصان و زیان نہ ھو ۔ خدا اس طرح بیان کر رھا ھے کہ جو بھی کار خیر انجام دے رھے ھو اس کا خریدار میں ھوں، جو نیک عمل انجام دیا اس کا خریدار میں ھوں، جس قدر بھی نماز پڑھی اس کا خریدار میں ھوں، جس قدر بھی تلاوت کیا اس کا خریدار میں ھوں، معلوم ھوا اس طرح کی تجارت میں کبھی بھی مندی نہیں ھوسکتی ھے ۔

انھوں نے اظہار نظر فرمایا: بعض مفسرین اور مترجمین قرآن نے ' تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ ' کو ' تِجَارَةً لَنْ تَخسر ' کے معنی کئے ھیں جبکہ یہاں پر خسارہ کے معنی میں نہیں ھے 'تبور' کا معنی خسارہ کے معنی سے فرق کرتا ھے ۔ مطلب یہ نہیں کہ اس تجارت میں فقط خسارہ نہیں ھے بلکہ اس سے بالاتر یہ ھے کہ وھاں پر تمھارے مال تجارت کی خریداری میں کو ئی رکاوٹ نہیں پائی جاتی ھے ۔