")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کا وجود سابق آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ھے ۔
5/28/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کا وجود سابق آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ھے ۔

ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے آج ھفتم خرداد کو سوره فاطر کی تفسیر بیان کرتے ھوئے اس سورہ کی آیت نمبر ۳۱ «وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ» (ترجمہ: اور جس کتاب کی وحی ھم نے آپ کی طرف کی ھے وہ برحق ھے اور اپنے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ھے اور بیشک اللہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر اور خوب دیکھنے والا ھے)، میں کہا کہ آیت نمبر ۲۹ «إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ» میں کتاب خدا کے سلسلہ میں گفتگو کی گئی ھے اسی بناپر مفسرین نے آیت نمبر ۳۱ میں  لفظ کتاب کی وضاحت کے متعلق آیت نمبر ۲۹ کا حوالہ دیا ھے مگر اس لئے کہ وہ تاکید کرنا چاھتا ھے جو کچھ کتاب میں ھے، حق ھے اس لئے فرمایا: " والذی اوحینا " ۔

انھوں نے مزید کہا: یہ کتاب مجموعی حیثیت سے حق ھے لیکن کبھی ھم کہتے ھیں جو کچھ بھی اس میں موجود ھے سب حق ھے یعنی اس میں کسی قسم کے باطل کے وجود کی کوئی راہ نہیں ھے، اسی طرح پروردگار تاکید سے کہنا چاھتا ھے کہ یہ پوری کتاب وحی ھے اور ذرّہ برابر بھی ایسی چیز نہیں ھے جو وحی الہی نہ ھو اور ممکن ھے کہ یہ وحی ھونے پر تاکید ھو اور برحق ھونے پر بھی ۔

 موسوی اردبیلی نے بیان کیا: " من الکتاب " کے «من» میں بھی دو احتمال کو ذکر کیا گیا ھے، ان میں سے ایک یہ ھے کہ «من» بیانیہ ھے ۔ اسی طرح بیان کیا گیا ھے کہ «من» ابتدائے غایت کے لئے آیا ھے یعنی جو کچھ بھی کتاب میں سے تمھارے پاس ھم نے وحی کی ھے اور جس چیز کا بھی منشا و سرچشمہ لوح محفوظ سے ھو، اور بعض لوگوں نے کہا ھے کہ اس سے مراد خود قرآن ھے، بندہ حقیر کا عقیدہ ھے کہ «من» بیانیہ ھے ۔

استاد حوزہ نے تفسیر کو بیان کرتے ھوئے کہا: بعض نے «من» کو حصر کے لئے قرار دیا ھے لیکن مرحوم طباطبائی اسے تاکید کے لئے جانتے ھیں، یعنی حق ھے اور حق کے علاوہ کوِ چیز نہیں ھے، لیکن یہ بھی ممکن ھے کہ وہ تاکید کے لئے بھی ھو اور حصر کے لئے بھی، مگر حصر حقیقی نہیں بلکہ حصر اضافی ھوگا یعنی کتب الہی یا تمام کتابوں کے درمیان، یہ کتاب حق ھے ۔

انھوں نے مزید کہا: اس آیت میں کتاب کو " الحق" کی صفت کے ساتھ بیان کیا ھے اور حق، الف و لام کے ساتھ آیا ھے تاکہ اس کے حق ھونے پر تاکید کرے، لغت میں حق کے معنی استوار اور تغییر ناپذیر کے ھیں جس پر دوسرے مسائل کا دار و مدار ھوتا ھے، یہاں پر جو کہا گیا ھے کتابِ حق یعنی ایسا امر جو مستحکم، استوار اور ھدایت کرنے والا نیز محور ھو ۔

موسوی اردبیلی نے مزید کہا: کتاب کے برحق ھونے کی تاکید کی وجہ یہ ھے کہ وہ کتاب جو حق مطلق ھے وہ صرف قرآن ھے، البتہ دیگر کتابیں بھی حق ھیں مگر وہ اپنے زمانے اور اپنی قوم کے لئے تھیں، لیکن قرآن تمام زمانوں اور تمام افراد کے لئے حق ھے اور اپنے سے پہلے والی کتابوں کے لئے ناسخ بھی ھے مگر اس کے لئے کوئی کتاب ناسخ نہیں ھے ۔

استاد حوزہ علمیہ نے تفسیر میں «لما بین یدیه» کی تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہ گذشتہ کتابوں کا نام لئے بغیر ذکر کیا گیا اس سلسلہ میں اظہار نظر کیا: اس کی وجہ یہ ھوسکتی ھے کہ گذشتہ کتابیں، قرآن کے نزول کا مقدّمہ ھوں اور قرآن کے لئے یہ ایک الہی تمہید رھی ھو ۔

اسی طرح " مصدّقا " بھی کتاب کے لئے حال واقع ھوا ھے یعنی جو کچھ بھی انجیل اور توریت میں رھا ھے قرآن اس کی تصدیق کرتا ھے، جبکہ ایسا نہیں ھے اور قرآن نے ان کتابوں کے کچھ احکام کو نسخ کیا ھے، بعض افراد نے اسس مسئلہ کی توجیہ میں کہا ھے کہ قرآن نے گذشتہ کتابوں کے کلی خطوط اور محور کی تصدیق کی ھے، مگر دوسری توجیہ یہ بیان کی گئی ھے کہ خود قرآن کا موجود ھونا، گذشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ھے کیونکہ ان کتابوں میں قرآن کے نزول کی بشارت دی گئی تھی ۔