")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: فقہ اور تفسیر بھی اگر انسان کے اندر خوف خدا نہ پیدا کرے تو وہ بھی فائدہ مند نہیں ھوگا ۔
5/23/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: فقہ اور تفسیر بھی اگر انسان کے اندر خوف خدا نہ پیدا کرے تو وہ بھی فائدہ مند نہیں ھوگا ۔

قم سے ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے دوم خرداد کو سوره فاطر کی آیت نمبر ۲۸ « إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» (ترجمہ: بیشک اللہ سے ڈرنے والے اس کے بندوں میں صرف علماء ھیں) کی طرف تفسیر میں اشارہ کرتے ھوئے کہا: اس جگہ خشیت جو خوف کے معنی میں ھے یہ خوف قلبی کے معنی میں استعمال ھوتا ھے جس کا سرچشمہ علم ھے اور ظاھری خوف اکثر اوقات جہالت کی وجہ سے وجود میں آتا ھے، علماء اس جگہ پر فاعل موخر ھے اس کی دلیل یہ ھے کہ آیت میں حصر کا آغاز 'انما' سے ھوا ھے زیادہ خشیت کو بتا رھا ھے ۔

انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آیت میں علماء سے مراد محدثین، فقہاء، علماء اور طلاب دینی ھیں یا علمائے طبیعیات و اطباء وغیرہ بھی شامل ھوگا، یا اس سے مراد خاص عالم ھیں ؟۔ انھوں نے وضاحت فرمائی کہ علم دو حصوں میں تقسیم ھوتا ھے یا حضوری و یا حصولی؛ علم حصولی اس کو کہتے ھیں جس میں واسطہ پایا جائے اور یہ ۹۰/ فیصد انسان کے علم کو تشکیل دیتا ھے لیکن علم حضوری وہ علم ھے جو عالم کے نزدیک معلوم کے حضور کا ھوتا ھے جیسے دنیا و عالم کے بارے میں، خدا کا علم حضوری ھے ۔

موسوی اردبیلی نے اس بات کا ذکر کیا کہ انسان کا اپنے نفس کا علم حضوری ھے انھوں نے کہا: انسان کا اپنی ذاتی خصوصیات کی شناخت جیسے وہ محبت جو اس کے دل میں پائی جاتی ھے یہ علم حضوری کی ایک قسم ھے اسی بناپر وہ علم جو انسان کی خشیت و خوف کا سبب ھے وہ بھی علم حضوری ھے ۔

حوزہ علمیہ کے اس استاد تفسیر نے کہا: وہ چیز جو خداوند عالم نے تمام انسانوں کے باطن میں قرار دی ھے وہ فطرت ھے اور اگر کوئی فطرت کا علم پیدا کرنا چاھے تو یہ علم حضوری ھے اور خشیت کا سبب ھوتا ھے اس لئے کہ فطرت اسی چیز کو بیان کرتی ھے جو آیت کریمہ " یا ایها الناس انتم الفقراء " میں جمیع الجھات سے فقر و احتیاج ھے جس پر اس کی بنیاد رکھی گئی ھے ۔

 موسوی اردبیلی نے مزید کہا: اگر کوئی انسان واقعی، قلبی اور ھر گھڑی و ھر آن، اپنے مکمل فقر کو خدا کی بہ نسبت سمجھ لے اور علم حضوری تک پہنچ جائے تو اس کے اندر خوف خشیت ایجاد ھو جائے گی، ورنہ تقریر، خطابت اور مقام بیان میں ممکن ھے یہ مسائل بیان ھوں لیکن یہ علم حضوری نہیں ھوگا یعنی لازمی یقین و اعتقاد تک پہنچنا ضروری ھے ۔

حوزہ علمیہ کے استاد تفسیر نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ھوئے کہا: کتاب محاسن میں مرحوم برقی نے زرارہ سے ایک روایت نقل کی ھے کہ امام باقر (ع) سے " فطرت الله التی فطر الناس " کے بارے میں سوال ھوا تو آپ نے فرمایا " فطرهم علی معرفة انه ربهم " یعنی انسان کی خلقت معرفت اور علم حضوری کی بنیاد پر ھے، اگر یہ فطرت نہ ھوتی اور ان سے سوال ھوتا کہ تمہارا رازق کون ھے تو اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے تھے، مرحوم کافی نے بھی ایک روایت زرارہ سے نقل کی ھے کہ امام صادق (ع) سے فطرت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: " فطرهم جمیعا علی التوحید" توحید یعنی وحدانیت کے بارے میں عقیدہ و علم، اسی بناپر اگر انسان اپنی فطرت کے علم تک پہنچ جائے تو اس کے اندر خشیت پائی جائے گی۔

موسوی اردبیلی نے فطرت کے معنی بیان کئے کہ اس سے مراد ان افراد کی فطرت ھے جو اپنی اصلی حالت پر باقی ھے اس کی وضاحت میں کہا: متعدد روایات انسان کی اس کے نفس کی معرفت کے سلسلہ میں بیان ھوئی ھے کہ اگر انسان اپنے کو پہچان لے تو وہ خدا کو پہچان لے گا اس لئے کہ علم و معرفت خدا انسان کی فطرت میں قرار دی گئی ھے لیکن ھم نے جو رکاوٹیں اور موانع ایجاد کئے ھیں وہ معرفت خدا سے روک دیتی ھیں اسی بناپر انبیاء (ع) کی رسالت ان موانع اور رکاوٹوں کو دور کرنے اور اصلی فطرت کی طرف پلٹانے ھی کے لئے ھوتی ھیں ۔

استاد حوزہ نے بیان کیا کہ اپنے نفس کی شناخت ھی خدا کی شناخت ھے: اس لئے آیت کے اعتبار سے عالم وہ انسان ھے جس کے علم نے اس کے تمام اعضاء و جوارح کو اثرانداز کیا ھو، اس آیت کے عالم، فقیہ و اصولی، مفسر، ڈاکٹر و طبیب اور نجومی وغیرہ نہیں ھیں بلکہ وہ انسان ھے کہ جس کا علم حصولی اسے علم حضوری تک پہنچا دے ۔ البتہ اس کے معنی یہ نہیں ھیں کہ ان علوم کی کوئی اھمیت نہیں ھے بلکہ یہ بھی لازم و ضروری ھیں کیونکہ یہ علم حضوری تک پہنچنے کے باعث ھوتے ھیں اور فطرت کو اس کی اصلی حالت تک پلٹانے کا مقدمہ ھوتے ھیں ۔

موسوی اردبیلی نے تاکید کیا: تمام اسلامی، انسانی اور طبیعی علوم اھم اور قابل قدر ھیں اس شرط کے ساتھ کہ یہ علوم اللہ کے متعلق انسان کی خشیت کا سبب بنیں لیکن اگر یہ معرفت کے اوپر پردے پر پردے ڈال دیں تو اس کی کوئی اھمیت نہیں رہ جاتی ھے خواہ وہ عالم علم تفسیر و فقہ ھی کیوں نہ ھو، ایسے انسان نے اپنی آخرت کے لئے سوائے وبال جان اور سنگین بوجھ بڑھانے کے کچھ بھی نہیں کیا ھے اور کوئی بھی علم بطور مطلق فائدہ نہیں پہنچاتا مگر یہ کہ انسان کو علم حضوری تک پہنچا دے ۔

 انھوں نے مزید کہا: معصوم (ع) کی ایک روایت میں بیان ھوا ھے کہ عالم وہ ھے جس کا علم اس کے افعال پر اثرانداز ھو، ورنہ زبانی جمع خرچ اور بیہودہ باتیں کوئی اثر نہیں رکھتی ھیں، سورہ زمر کی آیت نمبر ۹ میں ارشاد ھوتا ھے: «أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» یعنی قرآن کی اصطلاح میں عالم ایک خاص فرد کا نام ھے ۔  

 موسوی اردبیلی نے قرآنی تعبیروں کی تاکید پر موقوف باتوں کی طرف اشارہ کیا کہ اکثر لوگ نہیں سمجھتے، انھوں نے اس کے سلسلہ میں بیان کیا: یہاں پر نہ سمجھنے سے مراد انسان کا خدا کے مقابلہ میں اپنے فقر و احتیاج کا عالم نہ ھونا ھے، یعنی انسان کو پہلے اپنی نیازمندی و احتیاج کا احساس پیدا ھونا چاھئے ۔

انھوں نے اسی طرح سورہ روم کی آیت نمبر ۵۹/ کی طرف اشارہ کرتے ھوئے اظہار نظر فرمایا: آیت میں ھے کہ ھم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ھے کہ جو علم نہیں رکھتے ھیں، اس سے معلوم ھوتا ھے کہ انسان کو تلاش کرنا چاھئے تاکہ اپنے فقر و احتیاج کا علم ھوجائے اور اگر سستی کرے گا تو خدا اس کے دل پر مہر لگا دے گا، بنابر ایں ان آیتوں میں جو علم بیان ھوا ھے وہ درج ذیل آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ» سے مربوط ھوجائے گا ۔

استاد تفسیر نے بعض مفسرین کی تفسیری روش پر تنقید کرتے ھوئے کہا: بعض مفسرین جہاں پر ایک سورہ کی بعد کی آیتوں کو سابق آیتوں سے بلکہ ایک آیت کے ارتباط کو نہیں دے سکتے ھیں تو وھاں پر " واو" کو اسینافیہ مان لیتے ھیں جبکہ ایسا نہیں ھے اور مفسر کو چاھئے کہ ایک سورہ کی ایک آیت کا دوسری آیتوں کے مفاھیم و معانی کے درمیان منطقی رابطہ قائم کرسکے ۔