")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کی آیتوں کے مطابق انذار کی تاثیر گزاری پیغمبر (ص) کی رسالت کا جزء نہیں ھے۔
5/20/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: قرآن کی آیتوں کے مطابق انذار کی تاثیر گزاری پیغمبر (ص) کی رسالت کا جزء نہیں ھے۔

قم سے ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی استاد تفسیر حوزہ نے آج ۳۰ اردیبہشت کو  سوره مبارکہ فاطر کی آیت نمبر ۲۷ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ» (ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ھم نے اس سے مختلف رنگ کے پھل پیدا کئے اور پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کے سفید اور سرخ راستے بنائے اور بعض بالکل سیاہ رنگ تھے) کی تفسیر جاری رکھتے ھوئے کہا: خداوند عالم سورہ فاطر کی ابتدائی آیتوں میں پیغمبر کو تسلی دیتا ھے کہ آپ خلقِ خدا کو صرف ڈرانے والے ھیں اور انذارِ خلق کے علاوہ آپ کا کوئی وظیفہ نہیں ھے اور اگر آپ کو جھٹلاتے ھیں تو اس سے رنجیدہ نہ ھوں یقیناً آپ سے پہلے کے انبیاء کو بھی لوگ جھٹلاتے تھے ۔

انھوں اس بیان کو جیسا کہ اللہ نے بعد کی آیتوں میں بعض نعمتوں کو شمار کیا ھے، مزید کہا: اس آیت میں دوبارہ آیتوں کے بیان کی طرف بازگشت کی ھے اور استفہام تقریری کے ساتھ مطلب کو جاری رکھا ھے، وہ آیتیں جو پہلے کے سوروں میں آئی ھیں وہ اس آیت میں بیان شدہ نشانی سے زیادہ واضح نہیں ھیں اور وہ آسمان سے پانی کا نازل کرنا ھے جو اس قدر آشکار و روشن ھے کہ اس میں ذرّہ برابر تردید نہیں کی جاسکتی ھے ۔

موسوی اردبیلی اس بات بیان کرتے ھوئے کہ آیت پیغمبر سے مخاطب ھے کہا: اس مسئلہ کی دو وجہ ھے، ایک یہ کہ کفار و مشرکین سے خطاب ھے لیکن چونکہ وہ لوگ خوف نہیں کرتے ھیں اس لئے پیغمبر کو مخاطب قرار دیتا ھے اور ان لوگوں کو کوئی اھمیت نہیں دیتا، اور ممکن ھے خطاب پوری نوع انسانی کو کیا ھو ۔

 استاد تفسیر نے اظہار کیا: خداوند عالم تنبیہ و توبیخ کرنا چاھتا ھے کہ یہ نعمت خود بخود وجود میں نہیں آئی ھے اس لئے اسم ظاھر کا استعمال کرتا ھے اور لفظ اللہ کا ذکر کرتا ھے تاکہ قدرت کو بیان کرے، لیکن جیسے ھی مخاطب مطلب سے آشنا ھوجاتا ھے تو ضمیر متکلم کا استعمال کرتا ھے ۔  

انھوں نے مزید کہا: دوسری وجہ جو بیان کی گئی ھے وہ یہ ھے کہ پانی کا نزول آسمان سے ھے جو قدرت خدا کا سرچشمہ ھے اور ثمرات و پھلوں کا وجود میں آنا، رحمت خدا کا سرچشمہ ھے اسی لئے پہلے کو غائب کے صیغہ سے استعمال کرتا ھے اور دوسرے کو متکلم کے صیغہ سے ۔

  موسوی اردبیلی نے لفظ "ماء" کے نکرہ آنے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا: اس کی وجہ یہ ھے کہ وحدت کے بیان کے لئے استعمال کیا گیا ھے کیونکہ یہی ایک پانی ھے جو مختلف ثمرات و میوے اور رنگوں کے وجود کا سبب ھے لہذا ایک ھی پانی سے مختلف ثمرات کا وجود خداوند عالم کی قدرت اور خالقیت کی نشانی ھے ۔

انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ "جدد" کے ایک معنی شاطئی النهر ھے: اسی کے ساتھ اس پانی کی طرف اشارہ کیا جو پہاڑ کے دلوں کو شگافتہ کردیتا ھے اور جاری ھوتا ھے جس کے بارے میں لفظ "جدد" کا استعمال ھوا ھے، در حقیقت اس پانی کے جاری ھونے کی راہ یا شاطئی النهر ھے البتہ بندہ اس مسئلہ کو ایک احتمال کے طورپر بیان کر رھا ھوں کیونکہ میں نے کسی مفسر کو نہیں دیکھا جس نے اس مطلب کو نقل کیا ھو ۔

موسوی اردبیلی نے مزید بیان کیا: پس آیت نے دو مطلب کو بیان کیا ھے وہ یہ کہ پانی کی کچھ مقدار آسمان سے نازل ھوتی ھے اور کچھ مقدار کا سرچشمہ پہاڑ ھے لیکن جو پانی پہاڑ سے تم تک پہنچتا ھے جب اسے دیکھتے ھو تو ان کے رنگ سفید، سیاہ اور سرخ ھوتے ھیں ۔ یہ کنایہ اس بات سے ھے کہ جو پانی پہاڑ سے نکلتا ھے وہ دو کام کرتا ھے ایک یہ ھے کہ پانی تم تک پہنچاتا ھے اور دوسرے زمین کے دل کو چاک کرکے تمہارے لئے معادن کو آشکار کرتا اور پتہ بتاتا ھے ۔

انھوں نے بعض دوسرے مفسرین کے برخلاف اس بات کا ذکر کیا کہ آیت ایک سیاق رکھتی ھے، کہتے ھیں آیت کا صدر اور ذیل پانی کے بارے میں کلام کرتا ھے جس سے تمہارے لئے میوے، ثمرات اور نتائج حاصل ھوتے ھیں لیکن جس طرح بعض مفسرین کہتے ھیں ان کے مطابق جملہ کے بیچ میں ایک نقطہ اور وقفہ رکھنا چاھئے، جبکہ یہ چیز آیت کے ظاھر سے سازگار نہیں ھے ۔

موسوی اردبیلی " مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا " کی طرف اشارہ کرتے ھوئے اظہار نظر کرتے ھیں: اس چیز کو ملحوظ خاطر رکھتے ھوئے کہ سیاہ رنگ کو رنگوں کے ساتھ نہیں بیان کیا بلکہ اسے بعد میں ذکر کیا ھے، مفسرین نے کہا ھے کہ انھیں سرخ و سفید رنگوں میں بھی سب یکساں نہیں ھیں کیونکہ سرخ و سفید رنگ آپس خود ایک جیسے نہیں ھیں بلکہ ان بھی فرق پایا جاتا ھے ۔

استاد حوزہ نے بیان کیا کہ " غرابیب " کو سیاھی کی تاکید کے لئے ذکر کیا ھے اسی لئے کوے کو بھی عربی میں "غراب" کہا جاتا ھے، آپ نے کلام کو جاری رکھتے ھوئے کہا کہ مفسرین کے درمیان بحث کی گئی ھے کہ آخر کیوں " غرابیب " کو " سود " سے پہلے لایا گیا ھے جو عربی ادبیات کے سیاق کے خلاف ھے، بعض مفسرین نے جیسے زمخشری کا عقیدہ ھے کہ "سود " اس آیت میں دوبار آیا تھا جو محذوف ھوگیا ھے بعض دوسرے مفسرین نے کہا ھے کہ " غرابیب " کا استعمال اپنی جگہ پر عربی قواعد کے مطابق ھے اور اس کا سابقہ پایا جاتا ھے ۔

انھوں اس سورہ کی آیت نمبر ۲۸ «وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ» اشارہ کرتے ھوئے بیان کیا: "واو" اس آیت میں مفسرین کے مطابق اسینافیہ ھے اور " كَذَلِكَ " کے بارے میں بعض نے کہا ھے ثمرات اور جبال 'پہاڑوں' کی طرف اشارہ ھے مگر یہ صحیح نہیں ھے، بعض نے کہا ھے کہ " كَذَلِكَ " مبتدائے محذوف کی خبر ھے اور ' ناس و دواب' سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ھے یعنی سابق آیت کے مضامین پانی و پہاڑ وغیرہ کے بارے میں ھیں خلاصہ امر، اس کا مقصد یہ ھے کہ انتہائے آیت میں مقدمہ و تمہید کو ایجاد کرے، یعنی اس کا مطلب یہ ھے کہ علم حاصل ھو اور جان لیں، فقط علماء پروردگار عالم سے خشیت و خوف رکھتے ھیں، البتہ یہ تفسیر بھی آیت کے ظاھر سے سازگار نہیں ھے ۔

استاد حوزہ نے آخر میں کہا: بعض مفسرین کا کہنا ھے کہ" كَذَلِكَ " صدر آیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ھے بلکہ وہ دوسرے حصہ «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ» سے مربوط ھے یعنی سابق آیتوں کے عبرت کی طرف اشارہ ھے ۔