")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: پیغام پہچا کر دین نے لوگوں پر حجت کو تمام کیا ھے / اور توحید کا فطری ھونا ۔
5/18/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: پیغام پہچا کر دین نے لوگوں پر حجت کو تمام کیا ھے / اور توحید کا فطری ھونا ۔

ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی استاد تفسیر حوزہ علمیہ نے آج ۲۸ اردیبہشت کو  سوره مبارکہ فاطر کی آیت نمبر ۲۲ «وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» (ترجمہ: اور زندہ اور مرِدے برابر نہیں ہوسکتے اللہ جس کو چاھتا ھے اپنی بات سنا دیتا ہے اور آپ انہیں نہیں سنا سکتے جو قبروں کے اندر رھنے والے ھیں) کی تفسیر میں کہا: جن لوگوں کے اندر انذار الہی کا اثر نہیں ھوتا ھے ان کو خداوند عالم اس آیت میں مردہ بتا رھا ھے اور جن لوگوں میں اس کا اثر ھوا ھے انھیں زندہ سے تعبیر کیا ھے ۔

 انھوں نے اس تعبیر کی وجہ و علت کو بیان کیا ھے: یہ تعبیر قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی آئی ھے ان آیتوں کے اعتبار سے مردہ و میت لوگ وہ ھیں جو تاریکی میں پڑے ھیں اور اس سے باھر بھی نہیں آتے ھیں ۔

ایک ایک آیات الہی کے بارے میں بینائی اور اندھا پن

موسوی اردبیلی نے احیاء اور اموات کے جمع اور اعمیٰ 'اندھا' و بصیر کے مفرد استعمال کرنے کی علت بیان کی : بعض لوگ اسے فن عبارت آوری کی تعبیر جانتے ھیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں ھے، اس جگہ چونکہ احیاء و اموات خاص طور سے پیغمبر کے انداز مربوط ھے لہذا اس انذار کو قبول کرنے والے زندوں کی فہرست میں اور جو لوگ انذار کو نہیں قبول کرتے انھیں مردہ جانا گیا ھے، لیکن اعمیٰ 'اندھا' اور بصیر ایک ایک مورد میں فرد انسان کی طرف سے ھر ایک آیات الہی کے قبول کرنے کے سلسلہ میں ھے ۔

 حوزہ علمیہ کے استاد تفسیر قرآن نے وضاحت کیا کہ اس آیت کے اعتبار سے بطور کلی لوگ یا اعمیٰ 'اندھے' ھیں یا بصیر ۔ اعمیٰ 'اندھے' اور بصیر کے لحاظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام لوگ یا اندھے ھیں یا بصیر ھیں، اس لئے کہ بعض آیات کے اعتبار سے وہ اندھے نہیں ھیں ۔

انھوں نے احیاء کو اموات پر مقدم کرنے کی طرف اشارہ کیا: اعمی و بصیر کے سلسلہ میں سبھی لوگ اعمی کی حالت میں ھوتے ھیں اس کے بعد بصیرت کی منزل پر پہنچتے ھیں (البتہ ان افراد کے علاوہ جو پہلے ھی منزل بصیرت پر پہنچے ھوئے ھیں)، لیکن احیاء و حیات کی منزل پر پہنچنے کے لئے ممات کی حالت سے گذرنا لازم نہیں ھے، اسی دلیل کی بناپر یعنی حیات کی برتری و شرافت، احیاء کو اموات پر فوقیت و ترجیح دی ھے ۔

موسوی اردبیلی نے اموات اور بصیر کے شروع میں لفظ "لا" کی تاکید کی طرف اشارہ کیا اور اظہار نظر فرمایا: یہ کہا جاسکتا ھے کہ احیاء اور اموات کے درمیان شدید اختلاف پائے جانے کی وجہ سے "لا" تاکید آیا ھے ۔

انذار کا گوش گزار کرنا، پروردگار کا کام ھے

انھوں نے بحث کو جاری رکھتے ھوئے بیان کیا کہ انذار کرنا پیغمبر کا کام ھے خواہ اس انذار کی کوئی تاثیر نہ ھو، اور اس آیت کو شاھد کے طورپر ذکر کیا: «إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَ مَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» سنانا اور ھدایت کرنا اللہ تعالی کا کام ھے، یہ آیت امر تکوینی کو بتا رھی ھے یعنی اللہ کا تکوینی ارادہ اس مسئلہ سے تعلق رکھے کہ انسان انذار کے مقابلہ میں خشوع کرے تو وہ احیاء اور زندہ کے زمرہ میں قرار پائے گا، یہاں تک کہ دوسری آیت میں آیا ھے اگر اللہ تعالی ارادہ کرے تو لوگ ھدایت یافتہ ھوں گے یا پیروی کریں تو ان کی گردن پیروی کے لئے جھک جائے گی، یعنی اس کی خلاف ورزی کا امکان نہیں پایا جائے گا ۔

موسوی اردبیلی نے «وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ» کی تعبیر کے متعلق اظہار خیال کیا: یہاں اسم فاعل کا استعمال کیا گیا ھے اور "موتیٰ" کے بجائے '' من فی القبور" کا استعمال کیا ھے جبکہ قبر کی بحث کا وجود یہاں پر نہیں ھے، بعض مفسرین نے کہا ھے"موتیٰ" وہ ھے جو مر گیا ھے مگر دفن نہیں کیا گیا ھے، انسان اور اس کے درمیان مانع و رکاوٹ کمتر پائی جاتی ھے لیکن اس کے دفن ھوجانے کے بعد مانع بہت زیادہ ھوجاتا ھے، یعنی مانع و رکاوٹ زیادہ ھوجاتی ھے اس کے متعلق کہ آپ کی باتوں کو سنیں ۔

انھوں نے مزید کہا: دوسری وجہ جو مفسرین نے بیان کی ھے وہ یہ ھے کہ جو انسان مر گیا ھے لیکن دفن نہیں کیا گیا اس کا انسانی تعلق تو ختم ھوگیا مگر بطور کامل رابطہ ختم نہیں ھوا ھے لیکن جیسے ھی سپرد لحد کردیا جاتا ھے تو تمام امیدیں نا امیدی میں بدل جاتی ھیں اور انسان اس بات کو قبول کرلیتا ھے کہ اب اس سے کوئی امید نہیں ھے ان سے ھر طرح سے قطع امید کرلینا چاھئے ۔

استاد تفسیر نے بیان کیا: یہ آیت پیغمبر کو تسلی دیتی ھے کہ اگر تمہارے انذار کرنے سے ان کے اندر کوئی تاثیر نہیں ھوتی ھے تو آپ اس کا صدمہ نہ کریں کیونکہ یہ افراد ان مردوں کی طرح ھیں جو قبر کے اندر ھیں اور جو لفظ مسمع کا استعمال کیا گیا ھے اس کا مطلب یہ ھے کہ آپ کا وظیفہ اس سے زیادہ زحمت کرنے کا نہیں ھے ۔

"بالحق" کے بارے میں تین احتمال

موسوی اردبیلی نے بیان کیا کہ پیغمبر کا وظیفہ صرف انذار کرنا ھی نہیں ھے بلکہ ان کا وظیفہ بشارت دینا بھی ھے جس کے لئے اس سورہ کی آیت نمبر ۲۴ «إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ» (ھم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ھے اور کوئی قوم ایسی نہیں ھے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ھو) کی طرف اشارہ کرتے ھوئے اظہار نظر کیا: یہاں پر " بالحق" سلسلہ میں تین احتمال پایا جاتا ھے میرا ماننا ھے کہ "بالحق" بَشِيرًا وَ نَذِيرًا، کے متعلق ھے اس صورت میں آیت کے اندر دو تاکید موجود ھے ایک ارسال کے سلسلہ میں یعنی میں نے تم کو لوگوں کے لئے بھیجا ھے اور دوسری تاکید یہ کہ بشارت و انذار بھی حق کے ساتھ ھے بنابر ایں صرف اور صرف خداوند عالم ھے جس نے اپنے لطف و کرم سے آپ کو بشارت و انذار کرنے والا بنا کر حق کے ساتھ مبعوث کیا ھے ۔

تفسیر کے اس استاد نے آیت کے دوسرے حصہ کی وضاحت کی : اس حصہ سے مراد یہ ھے کہ قیامت کے روز کسی امت کو پروردگار پر کوئی حجت نہیں ھوگی کیونکہ سبھی کے لئے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے آئے ھیں ۔ اسی طرح "خلا" کے معنی "وجد" کے نہیں ھیں بلکہ " مضی" گذرنے کے معنی میں ھے، یعنی کوئی امت و قوم ایسی نہیں ھے مگر اس کے پاس ایک نہ ایک منذر و نذیر آیا ھے اور اس کے فقط یہ معنی نہیں ھیں کہ انھیں کے درمیان سے ایک نذیر مبعوث کیا گیا ھے ۔

انھوں نے مزید کہا: ھم مسلمانوں کے نذیر پیغمبر (ص) ھیں اور وہ فارس و ترک وغیرہ کے رھنے والے نہیں ھیں، اس دور کے عیسائی بھی جو ھمارے پیغمبر (ص) کی امت شمار نہیں کئے جاتے ھیں اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان کے بھی نذیر ھمارے پیغمبر (ص) ھوں گے کیونکہ اسلام کا پیغام ان تک پہنچا دیا گیا ھے یہ ضروری نہیں کہ ان کے درمیان ایک پیغمبر موجود ھو ۔

" خلأ " کا صحیح مفہوم

انھوں نے تاکید کی: اس بناپر ضروری نہیں ھے کہ ھر قوم و امت کے لئے ایک پیغمبر کو بھیجا جائے بلکہ کافی ھے کہ ان کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا جائے، لہذا جو اعتراض و شبہہ اس کے متعلق کیا جاتا ھے وہ صحیح نہیں ھے اور اس شبہہ کی بنیاد یہ ھے کہ بعض افراد نے "خلا" کی صحیح تفسیر نہیں کی ھے ۔

موسوی اردبیلی نے مزید بیان کیا: اگر کسی کے پاس منذر و نذیر کی آواز نہ پہنچے مگر اس کی عقل اس قدر زیادہ ھو کہ وہ اپنی فکر کے ذریعہ حقیقت و توحید تک اس کے فطری ھونے سبب رسائی حاصل کرلے تو اس پر حجت تمام ھوجائے گی بنابر ایں آیت کا معنی یہ نہیں ھے کہ ھر امت کے لئے ایک پیغمبر کا ھونا ضروری ھے اسی دلیل کی بنیاد پر قرآن کی تصریح کے مطابق جناب عیسیٰ (ع) سے لے کر حضرت محمد (ص) تک کوئی منذر نہیں تھا کیونکہ اس دور میں امتوں کے منذر عیسیٰ (ع) رھے ھیں ۔