")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: آیات خدا پر ایمان نہ لانا بعض افراد کے اندھے پن کی نشانی ھے ۔
5/14/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی: آیات خدا پر ایمان نہ لانا بعض افراد کے اندھے پن کی نشانی ھے ۔

ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے آج ۲۴/ اردیبہشت کو آیت الله موسوی اردبیلی (ره) کے امامبارگاہ میں سوره مبارکہ فاطر کی آیت نمبر ۱۸/ «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ» (ترجمہ: اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناھوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کسی کو اٹھانے کے لئے بلایا بھی جائے گا تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جاسکے گا چاھے وہ قرابتدار ھی کیوں نہ ھو آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ھیں جو از غیب خدا سے ڈرنے والے ھیں اور نماز قائم کرنے والے ھیں اور جو بھی پاکیزگی اختیار کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور سب کی بازگشت خدا ھی کی طرف ھے) کی تفسیر میں کہا: اس آیت میں خشیت کو فعل مضارع اور اقامہ نماز کو فعل ماضی کو ساتھ بیان کیا ھے اس کی دلیل یہ ھے کہ خشیت دائمی ھے لیکن اقامہ نماز خارجی افعال میں سے ھے اور انسان ھمیشہ عبادت خاص کی حالت میں ھے نہ عبادت عام کی، اور اس کا ثبوت و تحقق بھی انسان سے عمل میں آیا ھے ۔

انھوں نے اس تعبیر «وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ» کے اشارہ میں مزید کہا: جو انسان تزکیہ یعنی رشد و نمو کرے گا اس کا فائدہ خود کو ھوگا، یعنی جس کے اندر خشیت پائی جائے گی اسے اللہ کا تقرب حاصل ھوگا یعنی وجودی حیثیت سے رشد و نمو اور وسعت ملے گے گی اور یہ رشد صرف اسی کے لئے بہتر ھوگا ۔

 موسوی اردبیلی نے " الی الله المصیر " کے متعلق بیان کیا: مصیر پانی کے جمع ھونے کی جگہ کو کہا جاتا ھے اور مصیر میں الف و لام عمومیت کا فائدہ پہنچاتا ھے، یعنی بغیر استثناء کے ھر انسان کی کی انتہاء خداوند عالم تک ھوتی ھے خواہ وہ افراد جنہوں نے اپنے فقر کا اعتراف کیا اور اھل خشیت سے ھوگئے خواہ وہ افراد جنہوں نے خداوند عالم کے مقابلہ میں تکبر سے کام لیا ھو ۔

حوزہ کے استاد تفسیر نے بیان کیا کہ یہ آیات ماقبل کی آیات سے مربوط ھیں اور کہا: «ومن تزکی» بیان کر رھا ھے «هو الغنی» کو اور «الی الله المصیر» حمیدیت خدائے متعال کو بیان کر رھا ھے یہ آیت گذشتہ آیات سے الگ نہیں ھے اور اس کو دوبارہ بیان کیا گیا ھے اور مجموعی طورپر خدا کی فاطریت سے مربوط ھے یعنی اس کی ھدایت تکوینی کو بیان کر رھی ھے ۔

موسوی اردبیلی نے آیت نمبر ۱۹/ «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ» کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا: اس آیت میں چار چیز کو چار چیز سے موازنہ کیا گیا ھے من جملہ اعمیٰ و بصیر (نابینا و بینا)؛ ظلمات و نور، ظل و الحرور و ...؛ یہاں پر یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ یہ فرق تو بالکل واضح ھے پھر خداوند عالم نے کیوں بیان کیا ھے ۔

انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہا: ان چار چیزوں میں موازنہ کی وجوہ میں سے ایک یہ ھے کہ اس سے قبل کی آیت میں فرمایا تمام مخلوقات کی غایت خدائے متعال ھے لہذا ممکن ھے کچھ لوگ تصور کریں کہ انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ھے اسی بناپر تاکہ یہ شبہہ پیش نہ آئے کہ سارے انسان اللہ کے نزدیک برابر اور ایک جیسے ھیں اس موازنہ کو انجام دیا ھے ۔

موسوی اردبیلی نے مزید کہا: دوسری وجہ یہ ھے جب تمام لوگ اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے تو فکر نہ کریں کہ خدا ان کے درمیان فرق کرے گا بلکہ ان کے درمیان تفاوت و فرق ان لوگوں کے عمل کا نتیجہ ھوگا اس لئے بصیر وہ انسان ھے کہ جس نے خدا کی طرف رخ کرلیا ھے اور اعمیٰ و اندھا وہ انسان ھے جس خدا کی طرف سے رخ موڑ لیا ھے اور اس کی طرف رخ نہیں کیا ۔ البتہ بعض مفسرین اسے تمثیل و تشبیہ جانتے ھیں لیکن جو بات سمجھ میں آتی ھے وہ اس کے حقیقی امر کے ھونے کی ھے، کیونکہ خداوند عالم نے متعدد بار تاکید فرمائی ھے کہ اللہ کی آیات و نشانیاں واضح، آشکار اور بیّن ھیں جیسے سورہ غافر کی آیت نمبر ۸۱ میں ۔

انھوں نے مزید کہا: قرآن کا فرمان ھے کہ جہاں بھی کہیں دیکھو گے اور نگاہ کرو گے خدا کو درک کرو گے لیکن اگر کسی نے دنیا میں خدا کو نہیں پایا تو وہ اندھا ھے، فروغ بسطامی نے اپنے شعر میں بیان کیا ھے : " کی رفته‌ای ز دل که تمنا کنم تورا/ کی بوده‌ای نهفته که پیدا کنم تو را" تو کب ھمارے دل سے غائب تھا کہ تیری تمنا کروں / تو کب پوشیدہ تھا کہ تجھے تلاش کروں ۔ یا ھاتف اصفہانی نے اپنے شعر میں بیان کیا ھے: " یار بی پرده از در و دیوار/ در تجلی است یا اولی الابصار "۔ بے پردہ یار در و دیوار سے تجلی کرتا ھے اے صاحبان بصیرت ۔ بنابر ایں خدا ایسے افراد کو اندھا کہہ رھا ھے اس کی وجہ یہ ھے کہ اللہ کی روشن نشانیوں پر اعتناء و اعتماد نہیں رکھتے ھیں اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کو درک کرلیتے ھیں انھیں بصیر کہہ رھا ھے ۔

موسوی اردبیلی نے ظلمات اور نور کے درمیان موازنہ کو بیان کرتے ھوئے کہا: نور کا استعمال قرآن میں متعدد معنی میں ھوا ھے سورہ نور میں خداوند عالم کو اور بعض دوسرے موارد میں کتب آسمانی منجملہ قرآن پر نور کا اطلاق کیا ھے، دوسری کچھ آیتوں میں ایمان کو نور کہا گیا ھے، اسی طرح سورہ زمر میں اسلام کو نور کہا ھے، ان سب کے درمیان ایک مشترکہ معنی اور وجہ جمع پائی جاتی ھے جو ھدایت ھے اور وہ خدا کی جانب رھنمائی و ھدایت ھے بنابر ایں اللہ نے کہا پہلے تو یہ کہ خود تمہارے درمیان فرق ھے اور دوسری جانب سے یہ کہ جس موقعیت میں تم ھو وہ بھی فرق کرتی ھے ۔

انھوں نے اس سوال کو کرتے ھوئے کہ کیوں نور کو واحد اور ظلمات کو جمع استعمال کیا ھے، وہ بیان کرتے ھیں: اس لئے کہ اصل منزل، ھدایتِ خدا ھے اسی لئے نور ایک ھی مقصد تک پہنچے گا لیکن گمراھی و ضلالت کی متعدد شاخیں ھیں اس وجہ سے ظلمات کو جمع استعمال کیا ھے