")
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی نے سورہ فاطر میں "وزر" کے مختلف معانی کی وضاحت کی ھے
5/11/2019
حجت‌ الاسلام موسوی اردبیلی نے سورہ فاطر میں "وزر" کے مختلف معانی کی وضاحت کی ھے

ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے ۲۱/ اردیبہشت کو  سوره مبارکہ فاطر کی تفسیر کو جاری رکھا اور اس سورہ کی آیت نمبر ۱۸۔ میں "وزر" کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ھوئے بیان کیا: وزر کے معنی قرآن میں گناہ اور سنگین بوجھ کے آئے ھیں ۔

انھوں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ آیت کے فرمان کے مطابق کوئی بھی انسان کسی بھی شخص کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، وہ بیان کرتے ھیں: یہ آیت مومنین کو اس بات کا اطمینان دلاتی ھے کہ ھر انسان کا گناہ خود اس کے کاندھے پر ھوگا اور گنہگاروں کے گناہ کا تم سے کوئی تعلق نہیں ھے لیکن جو بات سمجھ میں آرھی ھے وہ یہ ھے کہ آیت دوسرا کچھ اور مطلب بیان کر رھی ھے جیسا کہ آیت نمبر ۱۳/ میں فرمایا کہ جو لوگ دشمن خدا ھیں اگر تم نے انھیں اپنا ولی بنایا تو جان لو وہ تمہارا بوجھ اپنے کاندھے پر کبھی نہیں اٹھائیں گے ۔

موسوی اردبیلی نے اس آیت میں کہا کہ آخر کیوں مشابہ تعبیر جیسے نفس کے بجائے لفظ " وازرة " سے استفادہ کیاگیا ھے، انھوں نے کہا کہ فخررازی نے اس کی دو وجہ بیان کی ھے: اگر آیت میں "وازرة" کے بجائے نفس کا استعمال ھوتا تو معلوم نہ ھوتا کہ نفوس کے اوزار و گناھوں کے بوجھ ھوتے ھیں یعنی تمام نفوس کے بوجھ و اوزار ھوتے ھیں اور حیران و سرگرداں ھیں، البتہ ھم شیعوں کے عقیدے کے مطابق حد اقل پیغمبر (ص) و اھل بیت (ع) کے متعلق اس طرح کے مطالب کے قائل نہیں ھیں، اور انبیائے الٰہی (ع) کے سلسلہ میں بھی روایت موجود ھے کہ قیامت کے خوف و ھراس کے وقت انیباء (ع) اور اھلبیت (ع) سے متمسک ھوں گے ۔

اس استاد حوزہ نے مزید کہا: اس کی دوسری وجہ یہ ھے کہ کوئی بھی انسان یہاں تک کہ جو گناھوں کے بوجھ رکھتے ھیں اور آپ ان سے امید رکھتے ھیں وہ بھی حاضر نہیں ھیں کہ کسی دوسرے کے بوجھ کو اٹھائیں اور تحمل کریں، اگر دوسرے کا بوجھ اٹھانا بھی چاھیں تو اس کی قدرت ھی نہیں رکھتے ھیں، البتہ دوسری وجہ بندہ کے ذھن میں بھی آتی ھے منجملہ ان میں یہ کہ قرآن یادآوری کر رھا ھے کہ نفس بنیادی طورپر غفلت کی بناپر وزر و بوجھ رکھنے کی حیثیت کا حامل ھے، یعنی اے انسان تم متوجہ و مراقب رھو تاکہ اس طرح کے مطالب اور گناھوں سے اپنے کو روک سکو، کیونکہ اس کے روکنے کی ضرورت ھے ۔

موسوی اردبیلی نے وضاحت کی: جو لوگ کافر ھیں وہ مومنین سے کہتے ھیں تم جتنا چاھو گناہ کرو ھم تمہاری خطاوں کے بوجھ کو اپنے کاندھوں پر اٹھالیں گے جبکہ وہ جھوٹ بولتے ھیں، نہ تو وہ اس چیز کی قدرت رکھتے ھیں اور نہ یہ کام کریں گے، افسوسناک بات یہ کہ ھمارے درمیان بھی یہ بات رائج ھے اور بعض لوگ اتنی سخاوت و دریا دلی دکھاتے ھوئے کہتے ھیں کہ جو کچھ تم کرنا چاھو کرو، ھم انھیں اپنی گردن پر اٹھالیں گے ۔

 انھوں نے مزید کہا: ان وجوھات میں سے جو سب سے بہتر وجہ میری نظر میں آتی ھے وہ یہ ھے کہ اوپر کی آیت میں کہا تھا تم تمام اعتبار اور جہات سے نادار و محتاج ھو، اور یہی احتیاج تم کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ھے، یہاں پر کہنا چاھتا ھے کہ ھر نفس کے اوزار و اثقال و گناہ ھیں، ان اوزار و اثقال کو صرف خدا اٹھا سکتا ھے اور ھم ان اوزار و بارِ سنگین کو اٹھانے میں بھی محتاج و فقیر ھیں اور حمید و غنی مطلق کے علاوہ کوئی بھی اس کام کی توانائی و قدرت نہیں رکھتا ھے ۔

انھوں نے تاکید کی: اگر کوئی غیرِ خدا کے دربار میں اس امید سے جائے کہ وہ اس کے بوجھ کو سبک و ھلکا کردے گا تو اس کا بوجھ نہ دنیا میں ھلکا ھوگا اور نہ آخرت میں سبک ھوگا کیونکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی شخص کھجور کی ایک گٹھلی کا بھی مالک نہیں ھے ۔