")
حجت‌ الاسلام والمسلمین موسوی اردبیلی: خدا کے غنی اور حمید ھونے کے کیا معنی ؟۔
5/9/2019
حجت‌ الاسلام والمسلمین موسوی اردبیلی: خدا کے غنی اور حمید ھونے کے کیا معنی ؟۔

ایکنا، کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین سید علی موسوی اردبیلی استاد تفسیر حوزہ نے ۱۹/ اردیبہشت کو  سوره مبارکہ فاطر میں آیت نمبر ۱۵ کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا: اس آیت میں خدا کے دو ظاھری نام آئے ھیں جو اللہ تعالی کی مرکزیت و محوریت کی تاکید کرتے ھیں، یعنی خداوند عالم کو غنی و حمید بتایا ھے اور فقط و فقط خدا کی ذات ھے جو غنی ھے اور اس کے علاوہ ھر چیز محتاج و نیازمند ھے ۔                  

انھوں نے اس بیان کے ساتھ کی صرف خداوند عالم کی ذات ھر اعتبار سے غنی ھے، مزید کہا: یہ صفت غنی کے بعد آئی ھے جو اس چیز کی نشانی ھے کی پروردگار، غنی جواد ھے نہ یہ کہ غنی ممسک (روکنے والا)، کیونکہ امکان پایا جاتا ھے کہ کوئی غنی ھو لیکن اپنا ھاتھ روکے رکھے اور کوئی چیز کسی کو عطا نہ کرے ۔

موسوی اردبیلی نے اس بات کا ذکر کرتے ھوئے کہ بعض لوگوں نے کہا کہ خدا حمید ھے ولو یہ کہ وہ کوئی چیز عطا بھی نہ کرے، مگر میری نظر میں یہ بات صحیح نہیں ھے، اس لئے کہ بنیادی طورپر عطا نہ کرنے کی صفت، اللہ کی شان میں نہیں ھے اور اگر اپنی حکمت کی وجہ سے کسی موقع پر کوئی چیز نہ دے تو یقین رکھیں دوسری طرف سے اس عطا کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ھے لیکن ھم اسے درک نہیں کرتے ھیں ۔

انھوں نے مزید کہا: کیونکہ اللہ کی ذات لائق حمد و ثنا ھے، لہذا ھمیں چاھئے کہ اس کی حمد و ثنا کریں، جیسا کہ امام علی (ع) نے فرمایا: اے پروردگار! تو اھل و لائق حمد و پرستش ھے اس لئے میں جہنم کے خوف اور جنت کی لالچ میں تیری عبادت نہیں کرتا ھوں، بنابر ایں یہ آیت تاکید کرتی ھے کہ اے انسان جبکہ تو فقیر و محتاج مطلق ھو اور اللہ غنی مطلق ھے لہذا تم اس کی حمد و ثنا اور عبادت کرو ۔

استاد حوزہ علمیہ نے اس سورہ کی آیت نمبر ۱۶ کی «إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» طرف اشارہ کرتے ھوئے اظہار نظر فرمایا: اگر وہ چاھے تو تم سب کو اٹھا لے جائے اور تمہارے بدلے دوسری جدید مخلوقات لے آئے اور یہ کام اس کے لئے مشکل نہیں ھے، یہ آیت قرآن دوسری چند جگہ پر آئی ھے منجملہ سورہ ابراھیم کی آیت نمبر ۱۹ اور اسی طرح سورہ انعام میں بھی آئی ھے ۔

موسوی اردبیلی نے اس بیان سے کہ "إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ" خدا کے غنی و بے نیازی پر مربوط اور موقوف ھے، انھوں نے اظہار کیا: بنابر ایں خداوند عالم اس آیت میں ان لوگوں کی توبیخ کر رھا ھے کہ جو لوگ اللہ کی بے نیازی و غنی کو رد کرتے ھیں اور اپنی محتاجی و فقر کے معترف نہیں ھیں، ان کے لئے خدا ارادہ کرسکتا ھے ان سب کو اٹھا لے جائے اور ان کے بدلے جدید مخلوقات لے آئے ۔

انھوں نے مزید کہا: خلقت کا مقصد عبادت ھے اور اس طرح کے لوگوں کے ھوتے ھوئے خلقت کا مقصد پورا نہیں ھوگا تو ایسے انسانوں کو باقی رکھنا بھی ضروری نہیں ھے، البتہ اللہ کی طرف سے یہ وارننگ غضب کی بناپر نہیں ھے بلکہ حکمت کی وجہ سے ھے یعنی اگر ھم دیکھتے ھیں کہ اللہ نے یہ کام نہیں کیا ھے، تو معلوم ھونا چاھئے کہ ھم دوسروں کے باطن اور ضمیر سے آگاہ نہیں ھیں دوسرے یہ کہ خدا کا ارادہ حکمت پر موقوف ھے نہ کہ غضب پر ۔

موسوی اردبیلی نے وضاحت کی: دوسرا نکتہ اس سلسلہ میں یہ ھے کہ خدا انسان کو اٹھا لے گا اور مٹا دے گا اور دوسری مخلوقات لے آئے گا، یعنی خلقت کے لئے انسان کا وجود بالضرورہ لازم نہیں ھے، اسی طرح جدید مخلوقِ خدا بے سابقہ ھے، اسی طرح آیت تاکید کرتی ھے کہ یہ کام اللہ کے لئے سخت نہیں ھے اور نہ اس کے آثار خدا کے لئے مشکل ھیں ۔

انھوں نے اس بیان کے ساتھ کہ کوئی بھی فعل اللہ کے لئے آسان و مشکل میں تقسیم کے قابل نہیں ھے، مزید کہا: یہ آیتیں فطرت و ھدایت تکوینی کی طرف اشارہ کرتی ھیں جو اس سورہ کے مفہوم کا محور ھے ۔