")
ثقافت اور اسلامی گائیڈنس کے وزیر، پنجشبہ کی رات کو مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے گھر پر حاضر ھوئے اور مرجع عالیقدر کا ذکر خیر کیا ۔
1/19/2017

صالحی امیری نے ان کے فرزند کو مخاطب کرتے ھوئے کہا: آیت الله العظمی موسوی اردبیلی، آیت الله هاشمی رفسنجانی و شهید بہشتی انقلاب اسلامی کے ستونوں میں سے تھے اور صدر جمھوریہ ڈاکٹر حسن روحانی کی تعبیر کے مطابق، ان بزرگوں کی خالی جگہوں کو آسانی پُر نہیں کیا جاسکتا ھے ۔

انھوں نے گفتگو کو جاری رکھتے ھوئے کہا: تشخیص مصلحت نظام کونسل کے صدر مرحوم کی بات، آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے انقلاب کے پہلے اور اس کے بعد کے کردار کے متعلق بہت ھی قابل توجہ ھے اور ھماری تجویز ھے کہ مرجع تقلید مرحوم کے بارے میں ان کی باتوں کو سنیں اور غور کریں ۔

صالحی امیری نے وضاحت کی: آیت الله هاشمی رفسنجانی کے بقول مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی، مبارزہ کے سخت ترین حالات میں انقلابیوں کی پناھگاہ تھے اور انقلاب اسلامی کی کامیابی میں بہت ھی موثر کردار ادا کیا ھے ۔

انھوں نے ثقافت اور اسلامی گائیڈنس کی وزارت کی سیاست کے متعلق اشارہ کرتے ھوئے کہا: ھم ایک رشن و واضح راستے پر گامزن رھیں گے اور ھماری کوشش یہ ھے کہ بحث و نزاع کی فضا میں وارد نہ ھوں ۔

  ثقافت اور اسلامی گائیڈنس کے وزیر نے یاددھانی کی: وزارت ارشاد اس کوشش میں ھے کہ اپنے تخصصی کاموں کو سکون و اطمینان کے ساتھ انجام دے سکے ۔

حجت الاسلام و المسلمین سید علی موسوی اردبیلی نے بھی اس ملاقات میں کہا: آیت الله العظمی موسوی اردبیلی، مجلس وزراء اور تمام مسئولین کی ملاقات کے موقع پر ھمیشہ حکومت اور صدر جمہوریہ کی حمایت کیا کرتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا:ھم اللہ تعالی سے لوگوں کی خدمت اور ان کی مشکلوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں حکومت کی توفیق میں اضافہ کی دعا کرتے ھیں ۔