")
آیت الله موسوی اردبیلی کے چہلم میں مجید انصاری: ھمارا سماج و معاشرہ امام (ره) اور یاران امام (ره) کی شناخت کا زیادہ ضرورتمند ھے
12/30/2016

صدر جمھوریہ کے قانونی معاون و لیگل اسسٹنٹ نے آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے اعتدال پسند روح کے بارے میں کہا: ان کی دلسوزی و ھمدردی اور بصیرت و نظریات کی صحت موجود ھے جو شعلہ ور فضا میں بعض انقلابیوں کو سخت کاموں پر ابھارتی تھی اور عدلیہ نظام کے متعلق کے بہت نمایاں اور بزرگ کام ھیں، اگر نظام عدلیہ میں کسی چیز کی ساخت موجود ھے اور قانونی اصولوں میں پائی جاتی ھے تو اس کا اھم حصہ اس مرد بزرگ اور دیگر مردانِ بزرگ جیسے آیت الله شهید بہشتی و آیت الله شهید قدوسی اور اس زمانے کے دوسرے کچھ شهداء و اھم شخصیات ھیں ۔ 

جماران خبر اور نیوز رپورٹر کے مطابق، حجت الاسلام و المسلمین مجید انصاری نے امامبارگاہ جماران میں آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کے چہلم کے پروگرام میں کہا: ھمیں دین اسلام پر فخر ھے کہ اس نے گھٹاٹوپ اندھیرے اور تاریک ترین دور میں علم و آگہی کی شمع روشن کی، اور اپنے آئین کا آغاز «إقرا» کے فرمان سے کیا، گزشتہ انبیاء (ع) کی روش کے برخلاف جو خارق العادہ معجزات کو پیش کیا کرتے تھے، ھمارے پیغمبر (ص) کا معجزہ علم اور قرآن کی صنف سے تھا ۔

صدر جمھوریہ کے قانونی معاون و لیگل اسسٹنٹ نے مزید کہا: اس فضا میں کہ جس میں علم و آگہی کا کوئی مرتبہ و مقام نہ تھا اس میں دریا بلکہ روایتوں، قرآنی آیتوں کا عظیم سمندر، علم اور علماء کے مرتبہ و مقام کے متعلق حیرت انگیز طورپر موجود ھے ۔ اگرچہ علم کی نورانیت، اصالت و بنیاد کا عنوان، نادانی، جہالت و ظلمت کے مقابلے میں ذاتی اھمیت کا حامل ھے لیکن روشن و واضح ھے کہ بہت سی قرآنی آیات اور پیغمبر و اهل بیت (علیہم السلام) کی لاتعداد روایات میں علم کی اھمیت کو علم الہی اور انسانی علوم میں قرار دیا گیا ھے جو قرآنی اور قرآن کی ماموریت کے زمرہ میں آتا ھے ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا: اگر حدیث میں آیا ھے کہ «العلماء ورثة الأنبیاء» تو اسے ایسے علم پر محمول کیا گیا ھے جو انسانوں کی خدمت اور انبیاء (ع) کے اھداف و مقاصد اور کمال انسانی کی راہ میں ھے اور فقط یہی علم اثر انداز نہیں ھوگا بلکہ وہ علم ھے جو ایک ایسے عالم کے ظرف میں ھو جو انبیاء (ع) کے صفات کا حامل ھو ۔ وہ علماء جنھوں نے علمی خزانوں کو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ اخلاقی ذخائر و خزانوں کے سلسلہ میں کمر ھمت باندھ رکھی ھے ۔ 

انصاری نے مزید کہا: جہاں جہاں بھی علماء کی علمی ذمہ داری کا مسئلہ آیا ھے اس جگہ اجتہاد اور علم کے ساتھ عدالت کا ذکر ھوا ھے ۔ جو عالم، عدالت سے دور ھو، اس کے اندر تعصب ھو اور اس میں نفس کو مہار کرنے کی قوت کا فقدان ھو، وہ انبیاء (ع) کی ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھا سکتا ھے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ قرآن کریم میں جو تعبیریں اس سلسلہ میں استعمال ھوئی ھیں، سورہ جمعہ سے سخت تر تشبیہ کہیں پائی جاتی ھو ۔

انھوں نے کہا: اس بناپر جب علماء کی اھمیت کے بارے میں گفتگو ھوتی ھے تو اس سے مراد وہ عالم ھے جو انبیاء (ع) کے اوصاف کا حامل ھو اور ان کے راستے پر گامزن ھو، جس کے وجود کے خلا کو کوئی چیز بھی پُر نہیں کرسکتی ھے ۔ انبیاء (ع) کی تاریخ میں فقط وہ لوگ کامیاب رھے ھیں جنھوں نے خداوند عالم کے سیاسی نظام کو عملی جامہ پہنایا اور سیاسی ساخت کو بھی وجود بخشا ھے، اگرچہ انبیاء (ع) میں سے جس کو بھی اس طرح کا موقع فراھم ھوتا، وہ اس کے لئے سعی و کوشش کرتے اپنے کو اس سے سبکدوش نہ کرتے بلکہ اسے عملی جامہ پہناتے ۔   

صدر جمھوریہ کے حقوقی معاون نے مزید کہا: شیعہ علماء پیغمبروں (ع) کی راہ پر گامزن اور اس کی ھدایت کرنے والے ھیں، ھدایت کے راستے اور احکام کو بیان کرنے میں سخت ترین راستوں کو اختیار کرتے رھے ھیں ۔ بہت سے علماء تھے جنھیں سولی دی گئی، شیعہ فقہ بڑی دشوار راھوں سے ھم تک پہنچی ھے اور سخت ترین امتحان بیسویں صدی میں حکومت کی تاسیس کا ھے، وہ حکومت جو علماء کی برسوں کی زحمتوں کو عملی جامہ پہنائے اور میدان عمل میں خداوند عالم کے احکام کو نافذ کرے ۔ اس سلسلہ میں اللہ نے وسائل فراھم کئے، ایک بزرگ مرجع و عالم ربانی کو موقع ملا کہ وہ انقلاب اسلامی برپا کرے ۔

انصاری نے اپنے بیان کو اس بات سے شروع کیا کہ آیت الله موسوی اردبیلی نے اپنی عمر کو علم کی راہ اور لوگوں کی خدمت میں صرف کیا اور کہا: میں سمجھتا ھوں کہ آیت الله موسوی اردبیلی کی اصلی شخصیت، امام (ره) کے درس اخلاق سے خمیر ھوئی، اخلاق، ھمارے زمانے میں گمشدہ چیز ھے اور یہ علم ھمارے حوزوں میں متروک ھے ۔ اگر امام(ره) ، امام ھوئے تو اخلاق مدار تھے، اگر امام (ره) ، امام ھوئے تو اھل عرفان تھے ۔ امام کے اخلاقی دروس کے نورانیت و معرفت کی شعاع اس قدر حوزہ پر بکھرتی کہ اگلے ھفتہ تک حوزہ نورانیت میں غرق رھا کرتا تھا ۔

انھوں نے آیت الله موسوی اردبیلی کے بارے میں کہا: اس اھم شخصیت نے اپنے کو صرف علم و دانش کے حصول میں مدرسہ میں محدود نہیں کیا، اپنے آپ کو تحقیق و تدریس کے حدود میں محصور نہیں کیا اور اسی طرح امام راحل (ره) اور دوسرے ھمدرد علماء نے لوگوں کی ھدایت، سماج کی نجات اور لوگوں کو حیرانی و سرگرادنی، جہالت اور تاریکی سے نکالنے کے لئے تحصیل علم اور تحقیقات انجام دیں اور فعالیت میں قدم اٹھائے ۔

صدر جمھوریہ کے حقوقی معاون نے یادآوری کی: تاسیس کے دوران جب انگشت شمار لوگ شورائے انقلاب کی تشکیل کے لئے معین ھوئے تو آیت الله العظمی موسوی اردبیلی پہلی صف میں تھے اس چیز سے پتہ چلتا ھے کہ امام راحل (ره) کس قدر آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کی بصیرت، صحیح فکر، اعتدال پسندی اور علمی ذمہ داری پر اعتماد رکھتے تھے ۔ آیت الله العظمی موسوی اردبیلی جس وقت نظام کے تاسیس میں وارد ھوتے ھیں تو اھم کردار اھم رول ادا کرتے ھیں اور ان کا حضور سکون و اطمینان، دلوں کے ایک دوسرے سے ملنے اور قومی اتحاد کا باعث ھوتا ھے اور بہت کم کسی کے نفع و کسی کی برطرفی اور حالات کی دگرگونی جیسے امور پہ نظر ھوتی تھی ۔

انھوں نے تاکید کی: اگر ھم «ثلمه» کا مصداق جاننا چاھیں تو آیت اللہ اردبیلی کی رحلت ھے، امام کی رحلت کے بعد آیت الله موسوی اردبیلی کی قم المقدسہ واپسی اور علمی امور کی مشغولیت اور مرجعیت کی ردا اس بزرگ انسان پر آجاتی ھے، ان کی دلسوزی و ھمدردی اور بصیرت و نظریات کی صحت موجود ھے جو شعلہ ور فضا میں بعض انقلابیوں کو سخت کاموں پر ابھارتی تھی اور عدلیہ نظام کے متعلق بہت نمایاں اور بزرگ کام ھیں، اگر نظام عدلیہ میں کوئی چیز ساخت و ساز کی شکل میں موجود ھے اور قانونی اصولوں کے طورپر پائی جاتی ھے تو اس کا اھم حصہ اس مرد بزرگ اور دیگر بزرگ مردان جیسے آیت الله شهید بہشتی و آیت الله شهید قدوسی اور اس زمانے کے دوسرے کچھ شهداء و اھم شخصیات ھیں ۔ 

انصاری نے مزید کہا: میں سمجھتا ھوں کہ آج کے دور میں عدلیہ کی کارکردگی، عدالت کی بنیاد، شجاعت اور تنقید قبول کرنا، جمهوری اسلامی ایران کے نطام کا لازمہ ھے اور عدلیہ کے عالیقدر مسئولین کو چاھئے کہ ان بزرگوں کی راہ اور ان کے علمی و تجربی معلومات کو مدنظر رکھیں اور اس پر توجہ دی جاتی ھے مگر اس سے زیادہ اھتمام و توجہ کی ضرورت ھے ۔  

انھوں نے کہا: امام کی رحلت کے بعد مرجعیت کی ردا اس بزرگ انسان پر آجاتی ھے، اس کے باوجود ان کی رفتار، کرادر، اخلاق اور لوگوں سے ملنساری میں کوئی فرق نہیں آیا اور نظام سے ان کی ھمدردی و دلسوزی اور مسئولین کے ساتھ مشفقانہ نصیحت وغیرہ کسی پر پوشیدہ نہیں ھے ۔ میں ان کے فرزندں اور شاگردوں سے امید رکھتا ھوں کہ موصوف کے بیت شریف کی نورانی راہ پر گامزن رھیں، جس طرح ایک نور جماران سے دنیا پر چمکا اور اسی طرح درخشاں ھے اور امام (ره) کے گھر، ان کے بیٹوں اور دوستوں کے چہروں پر دکھائی دے رھا ھے ۔

صدر جمھوریہ کے حقوقی معاون نے اس بات پر تاکید کرتے ھوئے وضاحت کی کہ روحانیت کا امتحان ایک سخت امتحان ھے: یہ نظام علماء کے نام سے ثبت ھوا ھے ۔ اس زمانے میں جبکہ قرآن اور پیغمبر اسلام (ص) کا نورانی چہرہ اور احکامِ اسلام پر استعماری عوامل کے تخریبی اور تکفیری افکار کے حملوں کی زد پر ھے، بنابر ایں اسلام کے غبار آلود چہرہ سے دفاع کرنا ایک سنگین وظیفہ ھے جس کی ذمہ داری پہلے مرحلے میں حوزھائے علمیہ اور بزرگ علماء کے کاندھوں پر ھے ۔ 

انھوں اظھار کیا: اس دور میں انقلابی حوزہ کے متعلق گفتگو ھوتی ھے اور میٹنگیں ھوتی ھیں یہ بہت اچھا کام ھے، لیکن ملک کے اندر انقلابیت، خاص طور سے حوزہ کے اندر دور حاضر میں بزرگ انقلاب اور جمھوری اسلامی کے بانی یعنی امام راحل (ره) کے راستے کو اختیار کرنا چاھئے ۔ انقلابی حوزہ یعنی وہ حوزہ جس میں امام کا اخلاق پایا جائے، حوزہ انقلابی یعنی وہ حوزہ جس میں امام کی فقہ ھو، جس اجتھاد میں زمان و مکان کو کلیدی عنصر کا عنوان ھو اور وہ دین و سیاست کے رابطہ کو استحکام عطا کرتا ھے اور وہ امام راحل (ره) جو بعض پارٹیوں کی خباثت کے انتہا پر آٹھ نکاتی پیغام صادر کرتے ھیں ۔ اے کاش ھمارے حوزوں میں آٹھ نکاتی پیغام اور امام راحل(ره) کے اخلاق کی تدریس کی جاتی ۔

انصاری نے کہا: انقلابیوں کے احترام کے بغیر حوزہ میں انقلابیت کا راستہ معین نہیں ھوتا ھے، انقلابیوں کا وجود قابل تکرار نہیں ھے اور حوزہ علمیہ کو اس کی قدر کرنی چاھئے، خدا جانتا ھے کہ مستقبل میں ھمیں اسی طرح افسوس کرنا پڑے گا جس طرح ھم سوچتے ھیں کہ امیر کبیر اور شھید اول کے ساتھ ایسا کیوں ھوا، جس وقت کینہ کا گرد و غبار چھٹے گا اور بدعھدی دور ھوگی تو ھمارے فرزند حسرت و افسوس کریں گے کہ ان بزرگوں کی جس قدر تجلیل ھونی چاھئے تھی کیوں نہیں ھوئی؟ ریڈیو و ٹیلیویژن، کیا آیت الله موسوی اردبیلی کا اتنا ھی حصہ تھا جس مقدار میں تم نے انجام دیا ؟۔  

 انھوں نے اس بات پر زور دیا: ھمارے معاشرہ و سماج کو ان کی، ھاشمی، بہشتی اور ان جیسے افراد کو پہچاننے کی ضرورت ھے، ھمارے معاشرہ کو امام راحل (ره) اور ان کے ساتھیوں کے پہچان کی زیادہ ضرورت ھے ۔ مجھے امید ھے کہ ھمارا میڈیا دوسرے کاموں کے ساتھ ساتھ اس موضوع کو بھی اھمیت دے گا ۔