")
امامبارگاہ جماران میں آیت الله العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی کے چہلم کے پروگرام میں آیت الله هاشمی رفسنجانی: آیت الله العظمی موسوی اردبیلی نے زمانے کے لحاظ اپنے وظیفے پر عمل کرتے تھے
12/30/2016

آیت الله هاشمی نے بیان کیا کہ آیت الله العظمی موسوی اردبیلی نے ھر دور میں اپنے اھم کردار کو ادا کیا، اور کہا: انھوں نے اس دور میں ایک بزرگ حامی کا کردار ادا دیا اور ایک اچھی و سالم زندگی گزاری، وہ بہت متواضع تھے، بڑی باریک بینی سے گفتگو کرتے تھے اور جس چیز کی آپ فکر و سوچ رکھتے ھیں کہ ایک برزگ انسان میں ھونا چاھئے وہ سب ان کے اندر پائی جاتی تھی ۔  

جماران خبر اور نیوز رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، امامبارگاہ جماران میں آیت الله العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی کے چہلم کے پروگرام میں آیت الله اکبر هاشمی رفسنجانی نے کہا: جس وقت سے میں آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کو پہچانتا ھوں، وہ زمانے کے لحاظ اپنے وظیفے پر عمل کیا کرتے تھے ۔

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے صدر نے اس بات کی یاددھانی کی کہ آیت الله موسوی اردبیلی، انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے مبارزہ کے دور میں تیزگام لوگوں میں سے تھے، انھوں نے اظھار کیا: مبارزہ کے شروع ھونے کے بعد جن شخصیتوں کی نظر موثر ھوتی تھی ان مِیں ایک آیت الله موسوی اردبیلی تھے ۔ ان کی رفتار ایک ذھین استاد، پڑھے لکھے شخص، سماج سے واقف، روشن خیال انسان جیسی تھی اور روشن خیالی کے ساتھ ساتھ کچھ خدمات کو انجام دینا اپنا وظیفہ سمجھتے تھے ۔     

انھوں نے مزید کہا: آیت الله موسوی اردبیلی مبارزہ کے بعد تھران آئے، ان کے لئے ایک مسجد کو تیار کیا گیا جو لوگوں کی ھدایت کا مرکز بن گئی تھی ۔ جو لوگ مبارزہ کر رھے تھے انھیں آپ جیسی شخصیتوں کی ضرورت تھی اور ھم لوگ جو ھجوم کی پہلی صف میں تھے ان سے پوری امید رکھتے تھے ۔ مبارزہ کے آخری مہینوں میں تمام چیزیں واضح ھوچکی تھیں ان لوگوں میں سے جو لوگوں کو شوق دلاتے تھے ان میں سے ایک آپ بھی تھے احتجاج کی پہلی صف میں آپ کا چہرہ بالکل نمایاں تھا ۔

آیت الله هاشمی رفسنجانی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ آیت الله موسوی اردبیلی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بھی تمام میدانوں میں مستعدی اور موثر طور پر حاضر رھتے تھے ۔ اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ یہ ان انقلاب کونسل کے پانچ سب سے پہلے لوگوں میں سے تھے جن میں آیت الله شهید مطهری، آیت الله شهید بہشتی، شهید باهنر، آیت الله موسوی اردبیلی اور میں بھی تھا، میری نظر کے مطابق اسی وقت آپ مرجعیت کے شرائط کے حامل تھے اور جو بحثیں انقلاب کونسل میں ھوتی تھیں ان کے متعلق بہت اچھی نظر کا اظھار کیا کرتے تھے یہ انقلابی ستونوں میں سے ایک بہت مستحکم ستون تھے ۔

انھوں نے مزید کہا: قانون اساسی کا کام بہت اھم تھا البتہ وکلاء نے ایک متن تیار کر رکھا تھا کہ جس وقت انقلابی کونسل میں آیا تو اس کا کام بہت سخت تھا، جس کی انقلابی کونسل نے بڑی دقت سے چھان بین کی اور اس طرح اس کی اصلاح ھوئی کہ مراجع نے بھی کوئی اشکال نہیں کیا اور اس کی تائید کی ۔ آیت الله موسوی اردبیلی کا اس میں بھی بہت اھم کرادر تھا ۔ حقیقت میں بہترین قانون ھے مگر کچھ مدت کے بعد دنیا کے تمام قوانین میں تبدیلی آجاتی ھے اور ھم کو بھی یہ کام کرنا چاھئے ۔

ماہرین رھبری کی کونسل نے کہا: اس دور میں آیت الله موسوی اردبیلی ھمارے درمیان ایک انوکھی شخصیت تھے اور اخلاق و بردباری نے ان کی شخصیت کو ممتاز بنا رکھا تھا ۔ فیصلہ بہت جلد شروع ھوا اور اس زمانے میں کٹرپنتیاں موجود تھیں لیکن آیت الله بہشتی اور انھوں نے بطور کامل اسے کنٹرول و مہار کیا اور نظام عدلیہ میں اھم کردار ادا کیا ۔

انھوں نے اظھار کیا: امام خمینی (رہ) آفتاب کی طرح درخشاں تھے جب ھی کوئی مشکل ھمارے سامنے آتی تھی تو امام راحل (ره) کی خدمت میں پناہ لیتے تھے البتہ امام راحل (ره) کی سطح بہت بلند و بالا تھی اور ھم اس بات کو سمجھتے تھے کہ امام راحل(ره) اور ھم جیسے لوگوں کے دین میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ھے ۔ جو بھی کوئی مشکل پیش آتی تھی ھم امام راحل (ره) کے پاس جاتے تھے ۔ اسلامی جمہوریہ پارٹی کے دھماکے کی بناپر ھم میں سے بہت سے افراد شھید ھوئے مسئلہ اس حد تک پہنچا کہ زخمیوں کو ٹرالی سے لاتے تاکہ کونسل قانونی ھوسکے ۔

آیت الله هاشمی نے تاکید کیا: حق تو یہ تھا کہ ذرائع ابلاغ ان کے لئے ایک جامع پروگرام رکھتا اور ان کی زندگی کے گوشوں کا بتاتا ۔ ان کی حیات کے دور میں بھی ان کے ساھ کچھ کم لطفیاں ھوئی ھیں، امام راحل (ره) کے بعد انھیں تہران میں رھنا چاھئے تھا تاکہ قضاوت سے متعلق اپنے کاموں کی تکمیل کرتے مگر وہ قم المقدسہ پہنچ گئے اور ھم نے ان کے جانے سے نقصان اٹھایا ۔

انھوں نے مزید بیان کیا: البتہ آیت الله موسوی اردبیلی قم میں ھمارے لئے ایک معتبر شخصیت تھے جو بھی قم جاتا تھا وہ مطمئن ھو جاتا تھا کہ آپ حوزہ میں انقلاب کی حفاظت کا ایک ستون تھے لیکن اس کے بعد کچھ کٹر پنتیوں کو دیکھا کہ جس نے ان پر ستم کیا مگر انھوں نے نصیحتوں، نوشتہ جات اور مختلف کاموں میں مصروف رہ کر اپنے اھم کردار کو ادا کرتے رھے ۔ 

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے صدر نے کہا: اگر ان کی زندگی کے حالات و گوشوں کو بیان کیا جاتا تو بہت مفید رھتا تاکہ لوگوں کو علم ھوتا کہ ھم نے کتنی اھم شخصیت کو اپنے ھاتھوں سے کھو دیا ھے ۔ قضاوت میں ان کی روش پر چلتے رھتے، ھماری بنا اس بات پر تھی کہ اسلامی قضاوت کریں، آج ایسا نہیں ھے، اور چاھئے کہ ایک روز پھر کوئی آیت الله موسوی اردبیلی کی طرح انھیں حوصلوں کے ساتھ اس روش کو زندہ کرے ۔ 

انھوں نے اظھار کیا: اس کے باوجود کہ یہ اسلامی جمھوری پارٹی کے رکن بھی تھے آپ نے ملک کو بنی صدر اور اس کے اطرافیوں کے شر سے نجات دی اسلامی جمھوری پارٹی میں بنی صدر کے رقیب تھے اور بنی صدر کی کج فکریوں کے مقابلہ میں عمل کرتے تھے ۔ ان کی معلومات اس قدر تھی کہ اسی وقت ان میں فتوا دینے کی صلاحیت موجود تھی مگر پارٹی کی سطح پر فعالیت، منافقین کے فتنوں کا سدّ باب کرتے اور انقلاب کے خلاف منافقوں کے لئے رکاوٹ بنتے تھے اور ان کی مدد سے افتاء کونسل میں اسلامی جمھوری پارٹی کے جوابات لکھتے تھے ۔

آیت الله هاشمی نے مزید بیان کیا: انھوں نے اس زمانے میں ایک بہت بڑے مددگار کا کردار ادا کیا اور ایک اچھی و سالم زندگی گزاری، وہ بہت متواضع تھے، بڑی باریک بینی سے گفتگو کرتے تھے اور جس چیز کی آپ فکر و سوچ رکھتے ھیں کہ ایک برزگ انسان میں ھونا چاھئے وہ سب ان کے اندر پائی جاتی تھی ۔