")
سخت گرمی میں روزہ رکھنا
سوال: کیا سخت گرمی میں سحر سے لے کر غروب تک رمضان کے مھینہ میں روزہ (حقیقت میں کہا جائے ۵۵ سے لے کر ۶۰ تک دررجہ حرارت) اور بسا اوقات ملک کے جنوب میں امس بھرے موسم کے ھمراہ ایک بچی کے لئے جس کی عمر ۱۰ سے لے کر ۱۵ سال کی ھے اور خون کی کمی بھی پائی جاتی ھے، نقصان دہ ھے ؟۔ پانی کی کمی اور گردوں تک اس کا نہ پہنچنا نیز مٹھاس و شکر جیسے مواد کا نہ پہنچنا، کیا اس سے ایک روزہ دار بچی کے جسم کے لئے اتنے طویل مدت تک روزہ رکھنا، مشکل نھیں کھڑی کرتا ھے ؟۔
جواب: یہ سوال موضوعی اور اسپشلسٹ و مھارت سے تعلق رکھتا ھے اسے اس کے اسپشلسٹ و ماھر یعنی اسپشلسٹ و دیندار ڈاکٹر پوچھنا چاھئے، اگر اس نے کہا کہ ضرر رکھتا ھے تو روزہ کو چھوڑا جاسکتا ھے بلکہ بعض اوقات جب کہ ضرر و نقصان بہت زیادہ ھو تو روزہ کو چھوڑنا واجب ھے ۔