")
متفرقه
سوال: میری بیوی ڈاکٹری مشکلات کی وجہ سے جنین کو محفوظ نھیں رکھ سکتی ھے اور ابھی تک کئی بار اس کا جنین سقط ھوچکا ھے ۔ ڈاکٹروں نے اس مشکل کے حل کے لئے کہا کہ میرا نطفہ اور میری بیوی کا اسپریم لیبوریٹری میں تلقيح ویکسینیشن ھو، اس کے بعد اس سے حاصل شدہ جنین کو اجارہ کے رحم میں منتقل کیا جائے، تاکہ اس میں رشد کرے ۔ میری بیوی کے بھائی کی بیوی اس کام کے لئے حاضر ھوئی کہ جنین اس کے رحم و بچہ دانی میں منتقل ھو اور الحمد للہ اس طرح ایک بیٹی پیدا ھوئی ۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ اس بچی کی ماں کون ھے اور کیا میری بیوی کا بھائی اور اسی طرح اس کے والد اس بچی کے محرم ھیں ؟ اور اس صورت میں جبکہ محرم نہ ھوں، اگر میری بیوی کے بھائی کی بیوی اس دودھ سے جو ولادت و ڈلیوری کے بعد اس کے سینہ میں موجود ھے، اس بچی کو توضیح المسائل میں دیئے گئے شرائط کے مطابق دودھ پلائے، تو کیا یہ بچی ان کی محرم ھوجائے گی ؟ ۔
جواب: اس بچی کا باپ وھی ھے جس کا نطفہ ھے لیکن اس کی ماں کے متعلق فقہاء میں اختلاف پایا جاتا ھے، بعض اس کی ماں جس عورت کا اسپریم ھے اسے جانتے ھیں، تو اس صورت میں تمھاری بیوی کا بھائی اس کا ماموں اور تمھاری بیوی کا باپ اس کا نانا ھوگا اور اس کے محرم ھوں گے ۔ بعض دوسرے فقہاء اس کی ماں اسے جانتے ھیں جس کی بچہ دانی و رحم تھا، جو اسے دنیا میں لائی ھے، تو اس صورت میں تمھاری بیوی کا بھائی اس کا محرم ھوگا، اس لئے کہ یہ بچی اس کی ربیبہ ھوگی، لیکن تمھاری بیوی کا باپ اس کا محرم نھیں ھوگا ۔ لیکن میری نظر میں اس بچی کی دو ماں ھیں، وہ عورت جس کا اسپریم ھے اور وہ عورت جس کی بچہ دانی و رحم ھے، اس کی ماں ھوں گی، اس اعتبار سے تمھاری بیوی کا بھائی اور اسی طرح اس کا باپ محرم ھوگا ۔ بہر حال تمھاری بیوی کے بھائی کی بیوی کا اس بچی کو دودھ پلانا، جو اس ولادت و ڈلیوری سے اس کے سینہ میں آیا ھے، اس رضاع کی وجہ سے حرمت کا باعث نھیں ھوگا، چونکہ رضاع کے ذریعہ محرمیت کے شرائط میں سے ایک یہ ھے کہ دودھ اسی آدمی "فحل" کی بناپر وجود میں آیا ھو ۔