")
اعتکاف
سوال: 1۔ایک عورت اعتکاف کے دوسرے یا تیسرے دن حائض ہوجاتی ہےاور مسجدکو ترک کرکے باہر آجاتی ہے،کیا اس کا کوئی دوسرا وظیفہ ہے ؟، ۲۔ولادت و ڈلیوری یا بچہ کے ساقط ہونے سے پہلے خون کا زیادہ بہہ جانا ، جو کہ خون حیض کے شرائط نہیں رکھتا ہے اس کا حکم اور وظیفہ کیا ہے؟کیا ممکن ہے حیض کی علامتوں کے ساتھ حیض شمار کیا جائے؟
جواب: ۱۔اگر نذر اور اس جیسی چیزوں کی وجہ سے اس کا اعتکاف واجب ہو، تو اس کی قضا کرے اوراگر نذر غیر معین ہو تو حیض سے پاک ہونےکے بعداعتکاف کو انجام دےاوراگر واجب نہیں تھا تواس صورت میں اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔۲ ۔اگر اس میں حیض کی نشانیاں نہیں ہیں، اس پرحیض کے احکام نافذ نہیں ہیں، اور وہ استحاضہ ہے بنابر ایں طہارت کرکے اپنے واجبات کو انجام دے، اگر اس میں حیض کی نشانیاں موجود ہوں اور اس خون اور خون نفاس کے درمیان دس دن سے کم کا فاصلہ ہو تو احتیاط کرنا چاہئےیعنی استحاضہ کے واجبات اور حیض کی حالت میں جن چیزوں کو ترک کرنا چاہئے انہیں ترک کرےاور اگر مذکورہ مدت کا فاصلہ دس دن سے زیادہ ہو تو وہ حیض کے احکام رکھے گا۔