استفتاء
جواب: چنانچہ اگر ایک مھینہ میں دس دن یا اس سے زیادہ شرعی سفر پر جاتے ھو، تو سفر میں تمھاری نماز پوری اور تمھارا روزہ بھی صحیح ھے ۔
جواب: مکلف انسان پر روزہ کے وجوب کا معیار جنوب یا شمال میں رھنا اور ایک گردہ یا دو گردہ رکھنا نھیں ھے، بلکہ اس کا معیار مکلف انسان کی روزہ رکھنے کی قدرت اور توانائی ھے اور اگر قدرت رکھتا ھے نیز کوئی اھم ضرر بھی نہ ھو تو چاھئے کہ روزہ رکھے اور اگر قدرت نھیں ...
مزید پڑھیں
جواب: کارکردگی کی مقدار کی بہ نسبت اگر کام کا مالک رمضان کے مھینہ میں دینی وظیفہ کی انجام دھی کی بنیاد پر ھرچند مزدوری کو کم دینے پر راضی ھو، تو روزہ رکھو، انشاء اللہ پروردگار عالم سلامتی اور برکت عطا کرے گا، البتہ اگر روزہ کا ضرر قابل تحمل نہ ھو جیسے ...
مزید پڑھیں
جواب: اگر اسپشلسٹ و دیندار ڈاکٹر کہے کہ روزہ رکھنا تمھارے لئے معتنیٰ بہ نقصان رکھتا ھے ۔ تو روزہ نہ رکھو اور اگر آئندہ سال تک روزہ کی نہ کرسکے تو اس کا کفارہ ادا کرو ۔
جواب: یہ سوال موضوعی اور اسپشلسٹ و مھارت سے تعلق رکھتا ھے اسے اس کے اسپشلسٹ و ماھر یعنی اسپشلسٹ و دیندار ڈاکٹر پوچھنا چاھئے، اگر اس نے کہا کہ ضرر رکھتا ھے تو روزہ کو چھوڑا جاسکتا ھے بلکہ بعض اوقات جب کہ ضرر و نقصان بہت زیادہ ھو تو روزہ کو چھوڑنا واجب ھے ۔ ...
مزید پڑھیں
جواب: اس بچی کا باپ وھی ھے جس کا نطفہ ھے لیکن اس کی ماں کے متعلق فقہاء میں اختلاف پایا جاتا ھے، بعض اس کی ماں جس عورت کا اسپریم ھے اسے جانتے ھیں، تو اس صورت میں تمھاری بیوی کا بھائی اس کا ماموں اور تمھاری بیوی کا باپ اس کا نانا ھوگا اور اس کے محرم ھوں گے ۔ ...
مزید پڑھیں
جواب: ۱۔اگر نذر اور اس جیسی چیزوں کی وجہ سے اس کا اعتکاف واجب ہو، تو اس کی قضا کرے اوراگر نذر غیر معین ہو تو حیض سے پاک ہونےکے بعداعتکاف کو انجام دےاوراگر واجب نہیں تھا تواس صورت میں اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔۲ ۔اگر اس میں حیض کی نشانیاں نہیں ہیں، اس ...
مزید پڑھیں
جواب: اگر مراد یہ ہے کہ باپ یا ماں اپنی زندگی میں اپنے اموال و جائیداد کو کسی کو بخش دیں تاکہ ان کے انتقال کے بعد اولاد کو نہ ملے تو اگرچہ یہ کام اچھا و مطلوب نہیں ہے لیکن شریعت کے لحاظ سے جائز ہے، اور اگر مراد یہ ہے کہ وہ وصیت کریں تاکہ انتقال کے بعد ان ...
مزید پڑھیں
جواب: جن آلات و وسائل کو جوئے کے لئے بنایا گیا ہے ان کے ذریعہ کھیل و مقابلہ کرنا جیسے شطرنج و تاش اور نرد(بیک گیمان)وغیرہ،ہار جیت اور شرط بندی کے قصد سے حرام ہے، بلکہ اگر تفریح اور بغیر شرط بندی کے قصد سے ہو تب بھی احتیاط واجب کی بناپر جائز نہیں ہے، لیکن ...
مزید پڑھیں