")

ولادت

حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید عبد الکریم موسوی اردبیلی نے ۱۳ رجب۱۳۴۴ ھ ش کی صبح کوایک تہی دست علم دوست گھرانے میں ولادت پائی۔ آپ کے والد آقا سید عبدالرحیم اور والدہ سیدہ خدیجہ تھیں۔ آپ کے یہاں اس سے قبل آٹھ بیٹیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ موسوی اردبیلی صاحب آخری اولاد اور اکلوتے بیٹے ہیں۔ ۱۳۴۶ ھ ش میں چیچک کے مرض میں والدہ کا انتقال ہو گیا اور بہنوں نے پرورش کی۔ آپ کی بچپن کی یادداشتوں میں سے ایک وہ خواب ہے جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں :

’’ مجھے بچپنے میں حضرت امام زمانہ ع کی زیارت کا بہت شوق تھا چنانچہ امام زمانہ سے ملاقات کے متعلق کتابوں میں جتنے اعمال مرقوم ہیں سبھی کو بجا لاتا تھا یہاں تک کہ مستحبات پر بھی عمل کرتا تھا ایک رات میں نے آپ کو خواب میں دیکھا میں نے ایک بچے کے مانند ان کے دامن کو تھام لیا۔ ان کے قدموں پر گر پڑا اور عرض کی مجھے کچھ عطا کیجئے۔ آپ نے اپنی انگشت مبارک سے ایک فیروزہ کی انگوٹھی اتار کر میری انگلی میں پہنا دی جب میں نے والد صاحب سے یہ خواب بیان کیا تو انھوں نے کہا اب مجھے تمہاری طرف سے کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ تم امام زمانہ کے سایہ میں رہو گے ‘‘۔

خاندان کی مالی، مذہبی اور سیاسی حالت

آپ کے والد ایک با عمل عالم تھے، اپنی اولاد کی مذہبی طریقہ سے تربیت کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلہ میں مصر رہتے تھے ۔ اس زمانہ میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی وہ اپنے برطانوی آقاؤں کی پیروی میں ہر روز طاقت و وحشت کے زور پر سیاست چلاتا تھا ۔ ایک روز اتحاد شکل کے عنوان سے لوگوں کے لباس اور ٹوپی کو بدل دیا۔ دوسرے دن بے پردگی کا اعلان کر دیا۔ ایک زمانہ میں مجلس عزاداری اور وعظ و خطابت کے جلسوں پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد عالم کا لباس پہننے پر پابندی لگاکر علماء کے ساتھ سختی کرنے لگا۔ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے علماء خانہ نشین ہو گئے اور صبر و انتظار کی سیاست پر عمل پیرا ہو گئے۔ بعض نے لباس بدل دیا اور صف علماء سے نکل گئے اور دوسرا پیشہ اختیار کر لیا۔کچھ لوگوں نے مقاومت کی، سختیاں اور تکلیفیں برداشت کیں، کبھی چھپ کر اور کبھی علی الاعلان مقابلہ کیا مرحوم میر عبدالرحیم انھیں افراد میں سے تھے۔

آپ پہلوی حکومت کے مظاہر کو خلاف شرع اور حرام قرار دیتے تھے۔ اس طرز تفکر کے نتیجہ میں آپ پر دباؤ بڑھ گیا اس صورت حال کے تحت کبھی آپ کو مہینوں گھر ہی پر رہنا پڑتا تھا اور صرف ضروری کاموں کی انجام دہی کے لیے رات میں گھر سے نکلتے تھے اور جلدی واپس لوٹ آتے تھے۔ اس زمانہ کے حالات اتنے بھیانک تھے کہ چند دوستوں اور جاننے والوں کے علاوہ کوئی ان کے گھر آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا ۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں مفلسی اور ناداری بڑھتی چلی گئی، بعض شب و روز تک اہل خانہ کو کھانا میسرنہیں ہو تا تھا۔
ستمبر ۱۹۴۱ ء کو روس نے ایران پر حملہ کر دیا اور آذربائیجان میں داخل ہو گیا ۔ رضاپہلوی ایران سے بھاگ گیا۔ اگر چہ ایران کے حالات آشفتہ تھے لیکن عوام کو سکون مل گیا اور علماء پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں ان میں کچھ کمی آگئی نتیجہ میں آپ کے خاندان والوں کی آمد و رفت سے پابندی اٹھ گئی ۔

تعلیم کا آغاز

حضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے چھ سال کی عمر سے مکتب میں داخل ہو کر تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ قرآن مجید تمام کرنے کے بعد رسالۂ عملیہ، گلستان، تاریخ عجم، درایۂ نادری، تاریخ وصاف، حساب، فارسی اور دوسری کتابیں بھی اساتذہ سے پڑھیں ۔۱۳۱۸ ھ ش میں عربی کی تعلیم شروع کی ۔۱۳۱۹ ھ ش میں حوزہ علمیہ کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئے اردبیل میں واقع مدرسۂ علمیۂ ملا ابراہیم میں داخل ہوئے۔
اس زمانہ میں اردبیل میں تین دینی مدرسے، مدرسۂ مرزا علی اکبر، مدرسۂ صالحیہ اور مدرسۂ ملا ابراہیم تھے۔ پہلا پرائمری اسکول

میں تبدیل ہو گیا تھا ، دوسرے میں قفقاز کے ایرانی مہاجرین کو ٹھہرا دیا گیا تھا، صرف مدرسۂ ملا ابراہیم طلباء کی تعلیم کے لئے باقی بچا تھا۔ اس زمانہ میں کسی کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہیں تھا چنانچہ اس مدرسہ میں صرف چار طالب علم تھے ۔ ایسے بحرانی حالات میں آپ نے دینی تعلیم کا آغاز کیا اور اسی مدرسہ میں۱۳۲۲ ھ ش تک جامع المقدمات، سیوطی، جامی، مطول، حاشیۂ ملا عبداللہ، شرح تہذیب، معالم اور شرائع تمام کرلی ۔

ایران میں متحدہ روس کے داخل ہوجانے سے لوگوں کو حکومت کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی تھی اور جوانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ بہت سے جوان دینی و حوزوی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسۂ ملا ابراہیم میں داخل ہوگئے۔ ان جوانوں اور بانشاط طلباء کے داخل ہوجانے کی بنا پر آپ نے حوزوی علوم کی ابتدائی کتاب صرف، نحو اور منطق کا درس دینا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ شہر اردبیل کے مضافات میں بیس سال تک رضاخانی حکومت کی وجہ سے جو عقائد اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں خلأ پیدا ہو گیا تھا اسے پر کرنے کی غرض سے مواعظ اور تقاریر کرتے رہے۔

شہر قم میں تشریف آوری

حضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے۱۹۴۳ ء کے رمضان المبارک میں یہ طے کیا کہ قم ہجرت کرکے وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ اسی مہینہ کے آخر میں اردبیل سے روانہ ہو کر قم آگئے اور مدرسۂ فیضیہ میں اقامت گزیں ہوئے۔ تین سال تک قم ہی میں قیام پذیر رہے۔ اس زمانہ میں آپ نے لمعتین، رسائل، مکاسب، کفایتین تمام کی اور درس خارج، تفسیر قرآن اور فلسفہ کے درس میں شرکت کے ساتھ ہی معالم، لمعتین اور قوانین کا درس بھی دیتے رہے۔

اس زمانہ میں آپ نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیدمحمد رضا گلپایگانی سے کچھ مکاسب اور کفایہ جلد اول، آیت اللہ العظمیٰ حاج سید احمد خوانساری سے مکاسب بیع، کفایہ جلد دوم اور شرح ہدایۂ میبدی اور آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ مرتضی حائری سے رسائل، آیت اللہ حاج مہدی مازندرانی سے منظومہ، آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی سے اسفار کا درس لیا۔ مزید برآں آپ نے کبھی بھی معارف اسلام کی ترویج سے غفلت نہیں کی ۔ آپ نے تبلیغ کے زمانہ میں ایران کے مختلف علاقوں میں مجالس کو خطاب کیا۔ اور اپنی مذہبی تقریروں کے ذریعہ معاشرہ میں نشاط اور معنویت کی روح پھونکتے رہے۔

جس زمانہ میں حوزۂ علمیہ قم کے زعیم آیت اللہ العظمیٰ حجت کوہ کمرہ ای، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ صدرالدین اصفہانی تھے اور شہر کے علماء کے امور آیت اللہ فیض اور آیت اللہ روحانی کے ذریعہ حل ہوتے تھے اس زمانہ میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی،حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپایگانی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ محمد علی عراقی (اراکی )اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محمد داماد قدس اللہ اسرارہم، دوسرے درجہ کے علماء شمار ہوتے تھے۔ اور حوزوی دروس کی اعلیٰ سطح کی تدریس کرتے تھے۔
اسی زمانہ میں حوزۂ علمیہ قم کے بعض علماء نے یہ طے کیا کہ حوزۂ علمیہ کی ترقی کے لئے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کو قم دعوت دی جائے۔ ان کی مسلسل کوششوں سے وہ قم تشریف لائے اور درس دینے لگے ۔آپ نے حوزۂ علمیہ میں ہر طریقہ سے چار چاند لگائے۔ اس زمانہ میں ایران پر غیروں کے حملہ کرنے کی وجہ سے ملک کی اورخاص طور سے قم کی سیاسی حالت بحران کا شکار تھی ۔

دوسری طرف آذربائیجان میں روسی فوج کی موجودگی کی بنا پر آذری لوگوں کی مدد کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور آذری طلباء تنگدستی میں مبتلا ہوگئے۔ اس بحران کے زمانہ میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی کا نجف اشرف میں انتقال ہو گیا۔ آپ کے انتقال سے دنیائے شیعیت خصوصا ایران کو شدید جھٹکا لگا ۔ ایران کی حکومت آپ کی رحلت کو اہمیت دے کر ایک طرف تو اپنے مخالفوں کو کمزور کرنا چاہتی تھی اور دوسری طرف حوز ۂعلمیہ نجف اشرف کو قم منتقل کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ ہو سکتا ہے نمایاں علماء سے فائدہ حاصل کرکے ملک کی سیاسی صورت حال کو مستحکم بناسکے۔

اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے محمد رضا پہلوی نے آیت اللہ العظمیٰ اصفہانی کے انتقال کے موقع پر آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے نام تعزیت کا ٹیلی گرام بھیجا ۔ اس عمل سے حوزۂ علمیہ کی بڑھتی ہوئی قدرت ظاہرہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلوی نظام بعد میں ایسے ایسے اشتباہات سے پیدا ہونے والے خطرات کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے اس کے برخلاف اپنی پوری طاقت صرف کی۔ مگر علماء اور حوزات علمیہ کی روز افزوں محبوبیت و اقتدار کو نہ روک سکا ۔

ایک طرف آیت اللہ العظمیٰ بروجردی نمایاں علمی شخصیت اور دوسری طرف حکومت وقت کی سیاسی بے طرفی اور حوزۂ علمیہ قم کو مستحکم بنانے کے سلسلہ میں فضلاء کی کوششوں کے باعث ہر طرف سے طلباء و علماء قم آنے لگے۔ حوزۂ علمیہ نجف نے اپنے سابقہ اطمینا ن کو محفوظ رکھا ۔ وہاں کے علمی ماحول کو پرسکون قرار دیا جاتا تھا۔ آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی اس زمانہ میں علم کے تشنہ تھے۔ اور تعلیم و تدریس کے لئے پرسکون و مناسب جگہ کی تلاش میں تھے اس کے لئے آپ نے نجف اشرف کو مناسب پایا اس لئے نجف کی طرف رخ کیا۔

نجف اشرف میں تشریف آوری

حضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے حوزۂ علمیہ قم کے تین فضلاء کے ساتھ نجف اشرف جانے کا پروگرام بنایا ۔ دو افراد نے ارادہ ترک کردیا تو آپ شیخ ابوالفضل حلال زادۂ اردبیلی کے ساتھ پہلی ذی الحجہ۱۳۶۳ ھ ق کو قم سے روانہ ہوئے۔ چونکہ اس زمانہ میں کوئی قانونی طور پر عراق کا سفرنہیں کر سکتا تھا وہاں جانا بہت مشکل تھا ۔ مجبورا خفیہ طور پر خرم شہر کے راستے سے عراق کے شہر بصرہ میں داخل ہوئے۔ بے پناہ مشکلات اور سختیاں اٹھانے کے بعد بصرہ، عباسیہ اور دیوانیہ سے ہوتے ہوئے خدا کے لطف و کرم سے اسی سال سات ذی الحجہ کو عصر کے وقت حوزۂ علمیہ نجف اشرف پہنچ گئے۔ آنے والی رات شب عرفہ تھی لہذا دونوں ہم سفر ابتدائی امور انجام دینے کے بعد حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی دیرینہ سنت کے مطابق اسی شب کربلا کے لئے روانہ ہو گئے۔اور پھر دو روز بعد نجف اشرف واپس آگئے اور تعلیم کا آغاز کیا۔

موصوف نجف اشرف میں قیام کے زمانہ کو حصول تعلیم کا بہترین زمانہ سمجھتے ہیں۔ طلباء کے لئے کافی حد تک امن و سکون فراہم تھااور طلباء پڑھنے پڑھانے اور تحقیق کے علاوہ اور کوئی کام انجام نہیں دیتے تھے۔ آپ بھی جوش و ولولہ کے ساتھ اس عہد کے حوزۂ علمیہ کے بڑے اساتذہ کے دروس میں شریک ہوئے۔ اور ان کے خرمن علم سے خوشہ چینی کے ساتھ حوزۂ علمیہ کے دروس میں پیش آنے والے علمی مسائل کی علمی تحقیق میں مشغول ہوئے اور اساتذہ کے دروس کو قلمبند کر لیا۔

نجف اشرف میں علمی کاوشیں

حضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے نجف اشرف میں قیام کے دوران اصول فقہ کے مباحث قطع و ظن، برائت و اشتغال اور کچھ الفاظ کی بحث اورعلم فقہ میں اعادۂ صلاۃ ، اوقات، قبلہ، لباس مصلی و مکان مصلی، خلل صلاۃ و شروط صلاۃ تا آخر مکاسب آیت اللہ العظمیٰ خوئی سے اور بحث طہارت کو آخر وضو تک مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حکیم سے اور اجتہاد و تقلید کی بحث آیت اللہ میرزا عبدالہادی شیرازی سے اول کتاب بیع کو مرحوم آیت اللہ العظمیٰ میلانی سے ، بیع صبی کو مرحوم آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد کاظم شیرازی سے اور کچھ عروہ آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد کاظم آل یاسین سے اور فلسفہ میں اول طبیعیات سے آخر منظومہ تک مرحوم صدر سے پڑھی۔ اسی زمانہ میں خوئی صاحب، میلانی صاحب اور محسن الحکیم کے دروس بھی قلم بند کئے۔
ہرچند نجف اشرف میں آپ کا قیام بہت کم رہا ۔ دو سال سے کچھ زیادہ لیکن یہی کوتاہ مدت آپ کے لئے علمی لحاظ سے بہت قیمتی تھی۔ اس زمانہ کے حوزات میں فقہ، اصول، فلسفہ کے سلسلہ میں باریک بینی اور موشگافیاں بہت تھیں۔ اس نے آپ کی علمی اور ثقافتی شخصیت کو بہت متاثر کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت حوزۂ علمیہ نجف میں شیعی فقہ و اصول کے بہترین اساتذہ موجود تھے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آیت اللہ العظمیٰ خوئی کا وہ جملہ نقل کر دیا جائے جو انھوں نے نجف اشرف میں ان کے مختصر قیام کے بارے میں فرمایا تھا کہ تین طلباء قم سے نجف اشرف گئے اور مختصر قیام کے بعد واپس لوٹ آئے۔مرحوم آیت اللہ خوئی نے اظہار افسوس کیا اورفرمایا : کاش وہ نجف میں ر ہتے اور قم واپس نہ جاتے۔ ان تین افراد میں سے ایک آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی تھے۔

ایران واپسی

اس زمانہ میں عراق کے سیاسی حالات بتدریج بگڑ رہے تھے۔ عوام نے برطانیہ کی قائم کردہ ہیئت حاکمہ کے خلاف شورش بپاکی اور اسے منحل کرنے کا مطالبہ کیا۔ شورش بڑھتی رھی، بغداد، نجف اور بعض دوسرے شہروں میں خونریزی بھی کی گئی جس کے نتیجہ میں صالح جابر کی حکومت کا تختہ پلٹ گیا۔ مرحوم سید محمد صدر نے حکومت بنائی۔ چند دنوں بعد محمد صدر کی حکومت بھی ٹوٹ گئی اور بیرونی طاقتوں کا مہرہ نوری سعید وزیر اعظم بن گیا۔ اسی زمانہ میں آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی کو ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ آپ کے والد بیمار ہیں آپ پریشان ہو گئے ۔ عراق کے بدلتے ہوئے حالات اور والد کی بیماری کے پیش نظر آپ نے بادل ناخواستہ عراق چھوڑ کر ایران کا رخ کیا۔

آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی ۱۹۴۸ع میں عراق سے واپس لوٹنے کے بعد قم تشریف لائے۔ فیضیہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ نجف سے روانگی کے وقت ان کا محکم ارادہ تھا کہ جلد از جلد عراق واپس جائیں گے۔ اسی لئے نجف اشرف میں جو انکا اثاثہ تھا اسے ساتھ نہیں لائے تھے مگر تقدیر میں کچھ اور لکھا تھا چنانچہ پھر عراق جاکر علم حاصل کرنے کے اسباب فراہم نہ ہو سکے۔
جب قم پہنچے تو والد کی شفایابی اور حوزہ کے دروس کی کمی و کیفی حالت سے آگاہ ہوئے۔ چند ماہ قم ہی میں قیام کیا ۔ اس زمانہ میں آیت اللہ العظمیٰ بروجردی مرحوم کے فقہ کے درس خارج میں اور آیت اللہ داماد کے اصول کے درس خارج میں شریک ہوتے رہے نیز آیت اللہ طباطبائی کے منظومہ کے درس میں شرکت کی۔ ماہ رجب میں اردبیل گئے۔ والد ماجد سے ملاقات کی، والد کی تمنا تھی کہ وہ اپنی باقی عمر نجف اشرف یا قم میں بسر کریں لیکن اہل و عیال کے ساتھ نجف جانا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا قم آگئے۔ ایک چھوٹا سا گھر لیا اور قم ہی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انکے والد قم کی سخت گذر بسر کی بنا پر زیادہ دن قم میں نہیں رہ سکے۔ ۱۹۵۱ع میں ان کا انتقال کیا۔

 

قم میں قیام کے دوران رونما ہونے والے حادثات

سلسلۂ تعلیم

قم میں آپ کی اہم ترین مشغولیت یہ تھی کہ آپ تعلیم و تحقیق کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اور اس زمانہ کے بڑے اساتذہ یعنی آیت اللہ العظمیٰ بروجردی اور آیت اللہ العظمیٰ سید محمد داماد طباطبائی کے درس میں شریک ہونے کے علاوہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی کے درس اخلاق اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ گلپایگانی کے فقہ کے درس خصوصی میں شریک ہوتے تھے۔ اسی طرح آیت اللہ حاج شیخ مرتضی حائری اور آیت اللہ العظمیٰ حاج سید احمد خوانساری کے درس میں شرکت کرتے تھے۔

سلسلۂ تدریس

حوزات علمیہ کا ایک باقی رہنے والا اور بہترین طریقہ پڑھنے کے ساتھ پڑھانے کاہے۔ اس سے طالب علم کی علمی و تربیتی روح کی پرورش ہوتی ہے اور اس کا اثر بڑادیرپا ہوتا ہے ۔ چنانچہ قم میں قیام کے دوران اساسی کاموں کی انجام دہی کے ساتھ خوش فہم اور محنتی طلباء کو رسائل، مکاسب، کفایہ اور منظومہ کا درس دیاکرتے تھے ۔ عام طور پر درس عمومی ہوتا تھا ۔ ہاں بعض ارادتمند شائقین کو فقہ و اصول کا خصوصی درس خارج دیتے تھے۔

قرآنی خدمات

قم میں قیام کے دوران آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے جو کام انجام دئے ہیں ان میں قرآن کی خدمت بھی ہے۔ہفتہ میں دو دن فضلاء کو تفسیر قرآن کا درس دیتے تھے۔ قم میں اقامت کے زمانہ میں ان کا پانچ درس کا سلسلہ مستقل طور پر جاری رہتا تھا۔ قم سے ہجرت کے بعد بھی یہ سلسلہ مذکورہ اراکین کے توسط سے جاری رہا۔ اور آج تک جاری ہے۔ آپ نے اردبیل اورتہران میں قیام کے دوران بھی درس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج بھی آپ قرآن کی تحقیق، تفسیر اور علوم قرآن ہی میں مشغول ہیں۔ چنانچہ اس تحقیق کا ماحصل کبھی کبھی مقالہ کی صورت میں جرائد میں شائع ہوتارہتا ہے۔

جریدہ کا اجراء

قم میں قیام کی مدت میں آپ اور حوزہ کے فضلاء علماء کی ایک جماعت نے پہلی بار مکتب اسلام نامی جریدہ کا اجراء کیا۔ جریدہ بہت مقبول ہوا ۔ موصوف نے جو کہ اس جریدہ کے بانیوں میں سے تھے کچھ مقالات لکھے۔ انھیں میں سے" دین از نظر قرآن" کا مجموعہ ہے۔" قرآن یا آفتابی کہ غروب ندارد " اور" طوفان نوح" قابل ذکر مقالات ہیں۔ آپ نے نو شماروں میں فقط تعاون کیا ہے۔ قم سے ہجرت کے بعد آپ نے جریدہ سے تعاون قطع کر دیا۔

تبلیغی سفر

علماء کے اصلی فریضہ خدا کے دین و احکام کا دنیا میں تبلیغ و ترویج کرنا ہے۔ باوجودیکہ حکومت وقت کا علماء پر دباؤ رہتا تھا اور انھیں پریشان کیا جاتا تھا۔ موصوف کے اساسی کاموں میں تبلیغی امور بھی شمارہوتے تھے۔ چھٹی کے زمانے میں تبلیغ کے لیے مختلف جگہوں پر تشریف لے جاتے تھے۔ آپ ارومیہ، مشھد، بندرانزلی، درگز،ہمدان، اردبیل، بابل اور بہشہر وغیرہ جاتے ہیں۔ آپ کی ولولہ انگیز تقریروں کے بارے میں مومنین کے پاس بہت سی یادداشتیں ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلام نے انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی پر توجہ دی ہے۔ علماء کو سیاسی صورتحال سے تشویش تھی لہٰذا وہ ابتداہی سے ان مسائل میں دخیل رہتے تھے۔ جو مسلمانوں کی تقدیر اور ان کے مستقبل سے مربوط تھے۔ وہ اپنے فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دینے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان حوادث میں سے ایک حادثہ عالمی صلح کا معاہدہ ہے جو کہ ڈاکٹر مصدق کی وزارت عظمیٰ کے زمانہ میں ہوا تھا۔ شروع میں تو ایران کی سیاسی اور دینی شخصیتوں نے اس کی تائید کی مگر کچھ لوگ منجملہ ان کے سید علی اکبر برقعی اور شیخ محمد باقر کمرہ ای اپنے نظریہ پر مصر رہے اور" شہر وین "میں منعقد ہونے والی چوٹی کانفرنس میں شریک ہوئے۔برقعی کی واپسی پر مارکسیسم کی طرف تمایل رکھنے والے گروہوں نے ان کا استقبال کیا ۔ قم کے طلباء نے ان کی مخالفت کی جس کے نتیجہ میں فساد ہو گیا۔ کوتوالی کے سامنے گولی چلائی گئی جس میں ایک آدمی ہلاک ہوا اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ ان فسادات کا سلسلہ دو روز تک جاری رہا۔شاہ کے درباری اور بعض دوسرے گروہ اپنے اپنے مقاصد کے لحاظ سے صورتحال کو دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر مصدق نے صورتحال پر قابو پانے اور ان کی تحقیق کے لئے جناب ملک اسماعیلی کو آیت اللہ بروجردی کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس واقعہ میں آیت اللہ موسوی اردبیلی طلباء کو بلانے والے افراد میں سے ایک تھے ۔ آیت اللہ بروجردی کی طرف سے آپ نے اسماعیلی سے ملاقات کی اور پھر حضرت معصومہ کے صحن میں مجمع کو خطاب کیا اور آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کا پیغام سنایا۔

اردبیل واپسی

آپ بے پناہ علمی، تبلیغی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ماہ رمضان ۱۹۵۹ ء میں بیمارہو گئے۔ ڈاکٹروں کو دکھایا تو انھوں نے کہا کہ محل سکونت کو بدل دیں اور زیادہ کام نہ کریں۔ چنانچہ ۱۹۶۰ ء میں مجبورا تعطیل کا زمانہ گذارنے کے لئے اردبیل چلے گئے۔ اردبیل پہنچ کر اسی سال گرمی میں مرحوم حاج میر صالح کی مسجد میں وعظ و تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور مدرسۂ ملا ابراہیم کی تجدید کا اقدام کیا۔ گرمیوں کا زمانہ ختم ہو گیا تو باوجودیکہ باطنی طور پر آپ قم جانا چاہتے تھے لیکن اردبیل کے علماء اور عوام نے اصرار کیا کہ آخرسال تک وقتی طور پر اردبیل ہی میں قیام کریں لیکن ان کاموں کے ادھورا رہ جانے کی وجہ سے جو آپ نے شروع کیے تھے، مدت دراز تک آپ اردبیل میں ۱۹۶۹ ء تک قیام پذیر رہے۔ اردبیل میں طویل المدت قیام کے دوران آپ نے جو کام انجام دئے ہیں ان میں سے بعض درج ذیل ہیں :

علمی کاوشیں

آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے اردبیل میں قیام کے ساتھ ہی بعض فضلاء و طلباء جو کہ قم میں زیر تعلیم تھے اردبیل واپس آگئے اور آپ سے رسائل، مکاسب، کفایہ پڑھنے لگے۔ کچھ دنوں کے بعد آپ نے اصول کا اور فقہ میں مکاسب وغیرہ کا درس شروع کیا۔ تدریس، حوزۂ علمیہ کی ادارت، مدارس کی عمارتوں کی تجدید کے علاوہ طلباء کو شہریہ دینا اور ان کی مدد کرنا اور ان میں سے بعض کو تبلیغ کے لئے شہر اور دیہات بھیجنا اور ممکنہ حد تک ان کی مشکلوں کو حل کرنا بھی آپ ہی کے ذمہ تھا۔

تبلیغی کاوشیں

اس مدت میں آپ کے تبلیغی کام کبھی معطل نہیں ہوئے۔ نماز مغربین کے بعد منبر سے تقریر کرتے۔ تفسیر قرآن مجید بیان کرتے ۔ اور لوگوں کے گھروں پرہفتہ وار جلسہ کیا کرتے تھے۔

اقتصادی سرگرمیاں

امام موسی صدر جو کہ آپ کے دیرینہ اور طالب علمی کے زمانہ کے دوست تھے جنھوں نے لبنان میں مفلسی سے جنگ اور محروموں کی مدد کے لئے ایک ادارہ قائم کیا تھا ۔ آیت اللہ موسوی اردبیلی نے اس سے متاثر ہو کر ناداری سے جنگ اور محروموں کی مدد کے لئے شہر اردبیل میں ایک کارخانہ لگانے کا عزم کیا۔ تحقیق کے بعد کچھ لوگوں کو مستحق صدقات اور انفاق کی جمع آوری کے لیے معین کیا گیا اور یہ طے پایا کہ تہی دست لوگوں کو دستی کام سکھائے جائیں اور ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو بازار میں لایا جائے اور آمدنی کو انھیں سے مخصوص کیا جائے۔ شروع میں جوراب اور کپڑا بنایا جاتا تھا اس کام کے لیے ایک عمارت بنائی گئی جس سے بعض خاندانوں کو روزگار فراہم ہو گیا۔

یہ مرکز اپنی ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا کہ شاہی حکومت کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا۔ اس نے اسے بند کرنے کی ٹھان لی ۔ اس زمانہ میں ساواک (انٹیلی جنٹ )کے بڑے بڑے ذمہ داروں نے کہا تھا کہ ہم ان لوگوں کو قابو میں کرنا بلکہ انھیں گرانا چاہتے ہیں لیکن اب انھوں نے ایسے کام شروع کر دئے ہیں کہ اگر اب ہم سے ٹکرانا چاہیں تو سینکڑوں یاہزاروں لوگوں سے ٹکرانا پڑے گا۔بہت کوشش کی گئی کہ ان کو لوگوں کی زندگی سے الگ کر دیا جائے لیکن اگر ان کے یہ کام پائیدارہو گئے تو از سر نو لوگوں کی زندگی میں دخیل ہو جائیں گے جیسے بھی ممکن ہو اس کام کو روکا جائے۔ چنانچہ جس روز لوگ اس ادارہ کو دیکھنے، اس کے مقاصد سے آگاہ ہونے اور اس کی ترقی کی خاطر مدد کے لئے آنے والے تھے عین اسی دن ساواکیوں نے ادارہ پر حملہ کیا اور اسے بند کر دیا۔ آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ساواک نے لوگوں کو دھمکی دی کہ جو بھی اس ادارہ کی مدد کرے گا اسے گرفتار کر لیا جائے گا اور اسے سخت سزا دی جائے گی ۔ اس طرح انھوں نے اس مرکز کی فعالیت کو روک دیا۔

سیاسی فعالیت

آپ کے سیاسی افکار کی بنیاد بچپنے کی خاندانی تربیت پر استوار ہے ۔ آپ نے اپنے سیاسی نظریہ کو گفتگو، تقریروں اور تبلیغ میں ثابت کر دیا ہے منجملہ موصوف کی شہر ارومیہ میں سات سالہ تبلیغ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ ۱۹۶۰ ء میں آپ اردبیل میں مقیم ہوئے اور اسی وقت سے سیاسی جنگ آپ کی فعالیت کا جزو لاینفک بن گئی۔ اور اسی وجہ سے آپ پر حکومت کی کڑی نظر رہتی تھی۔

شاہ کی حکومت آپ کی سرگرمیوں ، مجلسوں، تقریروں، تدریس،تبلیغ غرض کہ معمولی آمدو رفت اور خطوط کے سلسلہ میں بڑی حساس تھی اور ان کی تحقیق کرتی تھی یہاں تک کہ جب آپ مدرسہ بناتے یا ناداروں کی مدد کرتے تھے تو اس وقت صرف آپ ہی پر نظر نہیں رکھی جاتی تھی بلکہ وہ طلباء بھی جلاوطنی اور شکنجہ سے محفوظ نہیں رہتے تھے جو کہ آپ سے تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ جب اسرائیل اور عربوں کے درمیان چھ روزہ جنگ ہوئی اس وقت آپ شاہ کی حکومت سے برملا طور پر الجھ گئے تھے۔ اس زمانہ میں شاہ کی حکومت کی تبلیغی مشینری اسرائیل کی طرفداری کر رہی تھی اورہر چیز اسرائیل کے حق اور عرب مسلمانوں کے خلاف بیان کررہی تھی۔ آپ نے منبر سے شدید طور پر عرب مسلمانوں کی طرفداری کی جس کے نتیجہ میں شاہ کی حکومت نے آپ کو گرفتار کرکے تبریز بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ اس حادثہ کی وجہ سے اردبیل کے علماء اور پیش نماز حضرات متحدہوگئے۔ سب نے آپ کی مسجد میں پہنچ کر اعلان کیا کہ اگر شاہ کی حکومت آپ کو گرفتار کرکے جلاوطن کرے گی تو ساری مساجد کو بند کردیا جائے گا اور سبھی اردبیل سے نکل جائیں گے شاہ کی حکومت نے علماء سے مقابلہ کیا ۔ اس سے برآمدہونے والے نتائج سے اسے تشویش ہوئی لہٰذا اس نے آپ کی گرفتاری کا فیصلہ واپس لے لیا۔ دوسرا موقع جو قابل ذکر ہے وہ کیپٹل ازم کا پاس کرنا ہے۔ آپ نے لوگوں کو آگاہ کیا، لوگوں نے اعتراض کرنے کے لئے بازار بند کردئے۔ لیکن شاہ کی حکومت بازار بند کرنے میں رکاوٹ بن گئی اور ان پر نظر رکھی۔ انھیں اتنی تکلیف اور اذیت دی گئی کہ اردبیل چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبورہوگئے۔

کتاب جمال ابہی

چند چیزوں کی وجہ سے اردبیل بہائیوں کا پسندیدہ شہربن گیا تھا:

حروف میں سے حی : علی محمد باب کے اٹھارہ پیرووں میں سے ایک آدمی ملایوسف اردبیلی تھا جسے اردبیل والے نہیں جانتے ہیں لیکن بہائیوں کی تاریخی کتابوں میں اس کا نام بیان ہواہے ۔ البتہ اردبیل کے نزدیک ملا یوسف نام کا ایک گاؤں ہے ۔ بعض بہائی کہتے ہیں کہ یہ گاؤں مذکورہ ملا یوسف ہی کی طرف منسوب ہے اور اسی وجہ سے اس دیہات کو متبرک اور مقدس جگہ سمجھتے ہیں ۔

تقریبا۱۳۳۸ ھ ق میں اردبیل میں امین العلماء نام کا ایک آدمی رہتا تھا لوگوں میں مشہور تھا کہ یہ بہائیت کی طرف مائل ہے۔ ماہ رمضان میں اسے ایک شخص نے کچھ کھاتے پیتے دیکھ لیا۔ اس نے اس سے کہا کہ رمضان میں تم کھلم کھلا کیوں کھا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ آج ۲۱/رمضان ہے آج کے دن حضرت علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا ہے خدائی نظام برباد ہو گیا ہے اور کسی کو کسی سے کوئی ربط نہیں ہے اگر تم بھی اپنا روزہ توڑ دو گے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اسے غیظ آگیا اور چاقو سے اس کا کام تمام کر دیا۔ بہائی لوگ اسے بہائیت کا ایک شہید خیال کرتے ہیں۔

اردبیل میں بہائیوں کے دو یا تین گھر

وقف تھے ۔ ان میں سے ایک کو انھوں نے خفیہ طور پر بہائیت کے کتابخانے میں تبدیل کر دیا تھا ۔

اردبیل شہر میں بعض حکومت کے آدمی جیسے سیاح اور انصاری بہائی تھے۔ ان چیزوں کی وجہ سے بہائی مبلغین خصوصا گرمی کے زمانہ میں جب اردبیل کا موسم معتدل ہوتا ہے کی آمد و رفت بہت زیادہ ہوتی تھی ۔ان مبلغین کے مخاطب زیادہ تر جوان اور اسٹوڈنٹ ہوتے تھے۔ بہائیوں کی ان نشستوں میں جانے والے بعض جوان آیت اللہ موسوی اردبیلی کی خدمت میں حاضر ہوتے، سنی ہوئی باتوں کو ان سے نقل کرتے تھے اور مناسب جواب طلب کرتے تھے۔ آپ کی رہنمائی یہ ہوتی تھی کہ ان کی باتوں اور دلیلوں کو سنو مگر جواب نہ دو۔ جواب کسی مناسب موقع پر دیا جائیگا ۔ انھوں نے بہت سا مواد حاصل کرکے آپ سے اس کے جواب حاصل کیے ۔ جوابات کی تنظیم اور انھیں مستند بنانے کے لیے خود بہائیوں کے اصلی منابع کی تحقیق ضروری تھی چنانچہ یہ کام انصاری کے ذریعہ جو کہ بہائیت کے ہی زمرہ میں تھا انجام پذیرہوا۔ ان سوالات و جوابات اور بہائیوں کے بارے میں مفصل یادداشتوں کے مجموعہ سے آپ نے جمال ابہی نامی کتاب تالیف کی جس کے پہلے ایڈیشن کی تعدادہزار تھی اور اب نایاب ہے۔ موسیٰ صدر نے جب یہ کتاب دیکھی تو انھیں بہت پسند آئی ،آپ اس کا عربی ترجمہ کرانا چاہتے تھے لیکن انھیں اس کی فرصت نہ مل سکی۔

اردبیل سے تہران روانگی

اردبیل میں آپ کی بڑھتی ہوئی سیاسی فعالیت اس بات کا باعث ہوئی کہ حکومت کے امنیتی ادارے آپ کے اوپر سخت طریقہ سے نظر رکھیں۔ یہاں تک کہ ساواک والوں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں آپ کا آرام و سکون آپ کے گھر میں بھی سلب ہو گیا۔ آپ نے اردبیل سے کسی دوسرے شہر میں ہجرت کرنے کا امام خمینی سے مشورہ کیا۔ امام خمینی نے فرمایا کہ ہم بہتر نہیں سمجھتے کہ علماء شہروں کو ترک کرکے تہران یا قم چلے جائیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ حالات کی وجہ سے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔اپنے حالات کو آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں اورآپ مناسب منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

امام خمینی کے مشورہ کے بعد کہ امام نے آپ کو مناسب فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا تھا اردبیل سے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن ہجرت کے لیے

ساواک کے ایجنٹوں کو غافل کرنے اور پیش آنے والے خطرات کا سد باب کرنے کے لیے زمینہ کا ہموار کرنا ضروری تھا۔

۱۹۶۸ ء میں مشہد کے زلزلہ کی وجہ سے مشہد کے مضافات کو شدید نقصان پہنچا۔ حکومت وقت نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے لیے یہ چال چلی کہ عوام سے مدد حاصل کرکے متاثر ہونے والے لوگوں میں تقسیم کی جائے لہٰذا مکرر بیانیے آئے اور پوسٹر لگائے گئے۔ شہروں میں کیمپ لگائے گئے اور لوگوں سے مدد طلب کی لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکی۔ دوسری طرف شہروں کے علماء نے مستقل طور پر عوام سے امداد حاصل کی ۔

اس سلسلہ میں آیت اللہ موسوی اردبیلی نے بعض دوسرے احباب کے ساتھ اردبیل میں ایک اطلاعیہ صادر کیا اور لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور اعانت کی جمع آوری میں مشغول ہوگئے۔ مشہد میں آیت اللہ میلانی کی سکونت کی وجہ سے یہ طے پایا کہ جو امدادی سامان جمع ہوا ہے اسے زلزلہ آنے والے علاقہ میں خرچ کرنے کے لیے آیت اللہ میلانی کی خدمت میں ارسال کیا جائے۔ اس واقعہ کی وجہ سے حضرت آیت اللہ موسوی اردبیلی امداد رسانی کے سکریٹری مقرر ہوئے اور جمال ابہی کتاب کی طباعت کے بہانہ سے آپ کسی کو یہ بتائے بغیر کہ اردبیل لوٹنے کا ارادہ نہیں ہے تہران چلے گئے۔

تہران میں سکونت اور سرگرمیاں

حضرت آیت اللہ موسوی اردبیلی ۱۹۶۸ ء گرمی کے زمانہ میں تہران پہنچنے کے چند روز بعد نصرت روڈ پر واقع مسجد امیرالمومنین ؑ میں نماز جماعت پڑھانے کے اسباب فراہم ہوگئے۔ گھر مل جانے کے بعد آپ کے اہل و عیال بھی اردبیل سے تہران چلے گئے۔

تہران میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے نماز جماعت پڑھانے اور تقریروں کے علاوہ بعض جوان اور مستعد طلبہ کے لیے نصرت مسجد میں فقہ ، کتاب خمس اور اسفار کی پہلی جلد کا درس دیناشروع کیا۔ اسی طرح اپنے بعض ہم فکر دوستوں کے ساتھ فلسفی مباحثے شروع کیے، چند روز کے بعد اپنے ہم فکر دوستوں، شہید آیت اللہ بہشتی، شہید آیت اللہ مطہری، شہید حجۃ الاسلام مفتح کے ساتھ علوم قرآن کی تحقیق کا آغاز کیا۔ علوم قرآن کی گہری تحقیق کے لئے مناسب جگہ اور بڑے کتب خانہ کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے مسجد امیرالمومنین کے جوار میں ایک جگہ مل گئی جہاں تحقیقی کام کرنے کے لئے ایک کتب خانہ بنایا گیا۔ مزید برآں نماز مغربین کے بعد مسجد امیرالمومنین میں مستقل طور پر تفسیر قرآن کا درس دیتے تھے۔

چونکہ اس زمانہ میں الحادی افکار کا بڑا زور تھا اس لئے ایک ایسے ادارہ کی تاسیس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ جس میں دینی معارف کی تحقیق و بیان کا کلاس قائم کیا جاسکے اور عقیدتی و ثقافتی مسائل بیان کئے جائیں ۔ اس مقصد کے لئے آپ نے پرچم روڈ پر ایک مرکز توحید اور مسجد تعمیر کرائی، جس میں ایران کے مفکرین و مقررین نے درس دئے جو کہ آج تک اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ ان سب کو موسسۂ خیریۂ مکتب امیرالمومنین ؑ چلاتا ہے اس کی تفصیل بعد میں بیان کی جائے گی۔

اس قسم کی سرگرمیاں ۱۹۷۹ ء تک جاری رہیں ۔ اسی سال ایرانی قوم کے مبارزات میں شدت پیدا ہوئی حضرت آیت اللہ موسوی اردبیلی نے جو کہ امام خمینی کے قریبی اور انقلاب اسلامی کے رکن شمارہوتے تھے، انقلاب سے پہلے بھی تمام سیاسی میدانوں میں اور انقلاب کی پہلی دہائی میں جو بنیادی کردار ادا کیا ہے اسے اس مختصر سے سوانح حیات پر مشتمل صفحات میں بیان نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ہم اس زمانہ کی صرف آپ کی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔

علمی و ثقافتی سرگرمیاں

فقہ و اصول کے درس خارج کے ساتھ طلبہ کو منظومہ کی پہلی جلد کا درس اور اصول فلسفہ و روش رئالیسم کا درس دیتے رہے۔ اسٹوڈنٹ کے لئے تکامل، فلسفہ، تاریخ اور دیگر فلسفی اہم مباحث کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مسجد میں آنے والے نمازیوں کے لئے تفسیر کا درس شروع کیا، مبانی فلسفی اور علوم قرآنی کے مسائل سے متعلق متفکرین کے مختلف گروہوں سے بحث و گفتگو تہران میں قیام کے زمانہ میں علمی و ثقافتی مشغولیتوں میں سے ہے۔ ان سرگرمیوں کی وسعت سے شاہی حکومت کو شدید خطرات کا احساس ہونے لگا اور ساواک نے مرکز تحقیقات پر حملہ کرکے تمام اسباب و وسائل کو برباد کردیا ۔ کتب خانہ بھی تاراج ہوگیا یہاں تک کہ موسسہ میں مشغول محققین کی یادداشتیں بھی برباد کر دی گئیں اور مرکز بندکر دیاگیا۔

مکتب امیرالمومنین کی تاسیس

۱۹۶۹ ء میں آپ نے ثقافتی امور کو منظم کرنے کے لئے بعض احباب کے تعاون سے موسسۂ خیریۂ مکتب امیرالمومنین کی تاسیس کی۔ الحمد للہ یہ موسسہ تاسیس سے آج تک بہت سے کارنامے انجام دے چکا ہے ۔ تین مساجد، ایک ثقافتی مرکز، چار پرائمری جونیر ہائی اسکول اور یونیورسٹی بن چکی ہے اور ابھی تک اس کی فعالیت جاری ہے ۔ انقلاب اسلامی کی پہلی دہائی یعنی۱۹۷۹ ء سے ۱۹۸۹ ء تک ملک کے مخصوص حالات کی وجہ سے آپ کی زندگی میں بھی ایک انقلاب آگیا تو آپ نے اپنی فعالیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک میں آپ علمی اور ثقافتی امور انجام دیتے تھے اور دوسرے میں سیاسی مسائل اور حکومتی و اجرائی کام انجام دیتے تھے۔ہم کہہ چکے ہیں کہ اس مختصر صفحات میں صرف علمی اور ثقافتی خدمات کو بیان کریں گے کیونکہ دوسرا حصہ تفصیل طلب ہے جس کی گنجائش ان صفحات میں نہیں ہے۔

انقلاب کی پہلی دہائی کے کارنامے

انقلاب کے ابتدائی گیارہ برسوں میں آپ کی علمی اور ثقافتی مشغولیت نے خاص صورت اختیار کی تھی۔ آپ کی نئی مشغولیتوں میں عدالت کے کیفری اور جزائی و حقوقی قوانین کی تدوین اور ان کی فقہ اسلامی اور موازین شرع سے تطبیق تھی۔ چونکہ انقلاب سے قبل یہاں تک کہ عمومی مجازات سے متعلق قوانین بھی یوروپی تھے بنا بر ایں فقھاء اور حقوق داں افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی اور مفکرین کے تعاون سے یہ مہم سر ہوئی اور نئے قوانین شرع کے مطابق منظم کرکے پیش کردئے گئے۔ واضح رہے کہ یہ کام حسب ضرورت اور شرع کے مطابق قوانین کی تدوین کے پیش نظر انجام پایا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ قانون بالکل کامل اور جامع ہے اور اس میں کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ یہ نظر ثانی اور اصلاح کا محتاج ہو۔

دوسری طرف کبھی عدالتوں میں ایسے مسائل سامنے آتے ہیں جنکا تدوین یافتہ قوانین میں کہیں ذکر نہیں ہوتاہے اور قاضی بھی موجودہ قوانین سے مسئلہ کا استخراج نہیں کر سکتا تو اس وقت قانون اسلامی کا آرٹیکل نمبر۱۶۷ قاضی کا فریضہ معین کرتا ہے کہ وہ تدوین یافتہ قوانین میں ہر دعوے کا حکم تلاش کرنے کی کوشش کرے اگر حکم نہ مل سکے تو معتبر اسلامی منابع یا معتبر فتاویٰ سے مدد لے کر حکم صادر کرے ۔

واضح سی بات ہے کہ تمام قضات اور جج حضرات اس مہم سے بہ آسانی عہدہ بر آنہیں ہوسکتے خصوصا نئے پیدا ہونے والے مسائل کو تلاش نہیں کرسکتے کیونکہ فقہ کے معتبر منابع میں بھی ان کا حکم نہیں ہے۔ ایسے مواقع پر عدلیہ کے نئے مسائل کے شرعی احکام کا استخراج آپ کی دوسری ذمہ داری تھی ۔

عدلیہ کی دوسری مشکل رٹائرہوجانے والے قاضیوں، ججوں کو نئے قاضیوں کے ساتھ مناسب جگہ پر مقرر کرنا تھاکہ ان میں سے اکثر ادارہ کے کاموں سے واقف نہیں تھے اور چونکہ شریعت اسلام کے لحاظ سے قضاوت کے لئے فقہی مبانی میں درجہ ایک پر فائز ہونا شرط ہے اس لئے ضروری تھا کہ قضاوت میں فضلاء اور حوزہ کے طلبہ سے استفادہ کیا جائے۔ بلکہ حوزۂ علمیہ قم و نجف میں اساتذہ زیادہ تر کتاب صلو ۃ و کتاب صوم پڑھاتے تھے اور کتاب قضا، حدود، دیات و قصاص پڑھانے کا حوزات میں رواج نہیں تھا ۔ جو لوگ عدلیہ میں شامل تھے ان میں سے اکثر مسائل قضا سے واقف نہیں تھے دوسری طرف قضا کی کتب میں جو کچھ لکھا ہے وہ آج کے معاشروں کی حالت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ ساری چیزیں اکٹھا ہوگئیں اور عدلیہ کے لئے بہت مشکلات کھڑی ہوگئیں۔

بیک وقت ان دو مشکلوں کو حل کرنے کے لئے آیت اللہ موسوی اردبیلی نے قضاوت کیلئے کتاب قضا کا درس خارج شروع کیا اور ساتھ ہی فقہ القضاء نامی کتاب لکھ ڈالی اوراس میں ان تمام نئے مسائل سے بحث کی جو کہ فقہ کی پہلی کتابوں میں نہیں تھے لیکن موجودہ زمانہ میں ان کا پیدا ہونا احکام شرعی کو سمجھنے کا اقتضا ء کرتا تھا۔
آپ کی دوسری فعالیت اقتصادی مسائل جیسے بینک اور سکہ، ملک کے ہونے والے معاملہ اور ملک پر حاکم اقتصادی نظام سے علمی و فقہی بحث کرنا تھی کہ اس چیز کی اسلامی جمہوریہ ایران کو شدید ضرورت تھی اور اس سے قبل اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر کوئی اجرائی کام نہیں ہوا تھا ۔ اس سلسلہ میں خصوصا نظام اقتصاد و سوشلسٹ اقتصاد اور پھراسلام کے اقتصادی نظام سے ان کے موازنہ کے لیے وسیع مطالعہ کی ضرورت تھی اس کو بھی آیت اللہ موسوی اردبیلی نے انجام دیا اس کے نتائج لکھے گئے۔

دوبارہ قم کی طرف ہجرت

۴ مئی ۱۹۸۹ ء کو امام خمینی نے وفات پائی۔ حضرت آیت اللہ موسوی اردبیلی نے جو کہ امام خمینی کی حیات میں بھی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا بارہا تقاضا کرچکے تھے لیکن امام خمینی نے مثبت جواب نہیں دیا تھا اسی سال ماہ شہریور میں قم ہجرت کی۔ آپ کی نئی مشغولیات حسب ذیل ہیں:

تدریس، بحث و تحقیق

آپ نے قم مقدسہ میں ابتدائے قیام ہی سے فقہ و اصول کے درس خارج کا آغاز کیا۔ اس مدت میں آپ نے۱۹۹۷ ء میں اصول کے درس خارج کا ایک دورہ مکمل کیا اور اسلام کے فقہ جزائی جو کہ قضا، قصاص، دیات اور شہادات کی تدریس کی اور انھیں لکھا بھی۔ اب تک فقہ القضاء، فقہ الحدود والتعزیرات، فقہ الدیات اور فقہ القصاص نامی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور فقہ الشہادات زیر طبع ہے۔ اسی زمانہ میں حوزہ علمیہ قم کی تعطیلات میں کتاب الشرک مباحث اجتہاد و بیمہ کا درس بھی دیا۔ ان میں سے فقہ الشرکۃ و کتاب التأمین ایک جلد میں چھپ چکی ہے۔
کیفری بحث کو ختم کرنے کے بعد آپ نے اسلام کے مدنی و حقوقی مباحث کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اہمیت اور معاشرے کی ضرورت کے تحت مضاربہ کو اولویت دی اور اس کی تدریس کو ختم کیا۔ یہ بھی انشا اللہ جلد ہی زیور طبع سے آراستہ ہوگی۔

مفید یونیورسٹی

جس زمانہ میں حضرت آیت اللہ موسوی اردبیلی قم میں زیر تعلیم تھے اس زمانہ میں ہر ایک درد آشنا طالب علم کے مانند حوزہ کے نواقص کے بارے میں سوچتے تھے ان کی آرزو تھی کہ حوزہ کے نواقص برطرف ہوجائیں۔

حوزہ میں بڑا نقص یہ ہے کہ اس کا نصاب تعلیم قدیم ہے اس میں کسی قسم کی رد و بدل نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا انقلابات کے نتیجہ میں انسان کی زندگی اور معاشرہ میں جو نئے مسائل وجود میں آگئے ہیں ان کے احکام ان کتابوں میں دستیاب نہیں ہوتے یا ان کے بارے میں سیر حاصل بحث نہیں ہوئی ہے۔ مثلا حقوق خصوصا بین الاقوامی حقوق، جیسے سرحدوں کے احکام، قومیت، اقتصادی مسائل، بینک، بغیر سود کا بینک، بیمہ اور سکہ وغیرہ اہم مسائل ہیں نیز حکومتی و سیاسی مسائل،نئے اجتماعی نظام سے متعلق فقہی بحث و تحقیق،اسی طرح سماجیات، جدید فلسفہ و کلام اور سیاسی علوم وغیرہ سے حوزات علمیہ میں مکمل طور پر بحث نہیں کی جاتی جبکہ اسلامی معاشرہ کو ان کی شدید ضرورت ہے ۔ اب بھی اس سلسلہ میں بڑا خلأ پایا جاتا ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ حکومت اسلامی چلانے کے لئے ماہر اور پابند افراد کی ضرورت ہے جوکہ حوزوی علوم سے مکمل آشنائی کے ساتھ جدید علوم سے بھی بہرہ مند ہوں اور نئے مسائل کو حل کرنے اور پیش آنے والے مسائل کے سلسلہ میں شریعت اسلام کے نقطۂ نظر کو بیان کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہوں۔

ان مشکلات کو حل کرنے اور حوزات کے نقص کو برطرف کرنے کیلئے آپ نے اس وقت مفید یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ آپ نے دوبارہ قم میں سکونت اختیار کی۔ اس یونیورسٹی کی تعمیر و تاسیس کا مقصد یہ ہے کہ اس میں علوم انسانی کی تعلیم دی جائے اور دیگر مکاتب کے ساتھ اسلام کے نظریات کی بھی تحقیق کی جائے۔

فی الحال اس میں حقوق ، اقتصاد، فلسفہ، علوم سیاسی اور علوم قرآنی کی (ام -اے ) تک تعلیم دی جاتی ہے آئندہ یونیورسٹی ہی میں ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔ مزید بعض دوسرے شعبوں کا بھی اضافہ کیا جائے گا۔ وزرات تعلیم کے قوانین کے مطابق اس وقت یونیورسٹی میں چھ سو طلبہ تعلیم پارہے ہیں اور ساتھ ہی حوزہ کی تعلیم و تحقیق کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس یونیورسٹی میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ طالب علم نے لمعہ اور اصول مظفر تمام کرلی ہو اور ملک کے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی ہو مزیدبرآں مذکورہ یونیورسٹی میں داخلہ کے بعد لازم ہے کہ طالب علم یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حوزہ کی تعلیم بھی جاری رکھے ۔

فہرست تالیفات


فقہ و اصول
فقہ القضاء
فقہ الحدود والتعزیرات
فقہ الدیات
فقہ القصاص
فقہ الشرکۃ والتامین
فقہ المضاربہ
حاشیہ برخیارات مکاسب
اصول فقہ کامل دورہ
دوسرے موضوعات
جمال ابہی در رد بہائی
مقالات در تفسیر قرآن
اخلاق میں دئے گئے دروس
چار جلد اقتصاد
ہمپاے انقلاب(خطبات نماز جمعۂ تہران)
اقتصاد اسلامی کا ایک دورہ