")
سراپا تسلیم و تواضع کے
فضائل اخلاقی ناصر مکاریان

تربیت کے متعلق اہم ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ،نمونہ اور آئیڈیل کا ہے کیونکہ جس کی تربیت کی جاتی ہے اس کے کردار، رفتار اور طبیعت میں کسی شخصیت کے نمونے اور آئیڈیل کی تاثیر دوسروں چیزوں سے کہیں زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی اس طریقہ و روش کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن کریم نے بھی اپنی بہت سی آیتوں کو یکتا پرست اور ثابت قدم مردوں اور عورتوں سے مخصوص کیا ہے کہ جنہوں نے طرح طرح کے سخت حالات و شرائط میں اپنی لیاقت، صلاحیت اور شخصیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حق محوری و حقانیت کو ثابت کیا ہے۔

اس مہم امر تک پہنچنے اور اس کے حصول کے لئےمصنف کی یہ سعی و کوشش ہے کہ پہلی یادداشت میں علی بن جعفر، ائمہ معصومین (ع) کے سامنے سراپا تسلیم و تواضع کے نمونہ ، کہ جس میں غور وفکر کرنے سےمفکرین اور عقلمندوں کے ذہن کے دریچےکمال، کامیابی اور فلاح و بہبودی کی طرف کھل جائیں۔

قم ـ ناصر مکاریان

علی بن جعفر، ائمہ معصومین (ع) کے سامنے سراپا تسلیم و تواضع کے نمونہ

ولادت:

" علی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین "چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے بیٹے، امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھائی، دوسری صدی هجری کے آخر اور تیسری صدی هجری کے اوائل میں رھے ھیں اور شیعوں کے نزدیک قابل اعتماد راویوں میں سے هیں ۔

اگرچه علم رجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان کی ولادت کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا هے لیکن بعض روایتوں (طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفه الرجال (معروف به رجال کشی)، طبع دانشگاه مشهد، ص 355، رقم  663 ، روايت فيض بن مختار) سے استفاده هوتا هے کہ وه اپنے بلند و بالا مرتبہ بھائی امام موسی کاظم علیہ السلام سے ایک یا دو سال سے زیاده چھوٹے نہیں تھے اور ان کی ولادت تقریباً سنہ 129 ھ، یا ۱۳۰ ھ، میں هوئی هے ۔ لیکن سید مهنا کہتے هیں وه اپنے والد کی شهادت کے وقت بچے تھے ۔ (خوئي، ابو القاسم، معجم رجال الحديث،ج11،ص291)- اور دوسری جگہ منقول هے کہ وه اپنے والد کی شهادت کے وقت دو سال کے تھے اور حضرت امام صادق (ع) نے عُرَیض نامی قریہ کی ان کے لئے وصیت فرمائی تھی اور جب علی بن جعفر (ع) بڑے هوئے تو اس جگہ کو اپنی رهائش گاہ و سکونت کے لئے انتخاب کیا۔ (میرزا حسین نوری، مستدرک الوسائل، خاتمه، طبع جدید، ج 4، ص486) -

آپ کے والد بزرگوار امام جعفر صادق (ع) کی ولادت سنہ83 هجری میں هوئی اور سنہ 148 هجری میں پینسٹھ سال کی عمر میں منصور عباسی کے ذریعہ زهر دیا گیا جس کی وجہ سے آپ درجہ شهادت پر فائز هوئے ۔ (كليني، اصول كافي، ترجمه سيد جواد مصطفوي، ج 2، ص 377) حضرت (ع) کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے علی سب سے چھوٹے تھے اور زندگی کے ابتدائی حصہ میں سایہ پدری سے محروم هوگئے ۔(معجم رجال الحديث، ج 11، ص 291 و 292، تاريخ قم، محمد بن حسن قمي، ص 224) اور اپنے بھائی امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیر سایہ تربیت و پرورش پائی اور علم و اخلاق بلند درجات پر فائز هوئے ۔

القاب:

ان کی کنیت ابو الحسن تھی اور خاندانِ وحی و امامت سے منسوب هونے کی وجہ سے آپ کو درج ذیل القاب (حسینی)، (هاشمی) اور (علوی) سے یاد کیا جاتا هے ۔ اسی طرح ان کے مدینہ میں رشد و نمو کی بناپر (مدنی) کہتے هیں، لیکن ان کا سب سے زیادہ مشهور لقب (عُرَیضی) هے، چون کہ انہوں اپنی عمر کا زیاده تر حصہ (عریض) نامی قریہ میں گزارا هے جو مدینہ سے ایک فرسخ کی دوری پر هے، اسی وجہ سے ان کے بیٹے بھی (عُرَیۡضِیون) کے نام سے معروف هیں۔ (احمد بن علي نجاشي، رجال النجاشي، طبع جامعة مدرسين، ص 251 و 252، رقم 662، مسائل علي بن جعفر و مستدركاتها، مؤسسه آل البيت، ص 17)

علمی شخصیت اور فضائل :

 علی بن جعفر (ع) ایک بزرگ و محترم راویوں میں سے هیں کہ جنہوں نے بے شمار حدیثیں نقل کی هیں اور احادیث کے نقل کرنے میں آپ کی ایک استوار و مستحکم روش رهی هے ۔ وه ایک بہت متقی و پرهیزگار، عالم اور برابر اپنے ارجمند بھائی امام موسی کاظم (ع) کے ساتھ ساتھ رهے ھیں اور بہت زیاده احادیث حضرت (ع) سے نقل کی هے۔ (الارشاد فی معرفه حجج الله علی العباد، ترجمه رسولي محلاتي، ج 2، ص 206 و 208)

فقهاء و محدثین اور علم رجال کے علماء نے ان کی فضیلت، وثاقت اور ان کی روایتوں پر اتفاق نظر رکھتے هیں، ان کے متعلق بزرگوں کے کلام کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں، شیخ مفید (متوفي 413 هـ.ق) کہتے ہیں (علی بن جعفر اور ان کے بھائی اسحاق یہ دونوں ایسی شخصیت هیں کہ جن کے فضائل و تقویٰ کے بارے میں کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا هے ۔ (مفيد، محمد بن محمد بن نعمان الارشاد فی معرفه حجج الله علی العباد ، ج 2، ص 216)

شیخ طوسی (۳۸۵ـ 460 هـ.ق) نے کتاب علم رجال میں ان کے نام کو تین جگہوں پر یعنی امام صادق (ع) و امام موسی کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے اصحاب میں ذکر کیا هے اور تیسری جگہ پر ان کے مورد وثوق ھونے کی تصدیق کی هے ۔ انھوں نے اپنی کتاب فهرست میں ان کے بارے میں اس طرح اظهار نظر کیا هے: علی بن جعفر، امام موسی کاظم (ع) کے بھائی کی عظیم شخصیت هے اور وه قابل اطمینان هیں ۔ کتاب مناسک اور اسی طرح کتاب مسائل جسے انھوں نے اپنے بھائی موسی بن جعفر (ع) سے پوچھا تھا وه انہی کی هے ۔ (طوسي، محمد بن حسن ، رجال شيخ طوسي، ص 241 رقم 289 و ص 353 رقم 5 و ص 379 رقم 3 ، طوسي، الفهرست، ص 87 ، رقم 367)

علمائے متاخرین میں سے سبھی نے ان کی تعریف و تمجید کی ھے یا موثق جانا هے ۔ (ابن شهر آشوب، مناقب ، ج 4، ص 325،  حلي، حسن بن یوسف، متوفي 726، خلاصه الاقوال في معرفه الرجال، طبع مؤسسه نشر اسلامي، ص 175، رقم 515، ابن داود، حسن بن علی، رجال، ص 136، رقم 1026، مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، طبع بیروت، ج 48، ص 300)

امامت و ولایتِ معصومین (ع) کی پاسبانی:

علی بن جعفر نے پانچ معصوم اماموں (ع) کا زمانہ پایا هے اور ان میں سے تین بزرگوں سے استفاده کیا هے:

ان کے والد امام جعفر صادق (ع) اور بھائی امام کاظم (ع) هیں کہ علی بن جعفر نے اپنے بھائی کے محضر مبارک سے استفاده کیا جس کا ماحصل ایک کتاب بنام مسائل علی بن جعفر تالیف هوئی هے ان کے بھتیجے امام رضا علیہ السلام هیں ۔

 انہوں نے امام محمد تقی (ع) اور امام علی نقی (ع) کا زمانہ بھی درک کیا هے ۔(خوئی ، ابو القاسم، معجم رجال الحديث،ج11،ص289) لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ انہوں نے ان دو بزرگوارں سے کوئی حدیث نقل کی هو ۔

امام صادق (ع) کی شهادت کے بعد اور امام کاظم (ع) کی امامت کے دوران بہت سے گمراه و منحرف فرقے وجود میں آئے جن میں سے بعض درج ذیل هیں:

1- اسماعیلیہ: یہ لقب هے ان تمام فرقوں کا ھے جنہوں نے امام صادق (ع) کے بیٹے اسماعیل اور ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل کی امامت کے قائل تھے ۔ اس فرقہ کے شعبوں کو دوسرے ناموں سے جیسے قرامیطہ، تعلیمیہ، باطنیہ اور ملاحده بھی کہا جاتا هے ۔(فرق الشيعه، نوبختي، ترجمه و تعليقات محمد جواد مشكور، ص 101، حاشیہ)

2- سمیطیہ: یہ وه فرقہ هے کہ جو امام صادق (ع) کے بعد محمد بن جعفر ملقب بہ دیباج اور ان کے بیٹوں کی امامت کو تسلیم کرتے هیں، اس فرقہ کا نام اپنے پیشوا یحییٰ بن ابی سمیط کے نام پر رکھا گیا هے ۔(فرق الشيعه، ص 112)

3- فطحیہ: یہ وه فرقہ هے جو امام صادق علیہ السلام کے ایک بیٹے بنام عبدالله بن افطح کی امامت پر عقیده رکھتا هے ۔ عبدالله امام صادق علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کے بعد اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور چون کہ عبدالله کے پیر چوڑے اور یا ایک نقل کے مطابق ان کی پیشانی چوڑی تھی جس کی وجہ سے ان کو افطح اور ان کے تابع فرقہ کو فطحیہ کہا جاتا هے ۔(اردبیلی، محمد بن علی، جامع الرواه،ج2،ص546)

لیکن علی بن جعفر نے بالکل ان فرقوں کا ساتھ نہیں دیا۔ دوسری طرف سے جن دنوں میں ائمہ معصومین (ع) کے لئے ستمگر حکمرانوں کی طرف سے گھٹن کا ماحول بنایا گیا تھا، ان ایام میں اهلبیت عصمت و طهارت علیھم السلام کے ماننے والے اور دلداده افراد اپنے جان کی بازی لگا کر اپنے محبوب پیشوا سے تعلّق و رابطہ رکھتے تھے اور اپنے مسائل کا جواب و مشکلات کا حل مخلص افراد کے ذریعہ ائمہ معصومین علیھم السلام سے دریافت کرتے تھے ۔ علی بن جعفر ان لوگوں میں سے ایک فرد هیں جنہوں نے ایک خاص شیوه کے تحت اپنے محترم بھائی امام کاظم (ع) کے رابطہ کو ماننے والوں سے قائم رکھا اور شیعوں کے سوالوں کے جوابات کو امام (ع) سے دریافت کرکے ان  تک پہنچاتے تھے۔

اسی طرح زمانے کے حکمرانوں کی طرف سے جو گھٹن، تشدّد اور پُرآشوب ماحول بنایا گیا تھا حق و حقیقت کی شناخت یعنی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کی شناخت بہت سے لوگوں کے لئے دشوار هوگئی تھی اور امام (ع) کی اتباع و پیروی جان کی بازی لگائے اور فداکاری کے بغیر ممکن نہ تھی، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ یہاں تک کہ امام (ع) کے بعض قریبی افراد حضرت کے دشمنوں سے جاملے ۔ ان افراد میں سے ایک محمد بن اسماعیل بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین، حضرت امام موسی کاظم (ع) کے بھتیجے هیں، جس نے امام علیہ السلام کی عنایت و امداد کے باوجود اپنے کو بغداد میں هارون کے پاس پہنچایا اور خلیفہ کی حیثیت سے اس کو سلام کر کے کہا: میں یہ گمان نہیں کرتا کہ روئے زمین پر دو خلیفہ هوں، میں نے دیکھا هے کہ لوگ میرے چچا موسیٰ بن جعفر (ع) کو خلیفہ  کے عنوان سے سلام کرتے هیں ۔ هارون نے اس کی اتنی بڑی خدمت کی بناپر اسے ایک لاکھ درهم دیئے لیکن خداوند عالم نے اسے خناق یعنی گلے کی بیماری میں مبتلا کردیا اور اسی روگ میں دنیا سے چلا گیا جس کی بناپر ان میں سے ایک درهم سے بھی استفاده نہ کرسکا ۔ (كليني، اصول كافي، ترجمه سيد جواد مصطفوي ، ج 2، ص 400 ـ 402، اختيار معرفة الرجال، ص 263 ـ 265 ، رقم 478)

لیکن اسی واقعہ کے بعد هاورن، اس کے اور اس جیسوں کی باتوں کے سننے اور چغلخوری کے بعد امام موسی کاظم (ع) کے قتل کی سازش رچنے لگا اور امام (ع) کو زهر دے کر شهید کردیا ۔

مگر علی بن جعفر کبھی بھی اپنے محترم بھائی امام موسی کاظم (ع) سے الگ نہیں هوئے اور همیشہ ان کے پاسباں رهے ۔ وه کہتے هیں: میں نے اپنے بھائی کے ساتھ جبکہ وه اپنے اهل و عیال کے ساتھ رھتے تھے۔ چار مرتبہ پاپیاده عمره سے شرفیاب هوا، ایک مرتبہ 26 دن، دوسری مرتبہ 25 دن، تیسری بار 24 دن اور آخری مرتبہ 21 دن کی مدّت میں عمرہ کے سفر کو طے کیا تھا۔ (قرب الاسناد، عبدالله بن جعفر حميري، ص 299، علی بن جعفر، المسائل، ص310، رقم 873، بحارالانوار، طبع بیروت، ج 48، ص 100) 

امام موسی کاظم (ع) کی شهادت کے بعد بھی بعض گمراه فرقوں جیسے (واقفیہ) وغیره نے لوگوں کو امام رضا (ع) کی ولایت سے منحرف کیا، لیکن علی بن جعفر ان فرقوں میں سے کسی ایک کے تابع نہ هوئے اور اپنے بھتیجے امام رضا (ع) کی برحق امامت اور ان کے بعد ان کے بیٹے امام محمد تقی (ع) اور پھر امام علی نقی (ع) کی امامت کو قبول کیا اور اسی پر گامزن رهتے هوئے ان کے مدافعین میں رهے ۔

درج ذیل روایتیں ان کے صحیح اور راسخ العقیده ھونے کی نشاندهی کرتی هیں:

1- حسن بن فضال کہتے هیں: میں نے علی بن جعفر سے سنا کہ وه کہہ رهے تھے: (میں اپنے بھائی امام موسی کاظم (ع) کی خدمت میں موجود تھا جبکہ ۔۔ خدا کی قسم ۔۔ وه میرے والد کے بعد روئے زمین پر الله کی حجت و امام تھے اسی اثناء میں ان کے بیٹے علی (بن موسی (ع)) داخل هوئے ۔ میرے بھائی نے مجھ سے فرمایا: اے علی! یہ تمهارے صاحب (امام) هیں یہ میری بہ نسبت میرے مرتبہ پر فائز هیں جس طرح میں اپنے والد کے مرتبہ پر فائز هوں ۔ خدائے متعال تم کو ان کے دین پر ثابت قدم رکھے، میں رونے لگا اور اپنے آپ سے کہا خدا کی قسم یہ اپنی موت کی خبر دے رهے هیں ۔ اس کے بعد فرمایا: اے علی! یقینی طور پر الله کا حکم میرے متعلق جاری هوگا ۔ میں بھی اسی راستے پر چلوں گا جس پر رسول خدا صلی الله علیہ وآله وسلم، امیر المؤمنین (ع)، فاطمه (ع)، امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) چلے هیں، حضرت (ع) نے یہ بات مجھ سے هارون رشید کے دو باره بلانے سے تین دن پہلے کہی تھی ۔ (علی بن جعفر، المسائل، ص347 و 348، رقم 856، بحار الانوار، طبع بیروت، ج 49، ص 26 و 27، رقم  45)

2- زکریا بن یحییٰ کہتے هیں: میں نے سنا کہ علی بن جعفر، حسن بن حسین، امام زین العابدین علیہ السلام کے بیٹے سے کہہ رهے تھے: خداوند عالم نے علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی مدد فرمائی جس وقت ان کے بھائی اور چچا ان پر ظلم و ستم کر رهے تھے۔ (علی بن جعفر، المسائل، 321، رقم 805، کليني، محمد بن يعقوب، الکافی، طبع اسلامیه، ج 1، ص 322، ح14)

ولایتِ معصومین (ع) کے سراپا تسلیم:

علی بن جعفر کی نمایاں ترین فضیلتوں میں سے یہ هے کہ وه نہ صرف یہ کہ ولایت و امامت کی معرفت رکھتے تھے اور اسے دنیوی تمام چیزوں سے بلند و بالا جانتے تھے بلکہ انہوں نے ائمہ معصومین علیھم السلام کی ولایت کو  جان و دل سے تسلیم کیا اور بڑے افتخار کے ساتھ اپنے بھائی امام موسیٰ کاظم (ع) اور ان کے بیٹے امام رضا (ع) کی امامت کو قبول کیا اور تمام لوگوں کی طرح ان کے سامنے سر اطاعت و تسلیم کو جھکا دیا۔ اس فضیلت کی عظمت و درخشندگی میں اس وقت اور نکھار آجاتا هے کہ جب وه بڑھاپے اور کہن سالی میں اس کے جبکہ وه خود بھی ایک بزرگ عالم، عظیم مقام و منزلت اور سماجی بلند و بالا شخصیت کے حامل تهے اور امام محمد تقی (ع) جو بھتیجے کے بیٹے هیں جبکہ ان کی عمر آٹھ سال سے کم تھی ان کے سامنے سر تعظیم خم کردیا ۔

وه امام محمد تقی (ع) کو اس طرح پہچنواتے هیں کہ دوستوں کو تعجب هوتا هے اور ان پر اعتراض کرتے هیں مگر وه اپنی رفتار اور عقیده کے صحیح هونے کی تاکید کرتے هیں ۔ درج ذیل دو نمونے اس مطلب کو بیان کرتے هیں:

1- محمد بن حسن بن عمار کہتے هیں: میں دو سال علی بن جعفر (امام رضا علیہ السلام کے چچا) کے پاس تھا اور هر حدیث و خبر کو جو انہوں نے اپنے بھائی امام موسی کاظم (ع) سے سنی تھی، میں لکھ رها تھا۔ ایک دن میں ان کی خدمت میں مدینہ میں بیٹھا هوا تھا کہ ابوجعفر محمد بن علی (امام محمد تقی علیہ السلام) مسجد نبوی میں ان کے پاس آئے علی بن جعفر فوراً کھڑے هوگئے اور بغیر جوتے پہنے و عبا ڈالے تیزی سے ان کی طرف بڑھے، ان کے هاتھ کو چوما اور نہایت احترام کیا۔ ابو جعفر (امام محمد تقی علیہ السلام) نے ان سے کہا: اے چچا آپ تشریف رکھیں، خدا آپ پر رحمت نازل کرے ۔

انہوں نے کہا: میرے آقا، میں کیسے بیٹھوں جبکہ آپ کھڑے هیں؟!۔

جب علی بن جعفر اپنی جگہ پر واپس آئے تو ان کے اصحاب نے ان کی ملامت و سرزنش کی اور کہا: آپ ان کے والد کے چچا هیں، اور ان کے ساتھ اس طرح پیش آرهے هیں؟ انہوں نے اپنے هاتھ سے ڈاڑھی کو پکڑ کر کہا: خاموش هوجاؤ! اگر خداوند عالم نے اس سفید ڈاڑھی والے کو (امامت) کے لائق نہیں جانا اور اس بچہ کو لائق جانا هے اسے اس مرتبہ و مقام پر فائز کیا هے تو کیا میں ان کی فضیلت کا منکر هو جاؤں ؟! میں تمهاری باتوں سے خدا کی پناه مانگتا هوں، میں اس کا بنده هوں ۔ (علی بن جعفر، المسائل، ص 23، اصول كافي، كليني، ترجمه سيد جواد مصطفوي، ج 2، ص 106 و 107 ،بحار الانوار، ج 47، ص 263 و 264، رقم 31، اختيار معرفة الرجال، ص 429 ، رقم 803)

2- حسن بن موسی ابن جعفر کہتے هیں: طبیب معالجہ کے لئے امام محمد تقی (ع) کی پاس آیا تاکہ فصد کھولے اور رگ میں نشتر لگا کر خون نکالے، اس وقت علی بن جعفر اپنی جگہ سے اٹھے اور امام (ع) سے عرض کیا: اے میرے آقا اجازت دیجئے کہ پہلے بلیڈ سے میری رگ پر نشتر لگائے تاکہ بلیڈ کی تیزی و دھار مجھ پر اثر کرے اور آپ کو زیاده تکلیف نہ هو ۔ طبیب کے معالجہ کے بعد جب حضرت (ع) اپنی جگہ سے اٹھ کر جانا چاهتے تھے، علی بن جعفر ان سے پہلے اپنی جگہ سے اٹھے اور امام (ع) کے جوتے کو سیدھا کیا۔ (اختيار معرفة الرجال، ص 430، رقم 804، مسائل علي بن جعفر، ص 23  ،بحار الانوار، ج 47، ص 263 و 264، رقم 31)

شاگردوں کی تعداد:

جیساکہ علم رجال کی کتابوں اور روائی مجموعوں میں ملتا هے کہ چالیس سے زیاده راویوں نے ان کے علمی نعمت کے دسترخوان سے استفاده کیا هے ان میں سے بعض کے نام درج ذیل هیں: (ان کے بیٹے) احمد بن علي بن جعفر، (ان کے بیٹے) محمد بن علي بن جعفر، احمد بن محمد بن ابي نصر بزنطي، اسحاق بن موسي بن جعفر (ان کے بھتیجے)، اسماعيل بن محمد بن اسحاق بن جعفر (بھتیجے کے بیٹے)، حسين بن موسي بن جعفر (بھتیجے)، حضرت عبدالعظيم حسني، عبدالله بن حسن بن علي بن جعفر (پوتے)، عمركي بن علي بوفكي خراساني ۔ (مسائل علي بن جعفر و مستدركات‌ها، ص65 ـ 58)

رحلت:

علی بن جعفر کی تاریخ وفات میں متفقہ نظریہ نہیں پایا جاتا هے کچھ افراد نے ان کی رحلت کو سنہ210 هجری میں لکھا هے ۔ (العبر في خبر من غير، ذهبي، ج 1، ص 358، تهذيب التهذيب، ابن حجر، ج 2، ص 33، الذريعة الي تصانيف الشيعه، ج 20، ص 360)۔

اور کچھ لوگوں نے جیسے سید مهنا نے کہا هے ان کی وفات امام علی نقی (ع) کے زمانے میں هوئی هے۔ (معجم رجال الحديث، خوئی ، ج 11، ص 292)

 دوسرے بعض افراد نے ان کی مدت حیات کو سنہ225 هجری تک بھی بعید نہیں شمار کیا هے ۔ (تنقيح المقال، مامقاني، ج 2، ص 273)

مرقد شریف:

محدث نوری کہتے هیں: (علی بن جعفر کی قبر مطّهر عریض نامی جگہ (تقریباً مدینہ سے ایک فرسخ کی دوری پر) هے اور میں نے بعض سفر کے دوران وهاں کی زیارت کی هے اس پر بہترین بارگاه اور گنبد بنا هوا هے ۔ (مستدرك الوسائل، ج 4، ص 487)

محدث قمی اور کچھ ماهرین انساب کا بھی یہی عقیده هے ۔ (مسائل علي بن جعفر و مستدركات‌ها، ص36 ـ 33، اعيان الشيعه، سيد محسن امين، ج 8، ص 177، اختران تابناك، ج 1، ص 336، گنجينه آثار قم، عباس فيض، ج 2، ص 324، تربت پاكان، ج 2، ص 43، انجم فروزان، عباس فيض، ص 181)

مقاله نگار کو بھی ایک سفر کے دوران اس بارگاه کی زیارت کا شرف حاصل هوا هے لیکن افسوس کی بات یہ هے کہ دوسرے سفر میں دیکھا ان کی بارگاه کو آل سعود کے ایجنٹوں و کارندوں کے هاتھوں ڈھا دیا گیا هے ۔

اس کے مقابلے ایک نظریہ هے وه یہ کہ ملا محمد تقی مجلسی (1003 ـ1070 هـ.ق) کہتے هیں کہ علی بن جعفر کی قبر شریف شهر قم میں هے وه اپنی کتاب روضة المتقين شرح من لا یحضره الفقیه میں لکھتے هیں: علی بن جعفر کی قبر شهر قم میں مشهور و معروف هے میں نے سنا هے کہ کوفہ والوں نے ان سے فرمائش کی کہ کوفہ تشریف لے آئیں، علی بن جعفر نے ان لوگوں کی دعوت قبول کی اور کوفہ جانے کے بعد ایک مدّت تک وهاں مقیم رهے، کوفہ والوں نے ان سے احادیث سیکھی اور انہوں نے بھی وهاں کے لوگوں سے روایتیں نقل کی هیں اس کے بعد قم والوں نے ان سے قم آنے کی درخواست کی، وه قم تشریف لائے اور آخری عمر تک اسی جگہ مقیم رهے ان کی رحلت کے بعد قم هی میں سپرد لحد کئے گئے ۔ (روضة المتقين، محمد تقي مجلسي، ج 14، ص 191)

لیکن متعدد دلیلوں کو دیکھتے هوئے جن کو محدث نوری نے بھی بیان کیا هے، یہ نظریہ صحیح نہیں هے اور علی بن جعفر کی قبر شریف عُریض میں هے۔ (مستدرك الوسائل، خاتمه، ج 4، ص 488 ـ 482)

محدث قمی جب علی بن جعفر کے فرزندوں کو شمار کرتے هیں تو اس طرح کہتے هیں: ان کے چار بیٹے تھے جن کے اسماء درج ذیل هیں: محمد، احمد اشعری، حسن اور جعفر، جعفر اصغر بھی پیدا هوائے جن کا نام علی هے ان کے حالات معلوم نہیں هیں، ممکن هے یہ قبر جو قم میں هے یہی علی بن جعفر بن علی بن جعفر صادق (ع) کی هو ۔ (منتهي الآمال، ج 2، ص 186، 187، ر.ك: انجم فروزان، عباس فيض، ص 183)

بعض لوگوں نے اس قبر کو علی بن جعفر کے ایک پوتے بنام (علی بن حسن) "علي بن حسن بن عيسي بن محمد بن علي بن جعفر عريضي" کی طرف نسبت دی هے ۔ (گنجینه آثار قم .31، عباس فيض، ج 2، ص 183 ، تربت پاکان، ج 2، ص42)

البتہ قم میں موجود قبر کے اوپر کی تحریر سے معلوم هوتا هے کہ یہ بقعہ امام (ع) کی نسل سے دو افراد کی هے جو اس میں مدفون هیں ۔ ان میں سے ایک امام موسی بن جعفر (ع) کے فرزندوں میں سے بنام (محمد) هیں اور دوسرے وهی امام جعفر صادق (ع) کے پوتے هیں جن کا نام علی هے ۔

اسی طرح سمنان شهر کے باهر ایک سرسبز و شاداب باغ کے بیچ میں بہترین بارگاه بنی هوئی هے جس کو علی بن جعفر عریضی سے نسبت دیتے هیں مگر بہت بعید هے کہ وه علی بن جعفر عریضی هوں بلکہ کوئی ان کا همنام یا ان کے پوتوں میں سے هوگا۔ (مسائل علي بن جعفر و مستدركاتها، ص35)

آثار:

بحار الانوار جیسی عظیم کتاب کے معتبر منابع و مآخذ میں سے ایک کتاب (مسائل علی بن جعفر) هے جو امام صادق (ع) کے فرزند ارجمند کے پُر برکت و با قیمانده آثار میں سے هے ۔

تمام ماهرین علم رجال کا عقیده هے کہ علی بن جعفر کی ایک کتاب هے جس کے مطالب کو انہوں نے اپنے بھائی امام موسی کاظم علیہ السلام سے حاصل کیا هے لیکن اس کی وجہ تسمیہ کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے هیں ۔ کچھ لوگوں کا گمان هے کہ ان کی دو یا تین کتابیں هیں مگر درحقیقت ایک کتاب سے زیاده نہیں هے ۔ نجاشی ان کو ایک کتاب کا مولف جانتے هیں لیکن ایک جگہ کہتے هیں ان کی ایک کتاب حلال و حرام کے متعلق هے ۔ (رجال النجاشي، طبع جامعة مدرسين، ص 252، رقم 662) اور دوسری جگہ پر اس کو (المسائل) کے نام سے یاد کرتے هیں ۔ (حوالہ سابق، ص 29، رقم 60)

شیخ طوسی کہتے هیں: (علی بن جعفر کی ایک کتاب بنام مناسک مسائل هے۔ (الفهرست، شيخ طوسي، ص 87 ، رقم 367)

خاندان:

علی بن جعفر کی اولاد عُرَیضیون کے نام سے مشهور تھی، ان کے نام درج ذیل ھیں : ۱۔ محمد اكبر، ۲۔ محمد اصغر، ۳۔ حسن، ۴۔ احمد شعراني، ۵۔ علي، ۶۔ جعفر اصغر، ۷۔ كلثوم (ام‌ كلثوم)، ۸۔ مليكہ، ۹۔ خديجہ، ۱۰۔ حمدونہ، ۱۱۔ زينب، ۱۲ ۔ فاطمہ، بعض لوگوں نے ان کے ایک بیٹے کا نام عبدالله بھی شمار کیا هے ۔ ( مهاجران آل ابيطالب، ص 337، گنجينه آثار قم، ج 2، ص 374)

علی بن جعفر عریضی کے بیٹوں، پوتوں اور نواسوں کا ایک بڑا گھرانہ وجود میں آیا اور ان بزرگواروں کی اکثر شهروں میں هجرت کی وجہ سے وهاں کی سرزمین کے لوگوں نے ان کے وجود کی برکت سے استفاده کیا هے ۔ آج بھی دنیا کے دور افتاده علاقوں میں ان کے مراقد و مزارات وهاں کے شھر و دیار والوں کے لئے چشم و چراغ بنے هوئے هیں ۔(مسائل علي بن جعفر و مستدركاتها، ص39 ـ 37)

علی بن جعفر کی حدیثوں کا ایک نمونہ:

علی بن جعفر کہتے هیں: میں اپنے بھائی موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے اس طرح سنا هے: جو شخص کسی ضعیف و کمزور آدمی کی حاجت کو صاحب قدرت تک پہنچائے درحالیکہ وه اکیلا اس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا هے تو خداوند عالم پل صراط پر اسے ثابت قدم رکھے گا ۔ (مسائل علي بن جعفر، ص 342، بحار الانوار، ج 72، ص 384، ح2)