")
روزہ، تقویٰ کی طرف لے جانے کا ایک راستہ
مذہبی تعطیلات

روزہ اور اس کی اھمیت

"روزہ" یہ ھے کہ انسان اللہ کے حکم کو انجام دینے اور اس کے تقرّب کے لئے اذان صبح سے لے کر مغرب تک کھانے پینے اور بعض دوسرے کاموں کو کرنے سے پرھیز کرے جس کی توضیح بعد میں آئے گی ۔

یہ عبادت صرف دین مقدس اسلام کے احکام و دستور میں سے نھیں ھے بلکہ اسلام سے پہلے توحیدی ادیان میں بھی اس کا حکم رھا ھے، قرآن کریم کا ارشاد ھے: " يا أيُّهَا الَّذينَ آمنُوا كُتِبَ عَلَيْكُم الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِنْ قَبْلِكُم لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون " ۔[i] صاحبانِ ایمان تمھارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ھیں جس طرح تمھارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے، شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ ۔"

توریت اور انجیل سے بھی معلوم ھوتا ھے کہ یھودیوں اور عیسائیوں بھی روزہ کا حکم تھا، بلکہ دوسری قومیں اور ملتیں بھی جس وقت غم و اندوہ اور مشکلات سے دوچار ھوتی تھیں تو روزہ رکھا کرتی تھیں ۔

اس عبادت کی اھمیت روح اور جسم کی صحت و سلامتی ایک بہت اھم کردار ادا کرتی ھے، معصومین عليہم ‏السلام کے نورانی کلام میں درج ذیل انداز میں اس کی اھمیت بیان ھوئی ھے ۔

۱ ۔ پيغمبر اكرم صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله‏ وسلم نے حدیث قدسی میں خداوند عالم سے اس طرح نقل کیا ھے : " روزہ میرے لئے ھے اور میں خود اس کی جزا دوں گا " ۔[ii]

۲ ۔ پيغمبر اكرم صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله‏ وسلم کا ارشاد ھے : " الصوم جُنَّةٌ مِنَ النَّار" ۔[iii] یعنی : روزہ دوزخ کی آگ کے مقابلہ میں ایک سپر ھے ۔

۳ ۔ پيغمبر اكرم صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله‏ وسلم کا ارشاد ھے: " روزہ دار اگرچہ بستر پر سو رھا ھو وہ عبادت کی حالت میں رھتا ھے جب تک کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے " ۔[iv]

۴ ۔ امام صادق عليہ السلام نے فرمایا: " روزہ دار کا سونا عبادت، اس کی خاموشی پروردگار کی تسبیح، اس کا عمل بارگاہ خداوندی میں مقبول اور اس کی دعا مستجاب و قبول ھوتی ھے "۔ [v]

۵ ۔ امام صادق عليہ السلام نے فرمایا : " روزہ دار کے منھ کی مھک و بو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک و عنبر سے زیادہ بہتر ھے " ۔[vi]

۶ ۔ امام صادق عليہ السلام نے فرمایا : " شدید اور سخت گرمی میں روزہ رکھنا سب بڑا جہاد ھے "۔[vii]

۷ ۔ ایک حدیث میں حضرت مريم عليها السلام کی وفات سے متعلق اس طرح آیا ھے: "حضرت عيسى عليه ‏السلام نے اپنی مادر گرامی کو دفن کرنے کے بعد آواز دی: اے مادر گرامی ! کیا آپ دنیا میں پلٹنا پسند کرتی ھیں ؟ جناب مریم (س) نے جواب دیا: ھاں، دو کام انجام دینے کے لئے: ایک یہ کہ سخت سردی کی رات میں اللہ تعالیٰ کی نماز کے لئے قیام کروں، اور دوسرے یہ کہ سخت و شدید گرمی کے موسم میں روزہ رکھوں، اے میرے بیٹے ! راستہ بہت خوفناک اور ڈراونا ھے "۔ [viii]

روزہ کے آثار اور فوائد

اگر یہ عبادت اپنے پورے آداب اور شرائط کے ساتھ انجام دی جائے تو اس کی بے شمار اور فائدہ مند معنوی و مادی تاثیریں خود شخص اور سماج تک پہنچیں گی، ھم یہاں پر ان آثار میں سے کچھ گوشوں پر نظر ڈالتے ھیں ۔  

الف : تربیتی اثر

روزہ انسان کی روح کو صیقل کرتا ھے اور اس کی جان و دل کی طہارت کا باعث ھوتا ھے ۔ روزہ دار بھوک اور پیاس کے باوجود کھانے، پینے اور اسی طرح جنسی لذتوں سے چشم پوشی کرکے عملی طور پر ثابت کرتا ھے کہ وہ اپنے سرکش نفس کو مہار کرکے خواھشات نفسانی پر غلبہ حاصل کرسکتا ھے ۔

رمضان کے مہینہ کا روزہ ایک الہی ھدیہ ھے، جس کو خداوند عالم نے امت محمد صلى ‏الله‏ عليہ ‏و‏آلہ‏ وسلم کو عطا کیا ھے تاکہ اس کے ذریعہ انسان اپنے جسم و روح کی گندگی کو دور کرسکے اور اپنے کو تقویٰ کے زیور سے مزین و آراستہ کرے ۔ قرآن كريم صاحبان ایمان کو روزہ کا حکم دینے کے بعد بلا فاصلہ ایک مختصر اور جامع جملہ میں اس انسان ساز فلسفہ کی طرف اس طرح اشارہ کرتا ھے : " لَعَلَّكُم تَتَّقُون " ۔[ix] یعنی شاید تم پرھیزگار و متقی بن جاو۔

تهى از حكمتى بعلّتِ آن    

كه پُرى از طعام تا بينى

 اندرون ۔[x] از طعام خالى دار

 تا در او نور معرفت بينى

مفہوم شعر: حکمت سے خالی ھونے کا سبب یہ ھے کہ کھانے سے پیٹ بھرا رھتا ھے، اپنے شکم کو کھانے سے خالی رکھو، تاکہ نور معرفت تمھاری نگاھوں کے سامنے جلوہ فگن ھو ۔  

ایک روایت میں حضرت رضا عليه ‏السلام نے روزہ کے فلسفہ کو اس طرح بیان کیا ھے: "لوگوں کو روزہ کا حکم اس لئے دیا ھے تاکہ بھوک اور پیاس کی سختی کو برداشت کرکے اس کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے فقر و احتیاج کو سجھ سکے، نیز یہ کہ اس کی وجہ روزہ دار پروردگار عالم کے سامنے خاضع و خاشع رھے اور بھوک و پیاس کی سختی کو برداشت کرکے ثواب الہی کا مستحق قرار پائے، اس کے علاوہ روزہ ھویٰ و ھوس اور خواھشات کو بھی ختم کردیتا ھے[xi]

 فرشته خوى شود آدمى به كم خوردن

 وگر خورد چو بهايم، بيوفتد چو جماد

 مراد هر كه برآرى مطيع امر تو گشت

 خلافِ نفس كه فرمان دهد چو يافت مراد ۔[xii]

     
 

مفہوم شعر: انسان کم کھانے کی وجہ سے فرشتہ صفت ھوجاتا ھے، اور اگر کھائے تو جانوروں کے مانند، جماد کی طرح ھوجائے، جس کی مراد پوری کر دوگے وہ تمہارا مطیع و فرمانبردار بن جائے گا، اپنے نفس کے خلاف حکم کرے گا جب وہ اپنی مراد حاصل کے لے گا ۔

روزہ انسان کی قوت ارادی میں ایک اھم کردار ادا کرتا ھے اور وقتی محدودیت جو روزہ دار شخص کے لئے پورے دن میں ایجاد کرتا ھے، اس سے سخت حوادث کے مقابلہ و مقاومت کی قدرت و توانائی عطا کرتا ھے ۔

روزہ، سختیوں اور مشکلوں میں انسان کے لئے ایک بہترین مددگار ھے اور فقر و پریشانی کو دور کرتا ھے، بعض روایتوں میں مذکور ھے: " جس وقت کسی کو کوئیہ مشکل پیش آئے تو اسے روزہ رکھنا چاھئے، اس لئے خداوند عزّوجلّ ارشاد فرماتا ھے " وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبر"۔[xiii] اور یہاں پر صبر سے مراد روزہ ھے ۔[xiv]  

یہ بات بھی مخفی نہ رھے کہ صبر کے معنی روزہ کے نہیں ھے بلکہ روایت، صبر کے روشن و واضح مصادیق میں سے ایک مصداق کو بیان کررھی ھے، اس لئے کہ انسان اس عبادت کے کی روشنی میں ایک مستحکم و پائیدار ایمانی ارادہ حاصل کرلیتا ھے ۔  

على بن سويد کا بیان ھے: " میں نے حضرت امام رضا عليه ‏السلام سے کہا : مجھے وعظ و نصیحت فرمائیں، حضرت (ع) نے فرمایا: میں تمھیں پرھیزگاری اور تقوائے الہی کی تاکید کرتا ھوں، اور پھر حضرت (ع) نے کوئی بات نہیں کہی ۔ میں نے امام (ع) سے غریبی اور تنگدستی کی شکایت کرتے ھوئے کہا: خدا کی قسم میں برھنہ اور بغیر لباس کے تھا اس طرح کہ فلاں شخص نے اپنے کپڑوں میں سے دو پیراھن اپنے جسم سے اتار کرمجھے پہنائے ۔ حضرت (ع) نے فرمایا: روزہ رکھو اور صدقہ دو ۔ میں پوچھا اگرچہ بہت کم مقدار میں ھو ؟ حضرت (ع) نے فرمایا: جو کچھ پروردگار نے نصیحت کی ھے، صدقہ دو اور دوسروں اس میں اپنے اوپر فوقیت و ترجیح دو، اگرچہ تم اس کے محتاج ھو " ۔[xv]

ب ۔ اجتماعی اثر

روزہ، انسان کو برابری اور مساوات کا سبق دیتا ھے، اس الہی حکم و دستور کے انجام دینے سے قدرتمند اور دولت و ثروتمند لوگ ملموس و محسوس طورپر سماج کے نادار اور بھوکے افراد کی سختیوں درک کرکے ان کی حمایت و تعاون کی فکر میں لگ جاتے ھیں ۔

حضرت صادق عليه ‏السلام نے اپنے اصحاب میں سے ایک ساتھی بنام هشام بن حكم کے سوال کے جواب میں روزہ کے واجب ھونے کی علت کے بارے میں اس طرح بیان فرمایا: " خداوند عالم نے اس عمل کو واجب فرمایا تاکہ محتاج و فقیر اور ثروتمند ایک جیسے ھوجائیں، اس لئے کہ مالدار نے بھوک و گرسنگی کے مزہ کو نھیں چکھا ھے جس کی وجہ سے غریبوں پر رحم کرے، بلکہ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ھے اس کے لئے فراھم و مھیا ھوجاتی ھے، پس اسی لئے خداوند عالم نے ارادہ کیا، تاکہ اس کے بندوں کے درمیان مساوات و برابری برقرار ھو اور مالدار گرسنگی اور رنج کے مزہ کو چکھ لے، جس کی وجہ سے کمزور اور بھوکے انسان پر رحم و مہربانی سے کام لے " ۔[xvi]

ج ۔ صحت کا اثر

بہت سی بیماریوں کا سبب مختلف غذاوں کے کھانے میں زیادتی کی بناپر ھوتا ھے جس کے نتیجہ میں اضافہ مادے کا باقی رھنا اور ان کا جذب نہ ھونا جو جسم کے مختلف حصوں میں چربی کی صورت میں، یا شگر اور یا خون میں اضافی و فاضل چربی کی صورت میں رھتی ھے ۔

ان اضافی چربیوں کو ختم کرنے کا بہترین راستہ کہ جو چربیاں جسم کو مختلف اقسام کے میکروبوں اور بیماریوں کے لئے تیار کرتی ھیں، روزہ رکھنا اور کھانے سے پرھیز کرنا ھے ۔

در حقیقت روزہ، گھر کی صفائی کے مانند  بدن کی اندرونی صفائی کے حکم میں ھے اور جسم کے اندر اضافی مادے انبار ھوگئے ھیں اور جذب و ھضم نھیں ھوئے ھیں، انھیں جلا کر ختم کر دیتا ھے ۔ اس کے علاوہ بدن کے ھاضمہ کا نظام جو سال بھر مسلسل کام و فعالیت کرتا رھتا ھے  وہ روزہ کے ذریعہ استراحت پاکر اپنی سروس کرتا ھے ۔

پيغمبراكرم صلى ‏الله‏ عليہ ‏و‏آلہ‏ وسلم فرماتے ھیں: " صُومُوا تَصِحُّوا "۔[xvii] یعنی روزہ رکھو تاکہ سالم اور تندرست ھوجاو ۔

البتہ روزہ دار کو " افطار" اور " سحر " کے وقت کھانے پینے میں افراط و زیادہ روی سے کام نھیں لینا چاھئے، ورنہ مطلوبہ و خاطر خواہ نتیجہ حاصل نھیں ھوگا ۔

ان مذکورہ مطالب کے علاوہ روزہ جنسی خواھشات کو کم کرنے میں ایک اھم اور موثر کردار ادا کرتا ھے، خاص طور سے ان لوگوں کے لئے جن کی شادی کے امکانات فراھم نھیں ھیں ۔

پيغمبراكرم صلى ‏الله‏ عليہ ‏و‏آلہ‏ وسلم سے منقول ھے کہ آپ نے فرمایا: " اے جوانو! تم پر شادی لازم ھے، پس اگر شادی کرنے کے امکانات نھیں ھیں، تو تم پر روزہ رکھنا لازم ھے کیونکہ یہ خوھشات کو دور کرتا ھے "۔[xviii]

پيامبراكرم صلى ‏الله ‏عليہ ‏و‏آلہ‏ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی بنام عثمان بن مظعون نے ارادہ کیا کہ اپنے کو خصی و بدھیا (فوطے نکالنا) کروالیں تاکہ اپنی جنسی خواھشات کو ختم کردیں، جب آنحضرت (ص) کو اس کام کی اطلاع ملی تو آپ نے ان کو اس کام سے منع کیا اور فرمایا: " میری امت میں خواھشات جنسی کو ختم اور اس کے توڑنے کا راستہ روزہ رکھنا ھے "۔[xix]

 


[i] ۔  سوره بقره (2) : آيت، 183.

[ii] ۔ وسائل ‏الشيعة، باب 1 از ابواب الصوم المندوب، ح7 و 15 و 16، ج10، ص 397 و 400.

[iii] ۔ حوالہ سابق ،ح1، ص395.

[iv] ۔ حوالہ سابق، ح12، ص399.

[v] ۔ حوالہ سابق، ح17 و 24، ص 401 و 403.

[vi] ۔ حوالہ سابق، ح25،ص403.

[vii] ۔ مستدرك الوسائل، باب 2 از ابواب الصوم المندوب، ح1، ج7، ص504.

[viii] ۔ حوالہ سابق، ح6، ص506.

[ix] ۔ سوره بقره (2) : آيت، 183.

[x] ۔ پیٹ .

[xi] ۔ وسائل ‏الشيعة، باب 1 از ابواب وجوب الصوم و نيّته، ح5، ج10، ص9.

[xii] ۔ گلستان، ساتواں باب، تأثير تربيت میں، حكايت 18، ص244.  

[xiii] ۔ سوره بقره (2): آيت، 45.

[xiv] ۔ وسائل‏ الشيعة، باب 2 از ابواب وجوب الصوم و نيّته، ح1، ج10، ص408.

[xv] ۔ فروع الكافي، كتاب الزكاة، باب الايثار، ج4، ص18،ح2.

[xvi] ۔ وسائل‏الشيعة، حوالہ سابق، ح1، ص7.

[xvii] ۔ بحار الأنوار، ج93، ص255 ـ نهج‏ الفصاحة، ص393، ح1854.

[xviii] ۔ وسائل‏ الشيعة، باب 4 از ابواب الصوم المندوب، ح1، ج10، ص410.

[xix] ۔ حوالہ سابق، ح2 و 3، ص 410 و 411 ـ مستدرك  الوسائل، باب 3 از ابواب الصوم المندوب، ح1 و 2، ج7، ص 506 و 507.

قم – ناصر مکاریان