")
ایثار اور جواں مردی کے
فضائل اخلاقی ناصر مکاریان

ابن ابی عمیر، ایثار اور جواں مردی کے نمونہ

"محمد بن زیاد" یا محمد بن ابی عمیر ایک معروف و مشہور، بزرگ فقهاء اور قابلِ اعتماد شیعہ راویوں میں سے هیں، جو علمائے شیعہ و سنی کے اعتراف کے مطابق اپنے زمانہ کے ایک متقی و پرهیزگار اور خوفِ خدا رکھنے والے شخص تھے ۔ ان کی ولادت شهر بغداد میں هوئی اور وهیں پر قیام پذیر رهے، ان کا کام پارچہ فروشی تھا ۔ انہوں نے تین معصوم اماموں کی امامت یعنی امام کاظم و امام رضا اور امام محمد تقی علیہم السلام کے زمانے کو درک کیا هے اور ان الٰهی انوار کے محضر مبارک سے استفاده کیا هے ۔

ماهر علمِ رجال کشّی کی نقل کے مطابق ان کا شمار اصحابِ اجماع میں هوتا هے جس کے معنی یہ هیں کہ شیعہ علماء کے نزدیک موردِ اعتماد و تصدیق رهے هیں نیز ان کے علم و فقاهت کا اعتراف کرتے رھے هیں اور جو روایتیں ان سے نقل هوئی هیں انہیں صحیح روایتوں کا درجہ دیتے هیں ۔[1]

انہوں نے فقہ و عقائد وغیره کے مختلف موضوعات پر کافی کتابیں لکھنے کا عزم مصمّم کیا اور جیسا کہ بیان کیا گیا هے ان کی تالیف کرده کتابوں کی تعداد/94 چورانوے تک پہنچتی هے ۔

 ابن ابی عمیر نے مذهبِ شیعہ کے دفاع کی راه میں بڑی سختیاں اور مشکلیں برداشت کی هیں، ان کے اموال کو ضبط کر لیا گیا، نجاشی کے بقول چار سال تک اور کتابِ اختصاص میں شیخ مفید (رہ) کے قول کے مطابق انہوں نے اپنی عمر کے ستره سال قیدخانہ میں گزارے هیں، انھیں کوڑے لگا کر اذیّت اور شکنجہ دیا گیا تاکہ جس راستے پر چل رهے هیں اسے چھوڑ دیں، لیکن ان کے فولادی و مضبوط اراده نے شکنجہ دینے والوں کو ناامید بنادیا ۔ بعض لوگوں نے نقل کیا هے ان کے قیدخانہ میں جانے کی وجہ یہ تھی کہ هارون رشید یا مامون عباسی کے زمانے میں حکومت کی طرف سے قضاوت کے عہده کو قبول کرنے کی تجویز پیش کی گئی لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور دوسرے کچھ لوگوں نے نقل کیا هے ان کے قید هونے کی وجہ یہ تھی کہ ان سے شیعوں اور امام کاظم علیہ السلام کے دوستوں کے نام اور پتے معلوم کئے گئے لیکن انہوں نے ان کے نام  اور پتے بتانے سے انکار کردیا تھا ۔

نقل  کیا گیا هے کہ سندی بن شاهک نے ان کے جسم پر سو کوڑے سے زیاده مارے، کوڑے کی مار کی شدّت سے ان توانائی جواب دے چکی تھی اور شکنجہ کی بناپر عنقریب بعض لوگوں کا نام بیان کرنے والے تھے کہ اچانک محمد بن یونس بن عبدالرحمٰن کی آواز سنائی دی کہ وه کہہ رهے هیں: اے محمد! خدا سے ڈرو !، تقویٰ اختیار کرو اور روز قیامت پیشِ پروردگار اپنے مقام و منزلت کو یاد کرو اور سوچو کہ اس سلسلہ میں خدا کو کیا جواب دو گے، بنابر ایں وه تازیانہ کی اذیّت کو برداشت کرتے رهے اور کسی کا نام نہیں بتایا، یہاں تک کہ پروردگار عالم نے ان کے کاموں میں برکت دی اور کافی مبلغ رقم حکومت کو دے کر اپنے کو قیدخانہ سے آزاد کرایا ۔

ایک نقل کے مطابق ان کے قیدخانہ میں زیاده دنوں تک قید رهنے کی وجہ سے ان کی بہن سعیده یا آمنہ نے ان کی کتابوں کو جمع کرکے ایک کمره میں رکھ دیا، لیکن بارش کے پانی کے پہنچنے کی وجہ سے بہت سی کتابیں ضائع و برباد هوگئیں اور ایک روایت کی بناپر کتابوں کو زمین کے اندر چھپا دیا تھا جس کی وجہ سے کتابیں خراب اور برباد هوگئیں ۔

ابن ابی عمیر نے قیدخانہ سے چھوٹنے کے بعد آئمہ معصومین علیہم السلام کی حدیثوں کی حفاظت کی غرض سے جو احادیث ان کو یاد تھیں انہیں نقل کرنا شروع کردیا اور کچھ موادر میں راویوں نے ان کی کتابوں کے تلف هونے سے پہلے نسخہ برداری کی تھی لھذا انہوں ان روایتوں کو نقل کیا ۔ اسی وجہ سے همارے مذهب کے علماء ان کی مرسل روایتوں کو سند رکھنے والی روایتوں کا درجہ دیتے هیں، معروف و مشهور علمِ رجال کے ماهر نجّاشی کے بقول اصحاب ان کی مرسل روایتوں کو جن کی سند حذف هوگئی هیں ان پر اعتماد کرتے هیں ۔

بالکل واضح سی بات هے کہ قیدخانہ میں رهنے، کام کاج سے دوری اور حکومت کے ذریعہ ان کے اموال کو ضبط کرنے کی وجہ سے ان کی مالی حالت بہت خراب و ناگفتہ بہ هوگئی تھی، منقول هے کہ ایک آدمی ان کا دس هزار درهم کا مقروض تھا جب اس آدمی نے ابن ابی عمیر کی مفلسی و ناداری دیکھی تو اپنے گھر کو دس هزار درهم میں بیچ کر وه رقم ان کے پاس لایا اور کہا: یہ وه رقم هے جو میں نے آپ سے قرض لیی تھی، اب آپ اسے لے لیں۔ ابن ابی عمیر نے کہا: یہ رقم کہاں سے لے آئے هو؟ کیا یہ تمهیں میراث میں ملی هے یا کسی نے تمهیں هدیہ دیا هے؟ اس آدمی نے جواب دیا: ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں ۔ انہوں نے پوچھا پھر کہاں سے لے آئے هو؟ اس نے کہا: میرے پاس، میرے اور اهل و عیال کے رهنے کے لئے ایک گھر تھا، جب میں نے آپ کی اتنی خراب حالت دیکھی تو اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے اس گھر کو بیچ دیا تاکہ آپ کی مدد کرسکوں ۔ ابن ابی عمیر نے کہا: ذریح محاربی نے امام صادق علیہ السلام کے قول کو مجھ سے اس طرح نقل کیا هے کہ آپ نے فرمایا: " لا يُخرَج الرجلُ عن مسقط رأسه بالدِّين " يعني قرض کی وجہ سے آدمی کو اس گھر اور کاشانہ سے باهر نہیں نکالا جاتا هے ۔

اس کے بعد کہا : اپنے مال کو واپس لے جاؤ، خدا کی قسم باوجود اس کے کہ میں اس مال سے ایک درهم کا بھی محتاج هوں لیکن میں اس کو تم سے قبول نہیں کروں گا ۔[2]

آفرین صد آفرین ایسے جواں مرد اور ایثار کرنے والے انسانوں پر جو ایک لمحہ کے لئے حاضر نہیں هیں کہ دوسروں کو رنج و غم میں مبتلا کرکے اپنے رنج و غم سے نجات دلائیں ۔

ابن ابی عمیر علمی و سماجی شخصیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک عبادت گزار، زاهد اور خوف خدا رکھنے والے انسان تھے، ایک بزرگ شیعہ راویوں میں سے بنام فضل بن شاذان کہتے هیں: جب میں عراق پہونچا تو دیکھا کہ ایک شخص اپنے دوست کی ملامت و سرزنش کرتے هوئے اس سے کہہ رها هے: تم صاحبِ اهل و عیال هو اور تمهیں ان کے لئے کام و کسب معاش کرنا چاهئے، تم کو کیوں اپنے سجدوں کو اس قدر طول دیتے هو؟ تم اپنے اس کام سے اپنی آنکھوں کو کھو بیٹھو گے تو اپنے اهل و عیال کے اخراجات کو پورا کرنے کی توانائی نہیں رکھو گے، جب گفتگو طولانی هوگئی تو اس کے دوست نے جواب میں کہا: اگر طولانی سجدوں کی وجہ سے کسی کی آنکھ چلی جانا هی طے هے تو ابن ابی عمیر کی آنکھ چلی جائے ۔ وه نماز صبح کو ادا کرنے کے بعد سر کو سجدہ شکر میں رکھتے تھے او ظهر تک سجده سے سر نہیں اٹھاتے تھے ۔[3]

آخرکار اس قابل اعتماد و موثّق راوی، معروف و مشهور اور متّقی و پرهیزگار فقیہ نے اپنی زندگی کو سختیوں و پریشانیوں میں گزارنے کے بعد سنہ 217 هجری میں دارِفانی کو خیر باد کہا ۔[4]

 


[1] ۔ طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفه الرجال (معروف به رجال کشی)، طبع دانشگاه مشهد، ص 556، رقم 1050۔

[2] ۔ صدوق، محمد بن علي بن الحسين، من لا يحضره الفقيه، ج 3، ص 190، ح 3715۔

[3] ۔ رجال کشی ، ص 591 و 592، رقم 1106۔

[4] ۔ مفيد، محمد بن محمد بن نعمان،‌اختصاص، ص 86- نجاشي، احمد، رجال نجاشي، طبع جامعه مدرسين، ص 326 و 327، رقم 887 – طوسي، محمد بن حسن، فهرست، طبع منشورات شريف رضي قم، ص 142 و 143، رقم 607 – طوسي، محمد بن حسن، رجال طوسي، ص 388، رقم 26 – رجال کشی ، ص 589-  592، ارقام 1103 تا 1107 –  خويي، ابوالقاسم، معجم رجال الحديث، ج 14، ص 279 – 286، رقم 10018 – غفاري، علي اکبر، ترجمة من لا يحفره الفقيه، نشر صدوق تهران، ج 1، ص 16۔