")
اطاعت و فرمانبرداری کے
فضائل اخلاقی ناصر مکاریان

تربیت کے متعلق اہم ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ،نمونہ اور آئیڈیل کا ہے کیونکہ جس کی تربیت کی جاتی ہے اس کے کردار، رفتار اور طبیعت میں کسی شخصیت کے نمونے اور آئیڈیل کی تاثیر دوسروں چیزوں سے کہیں زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی اس طریقہ و روش کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن کریم نے بھی اپنی بہت سی آیتوں کو یکتا پرست اور ثابت قدم مردوں اور عورتوں سے مخصوص کیا ہے کہ جنہوں نے طرح طرح کے سخت حالات و شرائط میں اپنی لیاقت، صلاحیت اور شخصیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حق محوری و حقانیت کو ثابت کیا ہے۔

اس مہم امر تک پہنچنے اور اس کے حصول کے لئےمصنف کی یہ سعی و کوشش ہے کہ یادداشت اطاعت و فرمانبرداری کے نمونہ کا ذکر کرے، کہ جس میں غور وفکر کرنے سےمفکرین اور عقلمندوں کے ذہن کے دریچےکمال، کامیابی اور فلاح و بہبودی کی طرف کھل جائیں۔

قم ـ ناصر مکاریان

صفوان بن مهران اطاعت و فرمانبرداری کے نمونہ

صفوان بن مهران قابلِ اعتماد اور موثّق راویوں میں سے ایک هیں، وه شائستہ فقہاء، نیک شیعوں اور امام صادق علیہ السلام اور امام کاظم علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے هیں ۔ ان  کا شغل اونٹوں کو پالنا اور انهیں سفر کےلئے کرایہ پر دینا تھا اسی لئے ان کو (جمّال) کے نام سے یاد کیا جاتا هے۔[1]،ان کے ایک بھائی بنام حسّان بن مهران جمّال تھے یہ بھی قابلِ اعتماد اور موثق راویوں میں سے تھے اور اپنے بھائی صفوان سے زیاده خوبصورت و باریک بیں رهے هیں ۔[2]

درجِ ذیل واقعہ اس بات کا ثبوت هے کہ صفوان اپنے مولا و آقا حضرت امام کاظم علیہ السلام کے حکم کے سامنے سراپا تسلیم اور سرِ اطاعت خم کئے هوئے تھے:

صفوان کہتے هیں:میں حضرت امام کاظم علیہ السلام کی خدمتِ بابرکت میں حاضر هوا، انهوں نے مجھ سے فرمایا:اے صفوان تمهارے ایک کام کے علاوہ سارے کام اچھے اور نیک هیں، میں نے کہا: میری جان آپ پر قربان هو، وه کون سا کام هے؟ حضرت (ع) نے فرمایا: وه یہ هے کہ تم نے اپنے اونٹوں کو اس مرد (هارون رشید) کو کرایہ پر دیا هے، میں نے کہا: خدا کی قسم میں نے اپنے اونٹوں کو طغیانی و سرکشی، خوشحالی، خوش گزرانی، کفرانِ نعمت اور لهو و لعب کےلئے کرایہ پر نهیں دیا هے، بلکہ مکہ کے سفر اور اعمالِ حج بجالانے کےلئے اسے کرایہ پر دیا هے. اس کے علاوه میں خود اس سفر میں اونٹوں کے همراه نهیں رهوں گا بلکہ میرے غلام ساتھ میں رهیں گے ۔ حضرت (ع) نے فرمایا:اے صفوان!کیا تمهارے اونٹوں کا کرایہ هارون اور اس کے ساتھیوں کے ذمّہ نهیں هے؟۔ میں نے جواب دیا: آپ پر فدا هوجاؤں، کیوں نهیں ۔ حضرت (ع) نے فرمایا: کیا تم اپنے دل میں اس بات کی تمنّا نهیں کرتے هوکہ وه زنده رهیں اور سفر سے پلٹنے کے بعد تمهارے اونٹوں کا کرایہ دیں؟

 میں نے جواب دیا کیوں نهیں امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسے اشخاص کے زنده رهنے کی خواهش کرے وه انهیں میں شمار کیا جائے گا، اور جو شخص ان لوگوں میں شمار هوگا وه جهنم میں جائے گا ۔ صفوان کہتے هیں: جب میں حضرت (ع) کے پاس سے رخصت هوکر آیا تو اپنے سارے اونٹوں کو بیچ ڈالا ۔ جس وقت هارون رشید کو میرے اس کام کی اطلاع ملی تو اس نے مجھے بلاکر کہا: تم نے اپنے اونٹوں کو کیوں بیچ ڈالا؟۔ میں نے جواب دیا کہ میں بوڑها هوگیا هوں اور میرے نوکر بھی اونٹوں کے کاموں کو اچھی طرح انجام نهیں دیتے هیں، هارون نے کہا: هائے افسوس، هائے افسوس، میں جانتا هوں کس آدمی نے تم سے کہا هے کہ اپنے اونٹوں کو بیچ دو، تم سے موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے کہا هے کہ تم اپنے اونٹوں کو بیچ ڈالو ۔ میں نے کہا: میرا موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے کوئی واسطہ نهیں هے، هارون نے کہا: اس موضوع کو چھوڑ دو، خدا کی قسم اگر تمهاری میرے ساتھ اچھی همنشینی نہ هوتی تو میں تجھے قتل کر دیتا ۔[3]

صفوان کے پوتوں میں سے ایک شخص بنام (محمد بن احمد بن عبدالله بن قضاعة بن صفوان) جو صفوانی کے نام سے معروف هیں، یہ بزرگ شیعہ، مشائخ اور قابلِ اعتماد فقہاء و موردِ وثوق راویوں  میں سے هیں، یہ شیخ مفید کے اساتذہ میں شمار هوتے هیں۔ صفوانی بڑے ذهین، اچھے حافظہ کے مالک تھے، وہ اچھے کلام کرتے اور کافی علم رکھتے تھے، جبکہ یہ کہا گیا ھے کہ وه اَن پڑھ اور امّی تھے اس کے باجود ان کی متعدد کتابیں هیں، وہ ان مطالب کو سینہ میں محفوظ رکھے هوئے تھے اور املا کی صورت میں ان مطالب کو دوسروں سے بیان کیا هے ۔[4]

صفوانی اور نعمانی (ابو عبدالله محمد بن ابراهیم نعمانی) منجملہ ان افراد میں سے هیں جن پر کتابِ شریفِ کافی کے نسخہ (تالیف محمد بن یقعوب) منتهی هوتے هیں اسی وجہ سے کتاب کافی کے متعدد موارد میں حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس طرح آیا هے (و فی نسخه الصفوانی...)۔[5]

صفوانی کا مرتبہ امیروں اور شاهانِ وقت کے نزدیک بہت بلند تھا ۔ ان کے اس مرتبہ و منزلت کی دلیل یہ هے کہ ایک دن صفوانی نے شهرِ موصل کے قاضی جو اهل سنت و الجماعت سے تعلق رکھتے تھے ان سے امیر شهر (ابن حمدان) کے حضور میں امامت کے بارے مناظره کیا، بات اس منزل پر پہنچ گئی کہ صفوانی نے قاضی شهر سے کہا: کیا تم اس بات پر حاضرهو کہ مجھ سے مباهلہ کرو اور قسم کھاؤ ؟۔

قاضی نے کہا: اس کام کے لئے میں کل تیار هوں، دوسرے دن صفوانی اور قاضی شهر موصل نعمانی مباہلہ کے لئے تیار هوئے اور صفوانی نے اپنے کفِ دست کو قاضی کے کفِ دست میں رکھا اور مباهلہ کی قسم ذکر هوئی۔ اس کے بعد وه دونوں مجلس سے الگ هوگئے، موصل کا قاضی روزانہ امیرِ موصل (ابن حمدان) کے محل میں آتا تھا۔ لیکن اس دن اور دوسرے دن اس کی کوئی خبر نهیں ملی۔ امیر نے کہا: قاضی کی تلاش میں جاؤ اور اس کی کوئی خبر لے آؤ ۔

امیر کے قاصد تلاش کے بعد، امیر کے پاس واپس آکر کہا: جس وقت قاضی مباهلہ کے روز صفوانی کے پاس سے جدا هوئے وه بخار میں مبتلا هوگئے اور اپنے هاتھ کی جس هتھیلی کو صفوانی کے هاتھ میں رکھا تھا اس میں ورم آگیا تھا، وه سیاہ هوگئی تھی اور دوسرے دن ان کا انتقال هوگیا هے، بنابر این اس خبر کے سماج کے اندر، امراء اور سلاطین کے درمیان پھیلنے سے صفوانی کا مرتبہ و مقام،امراء و سلاطین کے نزدیک اور زیاده اهمیت کا حامل هوگیا۔[6]

 


[1] ۔ نجاشي، احمد، رجال نجاشي، طبع جامعة مدرسين، ص 198، رقم 525 ۔

[2] ۔ حوالہ سابق، ص 147، رقم 381.

[3] ۔ طوسي، محمد بن حسن، اختيار معرفة الرجال (رجال کشي) طبع دانشگاه مشهد، ص 441، رقم 828۔

[4] ۔ طوسي، محمد بن حسن، فهرست، ص 133، رقم 588۔

[5] ۔ کليني، محمد بن يعقوب، کافي، ج 1، ص 311، ح 1۔

[6] ۔ رجال نجاشي، ص 393، رقم 1050۔