")
فقاهت کے
فضائل اخلاقی ناصر مکاریان

تربیت کے متعلق اھم ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ،نمونہ اور آئیڈیل کا ھے کیونکہ جس کی تربیت کی جاتی ھے اس کے کردار، رفتار اور فطرت میں کسی شخصیت کے نمونے اور آئیڈیل کی تاثیر دوسروں چیزوں سے کہیں زیادہ ھوا کرتی ھے ۔ اسلام نے بھی اس طریقہ و روش کو بڑی اھمیت دی ھے، قرآن کریم نے بھی اپنی بہت سی آیتوں کو یکتا پرست اور ثابت قدم مردوں اور عورتوں سے مخصوص کیا ھے کہ جنہوں نے طرح طرح کے سخت حالات و شرائط میں اپنی لیاقت، صلاحیت اور شخصیت کا اظہار کرتے ھوئے اپنی حق محوری و حقانیت کو ثابت کیا ھے ۔

اس مہم امر تک پہنچنے اور اس کے حصول کے لئے مصنف کی سعی و کوشش یہ ھے کہ فقہ و فقاهت کے نمونہ کا ذکر کرے، جس میں غور و فکر کرنے سے مفکرین اور عقلمندوں کے ذھن کے دریچے کمال، کامیابی اور فلاح و بہبودی کی طرف کھل جائیں ۔

قم ـ ناصر مکاریان

احمد بن محمد بن ابی نصر فقاهت کے نمونہ

احمد بن محمد ابن ابی نصر جن کی شهرت بزنطی هے ۔[1] وہ ایک موردِ وثوق و قابل اعتماد راویوں، نامدار فقهاء اور زبردست شیعہ متکلمین میں شمار هوتے هیں ۔ ان کی کنیت ابوجعفر هے اور ایک قول کی بناپر ابو علی هے۔ یہ کوفہ کے رهنے والے تھے آپ امام موسی کاظم و امام علی رضا اور امام محمد تقی علیھم السلام کے اصحاب اور دوستوں میں شمار کئے جاتے ھیں اور و امام  علی رضا اور امام محمد تقی علیھما السلام کے ۔ نزدیک ان کا ایک ممتاز مقام تھا ۔

 ان کے قابلِ قدر آثار اور تالیفات هیں ان کے اهم ترین آثار میں " کتاب الجامع اور کتاب النوادر " کا نام  لیا جاسکتا هے ۔[2] مرحوم ابن ادریس نے اپنی کتاب السرائر کے آخر میں " مستطرفات "کے نام سے کتاب نوادر اور کتاب جامع کے کچھ حصہ کو نقل کیا هے ۔[3]

یہ ان افراد میں سے ایک محترم شخص هیں جنهوں نے آئمہ اطهار علیھم السلام کی احادیث و نورانی کلام کو زنده و باقی رکھنے میں بڑی همّت سے کام لیا هے یھی وجہ ھے کہ آپ کا اسم مبارک 788/ روایتوں سے زیاده میں ذکر هوا هے۔ شیخ صدوق (رہ) نے عیون اخبار رضا میں ان سے بہت سی روایتوں کو نقل کیا هے ۔

ان کا شمار اصحابِ اجماع میں ھوتا هے، علمائے شیعہ نے ان سے نقل کی گئی روایتوں کے صحیح هونے پر اتفاق کیا هے اور ان کے علم فقہ و اجتهاد کی عظمت کا اقرار کیا هے ۔[4]

کتاب الغیبہ میں شیخ طوسی (رہ) کے بقول وه شروع میں واقفی مسلک سے وابستہ تھے ۔[5] یعنی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کو قبول کرتے تھے اور ان کے بعد امام علی رضا علیہ السلام کی امامت کے قائل نہ تھے، لیکن ایک زمانے کے بعد امام علی رضا علیہ السلام سے کچھ معجزات دیکھے جس کی وجہ سے امام علی رضا علیہ السلام اور ان کی اولاد طاهرین (ع) کی امامت کے حق هونے کے قائل هوگئے ۔[6]

احمد بن محمد بن ابی نصر کهتے هیں: میں نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا، جس میں حضرت (ع) سے بہت سے سوالات کئے تھے، میں نے خط لکھتے وقت دل میں سوچا تھا کہ جب حضرت (ع) کی خدمت میں شرفیاب هوں گا تو ان سے قرآن سے متعلق تین سوال پوچھوں گا ۔ ایک سوال آیت } أَ فَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ { کے بارے میں، دوسرا سوال آیت } فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ { کے متعلّق اور تیسرا سوال } إِنَّكَ لا تَهْدي مَنْ أَحْبَبْتَ وَ لكِنَّ اللَّهَ يَهْدي مَنْ يَشاءُ { کی آیت کے سلسلہ میں کروں گا ۔

وه کهتے هیں: حضرت امام رضا علیہ السلام نے میرے خط کا جواب دیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں تمام سوالوں کے جوابات لکھے هوئے تھے، اسی طرح خط کے آخر میں ان آیتوں کے متعلّق بھی لکھا تھا جن کے بارے میں حضرت (ع) کی خدمت شرفیاب هونے کے بعد سوال کرنے کا اراده تھا، لیکن میں ان کے محضر مبارک میں اپنے دل میں کئے هوئے اراده کو بھول گیا تھا (اور ان آیتوں کے متعلّق نهیں پوچھا تھا) اسی وجہ سے خط کو پڑھنے کے بعد اپنے آپ سے کها کہ یہ حصّہ میرے خط کے جواب سے متعلّق نهیں هے، اسی  اثناء میں اچانک مجھے یاد آگیا کہ میں نے جن آیتوں کے بارے میں حضرت (ع) سے پوچھنے کے لئے سوچا تھا، امام علیہ السلام نے انهیں آیتوں کے بارے لکھا هے ۔[7]

وه کهتے هیں: ایک دن میں صفوان بن یحیی و محمد بن سنان و عبدالله بن مغیره (یا عبدالله بن جندب) کے ساتھ، امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں مشرّف هوا اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد (امام علیہ السلام کی خدمت سے خدا حافظی کی غرض سے) اٹھا، حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے ان چند لوگوں میں سے مجھ سے فرمایا: تم تشریف رکھو! میں بھی حضرت (ع) کے فرمان کے مطابق بیٹھ گیا اور آپ بھی مجھ بات چیت کرنے میں مصروف هوگئے۔ میں ان سے سوالات کرتا تھا، امام علیہ السلام میرے سوالوں کے جوابات دیتے تھے یہاں تک کہ کافی رات گزر گئی، جب میں نے اپنے گھر واپس هونے کا اراده کیا، امام علیہ السلام نے فرمایا: تم جاؤ گے یا یہیں پر آرام کرو گے؟۔

میں نے عرض کیا: آپ جو حکم فرمائیں، اگر آپ کہیں جاؤ، تو میں چلا جاؤں گا اور اگر کهیں کہ یہیں رهو تو میں آپ کی خدمت میں رهوں گا ۔

حضرت (ع) نے فرمایا: یہیں پر سوجاؤ اس لئے کہ دیر هوگئی هے، پہره دار و نگهبان باهر موجود هیں اور لوگ اپنے گھروں کے دروازوں کو بند کرکے سوگئے هیں ۔ اس کے بعد آپ (ع) اٹھے اور اپنے کمرے میں داخل هوگئے ۔

ایک روایت کے مطابق امام (ع) نے اپنی کنیز سے فرمایا: میرے بستر اور لحاف کو لاکر احمد کے لئے اس کمره میں بچھادو ۔

جب امام (ع) تشریف لے گئے تو میں سجده شکر بجالایا اور سجده میں کہا: تمام تعریفیں اس پروردگار کے لئے هیں کہ جس نے اپنی  حجّت اور علومِ انبیاء کے وارث کو تمام دینی بھائیوں کے درمیان مجھ سے مانوس فرمایا (میں اس افتخار سے جو مجھے نصیب هوا تھا بڑا نازاں اور خوش تھا) ابھی میں سجده هی میں تھا کہ حضرت (ع) تشریف لائے اور اپنے قدم مبارک کی آهٹ سے مجھے آگاه کیا، پیروں کی آواز سنتے هی میں سجده سے اٹھا، امام علی رضا علیہ السلام نے میرا هاتھ پکڑکر دبایا اور مجھ سے فرمایا: اے احمد! تمهیں یہ بات معلوم هونا چاهئے که حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام صعصعہ بن صوحان کی عیادت کے لئے گئے اور جب ان کے سرهانے سے اٹھے تو فرمایا: اے صعصعہ! ایسا نہ هو کہ میں تمهاری عیادت کی هے تو اس کی بناپر تم اپنے دینی بھائیوں پر فخر و مباھات کرو، خدا سے ڈرو! اور تقویٰ اختیار کرو (یعنی تم بھی یہاں سونے کی وجہ سے اپنے دینی بھائیوں پر فخر نہ کرنا) خدا کے لئے تواضع و انکساری اختیار کرو تاکہ وه تم کو بلند و بالا مرتبہ پر پہنچا دے گا اس کے بعد حضرت علیہ السلام اپنے کمرہ کے اندر چلے گئے ۔[8]

اس طرح امام علیہ السلام نے غیر مستقیم طریقہ سے بزنطی جیسے صحابی کو فراموش نہ هونے والا سبق سکھایا اور انهیں بلند و بالا مرتبے تک پہنچنے کی رهنمائی فرمائی ۔

شیخ طوسی اور نجّاشی کے قول کے مطابق بزنطی نے سنہ221 هجری میں انتقال کیا هے البتہ نجاشی نے اس نکتہ کا اضافہ کیا هے کہ ان کی وفات حسن بن علی بن فضّال کی وفات کے آٹھ مهینہ بعد هوئی هے! لیکن غور و فکر کرنے سے معلوم هوتا هے که یہ نظریہ صحیح نهیں هے ۔ اس لئے که خود نجاشی اور شیخ طوسی نے کتاب فهرست میں حسن بن علی بن فضّال کی رحلت کی تاریخ سنہ 224 هجری بیان کی هے ۔[9]

آخر کلام میں مناسب معلوم هوتا هے که حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند ابوجعفر امام محمد تقی علیہ السلام کو جو خط لکھا هے اور بزنطی نے اسے نقل کیا هے، هم یہاں پر بیان اسے بیان کردیں، وه کهتے هیں: میں نے جو خط پڑھا ھے اس میں اس طرح لکھا هوا تھا: اے میرے بیٹے ابوجعفر! مجھے اطلاع ملی هے که گھر سے نکلتے وقت تمهارے غلام اور خادمین گھر کے چھوٹے دروازه کو کھولتے هیں اور اس دروزاے سے تمهارے ساتھ گھر سے باهر نکلتے هیں ۔ ان لوگوں کا یہ کام ان کی تنگ نظری کی وجہ سے هے کیونکہ کہیں ایسا نہ ھو کہ اگر کبھی ناداروں اور مستمندوں سے سامنا کرو تو ان لوگوں کو تم سے کچھ خیر و بھلائی حاصل جائے ۔ میں تم کو حکم دیتا هوں اور تمہاری گردن پر میرا جو حق ھے اس کی وجہ سے قسم دیتا ھوں کہ تم همیشہ بڑے دروازے سے آؤ اور جاؤ، اور جب بھی اپنے مرکب پر سوار هو تو ساتھ میں کچھ مقدار میں سونے و چاندی کے سکّے رکھو اور جب بھی کوئی مانگنے یا دست نیاز پھیلائے تو اسے اپنی عطا و کرم سے نوازو … میں اپنی اس تاکید اور نصیحت سے چاهتا هوں که خداوند عالم آپ کی قدر و منزلت کو بلند کرے، لهذا راهِ خدا میں خرچ کرو اور اس کام میں هراساں نہ هو کیونکہ عظیم عرش کا مالک پروردگار تمهیں تنگدستی میں مبتلا نهیں کرے گا ۔[10]

 


[1] ۔ جیسا کہ کتاب سرائر، ج 3، ص ۵۵3، پر آیا ھے کہ بزنط ایک جگہ کا نام ھے اور وھاں پر بزنطی کپڑے تیار کئے جاتے ھیں ۔

[2] ۔ نجاشي، احمد، رجال نجاشي، طبع جامعة مدرسين، ص 7۵، رقم 180ـ طوسي، محمد بن حسن، فهرست، ص 19، رقم ۵3- طوسي، محمد بن حسن ، رجال طوسی، ص 344، رقم34؛ و ص366 ، رقم 2؛ و ص 397، رقم ۵ ـ حلي، حسن بن یوسف، متوفي 726، خلاصه الاقوال في معرفه الرجال، طبع مؤسسہ نشر اسلامي ، ص61، رقم66 ـ رجال ابن داود، ص42، رقم118۔

[3] ۔ کتاب سرائر، ج 3 ، ص  ۵۵3 -  ۵63 و نیز ص ۵72 – ۵81۔

[4] ۔ اصحاب اجماع: محدثین کی اصطلاح میں فقهاء و احادیث کے راویوں کی اس جماعت کو کها جاتا هے کہ جن پر ماهرینِ علم حدیث اور فقهاء کرام اعتماد کرتے هیں اور ان سے مروی احادیث کو قبول کرتے هیں ۔ کشّی کے بقول ان کی تعداد 18 /اٹھاره افراد پر مشتمل هے ۔ ان میں سے 6 /چھ افراد امام باقر اور جعفر صادق علیھما السلام کے خاص اصحاب میں بطور مشترک هیں ۔ اور ۶ /چھ افراد امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں ھیں اور ۶ /چھ لوگ بطور مشترک امام کاظم اور امام رضا علیھما السلام کے اصحاب میں هیں اور انہی اصحاب اجماع میں ایک احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی بھی هیں ۔

[5] ۔ اس فرقہ کو کهتے هیں کہ جو لوگ مادی و دنیوی اعراض کی وجہ سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور بعد کے دوسرے ائمه کی امامت کے منکر هوگئے تھے ۔ وه لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ امام کاظم علیہ السلام کا انتقال نهیں هوا هے بلکہ وه زنده هیں اور وهی مهدی اور قائم آل محمد علیہ السلام هیں، اس فرقہ کے معروف و مشهور اشخاص میں عثمان بن عیسی، علی بن ابی حمزه بطائنی اور زیاد بن مروان قندی کا نام لیا جاسکتا هے ۔

[6] ۔ طوسي، محمد بن حسن، الغیبه، ص 71۔

[7] ۔ ـ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، طبع بیروت، ج49، ص 48، رقم 6ـ الغیبۃ، حوالہ سابق ۔

[8] ۔ طوسي، محمد بن حسن، اختيار معرفة الرجال (رجال کشي) طبع دانشگاه مشهد، ص ۵87 و ۵88، رقم 1099 و 1100۔

[9] ۔ نجاشي، احمد، رجال نجاشي، طبع جامعہ مدرسين، ص 36، رقم 72 ـ طوسي، محمد بن حسن، فهرست، ص 48، رقم 1۵3۔

[10] ۔ کليني، محمد بن يعقوب، کافي، ج 4، ص43، ح ۵۔