")
شجاعت و ايثار كے
فضائل اخلاقی ناصر مکاریان

تربیت کے متعلق اہم ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ،نمونہ اور آئیڈیل کا ہے کیونکہ جس کی تربیت کی جاتی ہے اس کے کردار، رفتار اور طبیعت میں کسی شخصیت کے نمونے اور آئیڈیل کی تاثیر دوسروں چیزوں سے کہیں زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی اس طریقہ و روش کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن کریم نے بھی اپنی بہت سی آیتوں کو یکتا پرست اور ثابت قدم مردوں اور عورتوں سے مخصوص کیا ہے کہ جنہوں نے طرح طرح کے سخت حالات و شرائط میں اپنی لیاقت، صلاحیت اور شخصیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حق محوری و حقانیت کو ثابت کیا ہے۔

اس مہم امر تک پہنچنے اور اس کے حصول کے لئےمصنف کی یہ سعی و کوشش ہے کہ پہلی یادداشت شجاعت اور ایثار کے نمونہ کا ذکر کرے، کہ جس میں غور وفکر کرنے سےمفکرین اور عقلمندوں کے ذہن کے دریچےکمال، کامیابی اور فلاح و بہبودی کی طرف کھل جائیں۔

قم ـ ناصر مکاریان

شجاعت و ايثار كے نمونه ابو رافع

پيغمبراكرم(ص) اور اميرالمؤمنين(ع)كے اصحاب ميں سے ايك صحابي ابورافع هيں جن كانام(اسلم)اور ايك قول كي بناپر(ابراهيم)هے وه شروع ميں پيغمبر(ص)كے چچاعباس بن عبدالمطلب كے غلام تھے اس كے بعد عباس نے ابورافع كو پيغمبر(ص)كو هبہ كرديا۔ جس وقت ابورافع نے اطلاع پيغمبر(ص)كوعباس کے اسلام لانے خبركي دي تو اس خوشخبري كي بناپر حضرت(ص) نے انهيں راه خدا ميں آزاد كرديا۔

انهوں نے پيغمبراكرم(ص) كي بعثت كے آغاز هي ميں اسلام قبول كرلياتھا اس كے بعد مكه سے مدينه كي طرف مهاجرين كے ساتھ هجرت فرمائي اور حضوراكرم(ص)ساتھ تمام حوادث وجنگوں ميں شریک رہے، حضرت رسول اكرم(ص)كي رحلت كے بعد اميرالمؤمنين(ص)كےمخلص وبرجستہ شيعوں اور ساتھیوں كے زمره ميں رهے جو جنگیں حضرت(ع)پر تحميل و عائد کی گئيں ان ميں آپ (ع)كے ساتھ ساتھ رہے۔

وه كوفه ميں حضرت علي(ع) كے بيت المال كے مسؤل و ذمہ دارتھے اور ان كے دونوں بيٹے عبيدالله و علي، حضرت(ع)كے كاتبين ونويسندوں ميں شمار هوتے تھے۔

ابورافع حضرت اميرالمؤمنين(ع)كي شهادت تك ان كے ساتھ رهے اور ان كي شهادت كے بعد امام حسن(ع)كے همراه مدينه واپس آگئے۔ چونكه اس شهرميں ان كے پاس نه تو كوئي گھرتھا اور نه كھيتي وزراعت كے لئے كوئي زمین تھي تو امام حسن(ع) نے اميرالمؤمنين(ع) كے گھر كو دو حصوں ميں تقسيم كركے ايك حصه ابورافع كو دے ديا اور كچھ زمين بھي انهيں دے دي۔

انهوں نے سنن، احكام اور قضايا كے سلسله ميں ايك كتاب لكھنے كي هميت كي، بلكه کہا جاتا ہے کہ وہ  سب سے پهلے شخص هيں جنهوں نے احاديث كي جمع آوري كے بعد انهيں باب باب كركے تدوين كياهے۔[1]،

ابو رافع كے كلام ميں آيا هے:خداوندعالم نے مجھے دوشرف عطاكيا وه يه كه ميں نے بيعت عقبه اور بيعت رضوان  دونوں ميں شركت كي، دونوں قبلے كي طرف نماز پڑھي اور تين هجرت انجام دي:

۱۔ ايك هجرت جعفربن ابي طالب (ع)كے ساتھ حبشه كي طرف  انجام دی ۔

۲۔دوسري هجرت مكه سے مدينه پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ کی ۔

۳۔تيسري هجرت امام علي(ع)كے ساتھ كوفه كي طرف کی۔

درج ذيل واقعه اس وفادار صحابي كے خلوص اور ان کی شجاعت كي نشانی هے، ابورافع كے بيٹے اپنے والد سے نقل كرتے هيں كه ميں ايك بار پيغمبراكرم(ص)كي خدمت حاضر هو ا تو ديكھا آپ سو رہے ہیں یا آپ پر وحی نازل ہورہی ہے۔ناگہاں دیکھا کہ حجرہ کےایک گوشہ میں سانپ ہے اور ميں نهيں چاهتاتھا كه سانپ كو مارنے كے باعث پيغمبر(ص) بيدار هوجائيں۔

ميں پيغمبراکرم(ص) اور سانپ كے درميان ليٹ گياتاكه سانپ كے ضررو نقصان کو روك سكوں يا اگر سانپ كاٹنے كا اراده كرے تو مجھے كاٹے اور پيغمبر(ص) كونه كاٹنے پائے۔ اسي اثنا ميں رسول خدا(ص)بيدا رهوگئے اور اس آيت كي تلاوت فرمارهے تھے:)إِنَّماوَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ(۔[2]،"ایمان والوبس تمہارا ولی اللہ ہےاوراس کا رسول اوروہ صاحبانِ ایمان جونمازقائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں"۔

اس وقت رسول خدا(ص)نے فرمايا:حمدوثنا اس خداكے لئے مخصوص هے جس نے اپني نعمت علي(ع)پر كامل كي هے۔ خوشابحال علي(ع)كو اس لئےكه پروردگار نے انهيں فضيلت و برتري دي هے۔ اس كے بعد حضرت(ص)نے ميرے ليٹنے كا سبب دريافت كيا، ميں نےسانپ كاواقعه بيان كيا:انهوں نے فرمايا:اٹھو!سانپ كو ماردو ميں نے بھي اسے مارديا، پھر آپ(ص)نے ميرا هاتھ پكڑكر كها:تم اس وقت كياكروگے جب كچھ لوگ علي(ع)سے جنگ كريں گے جبكه وه حق پر هوں گے اور مخالفين باطل پر هوں گے، اس زمانے ميں جن لوگوں ميں جہاد كرنے كي طاقت هو، انهيں مخالفين سے جنگ كرني چاهئے۔ ميں نےكها:اے رسول خدا(ص) ميرےلئے دعاكريں كه اگر میں اس زمانه ميں رهوں تو ميرے اندر علي(ع)کے دشمنوں سے  لڑنے كي قدرت و طاقت باقي رهے۔

حضرت (ص)نے بھي ميرے حق ميں دعاكي اس كے بعد لوگوں كے درميان ميں آكر آوازدي:اے لوگو! جوشخص ميرے مورد اعتماد انسان كو پهچاننا چاهتاهے تو جان لے كه يه ابورافع ميرا امين و مورد اعتماد شخص هے۔

رسول خدا(ص) كايه كلام ابورافع كے ذهن ميں محفوظ رهايهاں تك كه علي(ع) ظاهري خلافت پر پهنچ گئے اور معاويه و طلحه اور زبيرنے ان كي مخالفت كي اور جنگ کے شعله بھڑكاديئے، ابورافع كو پيغمبراكرم(ص)كي پيشين گوئي ياد آگئي كه حضرت (ص)نے فرماياتھا:ايك قوم علي عليه السلام جنگ كرے گي اور علي عليه السلام كے مخالفين سے لڑنا حق اور راه خدا ميں جہادشمار هوگا۔اسي وجه سے خيبر ميں موجود اپنے گھراور زمین کو بيچ ديا اور پچاسي سال كے بڑھاپے كے باوجود حضرت علي عليه السلام كے ساتھ ره كر ان كے دشمنوں سے جنگ كرنے كو تيار هوگئے۔[3]،

 

[1] ۔ امین، سید محسن، اعیان  الشیعه، نشر دار التعارف،طبع بیروت، ج2،ص105۔

[2] ۔ مائده (5): 55۔

[3] ۔ نجاشی، احمد، رجال نجاشی، طبع جامعه مدرسین، ص 3-5، رقم 1۔